خطہء پاکستان۔۔۔خواہشِ مصطفےٰؐکی تکمیل تھی۔۔۔مگر افسوس!

جانِ کائنات حضور سیدِ عالمؐنے برصغیر پاک و ہند کی طرف انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے صحابہء کرامؓ سے فرمایاتھاکہ ’’مجھے اس طرف سے ٹھنڈی ہواؤں کے جھاؤنکے آتے ہیں۔‘‘(مفہوم)اہل نظرِ بتاتے ہیں کہ سرکارِ مدینہؐنے قائداعظمؒ کو خواب میں زیارت سے نوازا اور حکم فرمایا کہ ’’اُٹھو!اور مسلمانوں کیلئے ایک الگ خطہ(پاکستان)بنانے کیلئے کام کرو۔‘‘(مستدرک الحاکم)
الحمدللہ !ریاستِ مدینہ شریف کے بعداسلامی جمہوریہ پاکستان دنیائے اسلام کاوہ واحد ملک ہے کہ جوانتہائی قدر والے نبیؐکی خواہش پر قدر والے ماہِ رمضان کی قدر والی رات یعنی شبِ قدرمیں ستائسویں شب 14اگست کو ایک نظریہ کی بنیادپر وجود میں آیا۔اور نظریہ بھی ایسا کہ جس کہ ’’حقانیت‘‘روزِ روشن کی طرح عیاں ہے۔یہ مسلمانانِ ہند کی سال ہاسال کی قربانیوں،اولیائے کرام اور مشائخ عظام کی خصوصی دعاؤں،حضورِ اقدسؐکی نگاہِ خاص اور قائد اعظم محمد علی جناحؒ کی ولولہ انگیز اور بابصیرت قیادت ہی کا ثمر تھا کہ گوروں کی خطرناک سازشوں اور مکار ہندوؤں کی ریشہ دوانیوں اور چلاکیوں کے باوجود مسلمان چند برس کی جدوجہد اور محنت کی بدولت دنیا کے نقشے پر ایک عظیم اسلامی مملکت قائم کرنے میں کامیابیوں سے ہمکنار ہوئے۔
برصغیر میں ایک آزاد مملکت کے قیام کا مقصد صرف یہ تھا کہ مسلمان اسلامی قوانین اور اس کے روشن اصولوں کے مطابق اپنی زندگی کے شب وروز گزار سکیں۔یعنی جہاں اسلام کا بول بالا ہو،رواداری ہو،اسلامی قانون کی بالا دستی ہو،جہاں مساوات اور احساسات کے عناصر پیش نظر ہوں۔اور جہاں ایک ایسا خوبصورت معاشرہ تشکیل ہو سکے جو مسلمانوں کی معاشی اور معاشرتی فلاح و بہبود کی ضمانت دے سکے۔مگر افسوس صد افسوس کہ اگرہم موجودہ حالات وواقعات ،رسم ورواج اورخطرات وخدشات کا پوری ایمانداری سے جائزہ لیں تو ہمیں یہ بات تسلیم کرنا پڑے گی کہ 70سال کا طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود۔۔۔جن مقاصدکے پیشِ نظر پاکستان بنایا گیا تھااُن مقاصد کو حاصل کرنے میں ‘ہم تاحال ناکام ہیں۔اور ناکام ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ہم ’’خواہشِ مصطفےٰؐ کی تکمیل‘‘کی قدر نہ کرپائے۔بانیء پاکستان قائداعظمؒ نے ارشاد فرمایا کہ
’’اسلامی حکومت کے تصور کا یہ امتیاز ہمیشہ پیش نظر رہنا چاہیے کہ اس میں اطاعت وفرمانبردای اور وفاکا مرجع اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جس کی تعمیل کا واحد ذریعہ قرآن مجید کے احکام اور اصول ہیں۔اسلام میں اصولاََ نہ کسی بادشاہ کی اطاعت ہے نہ کسی پارلیمان کی،نہ کسی اور شخص کی یا ادارہ کی۔قرآن حکیم کے احکام ہی سیاست یا معاشرت میں ہماری آزادی اور پابندی کے حدود متعین کرتے ہیں۔اسلامی حکومت دوسرے الفاظ میں قرآنی اصول اور احکام کی حکمرانی ہے اور حکمرانی کیلئے آپ کو ایک علیحدہ مملکت کی ضرورت ہے۔‘‘
آج کے دن قائداعظم ؒ کی قیادت میں ہمارے آباؤ اجدادکی بے شمار قربانیوں اور جدوجہد کی بدولت خواہشِ مصطفےٰؐکی تکمیل(ایک علیحدہ مملکت’’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘‘قائم ہونے کی صورت میں) توہوگئی ۔۔۔مگربدقسمتی سے ہم نے قرآن و سنت اور اسلامی اقدار کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے مغربی تہذیب وتمدن اپنا کربطور مسلمان اپنے اصل مقاصدسے ہٹ گئے اور یہی ہماری ناکامی کی اصل وجہ ہے۔اور یہ ناکامی تب تک ہمارا مقدر رہے گی کہ جب تک ہم سب اپنا اپنا قبلہ درست نہیں کرلیتے اور قرآن وحدیث کی تعلیمات کی روشنی زندگی گزارنے کی کوشش نہیں کریں گے۔
علامہ اقبالؒ نے اس حوالہ سے بڑے واضح طور پرارشاد فرمایا کہ ’’اگر آپ بحیثیت مسلمان زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو یہ قرآن پاک کے بغیر ممکن نہیں۔‘‘
گر تو می خواھی مسلمان زیستن
نیست ممکن جز بقرآں زیستن
اور ظاہر ہے کہ قرآن ۔۔۔بحیثیت مسلمان اور اچھے انسان کیلئے ایسے عوامل کی ہر حال میں مکمل نفی کرتا ہے۔کہ جس سے وہ اللہ اور اُس کے رسولؐ سے دور ہوتے ہوئے اقوام عالم میں جگ ہنسائی کا باعث بنیں۔بلا شبہ قرآن وحدیث ہی قیامت تک کیلئے ہر انسان اور مسلمان کیلئے بہترین اور بے مثل ضابطہء حیات ہے۔
اگر دیکھا جائے توظلم وستم‘دھوکافراڈ‘زنار کاری‘ملاوٹ‘ رشوت،قانون کی پاسداری نہ کرنا‘وقت کیا ضیاع‘امانت میں خیانت‘دِل آزاری‘کرپشن اور بدعنوانی ایسے عناصر عام انسانوں میں پائے جائیں تو لوگ انہیں اچھی نگاہ سے نہیں دیکھا کرتے اور بالخصوص مسلمانوں کو تو ایسے ’’عوامل‘‘ بالکل ہی زیب نہیں دیتے۔اور نہ ہی ایسے عوامل سے حقیقی کامیابی نصیب ہوتی ہے۔
اس حوالہ سے نہ صرف اربابِ اقتداراور بیوروکریٹس کو پوری دیانتداری اوراور ذمہ داری کیساتھ اپنے فرائض کو سرانجام دینا ہوگا‘بلکہ انتہائی معذرت کیساتھاربابِ علم ودانش اور پیرانِ عظام ومشائخ عظام اورعلمائے کرام کو بھی اپنے اپنے زیرِ اثر افراد کو فرقہ وارانہ تعصبات سے پاک کرتے ہوئے ایک بہترین انسان‘فرض شناس پاکستانی اور بہترین مسلمان بنانے کیلئے ان کی کردار سازی میں اپنا اہم کردار ادا کرنا ہوگا۔
سو ہم سب کو چاہیے کہ ہم سب مل کر علاقائی،لسانی،مذہبی اورصوبائی تعصبات کو ختم کرتے ہوئے قدر والے ماہِ رمضان میں قدر والی رات کو اِس’’عطیہ ء خداوندی‘‘کی قدر کریں اور اپنے اپنے طور پہ پوری ذمہ داری ،دیانت داری اورخلوصِ نیت سے پاکستان کوعظیم سے عظیم تر بنانے میں اہم کردار ادا کریں کیوں کہ یہ پاکستان ’’ہم سب کا پاکستان‘‘ہے۔اور پاکستان کی صورت میں ’’خواہشِ مصطفےٰؐ‘‘کی تکمیل پر ربِ قدوس کا شکر بجا لائیں۔ بے شک!اللہ معاف فرمانے والاہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *