بیرون ملک 200 بلین ڈالر کا معمہ

آجکل ایک احمقانہ خبر گرد ش کر رہی ہے جس میں دعوی کیا جا رہا ہے کہ پاکستانیوں کا 200 ارب ڈالر کا سرمایہ سوئیس بینکوں میں پڑا ہے ۔ اس کے ساتھ یہ بھی دعوی کیا جار ہا ہے کہ ایک سوئیس بینک ڈائریکٹر نے آن دی ریکارڈ  بیان دیا ہے کہ  صرف انہی کےبینک میں پاکستانی کا 97 بلین ڈالر کا سرمایہ پڑا ہے ۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ایک سابقہ سوئیس منسٹر نے  آن دی ریکارڈ دعوی کیا ہے کہ سوئس بینکوں میں پاکستانی سرمایہ کی تعداد 200 بلین ڈالر کے قریب ہے۔ یہ بہت حماقت پر مبنی اعداد و شمار ہیں اور کوئی بھی شخص جو بینکنگ اور ڈپلومیسی  سے واقفیت رکھتا ہو  آپ کو بتا سکتا ہے کہ  کوئی بھی ذمہ دار بینک ڈائیریکٹر یا  ریاستی وزیر اس طرح کے بیان نہیں دے سکتا۔ لیکن یہاں اس طرح کے بیانات وزیر خزانہ سے منسوب کیے جا رہے ہیں۔ جب میں نے وزیر خزانہ سے اس بارے میں دریافت کیا تو انہو ں نے ایسا کوئی بھی بیان تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ تو پھر یہ اعداد و شمار کہاں سے آئے اور انہیں ایک وزیر سے کیوں منسوب کیا جا رہا ہے ؟


ہوا کچھ یوں کہ مئی 2014 میں پی ٹی آئی کے ڈاکٹر عارف علوی نے وزیرخزانہ سے سوال کیا کہ " حکومت پاکستانیوں کے سوئس بنکوں میں غیرقانونی جمع اثاثوں کی واپسی کیلئے کیا اقدامات اٹھا رہی ہے۔ نیز کیا 2010 میں بننے والے سوئس قانون "ریسٹیٹیوشن آف الیسٹ ایسٹس ایکٹ" سے مدد لینے کا کوئی حکومتی منصوبہ ہے؟"

وزیر خزانہ کا تحریری جواب یہ تھا کہ حکومت RIAA سے فائدہ اٹھانا چاہتی ہے مگر اس سے پہلے ہمیں سوئٹزرلینڈ کے ساتھ موجودہ ٹیکس ٹریٹی پہ مذاکرات کرنا ہیں۔ یہ مذاکرات 26 اگست 2014 سے شروع ہونا ہیں۔ بس اتنی سی بات تھی۔

مگر وزیرخزانہ کی ایوان میں عدم موجودگی کے باعث خزانے کے پارلیمانی سیکرٹری محمد افضل خان نے ان کا جواب جمع کروایا۔ سیکرٹری صاحب نے خود آن ریکارڈ جا کر یہ جواب پڑھا اور دو باتیں اس میں خود سے شامل کر لیں۔

اگلے دن سے دو سو ارب ڈالرز کی رقم ہیڈلائنز میں آ گئی۔ رپورٹنگ کرتے ہوئے ایک اخبار نے اس بیان کو حکومت سے منسوب بتایا۔ ایک اور نے اسے نام لے کر سیکرٹری سے منسوب کیا اور چونکہ سیکرٹری بظاہر وزیرخزانہ کی جانب سے بولے تھے اس لئے ایک اور اخبار نے اس بیان کو براہ راست وزیرخزانہ پر ڈال دیا۔

لیکن آخر سیکرٹری صاحب کو یہ فگر کہاں سے ملی، اس کا جواب انہیں خود دینا چاہئے۔ جہاں تک میرا تعلق ہے، دو سو بلین ڈالرز کا سب سے پہلے ذکر مجھے ایک لیڈنگ بزنس ڈیلی میں دو معروف تجزیہ نگاروں کے مضمون میں ملا۔ اس کی سرخی بہت دلچسپ تھی۔ "Swiss Return of Illicit Assets Act; We can get billions back"
اس کی ایک لائن میں صاحب مضمون نے لکھا کہ "۔۔۔ پاکستانیوں کے سوئس اکاونٹس میں جمع پیسوں کا تخمینہ دو سو ارب ڈالر ہے۔۔۔۔" یہ تخمینہ کس نے اور کیسے لگایا، یہ ہمیں نہیں بتایا گیا۔

پھر 2011 میں ایک معروف ٹی وی اینکر نے اس پر پورا پروگرام کر ڈالا۔ پروگرام کے ایک شریک اس مضمون کے ایک مصنف بھی تھے۔ مگر پورے پروگرام میں اینکر نے مصنف سے ایک بار بھی یہ پوچھنے کی زحمت نہیں کی کہ یہ فگر انہوں نے لی کہاں سے؟

چند ماہ بعد ایک مشکوک سی وائر سروس نے یہ اطلاع نشر کی۔ " پاکستانیوں کے ستانوے ارب ڈالرز سوئس بنکس میں" اس اطلاع کو ایک گمنام سوئس بنک ڈائریکٹر سے منسوب کیا اور اس اطلاع کا ذریعہ موبائل پہ ملا ایک میسج بتایا گیا۔ گویا کسی فارورڈ میسج کو اس وائر سروس نے خبر بنا کر پیش کر دیا۔ اب یہ خبر دو اخبارات نے وائر سروس سے اٹھا کر اپنی ریگولر نیوز کا حصہ بنا لی۔

آج ہم یہ نمبرز تقریباً روزانہ ہی سن رہے ہیں۔ مثلاً پچھلے ایک ہفتے ہی میں نصف درجن چھوٹے بڑے اخبارات نے اسے بیان کیا ہے۔ اور ابھی کل ہی وہ اخبار ، جس نے یہ خبر سب سے پہلے دی تھی نے ایک تندوتیز اداریے میں وزیرخزانہ کے اس لوٹی دولت کو واپس لانے کے دعوے پر تنقید کی ہے، مگر ایک بار بھی اس فگر کی صحت کو چیلنج نہیں کیا۔

مگر اس فگر کو کچرا ثابت کرنے کیلئے ایک کوئیک سرچ ہی کافی ہے۔ اپنی ویب سائٹ پر سوئس نیشنل بنک اپنے ماتحت تمام 80 بنکوں کے اثاثوں کی جغرافیائی تقسیم بھی دکھاتا ہے۔ اس کے مطابق پاکستانیوں کی 2013 میں کل جمع شدہ رقم ایک ارب فرانکس سے کچھ ہی زیادہ ہے۔ اب فرانک ٹو ڈالر ایکسچینج ریٹ پر جمع تفریق خود کر لیں۔

یہ جاننا بہت آسان ہے کہ ان دونوں مصنفین نے یہ غلط فگر کہاں سے لی؟ اپنے پچیس جولائی کو شایع ہونے والے ایک اور مضمون میں وہ ٹائمز آف انڈیا کی ایک نیوز سٹوری میں پاکستانیوں کے سوئس اثاثوں کا ذکر کرتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ 2010 میں ایک موقع پر یہ اثاثے 195 ارب سوئس فرانکس (یعنی دو سو ارب ڈالرز ) رہ گئے تھے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ ٹائمز آف انڈیا میں یہ رقم 195 ارب نہیں بلکہ 1.95 ارب ہے۔ بظاہر یہی لگتا ہے کہ کٹ اور پیسٹ کے دوران ایک اعشاریہ اڑ گیا۔ اسی مضمون میں ایک اور جگہ انہوں نے تین ارب سوئس فرانکس کو 418 ارب ڈالر کے مساوی بتایا ہے- یہاں بھی اعشاریہ اڑ گیا تھا۔

افسوس کی بات ہے کہ ان احمقانہ اعدادوشمار کو اتنا عرصہ سرکولیشن میں رہنے دیا گیا ہے، اس سے بھی زیادہ افسوس کی بات مگر یہ ہے کہ اس طرح کی حماقتیں غیرقانونی اثاثوں کی واپسی میں الٹا رکاوٹ بن جاتی ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *