200 بلین چوری کیا گیا پاکستان کا پیسہ

متوقع وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ وہ ایک ایسی ٹاسک فورس تشکیل دیں گے   جو ان 200 بلین ڈالر کا سراغ لگائے گی جو پاکستانیوں نے غیر ملک میں چھپا رکھا ہے  اور یہ بات یقینی بنائی جائے گی کہ یہ پیسا واپس  پاکستان لایا جا سکے ۔ انہوں نے کہا: ہم نے ایک فارمل ٹاسک فورس بنانے کا فیصلہ کیا ہے  جو ایسی تجاویز مرتب کرے گی جن کو عملی جامہ پہنا کر پاکستانیوں کے بیرون ملک چھپائے گئے اربوں ڈالر کو واپس لایا جا سکے۔ یہ ٹاسک فورس ایک خاص نوعیت کے ٹرمز آف ریفرنس تیار کرے گی  ااور ان کی روشنی میں اپنی رپورٹ فائنل کرے گی۔ ان کی یہ گفتگو دی نیو ز اخبار میں شائع ہوئی۔ آپ اس کو جس طرح بھی دیکھیں، نئے آنےوالے متوقع وزیر خزانہ کا یہ نظریہ میرے لیے مایوس کن ہے۔ میں بتاتا ہوں کہ اس کی وجہ کیا ہے۔ اگر انہیں پکا یقین ہے کہ بیرون ملک 200 بلین ڈالر پڑا ہے  تو پھر انہیں یہ پیسہ واپس لانے کی سنجیدہ کوشش کرنی ہو گی۔ اس کا مطلب ہے کہ ملک کے اصل معاشی مسائل کو پوری توجہ نہیں دی جا سکے گی کیونکہ بہت سا وقت ان مفروضے پر مبنی رقوم کی واپسی کے معاملے پر ضائع کر لیا جائے گا۔ البتہ اگر اسد عمر یہ سمجھ لیتے ہیں کہ یہ  پچھلی حکومت  کو دباو میں لانے کے لیے تیار کیا گیا تھا  کہ اس حکومت نے پیسہ واپس لانے میں دلچسپی نہیں دکھائی تو اس چیز کو ٹاسک فورس والی بات کر کے قابل یقین بنانے کے بعد ان کے لیے سیاسی طور پر اس بیان سے واپس لوٹنا مشکل ہو جائے گا۔ اگر یہ 200 بلین واقعی کہیں موجود ہوتا اور کچھ صحافیوں کی خود ساختہ اختراع  پر مبنی نہ ہو  تو نہ صرف ملک کے بیرونی قرضے ختم ہو چکے ہوتے بلکہ  ملک کے فاریکس ریزرو بھی کہیں زیادہ ہوتے۔ جب جانے پہچانے صحافی اتنے بڑے دعوے کریں تو عام شہریوں کا بہک جانا سمجھ میں آتا ہے  خاص طور پر ایسے ملک میں جو ہر وقت مالی وسائل کا شکار دکھائی دیتا ہے۔ اس لیے میری  آنے والے وزیر خزانہ کے تحت تمام سٹیک ہولڈرز سے درخواست ہے کہ  تھوڑا وقت نکال کر خرم حسین کا ڈان میں شائع ہونے والا کالم 'نمبر اِ ن دا نیوز ' پڑھ لیں  جو 7 اگست 2014 کو شائع ہوا تھا۔  خرم جو کہ ایک مستند لکھاری ہیں  نے اپنے اس آرٹیکل میں معاشی معاملات کو آسان انگلش میں کھول کر بیان کیا ہے  اور اس پورے معاملے کا پوسٹ مارٹم کر دیا ہے۔ انہون نے  اس 200 بلین ڈالر والے پورے مخمصے کو ہی یکسر مسترد کر دیاہے۔

مجھے یاد ہے کہ معاشی ماہرین مصنفین  جنہوں نے بزنس نیوز پیپر میں تحریر چھپوائی تھی ، نے بعد میں خرم سے ملاقات کی اور اعتراف کیا کہ ان کے تجزیات غلط تھے اور خرم کی معلومات درست تھیں۔ مجھے غلط مت سمجھیے۔ اگر بیرون ملک پاکستان کا 200 ملین ڈالر پڑا ہے  تو پھر ہمیں اس پیسہ کو واپس لانے کےلیے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھنی چاہیے۔ خدا کی قسم اس کی پاکستان کو بہت ضرورت ہے۔  اس سے بڑی خوشی میرے اور آپ کے لیے اور کیا ہو گی؟   لیکن اگر یہ خیالی رقم ہے تو اس کا پیچھا کرنا حماقت ہو گی کیونکہ اس کا مطلب اپنے پاس موجود رقم ایسی رقم کے لیے خرچ کرنا ہے جو  شاید موجود ہی نہ ہو اور ممکن ہے اس غیر موجود رقم کےلیے کئی کروڑ روپے صرف تحقیقات پر خرچ کرنے پڑ جائیں۔ ایسے معاملات کی تحقیقات کےلیے دنیا بھر میں چند بڑی فرمز موجود ہیں  لیکن وہ اس  معاہدے کے تحت کام نہیں کرتیں کہ اگر پیسہ نہ ملا تو وہ فیس نہیں لیں گی۔ وہ پہلے ہی بہت زیادہ فیسیں وصول کر لیتی ہیں  اور یہ ممکن ہوتا ہے کہ تحقیقات بند گلی میں ختم ہوں جیسا کہ خرم نے چار سال پہلے بتایا تھا۔ جو بھی ہو، میں اس آئیڈیا کی حمایت نہیں کرتا ۔ میں کبھی  ایسا نہیں کروں گا  کہ کسی سیاسی مخالف کو اپنا بنانے یا کوئی جھگڑا ختم کرنے کےلیے 200 ملین ڈالر جتنی خطیر رقم صرف کروں۔

آپ ایسی رقم کا تبھی تحقیقات کا فیصلہ کر سکتے ہیں جب آپ کے پاس کوئی ٹھوس ثبوت موجود ہو ۔ وٹس ایپ گروپوں کی افواہوں پر  یا اسحاق ڈار کے کسی بیان پر یقین کر کے اتنا بڑافیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔ بہتر یہ ہو گا کہ  200 بلین کے حصول کے لیے ٹاسک فورس کے قیام کے ساتھ ساتھ امریکی سیکرٹری آف سٹیٹ مائیک پومپیو  اور کچھ دوسرے قانون دانوں  کی آئی ایف فنڈز کے بارے میں آراء کو سامنے رکھتے ہوئے نتائج پر نظر ڈال لی جائے۔ پومپیو اور کچھ دوسرے کانگریس ممبران  نے حال ہی میں  بیان جاری کیا تھا کہ آئی ایم ایف کی طرف سے پاکستان کو فنڈز کے اجرا کو امریکہ چین کے سی پیک پراجیکٹ کے تناظر میں دیکھے گا۔ اب پاکستان اور چین کے بارے میں یہ کچھ نہیں کہا جا سکتا  کہ وہ سی پیک لون کے بارے میں  اس طرح کی ڈاکومنٹیشن پر اتفاق کریں گے یا نہیں  لیکن جو تیسری پارٹی یعنی امریکہ جو مسئلہ حل کروانا چاہتا ہے یہ سارا معاملہ واضح نہیں ہے۔ یہ بھی واضح نہیں ہے کہ پومپیو اور دوسرے کانگریس ممبران چین کا مسئلہ کیوں اٹھا رہے ہیں جب کہ  وہ خود افغانستان کے معاملے میں پاکستان سے زیادہ رعایات کے خواہشمند ہیں۔ یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ آئی ایم ایف امریکہ کی ہدایت پر عمل کرے گا یا اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے ووٹنگ سسٹم کے تحت  امریکہ کے تحفظات کو نظر انداز کرتے ہوئے فیصلہ کرے گا۔ ملک کے معاشی ماہرین  اور سیاسی قیادت کو  ان پیچیدہ معاملات کو بہت مہارت سے حل کرنا ہو گا ۔ میرے جیسے عام آدمی کو ان معاملات کی محدود سمجھ بوجھ ہے۔ اس کے باجود یہ مجھے واضح طور پر معلوم ہے کہ غیر ضروری معاملات میں الجھنے کی ہمارے پاس قطعا گنجائش نہیں ہے۔  حکومت کے پاس اہم فیصلوں کو نظر انداز کرنے کی کوئی صورت موجود نہیں ہے۔ چونکہ یہ حکومت سوشل ویلفئیر کے لیے اقدامات کرنے کی پابند ہے،  اس لیے اگر یہ مختصر وقت میں عوامی توقعات پر پوری نہ اتر سکی تو اسے  اپنے سپورٹ بیس سے محروم ہونا پڑ سکتا ہے۔ لیکن یہی زندگی ہے۔ ایسا کرنا بنیادی  فریضہ ہے جسے ہر صورت پایہ تکمیل تک پہنچنا چاہیے  ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *