سیاسی منظر نامہ،مقتدرقوتوں کونوازشریف کابیانیہ ہرگزقبول نہیں،اسی کی سزاملی

کہ 13جولائی کو نواز شریف جب اڈیالہ جیل کی ڈیوڑھی میں داخل ہوئے تو یہی وہ وقت تھا جب 19 برس پہلے 12 اکتوبر 1999 کو پرویز مشرف نے اقتدار سے معزول کرکے انہیں اڈیالہ جیل پہنچایا تھا، شب 10 بجکر46 منٹ تھے جب فوج کا ایک دستہ میاں صاحب کو لے کر اڈیالہ جیل پہنچا تھا۔ 19 برس بعد نواز شریف اور مریم نواز جب اڈیالہ جیل کی ڈیوڑھی پہنچے تو گیارہ بج چکے تھے۔ چوہدری محمد ایوب نے سپر نٹنڈنٹ جیل کی حیثیت سے 18برس راولپنڈی کی سابقہ اور موجودہ اڈیالہ جیل میں خدمات انجام دیں ان دنوں شعبہ وکالت سےوابستہ ہیں،اڈیالہ جیل کے شب و روز کے حوالے سے یادوں کا ایک خزانہ ان کے پاس موجود ہے، 19 برس پہلے نواز شریف کو معزول کرکے جب اڈیالہ جیل لایا گیا تو وہ بہت مضمحل اور افسردہ تھے۔ اڈیالہ جیل میں 12اکتوبر 99 کی شب ان کا قیام دو گھنٹےپر محیط تھا جس کے بعد انہیں اٹک قلعہ منتقل کردیاگیا تھا جس بیرک میں نواز شریف کو لا یاگیا تھا یہ ان کے دور حکومت میں ہی بے نظیر بھٹو کےلئے راتوں رات تعمیر کی گئی تھی لیکن بے نظیر

بھٹو کبھی اڈیالہ منتقل نہیں ہوئیں بلکہ انہیں اسلام آباد میں وزارت صنعت کے گیسٹ ہائوس کو سب جیل بناکر رکھاگیا تھا۔ نوازشریف 19 برس بعد اسی بیرک میں بند ہیں جسے حالیہ برسوں میں ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ کا نام دیا گیا تھا اس سے ملحقہ بیرک میں بارہ سیل قائم ہیں،ایک سیل ایک قیدی کے لئے مختص ہوتاہے۔ کیپٹن صفدر کو اسی ایک سیل میں رکھاگیا ہے۔ 1994 میں بے نظیر دور میں چوہدری شجاعت ،حاجی نواز کھوکھر، میاں عباس شریف کو ان ہی سیلوں میں بند کیاگیا تھا ، ان دنوں نصرت جاوید کےہمراہ کئی بار جیل میں قید شہباز شریف، چوہدری صاحبان اور نواز کھوکھر سے ملاقاتیں رہیں ، اکثر دوپہر کا کھانا وہیں سپرنٹنڈنٹ جیل کے دفتر سے ملحقہ کمرے میں اکھٹے کھانا کھاتے ۔ چوہدری شجاعت نے اپنی خود نوشت’’سچ تویہ ہے‘‘ میں اڈیالہ جیل کے شب و روز پر ایک مکمل باب رقم کیا ہے جس میں انہوں نے کہاکہ اڈیالہ جیل کے جس احاطے میں ہمیں رکھاگیا اس میں کل بارہ سیل تھے۔ پرویز الٰہی اور انہیں الگ الگ سیلوں میں رکھاگیا، کہنے کو تو بی کلاس دی گئی تھی لیکن کوٹھڑیوں کی حالت انتہائی خراب تھی۔ جیل کاپانی انتہائی خراب اور یخ بستہ تھا، پانی کی ٹینکی تک نہیں تھی۔ یہاں چوہدری صاحب نے اپنے پیسوں سے ٹینکی لگوائی اورکموڈ سیٹ کی جگہ فلش ٹوائلٹ تعمیر کرایا تھا بعد میں نوازشریف اور یوسف رضا گیلانی بھی دوران قید فائدہ اٹھاتے رہے۔ چند روز بعد اعجاز الحق،حمزہ شہباز، بریگیڈئیر امتیاز اور نوازشریف کے سیکرٹری خیام قیصر بھی اڈیالہ پہنچا دئیے گئے۔حاجی نواز کھوکھر، جنرل(ر) سعید قادر، میاں عباس شریف اور حمزہ چوہدری شجاعت کے احاطے میں جبکہ شیخ رشید، اعجاز الحق، بریگیڈئیر امتیاز اور خیام قیصر دوسرے احاطے میں بند تھے۔ دن کےاوقات میں یہ سب قیدی ایک ہی احاطے میں اکھٹے ہوتے اور گپ شپ لگاتے۔ حمزہ شہباز ان دنوں پڑھ رہے تھے، انہوں نے کورس کی کتابیں وہیں منگوالی تھیں۔ تین وقت کا کھانا چوہدری شجاعت کے گھر سے آتا تھا، اعجاز الحق اور شیخ رشید کو اس احاطے کی طرف جانے کی اجازت نہیں تھی۔ شہباز شریف کو سردار نسیم کی صورت میں مشقتی ملاتھا۔ سردار نسیم بعد میں مسلم لیگ راولپنڈی کے صدر بنے،ا ن دنوں میئر ہیں۔ وہ ان کے جوتے پالش اور کپڑے استری کرتے تھے۔ میاں عباس شریف کا معاملہ سب سے دلچسپ تھا وہ بیشتر وقت مصلے پر وظائف میں گزارتے، پرویز الٰہی مشقتی کے کہنے پر ایک روز میاں عباس شریف کے سیل میں گئے تو دیکھا کہ پانچ چھ بلیاں ان کے پاس بیٹھی ہیں اور اپنا سارا کھانا انہیں کھلانے کے بعد بلیوں سے باتیں کررہے تھے۔ سابق سپر نٹنڈنٹ جیل چوہدری ایوب بتا رہے تھے کہ انہوں نےبہت سے سیاستدانوں کے ساتھ جیل میں وقت گزار لیکن جو صبر و تحمل خان عبدالولی خان میں دیکھا یہ جذبہ کسی اور میں نہیں تھا۔ ولی خان کبھی جیل میں کسی سے نہیں الجھے، جیل کے قواعد وضوابط کی پوری طرح پابند ی کرتے، دوران اسیری سینیٹر وسیم سجاد نے حقوق انسانی تنظیموں کے ساتھ اڈیالہ جیل کا دورہ کرنے کا پروگرام بنایا جس سے جیل میں کھلبلی مچ گئی۔ وزیراعظم بے نظیر بھٹو کو علم ہوا تو جیل حکام کو حکم دیاگیا کہ انسانی حقوق تنظیموں کی آمد سےپہلے سیاسی قیدیوں کے سیلوں کی صفائی ستھرائی کرائی جائے۔ اس ہدایت پر عمل ہوا، اس سیل میں جہاں آج میاں صاحب بند ہیں یہاں فلش، واٹر کولر، میز کرسیاں اور دیگر سہولتیں چوہدری شجاعت نےذاتی خرچ پر فراہم کی تھیں اور جب بارہ اکتوبر 1999 کو نوازشریف پہلی بار اس کوٹھڑی میں داخل ہوئے تھے تو جیل سپر نٹنڈنٹ نے انہیں بتایا تھا کہ پریشان نہ ہوں یہاں آصف زرداری، یوسف رضا گیلانی، سینیٹر سیف الرحمن بھی قید رہ چکے ہیں، 19 برس بعد میاں صاحب کو دوبارہ اسی سیل میں رکھاگیا ہے تاہم ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ کی وجہ سے اس جگہ کو زیادہ بہتر بنایاگیا ہے۔ نواز شریف کے مخالفین شدومد سے کہتے ہیں کہ انہیں کرپشن کے الزامات پر سزا ملی لیکن اس پہلو پربھی غورکرنا چاہیے کہ 1999 ہو یا 2018 ، نوازشریف جس بیانیے پر چل رہے تھے یہ مقتدر اشرافیہ کیلئے ہر گز قابل قبول نہیں اور انہیں سزا بیانیے کی ملی ،اب جبکہ عام انتخابات میں محض 9 دن کا فاصلہ رہ گیا ہے ، دہشتگردی کے حالیہ ہولناک واقعات نے انتخابی عمل کے حوالے سے بہت سے خدشات پیدا کردئیے ہیں، الیکشن کمیشن اور نگران حکومت کو لوگوں میں عدم تحفظ کا احساس ختم کرنے کیلئے سیاسی قوتوں کے ساتھ مل کر ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے۔ ایسا نہ ہوکہ الیکشن کی شفافیت پر اٹھنے والے سوال سارے انتخابی عمل کو سوالیہ نشان بنادیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *