بار ثبوت

ہمیں احتساب عدالت کے جج بشیر کے فیصلے پر زیادہ کڑواہٹ نہیں دکھانی چاہیے۔ پہلے بھی کئی آرٹیکلز میں میں نے ایسے فیصلوں کا ذکر کیا ہے جو سپریم کورٹ کی طرف سے آئے  جو ایک واضح ریکارڈ کو غلط ریڈنگ کے سلسلے کی ایک کڑی ثابت ہوئے۔ مثال کے طور پر پانامہ کیس کی تین رکنی ججز کا فیصلہ اور بعد میں 5 رکنی ججز کی ٹیم کا فیصلہ ، عمران خان کے خلاف فیصلہ، اور دوسرے اہم کیسز کے فیصلے شامل ہیں۔ ان سب کمزور فیصلوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ججز انسان ہیں اور غلطیان انسان سے ہوتی ہیں لازمی نہین کہ یہ جان بوجھ کر ہی غلط فیصلےکیے گئے ہوں گے۔ لیکن اچھی بات یہ ہے کہ جسٹس بشیر کا جو فیصلہ آیا ہے اسے اپیل کے ذریعے درست کیا جا سکتا ہے برعکس ان فیصلوں کے جو سپریم کورٹ سو موٹو ایکشن کے بعد جاری کرتی ہے۔ ان فیصلون میں عدالتی غلطیوں کا مداوا نہیں کیا جا سکتا چاہے وہ فیصلے کتنے ہی بے تکے اور تکلیف دہ کیوں نہ ہوں ۔ اسی لیے لوگ کہتے ہیں کہ سو
موٹو ایکشن کے اختیار کو بہت کم استعمال کیا جانا چاہیے۔ اگرچہ احتساب عدالت کے اس فیصلے کی غلطیاں نکالنا تو اپیلٹ کورٹ کا کام ہے لیکن  قابل غور بات یہ ہے کہ اس کیس میں ایک بہت بڑے نقطہ کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 10 اے کے مطابق ہر شہری کا فئیر ٹرائل کا پورا حق ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بار ثبوت پراسیکیوشن پر ہوتا ہے نہ کہ ملزم پر۔ خاص طور پر جب الزام یہ ہو کہ ملزم یا کسی شخص نے ملزم کے نام پر جائیداد بنا رکھی ہے جس کے ذرائع معلوم نہیں ہیں ۔ سابقہ وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف ایسے ہی الزامات ہیں ۔ یہاں بار ثبوت نواز شریف پر ڈال دیا گیا ہے اور انہیں کہا جا رہا ہے کہ وہ عدالت میں یہ ثابت کریں کہ یہ جائیداد کرپشن کے ذریعے کمائی گئی دولت سے نہیں خریدے گئے۔ لیکن ایسے بہت سے کیس لاءز ہیں جو ہماری اپنی سپریم کورٹ کے بھی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ملزم پر بار ثبوت ڈالنے سے پہلے پراسیکیوشن کو مطلوبہ پراپرٹی کی قیمت ثابت کرنا ہوتی ہے ، ملزم کے بتائے گئے ذریعہ کمائی کا حساب پیش کرنا ہوتا ہے اور  زائد اثاثوں اور کمائی کے بیچ فرق ڈالنے والے عوامل ظاہر کرنے ہوتےہیں۔ پراسیکیوشن کا الزام ہے کہ ایون فیلڈ فلیٹ 1991 سے 1993 کے بیچ خریدے گئے تھے ۔ ملزم نے اپنے طریقہ خریداری کی تفصیلات فراہم کر دی ہیں  لیکن اگر ان تفصیلات کو یکسر مسترد بھی کر دیا جائے تو  بھی پراسیکیوشن کی یہ ذمہ داری بنتی تھی کہ  وہ اس وقت ان فلیٹس کی قیمت ظاہر کرے جب یہ خریدے گئے تھے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ فیصلہ سے کہیں معلوم نہیں ہوتا کہ پراسیکیوشن نے اس وقت فلیٹس کی قیمت  معلوم کرنے کی کوشش کی ہے اگرچہ اس قیمت کا پتہ لگائے بغیر اور اس قیمت اور موجودہ ذرائع کے بیچ گڑ بڑ معلوم کیے بغیر یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ بار ثبوت ملزم پر ڈالا جا سکے یا ملزم کے خلاف کیس کو ثابت کیا جاسکے۔ یہ اتنی سیدھی اور آسان بات ہے  اور یہ حیران کن ہے کہ پراسیکیوشن نے اس معاملے میں کوئی پیش رفت کرنے کی زحمت گوارہ نہ کی۔ وہ اس طرح کی بنیادی نوعیت کی غلطی کیسے کر سکتےہیں۔  اتوار کے روز چھپنے والے آرٹیکل پینٹ ہاوس پائریٹس میں جو دی ڈیلی میل میں
چھپا ہے  میں ڈیوڈ روز نے ایک بہت اچھا نکتہ پیش کیا ہے۔ یہ آرٹیکل شریف خاندان کے لیے بہت نقصان دہ ثابت ہوا اور دوسرے کئی پبلیکیشنز میں بھی اس کا حوالہ دیا گیا۔ اس آرٹیکل میں روز لکھتے ہیں: ایون فیلڈ وہ جگہ ہے جہاں پاکستان کے سوپر امیر  سابقہ وزیر اعظم 1993 سے  رہائش پذیر ہیں  جب انہوں نے یہ چاروں فلیٹ خرید کا ایک بنگلہ میں تبدیل کروا لیے اور اب ان کی قیمت بڑھ کر 7 ملین پاونڈ تک پہنچ چکی ہے۔ اگر یہ فلیٹ آج مرمت کے بعد 7 ملین پاونڈ کے ہیں تو 1993 میں ان کی قیمت کیا ہوئی ہو گی جب یہ خریدے گئے؟  یہ معلوم کیا جا سکتا ہے کہ 1993 سے 1996 سے اب تک لندن میں جائیداد کی قیمت میں 7 گنا اضافہ ہوا ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس وقت یہ 1 ملین پاونڈ کے تھے ۔ اس وقت کے ایکسچینج ریٹ کو دیکھیں تو اس کی کل قیمت ساڑھے چار کروڑ بنتی ہے۔ کیا یہ شریف خاندان جیسے صنعت کار خاندان کےلیے بہت بڑی رقم ہے؟ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پراسکیوشن نے اس وقت کی فلیٹس کی قیمت معلوم کرنے کی زحمت کیوں نہ کی۔ اگر وہ ایسا کرتے تو ان کا پوری پلاننگ کے ساتھ بنائی گئی گیم بگڑ جاتی  کیونکہ عوام کو یہ تاثر دیا گیا ہے کہ شریف خاندان نے 300 ارب روپیہ کی کرپشن کی ہے۔ اور اس کرپشن کے ذریعے لندن اور دنیا بھر میں جائیدادیں بنائی گئی ہیں ۔ ایسا کرنے سے پراسکیوشن کا کیس بھی بگڑ جاتا اور انہیں شکست بھی ہو سکتی تھی۔ اس بے ڈھنگ بیانیہ پر بھی کچھ الفاظ تحریر کرنا لازمی ہے۔ یہ بات قابل غور ہے کہ پانامہ پیپرز میں شریف خاندان کی جو پراپرٹی کا حوالہ دیا گیا ہے وہ صرف ایون فیلڈ کے چار فلیٹ ہین۔  اگر اس کے علاوہ بھی کوئی پراپرٹی ہوتی تو یہ سمجھا جاسکتا تھا کہ موسیک فونسیکا جیسی تنظیم اس کا بھی پتہ لگا لیتی اور ان کا ذکر بھی پانامہ میں شامل ہوتا۔ لندن  اور سعودی عرب میں سابقہ پرائم منسٹر کی  فیملی  کی دوسری جائیدادیں بھی ہیں لیکن ان جائیدادوں کے بارے میں انہوں نے خود بتایا ہے۔ یہ پانامہ لیکس کے ذریعے سامنے نہیں آئیں۔  اس لیے یہ نہین کہا جا سکتا کہ ایون فیلڈ فلیٹس کے علاوہ بھی بہت سی خفیہ جائیدادیں ہیں، جیسا کہ کچھ لوگ سمجھتے ہیں، یا پھر ہمیں چاہیے کہ اپنے دعووں کو عقلی لحاظ سے
مناسب تعداد تک محدود رکھیں۔

source : https://www.dawn.com/authors/7777/salman-k-chima

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *