خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا ! (قسط نمبر4)

گیسٹ روم میں آرام دہ بستر پر دراز گلاب خان اپنی الجھنوں میں کھویا ہوا تھا اور اُ س کا دل ماں کیلئے تڑپ رہا تھا ۔ وہ سوچ رہا تھا کہ رقم ملتے ہی وہ کراچی میں سب سے اچھے ڈاکٹر سے اپنی ماں کا علاج کرائے گا ۔سوچتے سوچتے اسے راجو کا خیال آگیا جس انداز سے وہ زوبیہ میمن کے پیچھے پڑا تھا گلاب خان کو ڈر لگ رہا تھا کہ کہیں کوئی مصیبت نہ اٹھ کھڑی ہو ۔
دوسرے کمرے میں زوبیہ میمن بھی جاگ رہی تھی اور سوچ رہی تھی کہ اس کا باپ زر تاوان ادا کرنے میں ہر گز تا خیر نہیں کر ے گا ۔پھر اسے راجو کا خیال آیا اور اس کے جسم میں سنسنی دوڑ گئی ، تھوڑی ہی دیر میں یہ رنگین خیال زوبیہ پر گھنگھور گھٹا کی طرح چھا گیا اور وہ بستر سے اٹھ دروازے کی طرف چل پڑی ۔
مزید پـڑھئیں :"خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا ! قسط نمبر 3"
منہ میں سگار رکھے کریم بھا آرام دہ کرسی پر نیم دراز تھا ۔گلاب خان اس کے پیچھے کھڑا تھا جبکہ سامنے ایک کرسی پر قمر شریف براجمان تھا ۔کھڑکی سے راجو قمر کی کرولا پر گیراج میں آتا دکھائی دے رہا تھا ۔سپارکنگ پلگ لگانے کے بعد اب وہ اصلی لائسنس پلیٹوں کی جگہ کریم بھا کی لائی ہوئی جعلی نمبر کی پلیٹیں لگا رہا تھا ۔اب صبح کے نو بج چکے تھے ۔
کریم بھا ہدایت دینے لگا ،’’ تم گیارہ بجے تک مجید میمن کی رہائش گا ہ پر پہنچ جاؤ گے ۔تم جانتے ہی ہو تمہیں کس انداز میں معاملہ طے کرنا ہے ، خیال رکھنا معاملہ بگڑنے نہ ہوپائے ۔’’ اس نے کش لگانے کے لیے توقف کیا ’’ اگر تم نے ہمیں ڈبل کراس کرنے کی کوشش کی تو جان لو میرے آدمی ٹوٹنا جانتے ہیں ، جھکنا نہیں ۔ اگر ایسا ہوا تو وہ تمہارے بیوی بچے اور مجید میمن کی لڑکی کو ختم کر کے پولیس کے مقابلے میں جان دے دیں گے ۔ ‘‘ قمر خاموشی سے سنتا رہا ۔
’’ اب سا را دارومدار تم پر ہے کہ تم مجید میمن سے کس طرح چیک حاصل کرتے ہو ، پھر تم کراچی سے یہ چیک کیش کروانے کیلئے اسلام آباد پہنچ کر سٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک سے پہلا چیک کیش کراؤ گے ، تمہیں رات میرٹ ہوٹل میں قیام کرنا ہو گا ۔جمیل احمد کے نام سے تمہارے لئے وہاں پہلے سے کمرہ بُک کروا دیا گیا ہے ۔اس کے بعد اگلا چیک کیش کروانے کے لئے تم لاہور جاؤ گے ۔وہاں لاہو ر کے امریکن ایکسپریس بینک میں جا کر دوسرا چیک کیش کراؤ گے بعد ازاں میری ہدایات کے مطابق چیک بھنواتے ہوئے بالآخر تم فیصل آباد پہنچو گے ۔ ہر شہر میں تمہارے موبائل پر ایک کوڈ آئے گا ، پھر تمہیں کسی جگہ پہنچنا ہو گا ، جہاں ایک شخص تمہیں کوڈ بتا ئے گا اور ایک کروڑ وصول کرلے گا اور پھر تمہیں رسید دے گا ۔ پھر کریم بھا نے وہ دس رسیدیں قمر کو دکھائیں جو دراصل ایک ایک ڈالر کے دس نوٹ تھے جن کے نمبر ایک ہی ترتیب میں تھے ’’ تمہاری واپسی پر مس زوبیہ میمن کو رہا کر دیا جائے گا اور پھر میرے آدمی یہاں سے رخصت ہو جائیں گے اور اس کے بعد تم ان واقعات کو بھیا نک خواب سمجھ کر فراموش کر دینا لیکن یاد رہے اگر تم نے کسی بھی بندے سے غیر ضروری بات کی تو ذمہ داری تم پر ہو گی ‘‘ یہ کہہ کر وہ اٹھ کھڑا ہو ا’’ کار تیار ہو گئی ، اب تم چل دو ۔‘‘
قمر اٹھتے ہو ئے بولا ’’ میری بیوی تنہا رہتے ہوئے ڈر رہی ہے ، اس با ت کی کیا ضمانت ہے کہ انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچے گا ؟‘‘
’’ اس بات کی تم ذرا فکر نہ کر ومیر ے دوست !ہر دھندے کے کچھ اصول ہوتے ہیں اور کریم بھا ، نااصو ل توڑتا ہے نہ کسی کو توڑنے دیتا ہے مسز قمر بھاگنے کی کوشش نہ کرے تو اسے یا بچنے کو کو ئی نقصان نہیں پہنچے گا ۔ ‘‘ کریم بھا نے کہا ۔
قمر مجبور تھا ۔ صبیحہ نے منے کو اٹھا کر سینے سے لگا لیا ، آنسو خو د بخود اس کی آنکھوں سے بہنے لگے ۔
مجید میمن چبوترے پر بیٹھا سگار پی رہا تھا ۔اسے توقع تھی کہ ملاقاتی کوئی بدمعاش ہو گا ۔ایک مہذب اور شائستہ شخص کو دیکھتے ہوئے کسی قدر اچنبھے سے وہ بولا ’’ ہوں ......کیا مطالبہ ہے تمہار ا ؟‘‘
’’ مسٹر مجید میمن ،کسی تمہید کے بغیر اختصا رسے بات کروں گا ‘‘قمر بولا ’’میں اور تم دونوں ایک ہی تیر کے شکار ہیں ۔تمہاری بیٹی کو سخت خطرہ لاحق ہے اور میرے کنبے کو اغوا ء کنندہ نے یر غمال بنا رکھا ہے اور صاف گوئی سے کام لیتے ہوئے کہوں گا کہ آپ کی بیٹی سے زیادہ مجھے اپنی بیوی اور بچے کی سلامتی مقصود ہے ۔‘‘
ایک تحویل لمحے تک قمر کا جائزہ لینے کے بعد مجید میمن نے تنکوں کی بنی ہوئی کرسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ’’ بیٹھ جاؤ اور تفصیل سے بتا ؤ ۔‘‘
قمر بیٹھ گیا ’’ تم سے د س کروڑ وصول کرنے کے لیے ان ٹھگوں نے مجھے منتخب کیا ۔تمہاری بیٹی کو لے کر وہ میری قیام گاہ پر آئے اور غاصبانہ قبضہ جما لیا اور پھر مجھے تمہارے پا س غفت و شنید کے لیے بھیج دیا ہے ۔اب اگر تم نے رقم ادا نہ کی یا پولیس سے مدد طلب کی تو وہ سفاک لوگ تمہاری بیٹی اور میری بیوی اور بچے کو قتل کر دیں گے ، ان میں سے ایک جو ان بہت بدمعاش ، وحشی اور درندہ صفت ہے ،مجھے یقین ہے کہ وہ میرے نوکر کو قتل کر چکا ہے ۔‘‘
مزید پـڑھئیں :"خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا ! قسط نمبر 2"
’’ تمہاری قیام گا ہ کہاں ہے؟‘‘مجید میمن نے پو چھا ۔
’’ مجھے خبر دار کیا گیا ہے کہ اپنے متعلق کچھ نہ بتا ؤں ‘‘ قمر بولا ’’ اسے محض گیڈر بھبکی نہ سمجھو ، وہ واقعی بڑے بے حس اور پتھر دل لوگ ہیں ، ان کا مطالبہ ہے کہ اپنی بیٹی کو زندہ سلامت حاصل کرنا چاہتے ہو تو ایک ایک کروڑ کے دس مصدقہ چیک جاری کر دو ۔‘‘
مجید میمن اٹھ کر چبوترے کے سرے پر چلا گیا اور نتھنوں سے دھواں اگلتے ہوئے کچھ سوچتا رہا اور پھر چند لمحوں بعد وہ واپس مڑا ’’ مجھے یقین ہے کہ تمہیں اس بات کا اچھی طرح سے احسا س ہو گا کہ تم ایک سنگین جرم میں معاونت کر رہے ہو اور یہ معاملہ ختم ہو نے کے بعد جب پولیس حرکت میں آئے گی تو تمہیں پھانسی تک کی سزا ہو سکتی ہے۔‘‘
’’ چاہے مجھے سمندر میں غرق کر دیا جائے ، مجھے اس کی پروا نہیں ‘‘ قمر بولا ’’مجھے تو اپنی بیوی اور بچے کی سلامتی اور تحفظ مقصود ہے ۔‘‘
’’ رقم ادا کر نے کے بعد اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ میری بیٹی صحیح سلامت مجھے لوٹا دی جائے گی ۔‘‘
’’ ضمانت ؟‘‘قمر بولا ’’ میں تو یہ بھی یقین سے نہیں کہہ سکتا ہے کہ میں واپس جا کر اپنی بیوی اور بچے کو زندہ دیکھ بھی سکوں گا یا نہیں ؟ پس بیٹی کی واپسی کے لیے تمہیں رقم داؤ پر لگانا ہو گی ۔‘‘ہلکے سے وقفے کے بعد مجید میمن بولا ’’ میری بیٹی کو دیکھا تو ہو گا تم نے ، وہ ٹھیک ٹھا ک ہے نا ؟‘‘
’’ ہاں وہ بالکل ٹھیک ٹھا ک ہے ۔‘‘
’’ اغواء کنندہ گان کے متعلق بتا ؤ ، وہ کتنے ہیں ؟‘‘
’’ مجھے خبر دار کیا گیا ہے کہ کسی قسم کی معلومات نہ دوں اور بس تاوان کی رقم ان تک پہنچا دوں ۔تمہیں بس یہ فیصلہ کرنا ہے کہ بیٹی کے لئے تاوان ادا کرنا چاہتے ہو یا نہیں ؟‘‘
چند لمحوں تک چھیدنے والی نگاہوں سے قمر کو گھورنے کے بعد مجید میمن اٹھ کھڑا ہوا اور بولا ’’ یہیں ٹھہرو ، میں ابھی آتا ہو ں ۔‘‘
یہ کہ کر وہ اندر چلا گیا اور اپنے پی اے سلیم کو چیک تیا رکروانے کیلئے ہدایات دیں ۔تھوڑی دیر میں بینک سے چیک آگئے اور قمر وہاں سے رخصت ہو گیا ۔ اس کے فوراََ بعد مجید میمن کے موبائل پر کریم بھا کی کال آئی ’’ کسی قسم کی چالاکی نہ کر نا ، ہمارے آدمی سائے کی طرح تمہارے ساتھ رہیں گے ۔‘‘
’’ یوں لگتا ہے کہ اس شخص کو میں نے پہلے دیکھا ہوا ہے ......جیسے اس کا تعلق تھیٹر سے ہے ‘‘مجید میمن نے کہا اور واپس چبوترے پر لوٹ گیا ۔
اپنی ماں کی خیروعافیت معلوم کرنے کے لیے گلاب خان بُر ی طرح تڑپ رہا تھا ۔ ٹیلیفون پر نظر پڑتے ہی اس کا جی بے چین نظرہوجا تا لیکن وہ جانتا تھا کہ فون کرنا تباہ کن ہو سکتا ہے ، کال ٹریس ہو نے پر ایک کروڑ کا خواب تشنۂ تعبیر ہی رہ جائے گا ۔
لیکن ماں کا حال معلوم کرنا ضروری تھا پس تھوڑی ہی دیر بعد وہ راجو کو بتا کر گاڑی پر پی سی او کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا ۔
گردو غبار کے بادل میں اس کی کار کو نگاہوں سے اوجھل ہوتے دیکھ کر راجو نے رسالہ رکھا اور ایک انگڑائی لے کر اٹھ کھڑا ہوا ۔
’’ کدھر ؟‘‘شبانہ نے بد گمانی سے پوچھا ۔
’’اپنے کام سے کام رکھو ‘‘ راجو تیزی سے بولا ’’ ذرا آرام کرنے جا رہا ہوں ‘‘
’’دیکھو راجو ‘‘میں جانتی ہوں تم کہاں جارہے ہو ، یہ خیال ......دل سے نکال دو ۔‘‘
’’ آرام سے بیٹھی رہو ‘‘ راجو غرا کر بولا ۔
وہ سٹپٹا کر رہ گئی اور زیر لب ہولے ہولے سیٹی بجاتے ہوئے راجو اندر چلا گیا ، عین اُس وقت زوبیہ کمرے سے باہر آتے ہوئے دکھائی دی ۔راجو دھکیلتا ہوا واپس کمرے میں لے گیا ۔اس کے باوجود باہر دھوپ میں بیٹھی شبانہ کو زوبیہ کی کوئی احتجاجی چیخ سنائی نہ دی ، وہ مٹھیاں بھینچے خاموش بیٹھی رہی، حیر ت انگیز طور پر کچھ دیر بعد اُسے راجو اور زوبیہ کے ہنسنے کی آواز آئی پھر ٹیلی ویژن کی آواز اونچی ہو گئی ۔سی این این پر اسامہ بن لادن کا نام گونج رہا تھا جبکہ باہر دور تک گھمبیر سناٹا تھا۔
گلاب خان بے قراری سے پی سی اومیں کال ملنے کا انتظار کر رہا تھا اس کے چہرے پر پسینہ چمک رہا تھا ۔ تھوڑی دیر بعد ریسیور میں سے آواز آئی’’ گلاب خان اسٹاف نرس نسیم بول رہی ہوں گذشتہ رات تمہاری ماں اس دُنیا سے گذر گئی ۔‘‘بے جان ہاتھوں سے ریسیور رکھ کر گلاب خان نے بوتھ کی دیوار کے ساتھ پیٹھ ٹیک دی ، فرط غم سے اس نے آنکھیں بند کر لیں ۔اس کے کانوں میں سائیں سائیں کی آوازیں آرہی تھیں ’’ جب ماں ہی نہیں رہی تو اب روپے کس کا م کے ؟‘‘ گلاب خان کے اندر سے آواز آئی ۔
چند لمحوں بعد وہ مرے مرے قدموں سے بوتھ سے نکلا اور کار میں جا بیٹھا۔ وہ سوچنے لگا کیا واپس عشرت کدہ چلا جاؤں؟کریم بھا بوڑھا ہو چکا ہے ، اگر کسی وجہ سے منصوبہ چوپٹ ہو گیا تو زندگی کے باقی سال جیل میں سسکتے گذریں گے لیکن پھر اسے چھوٹے سے ریسٹورنٹ میں غلاموں کی سی زندگی کا خیال آیا ۔ویٹر کی ذلیل نوکری سے تو مرنا ہی بہتر ہے۔ نہیں نہیں مجھے کریم بھا کا ساتھ دینا ہو گا ۔کروڑ روپے مل جائیں تو شاندار زندگی بسر کر سکوں گا ۔
’’کیا کچھ یا د آیا کہ اس شخص کو پہلے کہاں دیکھا ہے ؟‘‘سلیم نے مجید میمن سے پوچھا وہ اس وقت کھڑکی میں کھڑا قمر شریف کو کرولا میں رخصت ہوتے دیکھ رہا تھا ۔
’’ نہیں یا د نہیں آرہا ‘‘ مجید میمن نے جواب دیا ’’ اسے کہیں دیکھا ضرور ہے لیکن یہ یا د نہیں کہا ں؟‘‘
کرولا نظر سے اوجھل ہو گئی مگر مجید میمن وہیں کھڑکی میں کھڑا سوچتا رہا ۔پھر وہ اچانک مڑکر بولا ’’ اچھا آؤ اب کام کرلیں ۔ اگر وہ بدمعاش یہ سمجھتے ہیں کہ دس کروڑ کا ما ل وہ یوں ہضم کر لیں گے تو یہ ان کی حماقت ہے ممکن ہے ہمارا پیچھا کر نے کی دھمکی محض ان کی چال ہو لیکن میں کوئی رسک نہیں لینا چاہتا ۔ تم انسپکٹر عمر خان کو مو بائل کے ذریعے پیغام دو کہ رات بارہ بجے مجھے مڈل ایسٹ میڈیکل سنٹر میں ملے ، تم مجھے ہارٹ اٹیک کے ساتھ وہاں لے کر جاؤ گے اور وہاں تمہیں انسپکٹر عمر خان ڈاکٹر صمد کے نام سے ملے گا اور ایک کارڈیا لوجسٹ کی حیثیت سے میرا علاج کرے گا اور اس دوران میری اُس سے راز دارانہ بات چیت ہوگی ، یوں یہ بد معاش ہمارا پیچھا کریں بھی تو کسی شک میں مبتلا نہ ہوں گے ۔‘‘
عمر خان کے ساتھ مجید میمن کی شناسائی کو کئی سال بیت چکے تھے ۔انسپکٹر عمر خان نے انتہائی ذہانت سے ایک بینک فراڈ بے نقاب کر کے مجید میمن کو بہت بڑے مالی نقصان سے بچایا تھا اور یہی وجہ ہے کہ اس کے بعد ہر سال عید کے موقع پر بلانا غہ مجید میمن تحفے کے طور پر معقول رقم کا چیک انسپکٹر عمر خان کو بھجواتا رہا تھا ۔
انسپکٹر عمر خان اسٹیتھو سکوپ مجید میمن کے سینے پر ٹکائے اس کی باتیں غور سے سن رہا تھا ’’ میری لڑ کی کو اغوا کر لیا گیا ہے اور دس کروڑ روپے تاوان طلب کیا گیا ہے ۔میں نے اس رقم کے چیک جاری کر دےئے ہیں اور چاہتا ہوں کہ بیٹی کی واپسی کے بعد تم ان بد معاشوں کو کیفر کردار تک پہنچاؤ ‘‘اس نے جیب میں سے ٹیپ کی ہوئی کیسٹ نکالی ’’ یہ رکھ لو ، اس میں وہ گفتگو ریکارڈہے جو مطالبات کے سلسلے میں ہو ئی ۔‘‘
’’ اوہ یہ واقعہ کب کا ہے ؟‘‘
جواب میں مجید میمن نے سارا قصہ تفصیل سے سنا دیا اور قمر شریف کے کردار کا ذکر کرنے کے بعد کہا ’’یہ شخص بھی اغوا کنندگان کے ستم کا شکار لگتا ہے ، اس کا چہرہ میرے لیے اجنبی ہرگز نہیں ، اس کا تعلق یقیناًتھیٹر سے ہے ۔‘‘
’’خیر پتا چل جائے گا ‘‘ انسپکٹر عمر خان نے موبائل پر کسی سے رابطہ کیا اور بولا ’’ ایک گھنٹے تک میں ایک شخص تمہارے پاس بھیج رہا ہوں ساری بات وہ وضاحت سے بتا دے گا ۔ اتنے میں تم تھیٹر کے ساتھ تعلق رکھنے والے ہر اُس شخص کی تصویر حاصل کرو جس پر مرد ہونے کا شبہ کیا جاسکے ، خصوصاََاگر اُ س کی عمر 35سال سے زائد ہو اور جس کا قد 6فٹ ہو ‘‘پھر اس نے سلیم کی طرف دیکھا ’’عین ممکن ہے تصویریں دیکھ کر تم اس شخص کو شناخت کر لو ۔‘‘
سلیم نے اجازت طلب نگاہوں سے مجید میمن کی طرف دیکھا اور اس کے سر کی اثباتی جنبش پاکر وہاں سے چل دیا ۔’’ یہ لوگ چھٹے ہوئے بدمعاش اور مجرم ہیں ، میں نہیں چاہتا کہ زوبیہ کو کوئی گزند پہنچے ، سمجھ گئے ؟‘‘
’’ آپ فکر نہ کریں ، ہم سنبھال لیں گے ‘‘
’’نہیں ابھی نہیں !فی الحال صرف ہوم ورک کرو ، زوبیہ کے گھر آنے سے پہلے کوئی قدم نہ اٹھانا ‘‘ مجید تشویش سے بولا ’’دس کروڑ روپے کی مجھے کوئی پرواہ نہیں مگر زوبیہ کی چھنگلی کو بھی نقصان پہنچے یہ بات مجھے گوارا نہیں ۔‘‘
تھوڑی ہی دیر میں مجید میمن کو مڈ ایسٹ میڈیکل سنٹر کے وی آئی پی روم میں شفٹ کردیا گیا ، اس کے ارد گرد سفید کپڑوں میں ملبوس ہسپتال کا تما م عملہ خفیہ اہل کاروں پر مشتمل تھا جنہیں دل کے مریض کی خدمت کا کوئی تجربہ نہ تھا لیکن وہ ایکٹنگ بہت اچھی کررہے تھے ۔
سلیم انسپکٹر عمر خان کے دےئے ہوئے پتے کا جائزہ لینے لگا ،گاڑی میں بیٹھتے ہوئے اُس نے اردگرد نظر دوڑائی،اُسے تقریباََ ہر شخص ہی مشتبہ نظر آرہا تھا ۔آہستہ آہستہ گاڑی ڈرائیو کر تے ہوئے وہ اپنے گھر پہنچا تو چوکیدار نے گیٹ کھولا ، گاڑی گیراج میں پارک کرنے کے بعد وہ گھر میں داخل ہو گیا ۔گھر سے کچھ فاصلے پر ایک گاڑی میں دو افراد سیٹ پر ٹیک لگا کر بےئر پینے لگے ۔
سلیم پچھلے دروازے سے نکل کر پیدل چلتا ہوا تیسری کوٹھی میں داخل ہوا اور اپنے دوست کی ہونڈا نکال کر روانہ ہوگیا ۔اپنے گھر کے سامنے سے گزرتے ہوئے اُس کی نظر سفید سینٹرو پر پڑی جسے دیکھ کر وہ مسکرا دیا ۔
سلیم نے 500تصاویر دیکھنے کے بعد مایوسی کا اظہار کیا ، وہ روانہ ہونے کو تھاکہ انسپکٹر عمر خان آگیا ۔معلومات حاصل کرنے کے بعد انسپکٹر عمر خان نے ہائی وے پولیس ہیڈ کوارٹر فون کرکے پوچھا کہ گزشتہ روز 11بجے کے قریب ہائی وے پر کسی پٹرول آفسر نے مس زوبیہ میمن کو تو نہیں دیکھا ۔سارجنٹ انچارج نے جواب دیاکہ وہ چیک کرنے کے بعد فون کرے گا ۔ اس کے بعد انسپکٹر عمر خان نے حنیف کو اس کرولا کے لائسنس نمبر کی پڑتال کا حکم دیا جو سلیم نے بتا یا تھا ۔
تھوڑی دیر بعد حنیف نے اطلاع دی کہ یہ نمبر کسی کرولا کا نہیں ، پھر وہ قمر اور کریم بھا کی گفتگو پر مبنی ٹیپ سننے لگا ۔قمر کی آواز اور اندازِ گفتگو سے اُسے بھی لگا کہ ہونہ ہو یہ تھیٹر کا کوئی اداکا ر ہی ہے ۔خاص پر اُسے قمر کا ایک ایک لفظ الگ الگ بولنا بہت جانا پہچانا لگا ۔انسپکٹر عمر خان نے موبائل پر مجید میمن سے رابطہ کیا اور اجازت چاہی کہ آیا وہ بینکوں کو پابند کر ے کہ کسی چیک کے کیش کرائے جانے پر اُسے اطلاع دیں ؟جواب میں مجید میمن نے کہا ’’ زیادہ اسمارٹ بننے کی کوشش نہ کرو ‘‘
انسپکٹر عمر خان کو اچانک کریم بھا اور گلاب خان کا خیال آگیا جو پولیس کو غچادے گئے تھے ۔
صبیحہ واپس اپنے کمرے میں چلی گئی اور منے کو بستر پر ڈالنے اور ایک کھلونا تھمانے کے بعد زوبیہ کے کمرے کی طرف بڑھی ۔ ایسا جرات مندانہ قدم اس نے زندگی میں پہلے کبھی نہیں اٹھا یا ۔اسے راجو سے دو بدو ہو نے کا خوف ضرور تھا لیکن وہ زوبیہ کو راجو جیسے وحشی کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑنا چاہتی تھی ۔ ہینڈل گھمانے پر دروازے کو اندر سے مقفل پا یا تو وہ مٹھیوں سے دروازہ پیٹتے ہوئے چیخی ’’ دروازہ کھولو ۔‘‘
جواب میں ہولناک سکوت پا کر وہ خوفزدہ ہوگئی ، کہیں اس نا ہنجارنے لڑکی کو مارہی نہ دیا ہو ۔دروازے پر دوبارہ مکے برساتے ہوئے وہ پکار کر بولی ’’ دروازہ کھولو ، زوبیہ تم ٹھیک تو ہو نا ؟‘‘
صبیحہ نے دروازے پر کان لگایا تو اندر سے عجیب آوازیں آرہی تھیں ، یکدم اُسے زوبیہ کی آواز سنائی دی ’’ سب ٹھیک ہے ، تم جاؤ ہمیں پریشان نہ کرو ، اور پھر زوبیہ کی سرگوشیاں سنائی دینے لگیں ۔
اچانک آہٹ سن کر صبیحہ مڑی ، کرب آلود ، مشتعل اور مایوس چہرے کے ساتھ شبانہ پیچھے کھڑی تھی ۔
صبیحہ کا چہرہ مرجھا گیا اورتھکے تھکے قدموں سے وہ اپنے کمرے میں جا کر بند ہو گئی ۔
پٹرول آفیسر اسد ،انسپکٹر عمر خان کے کمرے میں داخل ہوا اور بولا ’’ سر میں ہائی وے ڈویژن کا پٹرول آفیسر اسد ہوں ۔مجھے یہاں حاضر ہونے کا حکم ملا تھا ؟‘‘
انسپکٹر عمر خان نے سامنے رکھے ہوئے کاغذات ایک طرف ہٹاتے ہوئے مس زوبیہ میمن کے متعلق پوچھا جبکہ اسد نے تفصیل سے ذکر کرتے ہوئے شبانہ کا حلیہ بتا یا جو زوبیہ میمن کے ساتھ تھی ۔ ان اطلاعات کے حصول کے بعد انسپکٹر عمر خان نے کراچی پولیس ہیڈ کوارٹر فون کر کے زوبیہ کی مرسیڈیز چیک کر نے کے احکامات صادر کئے ۔
اسی دوران سلیم اور ناظم آپہنچے اور ناظم نے ایک گروپ فوٹو گراف انسپکٹر عمر خان کے سامنے میز پر ڈالتے ہوئے ایک شخص کی تصویر پر انگلی رکھ کر کہا ’’ سلیم صاحب کو یقین تو نہیں مگر گمان ہے کہ یہی وہ شخص ہے جو زر تاوان کیلئے آیا ہے ۔
’’ او نو ! اونو !‘‘انسپکٹر عمر خان کے منہ سے بے ساختہ نکلا ۔اس نے ریسیور اٹھا کر ایک نمبر ڈائل کیا ، بیل مسلسل ہوتی رہی لیکن کسی نے فون پک نہیں کیا ۔پھر اُس نے موبائل پر کال کی لیکن مطلوبہ نمبر بند تھا ۔’’ او نو !اونو !‘‘عمر خان ماتھے پر ہاتھ مارتے ہوئے کمپیوٹر پر جا بیٹھا اور اُس کی انگلیاں تیزی سے کی بورڈ پر چلنے لگیں ۔ ( جاری ہے )

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *