ایک اور جمعہ، مستقبل کا فیصلہ!

یشفین جمال

وہی جولائی کا مہینہ اور وہی جمعے کا دن۔ 28 جولائی 2017ء بروزِ جمعہ، میاں نواز شریف کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے نااہل قرار دے دیا۔ تقریباً ایک سال بعد ان کے لیے ایک اور سانحہ۔ دن اور مہینہ وہی۔ پانچ جولائی اور جمعے کا دن۔ کہا جاسکتا ہے کہ ایک سال قبل کے فیصلے نے پارلیمانی سیاست کا فیصلہ کیا۔ جبکہ دوسرا فیصلہ سیاست میں ان کی کسی قسم کی مداخلت کا خاتمہ کرسکتا ہے۔ اب ایک اور جمعہ مستقبل کی سمت کا تعین کرنے جارہا ہے اور وہ ہے نواز شریف کی واپسی کا دن۔ کیا نواز شریف واقعی آرہے ہیں؟ وہ جیل کا سامنا کرنا کریں گے اور ’’نیلسن منڈیلا‘‘ بن کر نکلنے کا پلان بناچکے ہیں یا حسبِ سابق اُمیدیں وابستہ رکھنے والوں160کو مایوس کرجائیں گے؟ سزا کے بعد مریم نواز کا سیاسی مستقبل کیا ہے؟ پاکستان مسلم لیگ ن کے ساتھ اگر ’’ن‘‘ کو جوڑے رکھا گیا تو بطورِ160جماعت اس کا سیاسی مستقبل کیا ہوگا؟ ان سب سوالوں160کا جواب نواز شریف کے چند ایک عملی اقدامات ہی دے سکیں160گے۔
آنے والے دنوں160میں160پاکستان کے سیاسی منظرنامے پر ن لیگ ایک طاقت بن کر اُبھرے گی یا پھر اس کی مقبولیت کے غبارے سے ہوا نکل جائے گی، خصوصاً اس کا فیصلہ نواز شریف اور مریم نواز کی وطن واپسی پر ہی کرنا ممکن ہوگا۔ سو اس کے لیے ہمیں کچھ انتظار کرنا ہوگا۔ لیکن کچھ بات کرلیتے ہیں160احتساب عدالت کے فیصلے اور اس کے نتائج پر۔ احتساب عدالت نے 174 صفحات پر مشتمل فیصلہ لکھا۔ اس فیصلے میں160تین مرتبہ منتخب ہونے والے وزیراعظم نواز شریف کو مجرم گردانا گیا۔ انہیں نہ صرف 11سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی بلکہ ساتھ ہی بھاری جرمانہ بھی ان پر عائد کردیا گیا۔ نواز شریف کی بیٹی مریم نواز کو 8 سال کی سزا سنائی گئی، جبکہ داماد کیپٹن (ر) صفدر بھی شریکِ جرم قرار پاکر ایک سال قید بامشقت کے مستحق قرار دئیے گئے۔ جو اس وقت جیل کی سلاخوں160کے پیچھے ہیں۔
احتساب عدالت کی کارروائی کو سامنے رکھا جائے تو نواز شریف نے ہی اپنے ووٹرز اور پوری قوم کو ذہنی طور پر پہلے سے تیار کررکھا تھا۔ وہ کسی ’’ولی اللہ‘‘ کی طرح160ایسی ہی سزاؤں160کی پیشین گوئیاں کرتے دکھائی دے رہے تھے۔ لیکن کیا واقعی فیصلہ پہلے سے طے تھا یا اس انجام کی کچھ ذمہ داری میاں160نواز شریف کے کاندھوں160پر بھی ڈالی جاسکتی ہے؟ ناقدین کا خیال ہے کہ نواز شریف نے جتنی توجہ اور اہمیت ’’مجھے کیوں نکالا؟‘‘ کے نعرے کو قبولیت بخشنے پر دی اور ان کی160صاحبزادی جس قدر ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کو ہر زبان پر لانے کی خواہش کے لیے برسرپیکار رہیں، اگر اتنی ہی توجہ ان کیسز پر دی جاتی تو ممکن ہے نتائج زیادہ نہ سہی، کچھ مختلف ضرور ہوتے۔
لیکن ہم نے دیکھا کہ جس اعتماد کے ساتھ نواز شریف شیر کی طرح160پارلیمنٹ میں دھاڑے نظر آئے، ایک ایک پائی کا حساب دینے کا دعویٰ160کیا، وہ اعتماد سپریم کورٹ اور بعد میں160احتساب عدالت کے اندر کہیں نظر
نہیں آیا۔ سپریم کورٹ میں160درجنوں160بار پوچھا گیا کہ منی ٹریل دکھادیں، لیکن میاں160نواز شریف کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ بات دو اور دو چار کی طرح واضح160تھی۔ چاہیے تھا کہ اپنے الفاظ اور جملوں160کی لاج رکھتے۔ جو چیلنج اپنے مخالفین کو دیا تھا، اسے پورا کرتے۔ لیکن بدقسمتی سے ایسا کرنے میں160کامیاب نہیں160ہوسکے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ میاں نواز شریف پہلے عدالت سے نااہل قرار دئیے گئے۔ بعد میں تاحیات نااہلی کا سامنا کرنا پڑا اور آخر میں160مسلم لیگ کی قیادت سے بھی ہاتھ دھونا پڑگئے۔
دیکھا جائے تو نواز شریف بہت کچھ کھوچکے ہیں، ان کے پاس اب کھونے کے لیے شاید زیادہ نہیں رہا۔ اسی لیے ان کے کچھ خیرخواہ انہیں زہر کا پیالہ پینے کے مشورے دے رہے ہیں۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ کیا وہ یہ پینے کی ہمت کرسکیں گے؟ نواز شریف کے ماضی پر نظر رکھنے والے اس حوالے سے شاید اسی لیے کنفیوژن کا شکار نظر آتے ہیں۔ لیکن دوسری طرف دیکھا جائے تو نواز شریف کے پاس آپشنز زیادہ نہیں، یوں160کہہ سکتے ہیں160کہ وہ دوراہے پر ہیں۔ ان کے پاس دو ہی راستے بچے ہیں: ایک مزاحمت کا ، دوسرا مفاہمت کا ۔ مزاحمت کا راستہ بہت کٹھن اور مشکل ہوتا ہے۔ لیکن یہ تاریخ160میں کسی حد تک زندہ رکھنے کا سبب ضرور بنتا ہے۔ مفاہمت کے راستے پر چل پر وقتی ریلیف ضرور حاصل ہوتا ہے، لیکن یہ نہ صرف نواز شریف کی اپنی ذات بلکہ آنے والی نسلوں160کے لیے ایک طعنہ بن جائے گا۔Image result for nawaz sharif and maryam

نواز شریف شاید ذہنی طور پر اس کے لیے تیار ہوں کہ ان کی سیاست کا باب بند ہوچکا، لیکن وہ اس کے لیے قطعاً تیار نہیں ہوں160گے کہ ان کی بیٹی کے لیے بھی سیاست کے دروازے بند ہوچکے ہیں۔ اس سے انکار نہیں160کہ پاناما کا ہنگامہ کھڑا ہونے کے بعد جس طرح160سے مریم نواز نے اپنے والد کا ساتھ دیا اور ساتھ ہی سوشل میڈیا ہو یا عوام سے رابطے کا کوئی اور فورم، وہ متحرک نظر آئیں، پاکستان کی سیاست میں160شاید وہ پہلی شخصیت ہیں160جنہوں160نے پارلیمانی سیاست کا حصہ بننے کے باضابطہ اعلان سے پہلے ہی اپنا ایک مقام بنالیا۔ سو، اگر وہ اپنی سیاست کو جاری رکھنا چاہتی ہیں تو یہ طعنہ ساری زندگی ان کا بھی پیچھا کرے گا۔ یہ میڈیا کا دور ہے، کوئی چیز چھپی نہیں رہ سکتی۔ ایک ایک لفظ اور جملہ محفوظ رہتا ہے۔ وہ لوگ جو نوازشریف کو مزاحمت کا استعارہ سمجھ رہے تھے اور جو انہیں نیلسن منڈیلا کی صورت دیکھنا چاہ رہے تھے، وہ بھی انہی نواز شریف اور ان کی جانشین کے خلاف میدان میں ہوں160گے۔
اس سارے معاملے میں160اہم سوال یہ ہے کہ شہباز شریف کہاں160کھڑے ہیں؟ یوں160لگ رہا ہے کہ انہوں نے اپنی نیت اور مستقبل کا لائحہ عمل میڈیا سے گفتگو اور جلسوں160میں کی جانے والی تقریروں سے کافی حد تک واضح کردیا ہے۔ بڑے میاں صاحب خلائی مخلوق سے گلہ کرتے تھے، چھوٹے میاں160صاحب ایسی کسی مخلوق سے ہی انکاری ہوجاتے ہیں۔ کئی بار محسوس ہوا کہ وہ نواز شریف کی کوتاہیوں160کا بوجھ اُٹھانے کو تیار نظر نہیں آتے۔ احتساب عدالت کا فیصلہ آنے پر جب شہباز شریف کی پریس کانفرنس کی اطلاع آئی تو سب کا یہی خیال تھا کہ آج کے دن تو کم ازکم شہباز شریف کسی اور رنگ میں160نظر آئیں گے لیکن نواز شریف کے چاہنے والوں160کو یہاں بھی مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ہوگا۔
دیکھنا اب یہ ہے کہ آنے والا جمعہ ہمیں160کس انداز سے نظر آتا ہے؟ کیا ہم نواز شریف کا وہ شایانِ شان استقبال دیکھ سکیں گے جو کسی بھی ملک کے تین بار وزیراعظم رہنے والے شخص کا ہونا چاہیے؟ اگر اپنی قیادت کے استقبال کے لیے ن لیگ کے کارکن بڑی تعداد میں سڑکوں160پر نکلتے ہیں160اور میاں صاحب ایک بڑا پاور شوکرنے میں160کامیاب ہوجاتے ہیں تو یہ طے ہوگا کہ لوگ نواز شریف کو دل سے نکالنے کے لیے ہرگز تیار نہیں۔ یہ اس لحاظ سے بھی ایک اہم پیغام ہوگا کہ شریف خاندان کے سیاسی مستقبل کی بھاگ ڈور مریم نواز کے ہاتھ میں160ہوگی۔ یہ پیغام بھی ہوگا کہ شہباز شریف چاہے کتنی ہی اچھی کارکردگی کیوں نہ دکھادیں، قائد نواز شریف ہی ہیں اور ووٹ نوازشریف کا ہی ہے۔ اس طرح160شہباز شریف کا ن لیگ کے سیاسی ورثے کو حمزہ شہباز شریف تک منتقلی کا خواب بھی شاید پورا نہ ہوسکے۔ لیکن ایک بار پھر کہہ دوں کہ مستقبل کا اہم فیصلہ ایک اور جمعہ کرے گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *