میرے گھر کی دیوار گر گئی ہے

آج کے کالم کا عنوان نہ کسی شاعرانہ تعلی کا نتیجہ ہے اور نہ ہی یہ کسی غزل کا ناموزوں مصرع ہے۔ یہ حقیقت حال ہے۔ قصہ کچھ یوں ہے پرسوں علی الصبح ساڑھے پانچ بجے کے قریب شدید بارش کی وجہ سے ہمارے کرائے کے گھر کی بیرونی دیوار دھڑام سے گر گئی۔ دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ سوئے ہوئوں کی آنکھیں خوف سے کھل گئیں۔ گھر کی دیواروں سے عجیب سی "گڑ گڑ" کی آوازیں آنے لگیں۔ درو دیوار میں دراڑیں پڑنے لگیں ایسا محسوس ہوتا تھا کہ کسی بھی لمحے چھت، گھر کے مکینوں پر آ گرے گی۔میں گھر والوں کے ساتھ اسی حالت میں گھر سے باہر کی جانب بھاگا۔ وقت اتنا کم تھا کہ صرف ہاتھ میں موبائل ہی پکڑ سکے۔ بارش میں اہل خانہ کے ساتھ بے سروسامانی کی حالت میں دیر تک کھڑے رہے۔ پھر اسی عالم میں اپنے والدین کے گھر آگئے۔ نہ پہننے کو کپڑے نہ شیو کا سامان نہ موبائل کے چارجر ۔ لیکن مجھے سب سے زیادہ دکھ اس ہنگامے میں اپنے لیپ ٹاپ کے رہ جانے کا ہوا۔ میں نے اس دکھ کا اظہار خوف اور بارش سے کانپتی اہلیہ سے کیا کہ کل جنگ میں کالم بھیجنے کا وقت ہے۔ کالم نہیں چھپے گا تو ہزاروں قارئین کی صبح کیسے ہو گی؟ لاکھوں لوگوں کو جمہوریت کے معنی کون سمجھائے گا؟ کروڑوں لوگ میرے خیالات عالیہ کے منتظر ہو ں گے، ان غریبوں کا کیا بنے گا؟ اسکے جواب میں کانپتی، ٹھٹھرتی اہلیہ نے میری خوش فہمیوں کے محل پر ایسے درشت لہجے میں جھاڑو پھیری کہ ایک لمحے میں جمہوریت مع اپنے تمام تر ثمرات کے ہوا ہو گئی۔ قارئین کرام میں سے کچھ لوگ کرائے کے گھر پر ضرور حیران ہو رہے ہوں گے اور اسے کسر نفسی سے تعبیر کر رہے ہوں گے ۔ ان سے بس اتنی التماس ہےکہ لفافوں میں تگڑی رقمیں، ڈالروں سے بھرے بریف کیس، ہر کالم پر دو ہزار گز کا پلاٹ اور ہر پروگرام کے بعد شہر کے مہنگے ترین علاقےمیں زندگی کی ہر سہولت سے مزین آراستہ بنگلے، پی ٹی وی کے پروگراموں کی میزبانی سے کمائے گئے اربوں روپے ہم سے صحافیوں میں فیس بک اور ٹوئٹر پر تو بہت تقسیم ہوتے ہیں لیکن پارٹیوں نے ابھی تک ان پر سنجیدگی سےعمل درآمد نہیں کیا ہے۔ یا پھر ابھی تک بدقسمتی سے خاکسار کی رسائی ان پارٹیوں اور سوشل میڈیا گروپس تک نہیں ہو سکی ۔ جس کا راقم کو دل ہی دل میں بہت رنج ہے۔
خیرعجب بے سرو سامانی کا عالم تھا ۔ سارے شہر میں اپنا گھر ہی نہیں تھا ، کوئی چھت ہی میسر نہیں تھی۔ رات والدین کی طرف گزار کر اگلے دن دوبارہ گھر کے دورے پر نکلے کہ اگر کچھ اسباب بچ گیا ہے تو اس کو سمیٹیں۔ اس گھر کے مالک مکان بیرون ملک رہائش پذیر ہیں۔ انہیں اطلاع کی تووہ بے چارے جیسے کیسے ٹکٹ کٹا کر ہانپتے کانپتے اسلام آباد پہنچے۔ گھر کا از سرنو معائنہ شروع کیا گیا۔ دیواروں کی دراڑوں کا جائزہ لیا گیا۔ کچھ عمارتی امور کے ماہرین کو بھی دعوت دی گئی۔ جنہوں نے گھر کا جائزہ لینے کے بعد یہ تشفی دی کہ چھت پر صرف دراڑیں پڑی ہیں انہدام کا فی الوقت کوئی امکان نہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ یہ درزیں اور دراڑیں پرانی ہیں انکا دیوار کے گرنے کے حالیہ واقعےسے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اب تازہ ترین صورت حال یہ ہے کہ گھر کے مالک مصر ہیں کہ چھت نہیں گرے گی اور ہم ہیں کہ انہدام کے خوف سے گھر میں قدم رکھتے ڈر رہے ہیں۔ قصور گھر کے مالک کا بھی نہیں ۔ وہ خود تو بہت نفیس آدمی ہیں ۔ بہت مروت، لحاظ والے لوگ ہیں ۔ اہل خانہ بھی ملنسار اور مہمان نواز ہیں۔ عید شب برات پر حلوہ اور بقرعید کے دن اچھا خاصہ گوشت بھی ان کے ہاں سے آجاتا ہے۔ جس سے ہمارے دل میں انکی عزت اور بڑھ جاتی ہے۔ ان سے غلطی یہ ہوئی کہ وہ جب ملک سے باہر اپنے کام کاج میں مصروف تھے تو انہوں نے بیرون ملک بیٹھے بیٹھے ایک مقامی ٹھیکیدار سے رابطہ کیا اور تعمیر کی فرمائش کر دی۔ بس پھر وہی ہوا جو ہمارے ہاں ہوتا ہے ٹھیکیدار نے خوب رقم اینٹھی ۔ تعمیر کا یہ عالم ہے کہ اتنے برس اس گھر میں رہنے کے بعد ہمیں آج تک یہ علم نہیں ہوا کہ کس بٹن کو دبانے سے کون سا بلب جلتا ہے؟کس نلکے کو کھولنے سے کہاں سے پانی آتا ہے؟ بیرونی دروازہ کیسے خود بخودکھل جاتا ہے ، گھنٹی کے بجانے سے کیا کیا کچھ بجتا ہے؟ اس گھر کا اعجاز یہی ہے کہ ہر وقت ایک نئے انکشاف کا امکان رہتا ہے۔
اب ہمیں کٹھن فیصلہ درپیش ہے ۔ یا تو اس گھر کو خیر باد کہا جائے اور شہر میں جلد از جلد کسی کرائے کے پورشن کی تلاش کی جائے یا پھر اسی گھر میں کڑکڑاتی چھت کے نیچے باقی دن بسر کئے جائیں ۔ الیکشن کا زمانہ ہے ۔ دنیا بھر کے چینل ہمارے خیالات عالیہ سے مستفید ہونا چاہتے ہیں۔ عالمی روزنامے ہمارے انٹرویوز کی دھڑادھڑ فرمائشیں کر رہے ہیں۔ الیکشن ٹرانسمیشن کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ ہمارے لئے ٹائم سلاٹ بک کئے جا رہے ہیں ۔ ایسے میں گھر شفٹ کرنے کا کھیکڑ کیسے پالا جا سکتا ہے۔ یہ نہیں کہ مصروفیت بہت ہے لیکن عدیم الفرصتی کے بھی کچھ تقاضے ہوتے ہیں۔ سچ بات تو یہ ہے ابھی تک قرعہ فال اسی گھر میں رہنے کو تجویز کر رہا ہے۔ اس لئے کہ آدمی جس گھر میں رہتا ہے ، جہاں دن رات بسر کئے ہوتے ہیں اس جگہ سے بہرحال کچھ نہ کچھ انسیت ہو جاتی ہے۔ در و دیوار سے کچھ پیار ہو جاتا ہے۔
اہل محلہ دوست بن جاتے ہیں اور یہی دوست مشکل گھڑی میں رشتہ داروں سے بڑھ کر کام آتے ہیں۔ دوستوں کو اس گھر کے راستے کا پتہ یاد ہو جاتا ہے۔ بینک والے بھی اسی پتے پر ہر ماہ خالی اکائونٹ کی بیلنس شیٹ بھجواتے ہیں۔ موبائل کا بل بھی یہیں آتا ہے۔ دودھ والا بھی مروت میں کم پانی ڈالتا ہے۔ عین دوپہر کو محلے کے بچے بھی فٹ بال مانگنے آ جاتے ہیں۔ اخبار فروش سے بھی دوستی ہو چکی ہوتی ہے۔ کریانہ فروش بھی مارے مروت کے ہر روز رقم کا تقاضانہیں کرتا۔ اس لئے فی الحال اسی گھر میں قیام کا فیصلہ کیا ہے۔
اس داستان غم کو سناتے سناتے بیچ میں کہیں الیکشن کا ذکر آیا، تو کچھ بات سیاست کی بھی ہو جائے۔ ہزار ہا بارسنا جملہ ہے کہ یہ وطن بھی ہمارے گھر جیسا ہے۔ اور یہ جملہ کچھ غلط بھی نہیں ہے۔ اس دفعہ کے الیکشن اس ملک کی تاریخ کا سب سےاہم موڑ ہیں۔ اس دفعہ پارٹیوں کے نام اور نشان اہم نہیں بلکہ ان کے بیانیے کی اہمیت ہے۔ تاریخ کے اس موڑ پر ہم سب کو درست فیصلہ کرنا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *