وبائی مرض

مجھے ایک وہم اور خدشہ بہت بری طرح ستا رہا ہے ۔۔۔یہ خدشہ و وہم یقین کا رخ اختیار کر لیتا ہے جب میں عجیب و غریب رویے کا سامنا لگا تار کرتی ہوں ۔۔۔ مجھے اندیشہ ہے کہ میرے ملک میں بہت جلد ایک وبائی مرض پھوٹنے والا ہے ۔۔۔اور چونکہ مرض وبائی ہے اس لیے بہت جلد مخصوص حلقے میں آگ کی طرح پھیل جاے گا !!! یہ عجیب و غریب مرض ہے جو دماغ کے خلیوں پہ اثر انداز ہوتا ہے اور آپ کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو سلب کر لیتا ہے اور آپ بس دانت کچکچاتے ، غصے سے مٹھیاں بھینچتے ، منہ سے جھاگ اڑاتے بس کچھ مخصوص بے ربط جملوں کی تکرار کرنے لگتے ہیں۔ میری دعا ہے کہ آنے والے الیکشنز میں عمران خان جیت جائے اور پی ٹی آئی کے متوالے اس وبائی مرض کی شدید حملے میں داخل ہونے سے بچ جائیں۔ قصہ دراصل یوں ہے کہ ان دنوں پی ٹی آئی کے متوالے اسی ہیجان خیز مرض میں مبتلا ہیں ۔۔۔یہ مرض انہیں اپنے پیارے لیڈر سے چھوت و تبرک کے طور پر ملا ہے کیونکہ وہ محترم بھی غصے میں جھاگ اڑانے میں مہارت رکھتے ہیں ۔۔ بے ربط ہانکنے اور چند مخصوص جملوں کی تکرار کے علاوہ اور کوئی ایجنڈا نہیں رہا انکا ۔۔اب یہی مرض ان پی ٹی آئی ورکرز و ووٹرز میں بھی بہت شدت سے عود کر آیا ہے ۔ وہ رشتہ دار وہ اعزا و اقربا جو آپ کو منہ لگانا پسند نہیں کرتے ۔۔۔جن کے دل آپ سے نفرت بغض و کینے سے بھرے ہوتے ہیں جو عید شب برات پہ بھی بادل نخواستہ ایسے کال یا میسج کرتے ہیں جیسے گلے سے کوئی بہت بڑی مصیبت اتاری ہو ، کوفت بے زاری ، نفرت ، بدگمانی؛ رویوں سے چھلک پڑتی ہو اور ان کے دل کی کیفیت کی چغلی نہیں بلکہ دھمال ڈالتے
اعلان کرتی ہو وہ رشتے دار و اعزا بھی اچانک اپکے خیر خواہ بن اٹھتے ہیں ۔انہیں آپکے نظریات و آپ کی آخرت کی فکر آپ سے زیادہ ستانے لگتی ہے جنہیں زندگی بھر آپ کے کسی دکھ پہ تسلی کے دو سچے بول بولنے کی توفیق نہ ملی ہو وہ آپکے نظریات کے غم میں دبلے ہونے لگتے ہیں۔ دن رات دھڑا دھڑ آپکو پی ٹی آئی ایجنڈا پہ مسیجزاور ویڈیوز بھیج بھیج کر آپ کے ناک میں دم کردیا جاتا ہے ۔ آپ لاکھ گزارش کریں کہ جناب میں آپ سے سیاسی گفتگو و مکالمے میں قطعا دلچسپی نہیں رکھتا یا رکھتی ۔۔آپکو اپنا ووٹ و حق رائے دہی مبارک اور مجھے مری سوچ مبارک ۔۔مگر توبہ کیجیے اس بیان پہ دانت کچکچاتے ہوئے بیانات میں مزید شدت آجاتی ہے ۔۔ایک گھر کے افراد کے دوسرے نمبرز سے بیانات و ویڈیوز کے سلسلے میں شدت آجاتی ہے ۔ آپ تنگ آمد بجنگ آمد پہ آمادہ ہوکر دلائل پہ بات کرنے کی کوشش کریں تو بھی منہ کی کھاتے ہیں۔ آپ لاکھ ثابت کیجیے کہ یہ کیسا احتساب ہے جو فرد واحد اور ایک جماعت کے گرد گھوم رہا ہے اس کے پیچھے یقینا خفیہ ہاتھ ہیں ۔اس بیان پہ پہلے آپ کو غدار قرار دیا جاتا ہے ۔را کا ایجنٹ ثابت کیا جاتا ہے اورپھر پاکستان
زندہ باد پاک آرمی پایندہ باد کا نعرہ لگا دیا جاتا ہے ۔ آپ دل شکستگی سے لاکھ بتانے کی کوشش کریں کہ قبلہ مرے تو اباجان نے بھی انڈیا کا منہ نہیں دیکھا ۔۔۔میں بھی مکمل پاکستانی ہوں اور پاکستان کی محبت سے سرشار ،ووٹ کا استعمال میرا جائز حق ہے۔ بال نوچتے ہوئے دوسری جانب سے فرمایا جاتا ہے ۔نواز بھی فوج کے کندھے پہ سوار ہوکر آیا تھا ۔اب عمران کی باری آپ کو موت کیوں پڑتی ہے ۔۔۔فوج کی مداخلت کو جائز ثابت کرنے کے لیے ایران توران کے قصے بیان کئے جاتے ہیں مگر سب دلیلیں بوگس ثابت ہوتی ہیں ۔ آپ پوچھنے کی جسارت کریں تو سہی کہ یعنی آپ چاہتے ہیں کہ دس سالہ لنگڑی لولی جمہوریت کا انعام یہ ہونا چاہیے کہ اونٹ کو مکمل خیمے میں داخل ہو نے دیا جائے ؟! اور کیا یہی سانپ سیڑھی کا کھیل جاری رہے گا ۔۔۔لنگڑی جمہوریت پھر سے اسٹیبلشمنٹ کی بیساکھی لیکر آئے اور بلیک میل ہوتی رہے ۔ ادھر سے وہ صاحب غصے سے بال نوچتے سر کھجاتے جھاگ اڑاتے فرمائیں گے کس کی جرات کہ ہمیں بلیک میل کرئے ۔آپ ڈرتے ڈرتے گزارش کیجیے کہ قبلہ یہ ج و ن لیگ اور پی پی پی کے تھوکے ہوئے لوٹے اکھٹے ہوگئے آپکا خیال کیوں ہے کہ یہ دھل دھلا کر شفاف ہوگئے ؟؟ جونہی انہوں نے پر پرزے نکالے تو انکے نامہ اعمال انکے منہ پہ دے مارے جائیں گے، پر کتر لئے جائیں گے ۔یہی عدالتیں ہوں گی یہی خفیہ ہاتھ اور محکمہ زراعت ۔۔۔ اور آپ کے منہ میں الایچی ہوگی کیونکہ یہ سب آپ پہلے ہی کسی کے ساتھ کروا چکے تھے ۔۔جمہوریت کی یہی سب سے بڑی خوبی و خامی ہے کہ یہاں فرد واحد کچھ نہیں ہوتا ۔۔۔اکیلا عمران کیا کرسکے گا گر اس کو آپ کے نظریے کے مطابق " امین و صادق " مان بھی لیا جاے تو ۔۔۔ ویسے آپکا کیا خیال ہےاگر عمران خان کے ٹیسٹ ہوں تو ایفیڈرین سے بڑے نشے دریافت نہیں ہو جائیں گے ؟ اب اس بیان کے بعد آپ تیار رہیے کہ جو منہ نوچا جائے گا سر گریباں پھاڑا جائے گا وہ فریق مخالف کا نہیں بلکہ آپکا ہوگا سو یہ بیان دینے کے بعد مناسب فاصلہ بہت ضروری ہے ورنہ کسی بھی قسم کی خارش ونقصان کے زمہ دار ہم نہیں ہوں گے ۔۔۔ سر کھجانے ، منہ نوچنے غصے سے بگڑی شکل اور گلے سے پھنسی پھنسی آواز برآمد ہوگی ۔آپ سب غدار ہیں را کے ایجنٹ ہیں۔۔۔ملک دشمن عناصر ۔۔۔عمران سے آپ کو بغض ہے ۔۔۔اور آخر میں پاک آرمی پائندہ باد، پاکستان زندہ باد ۔۔۔
آپ اب سر کو پیٹیے یا دل وجگر کو تھامیے ، لاکھ سمجھانے کی کوشش کیجیے کہ پاکستان و پاکستان کی فوج سے ہمیں بھی اتنی ہی محبت ہے جتنی آپکو ہے ۔آخر اس میں ہمارے ہی بھائی بیٹے اور باپ موجود ہیں ۔بس ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہر شخص وہی کام کرے جس کی وہ تنخواہ و حلف لیتا ہے ۔فوج کاکام سرحدوں کی چوکیداری ہے ،عدالتیں عدالتی نظام کو شفاف بنائیں ، سیاستدانوں کی خبر بعد میں لیں ۔عدالتی نظام درست ہوجائے تو ڈیمز بھی شوق سے بنا لیں اور یہ کہ پاکستان کی سلامتی و پائندگی اسی فارمولے میں پنہاں ہے۔ اس کے جواب میں صاحب مخالف کے نرخرے سے جو آواز برآمد ہوگی اسے غور سے سننے کی کوشش کیجیے ۔وہ کہتے ہوے پائے جائیں گے ۔پاک آرمی زندہ باد ۔۔۔اب آپ سر دھنیے یا پیٹیے مگر اپ مرض میں لاحق مریض کو کسی دلیل سے قائل نہیں کرسکتے ۔۔۔ آپ دل شکستگی سے ہار مانتے ہوے یہ کہنے کی کوشش کیجیے کہ دیکھیے قبلہ ہم دونوں ہم وطن ہیں، ایک ہی ملک کے شہری ہیں ۔۔۔اپنے
اپنے ووٹ کو نظریاتی اختلاف رکھتے ہوئے وسیع القلبی سے کاسٹ کرنے کا حق رکھتے ہیں ۔۔۔ ایک ہی جماعت کا ہونا بھی آمریت و فسطاییت کی علامت ہوتا ہے ۔آپ فریق مخالف کو برداشت کرنا سیکھئے ۔ اسکے جواب میں آپ کو واشگاف نعرہ پھر سننے کو ملے گا ۔وزیر اعظم عمران ۔۔۔پاک آرمی پائندہ باد ۔۔باقی سب گدھے ہیں اور آج تو حد ہی ہوگئی ،ایک کال موصول ہوئی ۔موصوف اچھے خاصے سمجھدار سلجھے ہوے انسان ہیں ۔۔۔ کتاب دوست آدمی ۔آج اک طویل مدت بعد یاد کیا ۔چھوٹتے ہی فرمایا ۔۔عید مبارک ۔۔میں کچھ دیر کو ہونق ہوئی ۔۔۔ عید کب کیسے آگئ ۔۔ہم کیا سوتے رہ گئے ۔۔۔ہم نے تو جانور بھی ابھی نہیں خریدا۔ہمیں گو مگو کے عالم میں پاکر بولے آپ سے بات ہوگئ تو عید ہوگئ ۔۔۔اس کے بعد اگلا جملہ ہمارے سیاسی کالمز ونظریات پہ تھا ۔ہم نے کافی طویل تقریر سنی جس کا لب لباب لگ بھگ وہی تھا جو ہم اوپر بیان کر چکے ۔انکے سوال و جواب بھی لگ بھگ وہی تھے جو ہم بارہا دہرا چکے ۔ جاتے جاتے بولے ۔عید مبارک ۔۔جمعۃ الوداع مبارک ۔پاکستان زندہ باد ،پاک آرمی پائندہ باد ۔ ہم تب سے سر پکڑے بیٹھے ہیں اور دل سے دعا گو ہیں کہ عمران خان وزیر اعظم بن جائے ۔اور اس کے ساتھ اسکے اپنے متوالے ہی جلد وہ سلوک کریں گے کہ جو وہ اب تک فریق مخالف سے کرتے آئے ہیں کیونکہ وزیر اعظم کھیل ہی کھیل میں کام کریں گے جو ان سے ہونہیں پانا جب کہ وہ اپنا پاگل پن چھوت کے کسی مرض کی طرح اپنے ورکرز میں تقسیم کر چکے ہیں ۔ گر وہ خدانخواستہ ہار گئے تو اس ملک میں اتنے دماغی امراض کے ہسپتال نہیں ہیں جہاں انہیں سنبھالا جا سکے۔آپ کو جگہ جگہ لوگ سر کھجاتے بال نوچتے کپڑے پھاڑتے نعرے لگاتے نظر آئیں گے پاک آرمی پائندہ باد، پاکستان زندہ باد، جمعۃالوداع مبارک ،عید مبارک اور مبارک ، مبارک، مبارک ۔۔۔۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *