آنے والے الیکشن اور کچھ سوالات

یہ سوالات پوچھنے سے پہلے کچھ ایسی باتوں کا تذکرہ ہو جائے جن پر بظاہر کوئی اختلاف محسوس نہیں ہو تا ۔
اول: عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ سابقہ حکمران پارٹی مسلم لیگ ن کے خلاف ہے ۔
دوم : نگران حکومتوں کی غیر جانب داری پر ناقابل جواب سوالات اٹھ چکے ہیں ۔
سوم : ملک کی تاریخ کے پہلے انتخابات ہیں کہ وزیراعظم کے خلاف پہلے تاحیات نااہلی کا فیصلہ آیا ، پھر پارٹی کی صدارت سے الگ کرنے کا فیصلہ آیا ، پھر اسے جیل میں ڈال دیا گیا۔ آج تک ملکی تاریخ میں ایسا پہلے نہیں ہوا ۔
چہارم : میڈیا کی آزادی پر سوالات ہیں ۔ میں ایک میڈیا ہاؤس سے براہ راست تعلق کی بنیاد پر یہ گواہی دیتا ہوں کہ میڈیا پر بے پناہ دباؤ ہے جبکہ پرو عمران میڈیا ہاؤس اور صحافی بہت زیادہ ’’ آزاد ‘‘ ہیں ۔
پنجم : پہلے بار اس قدر کثیر تعداد ( تین لاکھ سے زائد )میں فوج کے حاضر اور ریٹائرڈ جوانوں کو الیکشن ڈیوٹی کے لیے طلب کر لیا گیا ہے ۔
اب آئیے سوالات پر :
* کیا ان حالات میں منعقد کردہ انتخابات منصفانہ کہلائے جائیں گے ؟ کیا سب فریقین کے ساتھ ایک سا سلوک کیا جا رہا ہے ؟اگر تحریک انصاف کی ’’ہوا‘‘ اس قدر چل چکی ہے تو یہ مصنوعی پنکھے چلانے کی کیاضرورت ہے ؟ کیا اس صورتحال میں ’’ لاڈلے ‘‘ کی پھبتی درست ہے یا نہیں ؟
*سابق وزیراعظم کا بیانیہ کسی ابہام کا شکار نہیں۔ پہلی دفعہ انتہائی واشگاف الفاظ میں کہا گیا کہ ’’ خلائی مخلوق‘‘ ان کے خلاف ہے ۔ اسی سے ان کا مقابلہ ہے ۔ خلائی مخلوق کی اصطلاح کا مطلب بچہ بچہ جانتا ہے ۔ اس صورت میں جب نتائج سامنے آئیں گے اور ن لیگ کو پڑنے والے تمام ووٹوں کا مطلب ہو گا کہ وہ اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہیں ۔ وہ سابق وزیراعظم کے بیانیے کی ساتھ کھڑے ہیں ۔ ہو سکتا ہے اور قریباً یقینی ہے کہ ہار جانے کی باوجود ان ووٹوں کی تعداد سب سے زیادہ ہو گی ۔ کیا یہ صورتحال اسٹیبلشمنٹ کے لیے فخر کا باعث ہو گی کہ اتنے کرور پاکستانی ان کو نا پسند کرتے ہیں اور اس شخص کے نام پر ووٹ دے چکے ہیں جسے وہ مسترد کر چکے ہیں؟ کیا اس کا مطلب یہ نہیں ہو گا کہ کروروں پاکستانی ووٹرز اب معروف کے بیانیے کے خلاف ہو چکے ہیں ؟ *تحریک لبیک اپنی نوعیت کے اعتبار سے ایک دہشت گرد تحریک ہے ۔ وہ اس بیانیے پر وجود میں آئی ہے کہ اگر پاپولر مذہبی رائے کے خلاف کوئی عدالت بھی فیصلہ کر دے تو وہ نہ صرف قابل قبول نہیں بلکہ ایسا فیصلہ کرنے والے ، ان کے حمایتی ، ان کے ساتھی، سب واجب القتل ہیں اور قتل کرنے والے ممتاز قادری کی طرح کے ہیرو اور انتہائی واجب ا لاحترام لوگ ہوں گے ۔ کیا یہ ایک دوسری طرز کے طالبان ثابت نہیں ہو ں گے ؟ کیا ان کو نادان دوست یا چالاک دشمن اپنے مقاصد کے لیے استعمال نہ کرے گا ؟کیا یہ شدت پسندی کی نئی لہر وجود میں نہیں لائے گا ؟ یاد رہے محتاط اندازے کے مطابق یہ تنظیم کم از کم پنجاب میں انتخابی ووٹوں کے لحاظ سے تیسرے نمبر پر رہے گی ۔ * زیادہ امکان ہنگ پارلیمنٹ کا ہے ، اور اس صورت میں سیاسی عدم استحکام ملک کے لیے ترقی اور خوشحالی باعث ہو گا یا تباہی کا ؟ اور اس قسم کے نتائج کا ذمہ دار کون ہو گا اور اس کی خواہش کن قوتوں نے کی ہے ؟
* عمران خاں کی اپنے صوبے میں کارکردگی سب پر واضح ہے ۔ ان کے ساتھ جو جتھاہے اس کی امانت و صداقت بھی سب پر عیاں ہے۔ سینٹ پر تحریک انصاف کی کوئی گرفت نہیں ۔ اس پس منظر میں کیا قانونی اصلاحات ہو سکیں گی ؟ کیا کرپشن فری حکومت بن پائے گی ؟ کیا تحریک انصاف کی حکومت ڈیلور کر پائے گی؟
*عمران خان کو ایک ایمان دار اور انتہائی فعال لیڈر مان لیتے ہیں ۔ اب سوچیں کہ وہ طاقتیں جو پہلے’’ کرپٹ نواز شریف‘‘ کی پشت پر تھیں پھر زرداری کے ساتھ پانچ برس رہیں ، وہ عمران خان کی ایمان داری کو کیسے برداشت کریں گی ؟ جو نواز شریف کو برداشت نہ کر سکیں ایک بہت ہی ’’ با اصول ‘‘ عمران خان کو کیسے برداشت کریں گی ؟اگر کوئی ’’ اسامہ بن لادن ‘‘ایبٹ آباد سے پکڑا گیا تو کوئی  ’’ سچے اور کھرے‘‘ عمران خان کی تنقید برداشت کرے گا؟ اس صورت میں عمران کس کے خلاف دھرنا دیں گے ؟
* عمران خان کی شخصیت کے وہ پہلو جو ان کے ’’ ذاتی معاملات ‘‘ ہیں ، جب حکمران بننے پر باہر آئیں گے اور ایسا ہونا نا گزیر ہے، تو کیا ہو گا؟ رحام خان کی نو ماہ کی شادی نے جو گندے انڈے دیے ہیں ، وہ اس قدر زہر پھیلا رہے ہیں تو آنے والے دنوں میں اس بات کی کیا گارنٹی ہے بشریٰ بی بی کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں ہو گا اور مسئلہ خراب ہونے پر وہ محض خاموش ہی رہیں گی ؟ اب تو آگ لگانے کے لیے ایک ٹویٹ ہی کافی ہے !ماضی ہی سہی لیکن اگر 1993کے فلیٹ مصیبت ڈال سکتے ہیں تو تسلیم شدہ ’’پلے بوائے ‘‘ ہسٹری کیا کیا گل نہیں کھلائے گی ؟
*اگر خدا نخواستہ عمران خاں ڈیلور نہیں کر پاتے یا وہ وزیر اعظم ہی نہیں بن پاتے تو ان کے انتہائی جذباتی ووٹرز کا رد عمل کیا ہو گا ؟ شدید مایوسی کے عالم میں متبادل قیادت کہاں سے آئے گی کیونکہ وہ تو ان کے سوا ہر کسی کو کرپٹ اور نا اہل مان چکے ہو ں گے ۔ اس وقت مایوسی کی لہر کا کوئی اندازہ لگا سکتا ہے ؟ تب یہ نو جوان کس کی طرف پلٹیں گے ؟اس لیے سوال یہ ہے کہ انتخابات اس پالیسی کے تحت لڑنا کہ ہمارا لیڈر ہی لیڈر ہے باقی سب شیطان ہیں ،کوئی حب الوطنی پر مبنی پالیسی ہے ؟

آنے والے الیکشن اور کچھ سوالات” پر ایک تبصرہ

  • جولائی 21, 2018 at 11:50 AM
    Permalink

    میں ایک میڈیا ہاؤس سے براہ راست تعلق کی بنیاد پر یہ گواہی دیتا ہوں کہ میڈیا پر بے پناہ دباؤ ہے جبکہ پرو عمران میڈیا ہاؤس اور صحافی بہت زیادہ ’’ آزاد ‘‘ ہیں ۔

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *