کوریا کی خواتین کا معیشت کو چیلنج

زوئین این

43 سال پہلے 90٪ خواتین نے  آئیس لینڈ میں ہڑتال  کی انہوں نے گھر میں، سکولوں اور کسی بھی  شعبہ میں ملازمت کرنے سے انکار کر دیا۔ اور ملک کو اس بات کا چیلنج دیا کہ ان کے بغیر  ملک چلا کے دکھائیں۔ ۔ اس ماہ  ساؤتھ کورین خواتین کے ایک گروہ  نے  یہی ہمت ایک بار پھر دکھائی اور اپنی پوکٹ بکس واپس لینے کا اعلان کر دیا ۔  روائیتی بائیکاٹ پر سرمایہ دارانہ نظام کی مہر لگاتے ہوئے ، کورین وومن جنرل کنزمپن سٹرائیک نامی اس ہڑتا ل  کا مقصد جنسی تضاد کے خلاف آواز اٹھانا تھا۔  انہوں نے اس موقع پر خواتین کی طرف سے کمائے گئے ڈالر یعنی وان کی اصل ویلیو کو عوام کےسامنے لانے کی کوشش کی۔ ہر ماہ کے پہلے اتور کو  خواتین نے کسی بھی غرض سے خرچ نہ کرنے کی ہرتال کرنے کا فیصلہ کیا ۔ انہوں نے ہیش ٹیگ **KWGCS** کا استعمال کیا ، اور  اس ہڑتال میں حصہ لینے والوں نے یکم جولائی کے ہڑتال کے پہلے  دن کے تجربات بتائے۔ اس دوران انہوں نے   بسوں کا کرایا دینے کے بجائے   پیدل سفر کرنے اور باہر کھانا
کھانے کے بجائے  گھر پر کھانا کھانے کو ترجیح دی۔ اسے " آن لائن فیمنزم"  کا نام دیا گیا اور اس تحریک کے فالوورز کی تعداد  5000   سے تجاوز کر چکی ہے۔ ۔ اس میں خاص طور پر اس مسئلے کو منظر عام پر لانا تھا کہ  ایک ہی کام کے لئے خواتین کو مردوں سے زیادہ ادائیگی کرنا پڑتی ہے اور اس چیز کو پنک ٹیکس کہتے ہیں۔ اس گروہ نے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ اس تحریک کے ذریعہ خواتین کو پنک
ٹیکس اور متعصب ایڈورٹائیزنگ سے جڑے مسائل کے بارے میں آگاہی دی جا سکے گی۔

میکرو پیمانے  پر  اس گروہ کے آرگنائیزرز نے **CGTN** کو بتایا کہ " ہم خواتین کو معاشرے  کا ایک ریگولر صارف کے درجہ پر لانا چاہتے ہیں۔ یہ ایک نا ممکن کہانی لگتی ہے  لیکن اس احتجاج کے ذریعے  ہم امید کرتے ہیں کہ  ایسی دنیا بنے جس میں جنسی امتیاز کی بنا پر اجرت  نہ دی جاتی ہو جیسا آئیس لینڈ اور سپین نےکیا ۔ "دنیا کی سب سے بڑی معیشت ہونے کے باوجود اس ملک میں جنسی امتیاز کی بنا پر اجرت دی جاتی ہے جس کی وجہ سے خواتین مردوں سے بہت پیچھے ہیں۔ او ای سی ڈی کے 35 ممالک میں سب سے زیادہ  جنیڈر پے گیپ ساوتھ کوریا میں پایا جاتا ہے جو 63 فیصد ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جس چیز کے مرد کو ایک ڈالر مزدوری ملتی ہو اسی کام کی خواتین کی مزدوری صرف 63 سینٹ ہوتی ہے۔ * *دوسرے اہم معاشی فیکٹرز کو دیکھتے ہوئے او ای سی ڈی کی 2017 کی رپورٹ میں لکھا ہے: ساوتھ کوریا میں صورتحال بہت خطرناک ہے کیونکہ یہاں مزدوری کے تناسب میں بہت فرق ہے ، لیبر مارکیٹ میں خواتین کا حصہ محدود ہے اور حکومتی نوکریوں میں بھی خواتین کو بہت کم مواقع دیئے جاتے ہیں۔  دوسرے کئی ممالک کی طرح ساوتھ کوریا میں اعلی انتظامی معاملات میں بھی خواتین کی نمائندگی بہت محدود ہے۔ ملک کی وزارت جنسی مساوات اور خاندان  کی رپورٹ کے مطابق بڑے درجہ کے عہدوں پر خواتین کی نمائندگی کی شرح صف5 اعشاریہ 6 فیصد ہے۔ اس ملک کے چیلنجز کا تعلق خواتین سے متعلقہ ثقافتی رسم و رواج اور پدرانہ سماجی نظام ہے۔

2005 تک ملک کے نظام کے مطابق قانونی طور پر خواتین گھر کی سربراہ بننے کا حق نہیں رکھتی تھیں۔ اور چونگ ہیون جو ملک کی فیملی منسٹر تھیں نے کہا ہے کہ انہوں نے اس لیے خاندان نہیں بنایا کیونکہ شادی ، بچوں اور گھر کے کام کے ساتھ ان کے لیے تعلیم جاری رکھنا مشکل ہو جاتا۔ ان مسائل کے باوجود فیمنسٹ حضرات ساوتھ کوریا کے بارے میں پر امید ہیں۔ پچھلے ہفتہ ہزاروں خواتین نے سوئیل میں جمع ہو کر خفیہ کیمروں کے زریعے پورنوگرافی کے خلاف احتجاج کیا جو ملک میں پہلی بار  ایسا  بڑا احتجاج تھا جس میں اتنی تعداد میں خواتین شریک ہوں۔

source : https://news.cgtn.com/news/3d3d674d34497a4e78457a6333566d54/share_p.html

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *