عزیزی… جو نام ہے محبت کا

سلیم طاہر اُن دنوں ایک پرائیویٹ ٹی وی چینل میں ڈائریکٹر پروگرامز تھے۔ یہ وہی سلیم طاہر ہیں جو گئے وقتوں میں پی ٹی وی پر مشہور پروگرام ''میں اور آپ‘‘ کیا کرتے تھے۔ وہ مجھ سے ایک کامیڈی پروگرام لکھوانا چاہتے تھے۔ آئیڈیا فائنل ہو چکا تھا‘ نام بھی فائنل تھا‘ لیکن مین کریکٹر کے لیے کوئی ایکٹر ذہن میں نہیں آ رہا تھا۔ اُس روز کافی دیر تک ڈسکشن ہوتی رہی‘ لیکن نتیجہ صفر رہا‘ طے پایا کہ اگلے دن ایک اور میٹنگ رکھی جائے۔ دوسرے روز جونہی میٹنگ سٹارٹ ہوئی‘ سلیم طاہر نے چٹ پر ایک نام لکھ کر میرے سامنے لہرایا‘ نام پڑھتے ہی میں خوشی سے اچھل پڑا اور اُن کی ہاں میں ہاں ملا دی۔ یہ نام تھا پاکستان کے عظیم اداکار سہیل احمد کا... جو آج عزیزی کے نام سے مشہور ہیں۔ یہ واقعہ لگ بھگ پندرہ سولہ سال پہلے کا ہے۔ جس پروگرام کی میزبانی سہیل احمد کو دی گئی اُس کا نام ''2 ٹوک‘‘ تھا اور ہمارے بڑے پیارے اور زندہ دل ڈائریکٹر رانا راشد اُس کے پروڈیوسر تھے۔ بعد میں یہ پروگرام صائم شیخ کے پاس آ گیا جنہوں نے اِسے مزید چاند لگا دیے۔ میرے لیے یہ اعزاز کی بات ہے کہ سہیل احمد نے میرے سینکڑوں سکرپٹس میں اپنی پرفارمنس دکھائی ''2 ٹوک‘‘ سے ''سہیل کلینک اور پھر ''آدھا کار‘‘ تک مجھے اُن کو بہت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ اِن آٹھ سالوں میں مجھے وہ ایک نہایت محبت کرنے والے انسان کے روپ میں نظر آئے۔ یہ وہ عظیم اداکار ہے جس نے بے شمار چھوٹے اداکاروں کی روٹی روزی کا وسیلہ پیدا کیا۔ گوجرانوالہ کا یہ سپوت آج دیکھنے والی ہر نظر کا محبوب ہے۔ ہر چہرہ اِسے دیکھتے ہی کھل اٹھتا ہے‘ ہر کوئی اِس سے پیار کرتا ہے۔
بڑے انسان تین طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جنہیں سب بڑا کہتے ہیں لیکن وہ اندر سے چھوٹے ہوتے ہیں... دوسرے وہ جو بڑے ہوتے ہیں لیکن بڑے لگتے نہیں... اور تیسرے وہ جو بڑے ہوتے ہیں اور ہر لحاظ سے بڑائی کی تعریف پر پورا اترتے ہیں۔ سہیل احمد کا شمار تیسری قسم کے ''بڑوں‘‘ میں ہوتا ہے۔ اُن کی یہ خاصیت ہے کہ انہوں نے جس کردار کو قبول کیا اُسے اپنے اوپر حاوی کر لیا‘ جب جی چاہا دیکھنے والوں کے قہقہے لگوا دیے اور جب چاہا رُلا دیا۔ خدا اُنہیں جتنی عزت دیتا جا رہا ہے وہ اُسی قدر جھکتے جا رہے ہیں‘ ورنہ وہ اس وقت شہرت کے جس مقام پر ہیں اِس مقام پر تو اکثر لوگ سلام کا جواب بھی دینا پسند نہیں کرتے۔ سہیل احمد وہ واحد شخص ہیں جنہوں نے سٹیج کو اُس وقت خیرباد کہا جب ہر طرف اُنہی کے نام کا ڈنکا بج رہا تھا‘ لیکن وہ سٹیج ڈراموں میں ڈانس کے خلاف تھے۔ وہ ڈرامے کو ڈرامہ ہی رکھنا چاہتے تھے‘ مجرا نہیں بنانا چاہتے تھے‘ لیکن سٹیج کے پروڈیوسر اُن کی بات مان کر نقصان اٹھانے کے لیے تیار نہیں تھے۔ ایسے حالات میں سہیل احمد نے سٹیج چھوڑ کر ساری توجہ صرف ٹی وی پر مرکوز کر دی۔ ظاہری بات ہے کہ سٹیج اور ٹی وی کے معاوضوں میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ سٹیج کا مہینہ پندرہ دنوں کا ہوتا ہے جبکہ ٹی وی اپنے بجٹ کے مطابق پیسے دیتا ہے۔ میرا بھی یہی خیال تھا کہ سہیل احمد گھاٹے کا سودا کر رہے ہیں لیکن وہ خدا پر بھروسہ کیے بیٹھے تھے اور یہ فیصلہ کر چکے تھے کہ وہ مجرے والے سٹیج کا حصہ نہیں بنیں گے۔ اس دوران اُن پر مشکلات کے پہاڑ بھی ٹوٹے‘ معاشی سلسلہ بھی ڈسٹرب ہوا لیکن جو شخص دوسروں کی مدد کے لیے ہر وقت حاضر ہو‘ خدا اُسے کیسے تنہا چھوڑ سکتا ہے... اور پھر ایسا ہی ہوا‘ خدا نے اُنہیں لوگوں کے دلوں کی دھڑکن بنا دیا... اور آج وہ ہر طرف محبتیں اور مسکراہٹیں بکھیرتے نظر آتے ہیں۔ بہت کم لوگوں کو معلوم ہو گا کہ کچھ عرصہ پہلے انہیں ہارٹ کا مسئلہ ہوا تھا۔ میڈیا میں یہ خبر عام نہیں ہوئی لیکن پھر بھی ہزاروں چاہنے والے باخبر ہو گئے‘ بے شمار ہاتھ دعا کے لیے بلند ہوئے اور انہی دعائوں کی بدولت آج وہ پھر پوری توانائی سے خوشیاں بانٹنے میں مصروف ہیں۔ میں‘ طاہر سرور میر اور رفاقت علی خان اُن کی عیادت کے لیے ان کے گھر گئے تو سہیل صاحب نے روایتی ''گوجرانوالہ پن‘‘ کا مظاہرہ کرتے ہوئے مزنگ سے ڈھیر ساری توے والی مچھلی منگوا لی۔ مجھے اُن کے چہرے پر ہمیشہ کی طرح ایک عاجزانہ پن نظر آیا۔ وہ اُسی محبت سے ملے جو اُن کاخاصہ ہے۔ میں نے پوچھا ''اب طبیعت کیسی ہے؟‘‘ اطمینان سے بولے ''الحمد للہ! اب تو ہاف کِک سٹارٹ ہوں‘‘۔
شوبز سے ایک طویل رفاقت کی وجہ سے میں بے شمار اداکاروں کو اندر تک جانتا ہوں‘ لیکن سچے دل سے کہہ رہا ہوں کہ جتنا خلوص اور پیار سہیل احمد میں ہے وہ کسی اور میں نہیں۔ سہیل احمد ہمارا اثاثہ ہیں۔ مجھے یاد ہے جس سٹیج ڈرامے میں وہ ہوتے تھے اُسے دیکھنے کے لیے تماشبین کم اور فیملیز زیادہ آیا کرتی تھیں۔ اُن کے منہ سے آج تک کوئی ایسی بات نہیں نکلی جو اخلاق سے گری ہوئی ہو۔ اُن کی موجودگی میں دوسرے کامیڈینز کی بھی ہمت نہیں پڑتی تھی کہ وہ کسی پھکڑ پن کا مظاہرہ کر سکیں۔ میرے ایک ڈرامے نے سو اقساط مکمل کیں تو چینل انتظامیہ کی طرف سے پوری ٹیم کے لیے دو لاکھ کے انعام کا اعلان کیا گیا‘ اور یہ رقم سہیل احمد کے حوالے کی گئی۔ انہوں نے وہ سارے پیسے پروڈیوسر کی جھولی میں ڈال دیے۔ باقی ٹیم نے اعتراض کیا تو بڑے پیار سے بولے کہ ''وہ بیچارہ کرائے کے گھر میں رہتا ہے‘ اِس رقم سے اُس کی زندگی میں تھوڑی آسانی پیدا ہو جائے گی‘‘۔ میں حیران ہوں کیونکہ یہ وہی پروڈیوسر تھا جسے سیٹ پر وہ کئی دفعہ غصے سے ڈانٹ بھی دیا کرتے تھے۔ غصہ اُن کو اکثر آ جاتا ہے لیکن زیادہ دیر نہیں رہتا‘ کسی سپاٹ بوائے پر بھی غصہ کر لیں تو بعد میں خود اُسے بلا کر معافی مانگ لیتے ہیں۔ کئی ڈوبتے ہوئے ایکٹروں کی زندگی کو انہوں نے بچا رکھا ہے۔
اکثر کامیڈی ایکٹر کسی دوسرے کی بات پر ہنسنے سے پرہیز کرتے ہیں‘ لیکن سہیل احمد نے اس معاملے میں وسیع دل پایا ہے‘ سہیل کلینک کی ریکارڈنگ کے دوران وہ ایک دفعہ سکرپٹ پڑھ رہے تھے کہ اچانک ہنسنے لگے اور جیب سے ہزار کا نوٹ نکال کر مجھے پیش کرتے ہوئے بولے ''بڑا ای مزا آیا اے‘‘۔ اُن کی دیکھا دیکھی میرے پیارے دوست افتخار ٹھاکر نے بھی ایک کڑکڑاتا ہوا نوٹ نکال لیا۔ یہ دونوں نوٹ میرے پاس آج بھی جوں کے توں محفوظ ہیں‘ یہ رقم نہیں‘ اعزاز ہے اور ہمیشہ پاس رکھنے کے لیے ہے۔ سہیل احمد صرف ایک ہے‘ دوسرا کوئی ہو ہی نہیں سکتا... یہ گواہی آپ اپنے دل سے بھی لے سکتے ہیں۔ 'سہیل کلینک‘ میں اُن کا کردار ایک مخبوط الحواس ڈاکٹر کا تھا جس کاکمپائوڈر (افتخار ٹھاکر) ہر بات پر ڈاکٹر کا مذاق اڑاتا ہے۔ سکرپٹ چونکہ مجھے لکھنا ہوتا تھا اس لیے میں شش و پنج میں پڑ جاتا تھا کہ بعض جملے ایسے سرزد ہو جاتے تھے جن میں سہیل احمد پر سیدھی جگتیں لگائی ہوئی ہوتی تھیں۔ وہ بھی شاید میرا مسئلہ سمجھ گئے‘ اس لیے ایک دن خود ہی کہنے لگے کہ میرے منہ پر فلاں فلاں جگت بہت اچھی تھی‘ ایسی ہی جگتیں لکھا کریں‘ میں شرم سے پانی پانی ہو گیا‘ کچھ کہنے کے لیے منہ کھولا تو قہقہہ لگا کر بولے ''گل صاحب! نہ گھبرائیں‘ یہ جگتیں آپ ڈاکٹر کو لگا رہے ہیں‘ مجھے نہیں‘‘۔ اللہ تعالیٰ سہیل احمد کو سلامت رکھے اور لمبی زندگی دے... معین اختر‘ لہری‘ عابد خان‘ مستانہ اور ببو برال کے بعد ہمارے پاس گنتی کے چند بڑے کامیڈین ہی تو رہ گئے ہیں جن میں سہیل احمد کا نام سرفہرست ہے۔ ایسے لوگ دوبارہ نہیں مل سکتے... کبھی نہیں...!!!

(گل نوخیز اختر کا یہ کالم روزنامہ دنیا سے لیا گیا ہے)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *