کیا شریف فیملی کے پاس 1993-1996 میں لندن فلیٹس خریدنے کے وسا ئل تھے؟

جے آئی ٹی رپورٹ میں 1990ء کے اوائل میں جس خالص منافع کا اعتراف کیا گیا اور شریف فیملی کے دو کاروباری یونٹس ذریعے قومی خزانے میں جو ٹیکس جمع کرایا گیا ہے ان کو دیکھتے ہوئے احتساب عدالت کی جانب سے 6؍ جولائی کو سنائے گئے فیصلے میں جو بنیادی نقطہ اٹھایا گیا ہے وہ مشکوک ہو جاتا ہے کہ نواز شریف لندن فلیٹس کی خریداری کیلئے ذرائع ثابت نہیں کر پائے اسلئے انہیں نیب آرڈیننس کے سیکشن 9 اے 5 کے تحت مجرم قرار دیا جاتا ہے۔ نواز شریف نے ہمیشہ انکار کیا ہے کہ انہوں نے یہ فلیٹس خریدے ہیں اور بیان جمع کرایا ہے کہ یہ فلیٹس ان کے والد کی غیر ملکی سرمایہ کاری میں تھے اور یہ فلیٹس 2006ء میں ان کے بیٹے حسین نواز کی ملکیت میں آئے۔ لیکن، اعداد و شمار کو دیکھتے ہوئے احتساب عدالت کی جانب سے جس بنیاد پر ملک کے تین مرتبہ وزیراعظم رہنے والے نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کو سزا سنائی ہے وہ مشکوک ہو جاتی ہے۔ (احتساب عدالت کے فیصلے کے مطابق) جس سال میں لندن فلیٹس خریدے گئے تھے اس وقت ان کی زیادہ سے زیادہ مالیت پاکستانی

دس کروڑ روپے کے برابر تھی جبکہ قومی خزانے میں شریف فیملی کے دو بزنس یونٹس کی جانب سے جمع کرائے گئے ٹیکس کی مالیت 147؍ کروڑ یعنی 1.47؍ ارب روپے تھی اور اس میں سیلز ٹیکس کے اعداد و شمار شامل نہیں۔ اگر سیلز ٹیکس کے اعداد و شمار بھی شامل کیے جائیں تو صرف چوہدری شوگر ملز اور رمضان شوگر ملز نے اب تک مجموعی طور پر 1034؍ کروڑ یعنی 10.345؍ ارب روپے جمع کرائے ہیں۔ جے آئی ٹی کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ میں اثاثوں کی سالانہ مالیت، واجبات اور خالص منافع کو دیکھیں تو الگ کہانی ملے گی۔ جے آئی ٹی کے جمع کرائے گئے اعداد و شمار کو شریف فیملی نے مسترد کیا ہے اور انہیں غلط اور بے بنیاد قرار دیا ہے۔ جے آئی ٹی کی رپورٹ کے مطابق، شریف فیملی کے دو بزنس یونٹس نے 1995ء میں 31؍ کروڑ 20؍ لاکھ روپے جبکہ 1996ء میں 42؍ کروڑ روپے کا خالص منافع کمایا۔ دیگر بزنس یونٹس کا منافع ان سے الگ ہے۔ احتساب عدالت نواز شریف کو سزا دینے کیلئے اپنے فیصلے میں اس بات کا ذکر کرنا بھی بھول گئی ہے کہ 1990ء کی دہائی میں یہ فلیٹس کس قیمت پر خرید کیے گئے تھے۔ صرف ’’لندن فلیٹس‘‘ کا ذکر کرکے مناسب سمجھا گیا کہ لوگ فلیٹس کی قیمت کا اندازہ خود ہی لگا لیں گے۔ فیصلے میں ان برسوں کے دوران شریف فیملی کی جانب سے لندن فلیٹس کے حوالے سے رقم کی منتقلی یا شریف فیملی کی جانب سے جمع کرائے گئے ڈکلیریشن یا کاروبار کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی گئی لیکن ان شواہد پر بحث کیے بغیر ہی قرار دیا گیا ہے کہ نواز شریف ان فلیٹس کے اصل مالک ہیں اور وہ ان فلیٹس کی خریداری کے وسائل نہیں پیش کر سکے۔ اگر فیصلے میں پاکستان سے برطانیہ یا کسی اور ملک سے برطانیہ رقم منتقلی کی بات ہوتی تو معاملہ کچھ مختلف ہوتا اور اگر پراسیکوشن تفصیلی تحقیقات کے بعد کوئی شواہد پیش کرنے میں کامیاب ہو جاتے تو منی لانڈرنگ کے الزامات عائد کیے جاتے۔ لیکن ایسا نہ ہوا اور فیصلہ صرف اس بنیاد پر سنایا گیا ہے کہ نواز شریف کے پاس یہ فلیٹس خریدنے کے پیسے نہیں تھے۔ نواز شریف فلیٹس خریدنے سے انکاری ہیں اور لیکن بزنس کی مالیت ظاہر کرتی ہے کہ وسائل کی تو کوئی بات ہی نہیں تھی۔ (1992ء سے 1997ء کے دوران) صرف دو کاروباری یونٹس کے منافع کو دیکھتے ہی عدالتی فیصلہ مشکوک ہو جاتا ہے کہ نواز شریف کے پاس وسائل نہیں تھے۔ نواز شریف نے کبھی فلیٹس کی ملکیت کا اقبال نہیں کیا۔ جرح کے دوران پراسیکوشن گواہوں نے کہا کہ ان کے پاس ایسے کوئی شواہد نہیں جن سے ثابت کیا جا سکے کہ نواز شریف ایوین فیلڈ فلیٹس کے مالک ہیں، نواز شریف کے وکیل نے کہا کہ لندن فلیٹس کبھی نواز شریف کی ملکیت تھے ہی نہیں اور یہ میاں محمد شریف نے 1980ء میں کی گئی سرمایہ کاری کا حصہ ہیں اور یہ 2006ء میں جائیداد کی تقسیم کے نتیجے میں حسین نواز کی ملکیت میں آئے۔ احتساب عدالت نے بڑی ہی سادگی کے ساتھ سپریم کورٹ کے جسٹس آصف سعید کھوسہ کی قیادت میں تین رکنی بینچ کے بنائے گئے اس اصول کو نظر انداز کر دیا کہ پراسیکوشن کو ٹھوس شواہد سے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ متذکرہ پراپرٹی خریدنے کیلئے کون سے وسائل (کرپشن یا لوٹ مار کی رقم) استعمال کیے گئے۔ لیکن اس کی بجا ئے احتساب عدالت کے فیصلے میں اعتراف کیا گیا ہے کہ بے ایمانی یا کرپشن کا کوئی الزام ثابت نہیں ہوا حتیٰ کہ یہ بھی کہا کہ فلیٹس کی اصل ملکیت ثابت کرنا بھی مشکل ہے۔ حنیف عباسی بنام عمران خان کیس میں سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی درخواستوں کے مطابق، انکم ٹیکس آرڈیننس 2001ء کے نفاذ سے قبل پاکستانی شہری پر یہ لازم نہیں تھا کہ وہ بیرون ملک اپنی جائیدادوں کا انکشاف پاکستان میں کرے۔ عمران خان نے درخواست میں کہا تھا کہ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے اپنی آف شور کمپنی اور لندن کے فلیٹ کا پاکستان میں 2001ء سے قبل ذکر نہیں کیا تھا۔ میاں محمد شریف کے معاملے میں دیکھیں تو وہ 2001ء کے بعد اپنے انتقال تک چوتھے مارشل لا کی وجہ سے پاکستان کے ٹیکس دہندہ شہری نہیں تھے۔ شریف فیملی اعتراف کرتی ہے کہ 2006ء میں ملکیت کے حصول سے قبل وہ یہ فلیٹس 1993ء سے استعمال کر رہی ہے اور فلیٹس کے قبضے کی بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں اور پاکستانی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے مختلف لوگ 1990ء کی دہائی میں اور بالخصوص 2000ء کے بعد (جب خاندان جلاوطنی کاٹ رہا تھا) ایون فیلڈز کے فلیٹس میں شریف فیملی کے ارکان سے ملاقاتیں کرتے رہے ہیں۔ جب تک یہ ثابت نہ کر دیا جائے کہ ملزم نے کوئی اثاثہ حاصل کیا تھا، اس وقت تک اسے منی ٹریل جمع کرانے کیلئے نہیں کہا جا سکتا۔ موجودہ صورتحال میں، یہ کہا جا رہا ہے کہ لندن فلیٹس میاں محمد شریف نے حاصل کیے تھے جو یقینی طور پر ایک مالدار کاروباری شخص تھے اور ان کی آمدنی اور ذرائع کو دیکھا جائے تو کہ جا سکتا ہے کہ یقیناً انہوں نے یہ فلیٹس حاصل کیے ہوں گے۔ دادا سے باپ کی بجائے پوتے پوتیوں تک جائیداد کی منتقلی کی بات ہمارے معاشرے میں معمول کا حصہ ہے۔ سوال اس صورت میں پیدا ہوتا جب میاں محمد شریف کوئی غریب شخص ہوتے اور نواز شریف کے وزیراعظم رہتے ہوئے صرف ان کی آمدنی ہی خاندان کی کفالت کا واحد ذریعہ ہوتا۔ لیکن، احتساب عدالت کے فیصلے نے کوئی منطق استعمال کیے بغیر ہی چونکہ بچوں کے والد نواز شریف ہیں اسلئے فلیٹس ان کے ہیں۔ برطانیہ کے لینڈ رجسٹری ڈپارٹمنٹ کے مطابق، یہ چار فلیٹس آف شور کمپنی نیلسن اور نیسکول نے ان تاریخوں میں خریدے تھے؛ فلیٹ نمبر 17، یکم جون 1993ء سے مالک نیسکول، فلیٹ نمبر 16، 31؍ جولائی 1995ء سے مالک نیلسن، فلیٹ نمبر 16A کی 31 جولائی 1995ء سے مالک نیلسن، فلیٹ نمبر 17A کی 23؍ جولائی 1996ء سے مالک نیسکول۔ کرنسی ایکسچینج ریٹ کو دیکھیں تو جون 1993ء میں برطانوی پائونڈ کی مالیت 42؍ روپے تھی، جولائی 1995ء میں 51؍ روپے جبکہ جولائی 1996ء میں 55؍ روپے تھی۔ فلیٹ نمبر 17؍ پانچ لاکھ 85؍ ہزار پائونڈز (دو کروڑ 45؍ لاکھ 70؍ ہزار روپے)، فلیٹ نمبر 16؍ اور 16A کی قیمت 1.075؍ ملین پائونڈز (ایک کروڑ 34؍ لاکھ 75؍ ہزار روپے)، فلیٹ نمبر 17A کی قیمت دو لاکھ 45؍ ہزار پائونڈز (ایک کروڑ 34؍ لاکھ 75؍ ہزار روپے) تھی۔ لندن میں جب پراپرٹی کے شعبے سے وابستہ مختلف افراد سے رابطہ کرکے پوچھا گیا کہ 1993ء سے 1996ء سے درمیان ان فلیٹس کی مالیت کیا تھی تو ان کا کہنا تھا کہ کچھ بھی ہو لیکن مالیت 20؍ لاکھ برطانوی پائونڈز سے زیادہ نہیں تھی۔ اگرچہ شریف فیملی انکاری ہے کہ اس نے یہ فلیٹس 1990ء کے اوائل میں خریدے اور کوئی شواہد نہیں کہ ان کے بیان کو غلط ثابت کیا جا سکے۔ لیکن احتساب عدالت نے قرار دیا ہے کہ یہ فلیٹس 1990ء کے اوائل میں خریدے گئے اور وہ بھی نواز شریف نے خریدے جن کے پاس اتنے وسائل ہی نہیں تھے کہ وہ یہ خرید سکتے۔ جس نے بھی یہ فلیٹس 1993ء سے 1996ء کے دوران خریدے، اس کیلئے مجموعی طور پر 19؍ لاکھ 5؍ ہزار برطانوی پائونڈز خرچ ہوئے جو نو کروڑ، 28؍ لاکھ اور 70؍ ہزار روپے بنتے ہیں۔ جے آئی ٹی رپورٹ کے حسابات کو شریف فیملی نے مسترد کیا لیکن جے آئی ٹی کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ شریف فیملی کی صرف چوہدری شوگر مل نے 1995ء میں 16؍ کروڑ روپے کا منافع کمایا۔ 1990ء میں 6؍ کروڑ 70؍ لاکھ، 1991ء میں تین کروڑ 10؍ لاکھ، 1992ء میں 2؍ کروڑ 60؍ لاکھ، 1993ء میں 50؍ لاکھ، 1994ء میں دو کروڑ 50؍ لاکھ دیگر کاروبار اتفاق شوگر ملز سے کمائے گئے۔ جے آئی ٹی حسابات کے مطابق، صرف اتفاق ٹیکسٹائل ملز سے 1991ء میں 17؍ کروڑ 60؍ لاکھ روپے کا خالص منافع حاصل ہوا اور 1992ء میں 19؍ کروڑ روپے کا منافع حاصل ہوا۔ رمضان شوگر ملز کے حوالے سے 1995ء میں 15؍ کروڑ 20؍ لاکھ جبکہ 1996ء میں 28؍ کروڑ 60؍ لاکھ روپے کا منافع حاصل ہوا۔ منافع سے ہٹ کر دیکھیں تو متعلقہ برسوں کے دوران چوہدری شوگر ملز اور رمضان شوگر ملز نے مجموعی طور پر 147؍ کروڑ روپے ٹیکس جمع کرایا، جس کا حوالہ احتساب عدالت کے فیصلے میں موجود ہے۔ شریف فیملی کے دیگر بزنس، جن میں حمزہ بورڈ ملز، حدیبیہ انجینئرنگ، مہران رمضان ٹیکسٹائل ملز وغیرہ شامل ہیں،کی جانب سے جمع کرائے گئے ٹیکس اس ٹیکس سے الگ ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *