مریم نواز کا جیل میں اے سی لینے سے انکار

ثانیہ عاشق

اسلام آباد۔ میری مریم نواز کے ساتھ سیاسی ایسو سی ایشن 2013  الیکشن سےقبل  شروع ہوئی۔  وہ ایک اچھی رہنما، بے لوث ٹیم پلئیر اور جذبہ رکھنے والی لیڈر ہیں۔ ان تمام سالوں میں ان کی خالص اور دینانت داری پر مبنی ہر جونیر، ساتھی اور سینئر پارٹی لیڈر  کی طرف توجہ  ان کی ایک خاص خوبی ہے ۔ مجھے ان تمام سالوں میں یہ کبھی اندازہ نہیں ہوا کہ ان کے جانے کے بعد میں ان کو کتنا مِس کروں گی۔ ایک ماہ سے زیادہ کا عرصہ ہو گیا ہے مجھے اپنی رہنما سے ملے ہوئے  اور تب سے بہت سی چیزیں واقع ہوئی ہیں ۔بیگم کلثوم نواز کی صحت کی خرابی، نیب کیس میں مریم، ان کے خاوند اور والد کو سزا،  اور باپ بیٹی کا  متنازعہ فیصلہ کے بعد بھی ملک واپسی کا فیصلہ، وغیرہ ۔ اس کے علاوہ بھدا میڈیا ٹرائیل،  اور میاں نواز اور مریم کی غیر موجودی میں غیر موثر انتخابی مہم ، ایسا لگتا تھا جیسے ایک بار پھر 2002 کے الیکشن کا زمانہ لوٹ آیا ہو۔

میں اڈیالہ جیل پہنچی، جو راولپنڈی کے گیریژن کے علاقے میں واقع ہے ۔ یہاں قیدیوں کے ساتھ صرف جمعرات کو ملاقات کی اجازت دی جاتی ہے۔ ایک روٹین لیکن سخت سکیورٹی پروسیجوئر کے تحت یہ ممکن بنایا گیا تھا کہ کوئی بھی شخص کسی قسم کی الیکٹرانک ڈیوائس جیل کے اندر لے کر نہ جائے۔ ہمیں ایسے کمرے میں لے جایا گیا جہان مریم، صفدر اور نواز شریف پہلے سے موجود تھے۔ اس کمرے میں تقریبا 25 افراد کے بیٹھنے کی جگہ تھی اور زیادہ تر علاقہ ن لیگی سیاستدانوں نے گھیر رکھا تھا۔ بینچ زندگ آلود تھے اور پورے کمرےمیں صرف دو پنکھے لگے ہوئے تھے۔ نواز شریف کی صحت درست لگ رہی تھی  لیکن دل کے مریض کی صحت کا اندازہ لگانا آسان نہیں ہوتا۔ مریم نواز کا کچھ وزن کم ہو گیا تھا۔ انہوں نے مسکراہٹ کے ساتھ ہمارے سلام کا جواب دیا۔ میاں نواز شریف ایک شفیق والد کی طرح نظر آ رہے تھے۔ مریم نے مجھے گلے لگایا اور صحت کے بارےمیں پوچھا۔ میں ان کا جذبہ دیکھ کر حیران تھی۔ یہ سوال مجھے پوچھنا  تھا  لیکن انہوں نے مجھے احساس دلایا کہ نا انصافی  سے ان کا حوصلہ کم نہیں ہوا بلکہ  بڑھ گیا ہے۔ وہ ہم سب سے زیادہ متوجہ اور حاضر جواب نظر آ رہی تھیں۔ جذبات کا ماحول تھا اور بہت سے لیڈرز کی آنکھوں میں آنسو تھے۔

مریم بہت پرسکون اور متحمل تھیں۔ انہوں نے سب کو تسلی دی کہ وہ مایوس نہ ہوں ۔ وہ میری طرف مڑیں اور بتایا کہ مشکل وقت خود پر غور کرنے کےلیے آتے ہیں۔ اگر آپ صحیح راستے پر ہو تو  اس صورتحال سے حوصلہ کم نہیں ہوتا بلکہ بڑھ جاتا ہے۔ جب فیصل آباد سے ایک نوجوان ایم این اے وہاں پہنچے تو میاں صاحب نے انہیں گلے لگایا اور ان کا ماتھا چوما۔  وہ کسی کا حوصلہ بڑھانے کے لیے اکثر یہ انداز اپناتے ہیں۔ میں نے مریم کو بتایا کہ ہم انہیں بہت یاد کرتے ہیں ۔ انہوں نے مسکراتے ہوئے ہماری طرف دیکھا اور کہا: میں اپنے ملک میں اپنے لوگوں کے ساتھ ہوں ۔ اگر میں یہاں نہ ہوتی تو  آپ ہمیں یاد کرتے تو بات ہوتی۔

عام روٹین میں وہ پورا دن کسی سے نہیں ملتیں۔ دوسرے لوگوں کو ان سے بات کرنے یا رابطہ کرنے سے باز رکھا گیا ہے۔ ان کا سیل رات 7 بجے سے صبح 5 بجے تک مکمل طور پر سیل رہتا ہے۔ میں نے پوچھا کہ وہ کیسے رہتی ہیں اور کیا سہولیات دی گئی ہیں تو انہوں نے بتایا کہ ان کو ایک روم کولر دیا گیا ہے جو چلتا نہیں ہے  لیکن پھر بھی وہ پر سکون نیند لیتی ہیں۔ ایسی کوئی چیز نہیں تھی جس  سے یہ ثابت ہو کہ انہیں قید میں آرام دہ صورتحال اور بہت سی سہولیات دی گئی ہیں جیسا کہ بہت سے میڈیا چینلز پر پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وہ زیادہ تر وقت کتابیں پڑھنے میں گزارتی ہیں۔ اس وقت وہ اوریانا فالیسی کی کتاب 'تاریخ کے ساتھ انٹرویو' پڑھ رہی ہیں۔ ان کو درجن کے قریب کتابیں فراہم کی گئی ہیں  جن میں سے زیادہ تر برصغیر اور مسلمان بادشاہوں کی تاریخ پر مبنی ہیں۔ سب سے بری بات یہ تھی کہ انہیں جو کھانا فراہم کیا جاتا ہے  وہ کئی برتنوں سے گزر کر ان تک پہنچتا ہے  اور ان تک پہنچنے تک صاف ستھرا نہیں رہتا۔

ہم جب تک وہاں رہے، مریم اپنی نواسی کے ساتھ کھیلتی رہیں  اور بتایا کہ وہ اپنی چھوٹی بیٹی کو بہت یاد کرتی ہیںَ۔ یہ ملاقات مختصر تھی  لیکن جو جذبات میں نے وہاں دیکھے وہ سازی زندگی میرے ساتھ رہیں گے۔ ان تینوں قیدیوں کے بلند جذبے سب کے لیے حوصلہ افزا تھے۔ میاں صاحب کا کہنا تھا کہ انہیں معلوم تھا کہ انہیں جیل میں ذہنی ٹارچر کا نشانہ بنایا جائے گا  اور وہ ان حالات کا سامنا کرنے کے لیے تیار تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ قانون پر عمل کریں گے  اور انہیں امید تھی کہ ملک کی سیاسی صورتحال زیادہ دیر ایسی نہیں رہے گی۔ ہم وہاں تین گھنٹے تک رہے۔ رخصت ہوتے وقت بھی مریم نواز پر سکون اور تحمل  کا مجسمہ بنی ہوئی تھیں۔

میاں صاحب نے ہاتھ سے خدا حافظ کے اشارہ کے ساتھ ہمیں رخصت کیا اور ہم واپس آ گئے۔ جب میں اس عمارت سے باہر آئی تو میں بہت عجیب محسوس کر رہی تھی۔ بہت سے خیالات یک دم ذہن میں آ رہے تھے۔باہر کی دنیا اسی حساب سے چل رہی تھی   جیسا کہ اسے معلوم نہ ہو کہ بلڈنگ میں میرے ساتھ کیا گزری  ہو۔ اس ملاقات نے مجھے افسردہ کر دیا ہے۔ لیکن میں نے اپنے لیڈرز میں جو حوصلہ دیکھا اس سے مجھے بہت ہمت، جذبہ اور موٹیویشن بھی حاصل ہوا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے انہوں نے  عام دنوں میں معاشرے کی نا انصافیوں کے خلاف بات کی ہو۔ انہوں نے مجھے بہتر پاکستان کےلیے امید دلائی، میرا حوصلہ بڑھایا اور مجھے جمہوریت کےلیے لڑنے کے لیے نیا عزم عطا کیا۔ اس ملاقات سے میں اپنے ووٹ کو عزت دو کے نعرے پر مزید فوکس ہو گئی  اور میرا حوصلہ دو گنا بڑھ گیا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *