گیم بدل رہی ہے

جوں جوں الیکشن ڈے قریب آ رہا ہے۔ حیرت انگیز طور پر پنجاب میں پیپلز پارٹی کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بلاول بھٹو کا انداز سیاست نئی نسل کو اپنی طرف متوجہ کر رہا ہے۔ میاں نواز شریف کی بیٹی مریم نواز نے لندن جانے سے قبل جو زوردار جلسے کیے اور طوفانی دوروں سے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ اس سے ان کی مقبولیت بڑھ گئی تھی۔ سونے پہ سہاگہ کہ میاں صاحب کے بارے میں ٹی وی سکرینوں پہ بیٹھے اینکروں کا تجزیہ تھا کہ وہ واپس نہیں آئیں گے۔ مریم نواز نے جارحانہ قدم اٹھایا اور اپنے ابا کے ساتھ خود بھی جیل جانے کو ترجیح دی۔ بزدلی نہ دکھائی۔۔ سیاسی انجنئیرنگ الٹ گئی۔ عوام نے لوٹے سیاست دانوں سے منہ موڑ لیا ہے۔ عمران جس بیانیے پر سال دو ہزار تیرہ میں کھڑا تھا اس نے اس بار اس سے یو ٹرن لے لیا ہے۔ وہ عوام میں مقبولیت کھو چکا ہے۔ سنجیدہ لوگ جو پچھلی بار اس کو ووٹ دینے نکلے تھے وہ اس بار گھر سے نہیں نکلیں گے۔ انہیں عوام کا یہ انداز سیاست پسند نہیں آیا کہ نظریات کو دفن کر کے الیکٹیبلز کو اپنی صفوں میں جگہ دے دی۔ عوام آج بھی بھٹو اور شریف فیملی کے دل دادہ ہیں۔ ان دونوں خاندانوں کی جمہوریت کے لیے لازوال قربانیاں ہیں۔ عوام پوچھتے ہیں کہ میاں نواز شریف کو ایک بار بھی آئینی مدت پوری نہ کرنے دی۔۔۔ آخر کیوں۔۔۔؟ کوئی مانے یا نہ مانے، کوئی سمجھے یا نہ سمجھے، مستقبل مریم اور بلاول کا ہے۔۔۔ انیس سو اسی کے بعد پیدا ہونے والے جس جوش و جذبے سے عمران خان کے جاں نثار بنے تھے۔ وہ باشعور لوگ اب عمران خان کا نام سننے پر غصے سے آگ بگولہ ہو جاتے ہیں۔ آخری بات پنجاب اس بار بھی نواز شریف کے ساتھ کھڑا ہے۔ اور اس صوبے سے پیپلز پارٹی شاید کچھ سرپرائز دینے کی پوزیشن میں آ گئی ہے۔۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *