عام انتخابات ۔۔۔۔ ایک تجزیہ

پہلے تو ایک حیران کن بات یہ ھوئ ھے۔ کہ پچھلے چند دنوں سے عمران خان کے کئ جلسے پے در پے ناکام ھوے ھیں۔ ان میں جھنگ ، سیالکوٹ، جہلم، بہاولپور اور ملتان کے جلسے شامل ھیں۔ گویا ساوتھ پنجاب ھو۔ وسطی پنجاب ھو اور یا پھر بالائی پنجاب ھو۔ ان جلسوں میں عوام کی حاضری اتنی کم رھی۔ کہ خود عمران خان کو اس کم تعداد کی وضاحتیں دینی پڑ گئیں۔ اور کئ ٹی وی چینلز جو تحریک انصاف کی الیکشن مہم کا ہراول دستہ بنے ھوے ھیں۔ وہ بھی ان ناکام جلسوں کا ذکر کیے بغیر نہ رہ سکے۔ اب کوئ بھی شخص جسے تھوڑی بہت سیاسی شد بد ھے۔ وہ جانتا ھے۔ جوں جوں الیکشن قریب آتے ھیں۔ سیاسی پارٹیاں جلسے جلوسوں اور ریلیوں کی شکل میں اپنی انتخابی مہم بڑھا دیتی ھیں۔ اور الیکشن سے چار پانچ دن پہلے ان جلسے جلوسوں کی رونق کی وجہ سے کسی سیاسی پارٹی کی وہ ھوا بنتی ھے۔ جس کی وجہ سے وہ پندرہ بیس فیصد ووٹر جو ابھی تک گومگو کی شکل میں ھوتا ھے۔ اپنا زھن بنا لیتا ھے۔ تحریک انصاف کے ان فلاپ جلسوں کی وجہ سے اس کی ھوا بننے کی بجائے اکھڑ رھی ھے۔ یہ تاویلیں کہ موسم شدید ھے۔ جلسے وقت سے پہلے ھو جاتے ھیں۔ کارکن انتخابی مہم میں مصروف ھو گئے ھیں ۔ بے معنی ھیں۔ ایک خیال یہ بھی ھے۔ کہ ایلیکٹ ایبلز کو ٹکٹیں دینے سے تحریک انصاف کا کمٹڈ کارکن پیچھے ھٹ گیا ھے۔ اگر جلسوں کی یہی ناکامی جاری رھی۔ تو الیکشن ڈے پر اس کا تحریک انصاف کی ووٹنگ پر برا اثر پڑ سکتا ھے۔ لیکن تحریک انصاف اپنے طور پر بہت مطمعن اور پر سکون ھے۔ ان کا خیال ھے۔ تحریک انصاف یہ الیکشن سویپ کرنے جا رھی ھے۔ اور اگلا وزیراعظم عمران خان ھی ھوں گے۔ تحریک انصاف کے اس اعتماد کی بنیادی وجہ ایلیکٹ ایبلز ھیں۔ جن کے متعلق ان کا خیال ھے۔ وہ جیتے ھوے ھیں۔ اس کے علاوہ اداروں کی درپردہ اور کھلی حمایت بھی اس اعتماد کی وجہ بن رھی ھے۔ حالانکہ تحریک انصاف کے اپنے دانشور اور کالم نگار اس بات کو تسلیم کر رھے ھیں۔ کہ تین حوالوں سے تحریک انصاف بہت بری طرح پٹی ھے۔ کے پی کے میں پانچ سال کی کارکردگی دکھانے اور بتانے کے لیے ان کے پاس کچھ نہیں۔ جو دعوے کیے جا رھے تھے۔ وہ ایک ایک کرکے ایکسپوز ھو رھے ھیں۔ پشاور کی میٹرو بس ھو۔ نئ یونیورسٹیاں ھوں۔ یا بلین درخت ھوں۔ جھوٹ کا پلندہ ثابت ھو رھا ھے۔ کراچی میں اپنی جگہ نہیں بنا سکے۔ اور پانچ سال ایجی ٹیشن میں گزار دیے۔ آ جا کر ایک ھی مثبت بات کہی جاتی ھے۔ کہ عمران خان کرپٹ نہیں۔ اول تو کے پی کے حکومت اس سلوگن سے لگا نہیں کھاتی۔ اور دوسرے یہ کہ حکومتیں چلانے کے لیے کارکردگی دکھانا پڑتی ھے۔ ایمانداری تو ایک بنیادی ضرورت ھے۔ اب ھر ایماندار شخص کو حکومت تو نہیں دی جا سکتی۔ کے پی کے میں حکومت ملی تھی۔ کارکردگی صفر رھی۔
دوسری جانب ن لیگ کے جلسے نہ صرف بہت بڑے ھو رھے ھیں۔ بلکہ ان جلسوں کا جوش و خروش بھی دیدنی ھے۔ کہا جا رھا ھے۔ ن لیگ کا ووٹر اور سپورٹر شدید غصے اور ملال میں ھے۔ نواز شریف اور مریم کو نہ صرف بلاوجہ سزا دی گئی بلکہ جیل میں بھی ڈال دیا گیا۔ جبکہ نیب عدالت نے خود اپنے فیصلے میں لکھا۔ نواز شریف نے کرپشن نہیں کی۔ یعنی دادا نے اپنی کمائ سے اپنے پوتوں کو جو گھر لے کر دیے۔ اس کی سزا باپ کو دے دی گئ۔ ن لیگ کا ووٹر یہ سمجھتا ھے۔ نواز شریف کو اسٹیبلشمنٹ کے سامنے نہ جھکنے کی سزا دی گئ ھے۔ اور نواز شریف کو جھکانے اور توڑنے کے لیے مریم کو پابند سلاسل کیا گیا ھے۔ اب پنجاب اور پاکستان کے لوگ جانتے ھیں۔ بیٹیوں کی عزت اور محبت کیا ھوتی ھے۔ ان انتقامی فیصلوں نے ن لیگی ووٹر اور سپورٹر کے اندر غصہ ، ملال اور نفرت بھر دی ھے۔ اس غصے کو مزید تازیانہ اس وقت لگتا ھے۔ جب یہ ووٹرز دیکھتے ھیں۔ کہ ادارے کھلم کھلا جانبداری اور دھاندلی کر رھے ھیں۔ پری پول رگنگ کی یہ کہانیاں اب بین الاقوامی میڈیا میں بھی نظر آنے لگی ھیں۔اور کہا جا رھا ھے۔ ادارے تحریک انصاف کو اقتدار میں لانے کے لیے تمام ہتھکنڈے استمعال کر رھے ھیں۔ آپ کسی راہ چلتے عام سے شخص سے پوچھ لیں۔ وہ کہے گا۔ جنہوں نے نوازشریف کو اقتدار سے نکالا ھے۔ وہ اسے واپس اقتدار میں کیسے آنے دیں گے۔
لیکن صورتحال اتنی سادہ نہیں۔ نواز شریف اور مریم کی رضاکارانہ واپسی اور جیل کی زندگی قبول کرنے سے ن لیگی ووٹر اور سپورٹر کو بہت زیادہ سر گرم اور پرجوش کر دیا ھے۔ اپنے لیڈر کی بہادری سے ان کے سر فخر سے بلند ھو گئے ھیں۔ اور وہ کھل کر مقابلہ کرنے کے لیے باھر نکل آیا ھے۔ الیکشن ڈے پر پڑنے والا ووٹ بہت اھم ھو گا۔ اسٹیبلشمنٹ چند ھزار ووٹ مینج کر سکتی ھے۔ جیسا کہ حلقہ 120 میں بیس ھزار ووٹ مینج کیا گیا تھا۔ لیکن ن لیگ پھر بھی جیت گئ تھی۔ لودھراں اور چکوال میں بھی یہی صورتحال رھی تھی۔ چناچہ اگر ن لیگ کا پورا ووٹر باھر نکل آتا ھے۔ تو تمام رکاوٹوں اور دھاندلی کے باوجود مقابلہ کانٹے کا ھو گا۔
ایک اور بات پر بھی دھیان رھے۔ اداروں کے اندر بھی اس بگڑتی صورت حال کو لے کر تشویش بڑھ رھی ھے۔ نواز شریف مخالف کیمپ کے پاس نواز شریف اور مریم کو دس سال اور سات سال قید دینے کا ایک آخری حربہ تھا۔ جو انہوں نے استعمال کر لیا۔ اسٹیبلشمنٹ کا خیال تھا۔ نواز شریف ڈر جاے گا۔ واپس نہیں آے گا۔ اور مائنس ھو جاے گا۔ نواز شریف اور مریم نے واپس آ کر اسٹیبلشمنٹ کو فیل کر دیا۔ اب پیچھے تشویش اور خوف بچا ھے۔ جو اداروں میں سرائیت کر رھا ھے۔ الیکشن کا نتیجہ جو بھی آے ۔ یہ اختتام نہیں ھو گا۔ بلکہ ایک اختتام کی شروعات ھوں گی۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ھے۔ اپنی مرضی کی حکومت لا کر اور نوازشریف اور مریم کو جیل میں رکھ کر وہ چین کی بانسری بجا لے گا۔ تو اس سے بڑا احمق اور ملک دشمن کوئی اور نہیں۔ سیاسی استحکام کے بغیر ملک ترقی نہیں کرتے۔ ڈالر پہلے ھی آسمان کو چھو رھا ھے۔ دہشت گردی دوبارہ شروع ھو گئ ھے۔ اور ھم اپنے ھی ملک کی ایک پاپولر پارٹی کو سرنگوں کرنے میں اپنی صلاحیتیں اور توانائیاں استعمال کر رھے ھیں۔ اداروں کا احترام اور اداروں سے محبت دو طرفہ ھوتی ھے۔ سیاسی چالبازیوں اور ڈرانے دھمکانے سے احترام ملتا ھے۔ نہ محبت ملتی ھے۔ فاٹا ، بلوچستان اور کراچی پہلے ھی دشمن کے اھداف ھیں۔ پنجاب کی مقبول سیاسی پارٹی اور سیاسی قیادت کو کارنر کرکے اور ٹارچر کرکے ادارے نیک کمائ حاصل نہیں کر پائیں گے۔ ستر سال سے اقتدار اعلی پر قبضہ چھوڑنا آسان نہیں۔ لیکن مجبوری ھے۔ اسے چھوڑنا پڑے گا۔ بہتر ھے۔ کوئ نیا عمرانی معاھدہ یا سوشل کنٹریکٹ کر لیں۔ اپنے سٹیکس کو محفوظ بنائیں۔ اور ملک کو جمہوری اور آئینی راستے پر چلنے دیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *