بغیر ثبوت کے مجرم قرار دینے کا فیصلہ

کیا اپنی رائے ان کے لیے قانون تھا۔ شیکسپئیر

قانونی احتساب کےبغیر جمہوریت بے وقعت ثابت ہو سکتی ہے  لیکن ناقص قانونی احتساب جمہوریت اور احتساب دونوں کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ اسی وجہ سے 6 جولائی کو ایون فیلڈ کیس میں دیا جانے والا فیصلہ جس میں نواز، مریم اور صفدر کو سزا سنائی گئی بہت اہمیت کا حامل ہے۔

ثبوت پر مبنی سزائیں: بہت سے لوگوں کو شکایت ہوتی ہے کہ نواز شریف جیسے ملزموں کو قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے قانون سے بھاگ نکلنے میں آسانی ہوتی ہے ۔ لیکن ایسی قانونی موشگافیاں بہتر تفتیش  اور اچھے طریقے سے عدالتی کاروائی کے ذریعے ختم کی جا سکتی ہیں ۔ لوگ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ نواز شریف کی فیملی پر جو کرپشن الزامات ہیں ان کو عدالت میں ثابت کر کے ان کے پورے خاندان کو جیل بھیج دیا جائے۔ لیکن الزامات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے یہ حقیقت ذہن میں رکھنی ہو گی کہ کریمینل لاء کا ایک گولڈن اصول یہ ہے کہ کسی بھی شخص کو مستند قانونی ثبوت کے بغیر جیل نہیں بھیجا جا سکتا۔ اگر یہ سنہری اصول نہیں اپنانا چاہتے تو پھر اس خاندان کے خلاف مقدمہ ملٹری کورٹ بھی بھیج دیا جانا چاہیے۔

مجرمانہ دلائل: نواز شریف کے خلاف الزامات بہت واضح ہیں ۔ پہلا یہ کہ نواز اور ان کے زیر کفالت افراد  1990 کی دہائی سے چار خوبصورت ایون فیلڈ فلیٹس میں رہائش پذیر رہے ہیں ۔ دوسرا یہ کہ نواز 90 ء کی دہائی میں خریدے گئے ان فلیٹس کی منی ٹریل اور خرید کے ذرائع  عدالت میں پیش نہ کر سکے۔ کیس کا بنیادی نکتہ  90 ء کی دہائی   کے دوران فلیٹس کی  ملکیت کا تھا  کیونکہ اس دوران چونکہ نواز کے بچے کم عمر تھے اس لیے یہ تصور کر لیا گیا کہ فلیٹس نواز شریف نے خود خریدے ہوں گے اور ان کی خریداری کے لیے کرپشن کی رقم استعمال کی ہو گی۔ ان الزامات کی بنیاد پر ان پر مندرجہ ذیل قوانین کے مطابق فرد جرم عائد کی گئی: نمبر1 سیکشن 9 اے 4  نیب آرڈیننس جس کے مطابق کوئی شخص بد عنوانی کے ذریعے اپنے لیے یا اپنے بچوں کےلیے جائیداد خریدے ۔ نمبر 2 : سیکشن 9 اے 5 نیب آرڈیننس : کوئی شخص یا ا سکے زیر کفالت افراد ایسی جائیداد کی ملکیت رکھتے ہوں جو اس کے بتائے گئے اور آمدن کے مطابق اثاثوں  سے نہ خریدی گئی ہو۔ باقی تمام الزامات اور چارجز جن میں ٹرسٹ ڈیڈ کا جعلی ہونا شامل ہے  ثانوی حیثیت رکھتے تھے۔ ایون فیلڈ کیس میں جو فیصلہ سنایا گیا وہ نہ صرف  خوفناک، نا قابل یقین اور عجیب ہے بلکہ مضحکہ خیز بھی ہے۔

پہلے فرد جرم میں  فیصلہ دیتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ پراسیکیوشن کے پاس  شق 9 اے 4 کے مطابق کوئی ثبوت نہیں ہے  اس لیے ملزموں کو اس قانون کے تحت کرپشن کے الزامات سے بری کیا جاتا ہے۔ پراپرٹی کی ملکیت کا تعین کرنا بہت مشکل عمل تھا کیونکہ پراپرٹی آف شور کمپنیوں کے ذریعے خریدی گئی  جو ٹیکس ہیون میں رقم کی تفصیلات خفیہ رکھنے کے لیے بنائی گئی تھیں۔

اس طرح پراسیکیوشن یہ ثابت نہیں کر پائی کہ یہ اپارٹمنٹس نواز شریف نے 90ء کی دہائی میں   یا 2006  میں کرپشن کے ذریعے حاصل کی گئی رقم سے خریدے تھے  اور سب سے اہم بات یہ کہ وہ یہ ثابت کرنے میں ناکام رہی کہ یہ فلیٹس 90 کی دہائی میں حاصل کیے تھے۔

دوسرے فرد جرم پر فیصلے میں عدالت کے جج نے لکھا: پراسیکیوشن  یہ ثابت کرنے میں کامیاب رہی کہ  ملزم نے فلیٹس 90 کی دہائی میں خریدے تھے ۔ ثبوت کے ذریعے پراسیکیوشن نے یہ ثابت کیا ہے کہ یہ فلیٹس ملزم کے ظاہر کردہ اثاثوں سے نہیں خریدے گئے ۔ "

اس طرح فیصلے میں بتایا گیا ہے کہ  90 کی دہائی میں شریف خاندان کی فلیٹس کی  ملکیت ان کی ان فلیٹس میں رہائش، اور دوسرے اتفافی ثبوت  کے ذریعے ثابت ہوتی ہے ۔

فیصلہ میں کس  طرح کی غلطیوں سے بچا جائے: یہ فیصلہ پڑھنےوالا ہر شخص نہ صرف خوفناک اور حیرانی  احساسات کا شکار ہوتا ہے بلکہ اسے مضحکہ خیز بھی پاتا  ہے۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ یہ 174 صفحات پر مشتمل ہے  جس میں سے 147 صفحات صرف کیس کی کاروائی کی روداد پر مشتمل ہیں جب کہ 27 صفحات میں فیصلہ بیان کیا گیا ہے۔ کیا ایک ٹرائل کورٹ کے لیے مناسب ہے کہ وہ اتنا تفصیلی اور لمبا فیصلہ لکھے  اور اس میں سے اصل گفتگو محض 27 صفحات تک محدود ہوں؟

دوسرا نکتہ، اس فیصلے میں بے شمار گرامر اور سپیلنگ کی غلطیاں موجود ہیں۔ کیا انگریزی سے اس قدر نا بلد جج وائٹ کالر کرائم کے کیسز کے فیصلے دینے کی اہلیت رکھتا ہے جس میں کئی حقائق پر مشتمل  معلومات اور اختلائی مسائل درپیش ہوں؟ یہی وجہ ہے کہ اس  فیصلے میں نظم کی بے شمار غلطیاں موجود ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ فیصلہ جلدی میں لکھا گیا اور اس کی پروف ریڈنگ بھی نہیں کی گئی۔

بنیادی طور پر غلطیوں سے بھر پور فیصلہ: جسٹس عظمت سعید نے پانامہ کیس کاروائی کے دوران اپنے فیصلے میں لکھا تھا  کہ پراسیکیوشن کو ہر حالت میں یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ  ملزم یا اس کی بیوی، یا  زیر کفالت فرد یا بینامدار کے نام پر جائیداد موجود ہے۔ اگر الزام ثابت ہو جاتا ہے تو پھر ملزم کو اپنے زرائع کی وضاحت کرنے پر مجبور کیا جائے۔  ٹرائل کورٹ کے فیصلے میں بھی یہی اصول بیان کیا گیا ہے کہ  بنیادی طور پر بار ثبوت پراسیکیوشن پر ہے کہ وہ ثابت کرے کہ پراپرٹی ملزم کے نام پر ہے اور  ظاہر کردہ اثاثوں سے زائد قیمت سے حاصل کی گئی ہے۔ سزا کے لیے ملکیت، قبضہ اور ظاہر کردہ اثاثوں کے مطابق  ہونا یہ تین چیزیں اہم تھیں۔ واضح طور پر یہ قانونی پوزیشن رکھتے ہوئے بھی فیصلہ میں لکھا ہے کہ نواز کے خاندان نے یہ اپارٹمنٹس کرپشن کی رقم سے نہیں خریدے  اور یہ بھی لکھا ہے کہ 90 ء کی دھائی میں فلیٹس کی ملکیت  معلوم نہیں کی جا سکتی  لیکن اس کے باوجود سزا کے ضمن میں لکھا گیا ہے کہ 90 کی دہائی میں  چونکہ یہ فلیٹس شریف فیملی کے زیر استعمال تھے اس سے یہ ثابت ہوا کہ  نواز نے یہ فلیٹس اس زمانہ میں ہی خریدے تھے۔ یہ فیصلے کے اندر واضح تضاد پایا جاتا ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ پورا کیس اپارٹمنٹس کی شریف خاندان کی  1990 کی دہائی میں  ملکیت کے مسئلہ پر مبنی ہے۔ کوئی بھی اتفاقی کا قابل یقین ثبوت پراسکیوشن شریف فیملی کے خلاف  پیش نہیں کر پائی  کہ یہ فلیٹس 90ء کی دہائی میں شریف فیملی کی ملکیت تھے۔

تیسری بات،  شریف خاندان اپارٹمنٹس کی خریداری کی منی ٹریل پیش نہیں کر سکا  یہ مفروضہ بھی محض جے آئی ٹی کے تیار کیے گئے تجزیاتی چارٹ  پر مبنی ہے۔ کیا کسی کے اثاثوں کا ااثاثوں اور واجبات کی تفصیل کی شیٹ سے پتہ لگایا جا سکتا ہے؟  کیا  نواز کے خاندان  اور خاص طور پر حسین نواز کے واجبات اور اثاثوں کی تفصیل جانے بغیر اور کوئی دوسرا ٹھوس ثبوت فراہم کیے بغیر یہ نتیجہ نکالا جا سکت اہے کہ 2006 میں اپارٹمنٹس نہیں خریدے گئے؟  الغرض یہ ایک غیر عقلی فیصلہ ہے  جو ثبوت پر نہیں بلکہ مفروضوں پر مبنی ہے  جس کی وجہ بے ڈھنگ پراسیکیوشن ہے۔ اگر یہ فیصلہ اپیل کے ذریعے درست نہ ہوا  تو اس سے نہ صرف سیاستدانوں کے احتساب کے حوالے سے سپریم کورٹ کا امیج خراب ہو گا  بلکہ پاکستانی کریمنل  جسٹس سسٹم  دنیا بھر میں مذاق بن کر رہ جائے گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *