فوج کو خوش آمدید ،مگر شفاف پولنگ نادرا سسٹم کے بغیر ممکن نہیں

اسد اللہ غالب

فوج کے ترجمان نے کچھ عرصہ پہلے کہا تھا کہ فوج کو الیکشن اور سیاست میں نہ گھسیٹا جائے۔ مگر گزشتہ روز انہوںنے بتایا کہ الیکشن کمیشن کی درخواست پر اب ساڑھے تین لاکھ فوج الیکشن ڈیوٹی ادا کرے گی۔ الیکشن کمیشن نے اتنی بڑی تعداد میں فوج کو ڈیپلائے کرانا کیوں ضروری سمجھا جبکہ آج ملک میں امن و مان کی حالت تسلی بخش ہے، اور اگر کوئی واردات ہونی ہی ہے جیسے کہ پشاور میں ہو چکی اور قیمتی جانیں ضائع ہو گئیں توا سے روکنا کسی کے بس میں نہیں ، فوج کے تو جی ایچ کیو پر حملے ہوئے، کامرہ پر حملے ہوئے، واہ فیکٹری پر حملے ہوئے۔ کراچی میںنیول بیس پر حملہ ہوا۔ اس پر کسی کو مورد الزام نہیں ٹھہرا سکتے لیکن فوج نے قربانیاں دے کر ان گھنائونی وارداتوں کا راستہ روک دیا ، مگر پچھلے دو الیکشن انتہائی مخدوش حالات میںمنعقد ہوئے ، امیدواروں کو باہر نکل کر مہم چلا نا ممکن نہ رہا تھا اور کئی انتخابی جلسے بارود سے ا ڑا دیئے گئے۔ فوجی ترجمان کی بریفنگ سے پہلے تک تو یہ کہا جاسکتا تھا کہ اب حالات سنگین نہیں ہیں مگر خیبر پی کے میںایک خونیں واردات نے یہ خوش فہمی دور کردی ہے ۔ ویسے لگتا ہے کہ الیکشن کمیشن اپنے آپ کو ووٹ کی پرچیاں چھاپنے اور ان کی سیکورٹی کا اہل نہیں سمجھتااور ان کی محفوظ نقل و حرکت کے قابل بھی نہیں ہے۔اس لئے اس نے اپنا بوجھ فوج کے کندھوں پر ڈال دیا ہے۔ پتہ نہیں ہر روز اربوں روپے اسٹیٹ بنک اور نجی بنکوں کے درمیان کس طرح حفاظت سے منتقل کر لئے جاتے ہیں الیکشن کمیشن کو کم از کم بنکوں سے یہ طریقہ پوچھ لینا چاہئے تھا۔دوسری ضرورت فوج کی اس لئے پڑی ہے کہ اس کے نمائندے پولنگ اسٹیشن کے اندر ڈیوٹی دیں گے اور انہیں خاص قسم کے اختیارات تفویض کے جائیں گے جن کی تفصیل ابھی سامنے نہیں آئی ، ممکنہ طور پر وہ جعلی ووٹر کو گرفتار کر سکیں گے، فسادیوں کو گرفتار کر سکیں گے اور ہلڑ بازی کی صورت میں ووٹنگ کا عمل رکوا سکیں گے۔ پولنگ کے بعد شایدگنتی کے عمل کی بھی نگرانی کریں اور نتائج کو الیکشن کمیشن تک پہنچانے کے عمل کو بھی فول پروف بنائیں۔ایسے ہی اختیارات ہوں گے۔ مگر خاطر جمع رکھئے کہ شفاف الیکشن کو یقینی بنانے کے لئے نادرا کا سسٹم بروئے کار لائے بغیر چارہ نہیں۔ فرض کیجئے ایک شخص اپنا شناختی کارڈ لے کر پولنگ افسر کے پاس پہنچتا ہے، پولنگ افسر اس شخص کی شناخت صرف اس کے کارڈ سے ہی چیک کر سکتا ہے۔لیکن یہی کارڈ بنک اکائونٹ کھولنے کے لئے پیش کیا جاتا ہے تو اس کارڈ پر کلی اعتبار نہیں کیا جاتا، یہی کارڈ موبائل فون کی سم لینے کے لئے پیش کیا جاتا ہے تواس کارڈ پر کلی اعتبار نہیں کیا جاتا، یہی کارڈ چند ہزار روپے منتقل کرنے کے لئے پیش کیا جاتا ہے تو کسی دکان کے تھڑے پر بنچ پر بیٹھا شخص اس کارڈ پر کلی طور پر اعتبار نہیں کرتا ۔ یہی کارڈ پاسپورٹ بنوانے کے لئے پیش کیا جاتا ہے تو اس پر کلی طور پر اعتبار نہیں کیا جاتا۔ تو سوال یہ ہے کہ پولنگ افسر اس کارڈ پر کلی طور پر اعتبار کیوں کرے اور صرف اس پر اچٹتی نظر ڈال کر ووٹ کی پرچی کیوں جاری کرے۔میںنے جو مثالیں دی ہیں ان میں ہر جگہ کارڈ ہولڈر کو بائیو میٹرک تصدیق کے عمل سے گزارا جاتا ہے ، وہ اپنا انگوٹھا ایک مشین پر رکھتا ہے ، اگر نادرا کا رسسٹم یہ تصدیق کر دے کہ یہ کارڈ ہولڈر ہی کا انگوٹھا ہے تو پھر بلا چون و چرا ،ا سکا بنک اکائونٹ بھی کھول دیا جاتا ہے، اس کو فون سم بھی جاری کر دی جاتی ہے ، اس کی رقم بھی ٹرانسفر کر دی جاتی ہے، میری تجویز یہ ہے کہ اس الیکشن میں بائیو میٹرک تصدیق کے بغیر ووٹ کی پرچی جاری نہ کی جائے۔ اس کے دو فائدے ہوں گے، ایک تو کسی کارڈ کا غلط استعمال نہیں ہو گا۔ دوسرے نادرا کا سسٹم پولنگ ختم ہوتے ہی آپ کو بتا دے گا کہ کتنے لوگوںنے ووٹ پول کئے ہیں اور اگر اس تعداد سے زیا ہ دووٹ تھیلے یا صندوق سے نکلیں تو یہ پولنگ بعد میں کسی وقت دوبارہ کی جائے ۔اورا س اثنا میں حتمی ریزلٹ روک لیا جائے،اب الیکشن کمیشن یہ بہانہ تراش سکتا ہے کہ ا سکے پاس بائیو میٹرک کے لیے مطلوبہ تعداد میں مشینیں نہیں ہیں۔یہ محض عذر لنگ ہو گا۔الیکشن کمیشن اس امر کا آئینی طور پر مکلف ہے کہ وہ شفاف پولنگ کروائے، اس کے لئے ضروری سامان کا حصول اس کی ذمے داری ہے ، اگرا سکے پاس فنڈ زنہیں ہیں تو وہ حکومت سے فنڈز مانگ سکتا ہے، ویسے الیکشن کے روز قومی تعطیل ہوتی ہے ، ا س لئے اگر بنکوں، موبائل کمپنیوں، پاسپورٹ دفاتر اور منی ٹرانسفر کرنے والوں سے یہ مشینیں ادھار مانگ لی جائیں تو کام چل سکتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ شفاف پولنگ کیسے ہو تاکہ الیکشن کے نتیجے کو ہر کوئی سر خم کر کے تسلیم کرے۔میں یہ کہوں گا الیکشن کمیشن کو گزشتہ الیکشن میں یورپی یونین نے جو کمپیوٹرا ور سافٹ ویئر فراہم کئے تھے۔ انہیں اٹھا کر نالہ لئی میں پھینک دیا جائے کیونکہ یہ سسٹم یورپی یونین کے کنٹرول میں تھا اور رات گیارہ بجے کے بعد الیکشن کمیشن کی رسائی بند کر دی گئی تھی اور یورپی یونین نے من مرضی کے نتائج تیار کئے تھے۔ یہ میری تحقیق نہیں لیکن وہ الزام ہے جو پچھلے الیکشن کے روز سے ا ٓج تک سنا جا رہا ہے۔اسی لئے ہر پارٹی نے اس الیکشن میں دھاندلی کاشور مچایا تھا ، اور تحریک انصاف نے تو اسے انا کا مسئلہ بھی بنایا، کئی حلقوں کے ووٹوں کی دوبارہ گنتی اور تصدیق کی گئی مگر تحریک انصاف اس عمل سے مطمئن نہیں ہوئی ا ور اس نے دارالحکومت کے حساس علاقوں میں مہینوں تک دھرنا دیا، اس دھرنے میں ایک اجنبی شخص بھی کنیڈا سے آ کر شامل ہو گیا۔ دھرنے کی وجہ سے چینی صدر کا دورہ مئوخر ہوا اور پاکستان کو ناقابل تلافی معاشی نقصان ا ٹھانا پڑا۔عالمی برادری میں الگ سے ہماری گت بنی۔ انیس سو ستتر میں بھی الیکشن دھاندلی کا شور مچاا ور تحریک نظام مصطفی نے ایک ملک گیر احتجاج کیا جس کے نتیجے میں پاکستان جمہوریت سے گیارہ برس تک محروم ہو گیا۔ اس سے پہلے ستر کے الیکشن کے نتائج کی رو سے اکثریتی پارٹی کو اقتدار منتقل نہ کیا گیا جس کے نتیجے میں پاکستان دو لخت ہو گیا۔اٹھاسی کے بعد جو بھی الیکشن ہوئے ان پر انجینئرڈ کی پھبتی کسی گئی اور نتائج کو کمپیوٹر کی پیدا وار قرار دیا گیا۔ دو ہزار دو کے الیکشن کا نتیجہ تو پولنگ سے قبل ہی تیار کر لیا گیا تھا۔شکر اور تعجب کی بات یہ ہے کہ اس دھاندلی پر کوئی شور نہ مچا۔
موجودہ الیکشن کے بارے میں نواز شریف کہہ چکے ہیں کہ حالات سترا کہتر جیسے ہیں ، میںتو کہتا ہوں کہ ان سے بد تر ہیں، فوجی ترجمان کی بریفنگ کے دوران وہ تمام سوالات اٹھائے گئے جو پری الیکشن رگنگ پر دلالت کرتے تھے۔کسی ایک میڈیا پرسن نے اس الیکشن پروسیس کو اطمینان بخش نہیں کہا۔ ایک شخص نے تو یہاں تک کہا کہ نواز شریف اور زرداری کا مکو ٹھپ دیا گیا، عمران کا بھی تیا پانچہ کر دیا جائے۔موجودہ الیکشن میں ہر پارٹی کو جو مساوی ماحول ملنا چاہیئے تھا ، وہ بد قسمتی سے کسی کو میسر نہیں، صرف تحریک انصاف کے لئے سہولتیں ہی سہولتیں ہیں جس کی وجہ سے چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں، اب ان کا جواب یہ نہیں کہ آج تک کس الیکشن کو شفاف کہا گیا۔ سوال یہ ہے کہ پہلے الیکشنوں میں دھاندلی کی گئی تو اس الیکشن میں بھی دھاندلی کیسے جائز سمجھ لی جائے۔ نہیں جناب نہیں، ایسا نہیں ہو سکتا۔اس الیکشن کو شفاف، غیر جانبدار اور آزادانہ بنانا ضروری ہے اور اس الیکشن کے عمل میں جو ادارے شریک ہیں وہ ا ٓئینی طور پر اسے شفاف بنانے کے پابند ہیں، انہیں ماضی کی مثالوں کا سہارانہیں لینا چاہیئے۔ اگر کسی نے فوج کی میڈیا بریفنگ میں یہ سوال اٹھایا کہ سننے میں آرہا ہے کہ تحریک انصاف اکثریت بھی لے لے تو عمران کو وزیر اعظم کے طور پر قبول نہیں کیا جائے گا، اس کا جواب یہ ملا کہ الف ب ج د میں سے جو بھی وزیر اعظم چنا گیا وہ قوم، ملک اور فوج کا بھی وزیر اعظم ہو گا مگر اندیشے ا س لئے ہیں کہ ستر میں جس شخص شیخ مجیب کو وزیر اعظم بننے اکا ستحقاق ملا تو استے تسلیم نہ کیا گیا ور ملک ٹوٹ گیا ، ہم ایسے کسی نئے حادثے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔
الیکشن کے تمام کھلاڑیوں کو احساس ہونا چاہئے کہ آج جیو اسٹریٹیجیک صورت حال انتہائی مخدوش ہے۔ پاکستان کو نقصا ن پہنچانے والی طاقتیں مناسب موقع کی تلاش میں ہیں ۔ ایسی طاقتوں کو موقع تب ملتا ہے جب ہمارے ہاں کوئی الیکشن ہوتا ہے۔ مصر میں بھی الیکشن ہوئے تو ان کے نتائج کو سبو تاژ کر دیا گیا۔اکہتر میں بھارت نے سوویت روس کی مدد سے پاکستان کو دو لخت کیا۔ فوجی ترجمان نے تسلیم کیا ہے کہ کونسی طاقتیں پاکستان کو کیا نقصان پہنچانا چاہتی ہیں۔ اس پس منظر میں ہمیں ہزار گنا زیادہ چوکس ہونا چاہیئے۔
میری تجویز ہے کہ نادرا کو الیکشن کے عمل میں مئوثر کردار دیا جائے۔اسے وہ سافٹ ویئر تیار کرنے کی ہدایت کی جائے کہ جوں جوں پولنگ ہو ، حلقہ وار اس کی تفصیل اس کے ڈیٹا بیس میں ریکارڈ ہوتی رہے، اور جیسے ہی گنتی ہو ، اس کو براہ راست اس سسٹم میں فیڈ کیا جائے۔ اس طرح پولنگ ختم ہونے کے چند منٹ بعد ہی ہر کوئی اس سسٹم پر کسی بھی حلقے کا نتیجہ دیکھ سکتا ہے۔اگر بنکوں کی ٹرانزیکشنیں ساتھ ساتھ ہی فیڈ ہو سکتی ہیں تو پولنگ کا ڈیٹا کیوں فیڈ نہں ہو سکتا، آپ اپنے اکائونٹ میں رقم جمع کرتے ہیں یا نکلواتے ہیں تو ا سکا حساب آپ کے پاس بھی ایک ایس ایم ایس کی شکل میں آ جاتا ہے اور بنک کے کھاتے میں بھی اس کا اندراج ہو جاتا ہے۔ شام پانچ بجے ہر بنک کی برانچ اور اسکے ہیڈ آفس کو معلوم ہوتا ہے کہ کتنی رقم نکلی، کتنی جمع ہو ئی ا ور بیلنس کیا ہے۔ یہی سسٹم نادرا بھی بنا سکتا ہے نادرا کے چیئر مین عثمان مبین کی صلاحیتوں پر میں تفصیل سے روشنی ڈال چکا ہوں، وہ ایک نابغہ روزگار ٹیکنالوجسٹ ہیں۔ ان کے پاس ایک بہترین ٹیم ہے جس نے نادرا کی شہرت چہار دانگ عالم میں پھیلا دی ہے ۔ یہ ادارہ شارٹ نوٹس پر بھی ضروری سافٹ ویئر تیار کر کے الیکشن کمیشن کودے سکتا ہے۔ یہ سافٹ ویئر شفاف الیکشن کا ضامن ہو گاا وراسے کوئی بھی چیلنج نہیں کر سکے گا۔میرااورا ٓپ کا پاکستان ہر خطرے سے محفوظ ا ور مامون ہو جائے گا۔ اسے سترا کہتر والا سرطان لاحق نہیں ہو گا، اور کیا چاہئے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *