اسلحہء"معاشرہ"

ہمارے معاشرے میں وہ لوگ بہت کم مقدار میں پائے جاتے ہیں جن کے اندر معاشرے کی اصلاح کا درد پایا جاتا ہو، ورنہ تو ہر شخص کسی نہ کسی اور قسم کے درد میں مبتلا رہتا ہے۔ ہمارے ایک شاعر دوست خود کو درد کا شاعر کہلایا کرتے تھے حالانکہ ان کی شاعری میں دور دور تک کسی قسم کا کوئی درد نہیں پایا جاتا تھا۔ ایک بار ہم نے انہیں گھیر کر پوچھا کہ حضرت آپ کی شاعری میں یہ کیسا درد ہے؟ انہوں نے چہرے پر افسردگی طاری کرتے ہوئے کہا ’’دراصل یہ جوڑوں کا درد ہے‘‘۔ شاعری میں جوڑوں کا درد؟۔ ہمیں اس بات کی سمجھ نہ آئی تاہم انہوں نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ دراصل ان کے ہم عصر تمام شعراء اپنی اپنی پسند کے ذریعے شادی کے مرحلے سے گزر کر اپنا اپنا جوڑا بنا چکے ہیں جبکہ میں تاحال اس سعادت سے محروم ہوں لہٰذا مجھے ان ’’جوڑوں‘‘ کا درد ہے۔ گزشتہ روز میرے آفس میں ایک انتہائی بھاری بھر کم شخص تشریف لائے۔ ان کے ساتھ دو اسلحہ بردار گن مین بھی تھے۔ موصوف نے اپنا تعارف کراتے ہوئے بتایا کہ ان کا نام اصلاح الدین اصلاحی ہے۔ میں نے ازراہ مذاق ان کے نام پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا نام اصلاحی کی بجائے اسلحہ ہی ہونا چاہیے تو چہرے پر خوفناک مسکراہٹ سجاتے ہوئے کہنے لگے کہ اصلاحی کام اسلحہ ہی کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔ اپنا تفصیلی تعارف کراتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ وہ انجمن اصلاح معاشرہ کے مستقل صدر ہیں اور اصلاحی کاموں کے ساتھ ساتھ شاعری کا شغف بھی رکھتے ہیں حالانکہ اپنے حلیے سے وہ کسی طور پر بھی شاعر نظر نہیں آتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ معاشرے کی اصلاح کے ساتھ ساتھ اس معاشرے میں رہنے والی ان باذوق خواتین جو کہ شاعری کرتی ہیں ان کی بھی اصلاح کا فریضہ پوری تندہی سے سرانجام دینا اپنا فرض منصبی سمجھتا ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ ایک بار جو شاعرہ ان کے پاس اصلاح کے لئے آئی ہے اسے ساری زندگی دوبارہ اصلاح کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ باتوں باتوں میں انہوں نے اپنی اصلاحی سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ وہ خود سرکاری ملازم رہ چکے ہیں اور انہیں ناجائز طریقے سے رشوت لینے کے الزام میں ملازمت سے برطرف کر دیا گیا تھا لہٰذا اس دن سے انہوں نے عہد کر لیا تھا کہ وہ اب اصلاح معاشرہ بذریعہ اسلحہء معاشرہ شروع کریں گے۔ اس قسم کا کامیاب تجربہ کراچی میں ایک تنظیم کی جانب سے کیا جا چکا ہے اور اس کے نتائج سے پوری قوم اچھی طرح واقف ہے۔ اصلاحی کا کہنا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو زمین پر اپنا نائب بنا کر بھیجا لیکن اس نے آگے سے اپنا ’’نیب‘‘ بنا لیا۔ اسے شکوہ تھا کہ سرکاری سطح پر ہونے والا احتساب حقیقی معنوں میں ’’ایہہ تے صاب‘‘ ہی ہوتا ہے جس میں لوگوں کو ان کے صاحب ہونے کی رعایت سے احتساب کی منزلوں سے گزارا جاتا ہے اور پھر کلین چٹ دے دی جاتی ہے۔ بھاری بھر کم جثے کی وجہ سے وہ بار بار کھٹی ڈکاریں مارتے چلے جا رہے تھے اور کبھی کبھی ان کی ڈکاروں کی آوازوں سے لگتا تھا کہ وہ صرف ڈکار ہی نہیں مار رہے بلکہ کچھ کچھ اور بھی ہے۔ تاہم ان کے بیٹھے بیٹھے بجلی چلی گئی اور کمرے میں ناخوشگواریت پھیلنے لگی۔ میرے پاس اسی دوران حکیم ابن بے طوطا تشریف لے آئے۔ حکیم صاحب نے وہاں بیٹھنے سے پہلے ٹشو پیپر سے اپنی ناک کو کور کرتے ہوئے اصلاحی صاحب کی بابت مجھ سے دریافت کیا۔ میں نے عرض کیا کہ اصلاح الدین اصلاحی انجمن اصلاح معاشرہ کے صدر ہیں اور اپنی تنظیم کے لئے چندہ لینے آئے ہیں۔ حکیم صاحب نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اور اپنے بیگ میں ہاتھ ڈالا جیسے وہ کوئی بھاری بھر کم رقم ان کے حوالے کرنا چاہتے ہیں تاہم میری حیرت کی انتہا اس وقت نہ رہی جب وہ انہوں نے نوٹوں کی بجائے ہاضمے کی ایک پھکی کی بوتل انہیں پکڑاتے ہوئے کہا کہ حضور آپ کو فی الحال اصلاح معاشرہ کی بجائے اصلاح معدہ کی ضرورت ہے۔ جب اس مسئلے سے عہدہ برآء ہو لیں تو ضرور تشریف لائیں آپ کا دوسرا کام بھی ہو جائے گا۔ موصوف یہ سنتے ہی اپنے اسلحہ بردار ساتھیوں کے ہمراہ واپس تشریف لے گئے۔ ہم لوگ بھی معاشرے میں اپنی بدہضمی پر توجہ دیئے بغیر ماحول کو اسی طرح خراب کرتے چلے جاتے ہیں لیکن ہم یہی سمجھتے ہیں کہ ہم بھی اپنی اپنی سطح پر معاشرے میں اصلاح کی کاوشوں میں مصروف ہیں اور اس سے معاشرہ معطر ہوتا جا رہا ہے حالانکہ وہاں بدہضمی والی ناگوار بدبو ماحول میں پیدا ہوتی چلی جاتی ہے اور لوگ ہم سے دور رہنا شروع کر دیتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *