قوم کے اعصاب کا مزید امتحان نہ لیں!

مجھے لگتا ہے کہ ہمارے ٹی وی چینلز پاکستانیوں کو پاگل کرکے ہی دم لیں گے، ہرباشعور پاکستانی حالات حاضرہ خصوصاًپانچ سال بعد منعقد ہونے والے انتخابات میں گہری دلچسپی رکھتا ہے، چنانچہ ٹی وی دیکھنا، اخبار پڑھنا، سوشل میڈیا پر چبھتی نظر ڈالنا اس کی مجبوری ہے مگر ہمارے ٹی وی چینلز صبح سے لے کر رات گئے تک مسلسل اس موضوع پر سمع خراشی کرنے میں لگے رہتے ہیں اور اکثر اوقات چیخ چیخ کر دہرائی ہوئی باتیں ایک بار پھر دہراتے ہیں۔ کچھ چینلز نے تو اپنے روٹین کے پروگرام بھی معطل کئے ہوئے ہیں، اوپر سے سیاسی جماعتوں کے چیخ و پکار والے اشتہارات کا تسلسل بھی جاری رہتا ہے جو شور و غل کی اس فضا میں غیر موثرہوجاتے ہیں۔ ظلم کی انتہا یہ ہے کہ کل اے این پی کی کارنر میٹنگ میں ہونے والے دھماکے پر کافی دیر تک توجہ نہیں دی گئی، جس میں بشیر بلور شہید کا بیٹا اور پوتا بھی شہید ہوگئے۔ سمجھ نہیں آتی دہشت گرد ہمیشہ اے این پی ہی کو خونریزی کا نشانہ بناتے ہیں اور اس میں بھی بلور خاندان ہی کیوں اس بربریت کی زد میں آتا ہے؟ کیا دہشت گرد اے این پی کو سیاسی محاذ سے ہٹانا چاہتے ہیں، کیا ان کی دشمنی صرف اے این پی سے ہے، یہ وہ سوال ہے جس پر اہل فکر کو ضرور غور کرنا چاہئے۔
مجھے دوسرے ناظرین کا علم نہیں، مگر میں اب الیکشن پر ہونے والے پروگرام زیادہ دیر تک نہیں دیکھ سکتا، مجھے اینکرز کی پرجوش آواز وں اور تکرار سے سخت ذہنی اذیت محسوس ہوتی ہے۔ تجزیاتی مار دھاڑ کا یہ سلسلہ 26جولائی کے بعد اس سے بھی زیادہ زور شور سے جاری رہے گا اور جو ناظرین اس کی زد میں آئیں گے، وہ مختلف قسم کی اعصابی اور دماغی الجھنوں کا شکار ہوں گے، پڑھے لکھے لوگ اس نوع کے مسائل کے مداوا کے لئے سائیکاٹرسٹ کے پاس جائیں گے اور توہم پرست دم کرانے کے لئے کوئی بابا تلاش کریں گے۔ میڈیا ہائوسز کے مالکان سے میری گزارش ہے کہ وہ قوم کو آنے والے انتخابات کے حوالے سے ضرور اپ ڈیٹ کرتے رہیں لیکن اپنے ناظرین کی ذہنی صحت کا بھی خیال رکھیں۔ ظاہر ہے میں ماہر ابلاغیات تو نہیں ہوں لیکن اس حوالے سے پروفیسر مہدی حسن یا ڈاکٹر مغیث الدین احمد سے تو رہنمائی حاصل کی جاسکتی ہے۔ وہ بتائیں گے کہ موثر ابلاغ کا کیا طریقہ ہوتا ہے اور یہ بھی کہ ایک ہی موضوع کا ڈھول ایک ہی طریقے سے مسلسل پیٹتے چلے جانے سے ناظر متاثر ہوتا ہے یا اس موضوع ہی سے متنفر ہوجاتا ہے۔
صرف یہی نہیں اس ضمن میں ماہرین نفسیات سے بھی رائے لی جاسکتی ہے کہ کیا قوم کو حالات حاضرہ سے آگاہ کرنے کے لئے ان کے اعصاب پر حملہ ہی ضروری ہے؟ وہ بتائیں گے کہ ایسا کرنا قوم کی ذہنی صحت کے لئے کس قدر نقصان دہ ہے۔ بات یہ ہے کہ ہماری قوم کے افراد کی اکثریت مختلف پریشانیوں کا شکار ہے۔ ایک سروے کے مطابق کیا امیر اور کیا غریب ستر فیصد پاکستانی نارمل رویوں کے حامل نہیں رہے اور ان کی اکثرت یہ نہیں جانتی کہ ان کا کون سا فعل ابنارمیلٹی کی ذیل میں آتا ہے۔ ایسی صورتحال میں ہمیں مزید احتیاط کی ضرورت ہے ۔ مرے کو مرے شاہ مراد کے مصداق سیاسی جماعتوں کے انتخابی اشتہارات بھی سلطان راہی کی کسی فلم کا سین لگتے ہیں،چنانچہ تمام متعلقہ اداروں سے میری گزارش ہے کہ وہ ایک مایوس اور غم زدہ قوم کو مزید ذہنی کوفت نہ دیں، مجھے ڈر ہے کہ کہیں ہماری قوم کے ستر فیصد ابنارمل رویوں کے حامل کی تعداد میں مزید اضافہ نہ ہوجائے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *