نیا نیب، پرانا ہیرا

پرانے زمانوں میں ہر خاندان میں ایک بزرگ ایسے ہوتے تھے جو ہر فن مولا ہوتے تھے۔ شعر بھی کہہ لیتے، کشتہ بھی گھر پر تیار کر لیتے تھے۔ علم الاعداد اور دست شناسی سے بھی شغف رکھتے تھے۔ شادی بیاہ کے مواقع پر کھانا پکانے والوں کی رہنمائی بھی کر دیتے تھے۔

ایسے بزرگ اب خال خال ہی نظر آتے ہیں لیکن بھلا ہو پاکستان کے ریٹائرڈ جنرلوں، ججوں اور بابوؤں کا جو پرانی روایتوں کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ وہ ایک عہدے سے ریٹائر ہوتے ہیں تو دوسرا پکڑ لیتے ہیں۔ دوسرے کی مدت پوری ہوتی ہے تو توسیع لے لیتے ہیں۔ کسی پیشگی تجربے یا کوالیفیکیشن کی بھی ضرورت نہیں، محکمہ کوئی بھی ہو چلے گا۔

جو کل تک ٹینک چلاتے تھے وہ اب یونیورسٹیاں چلاتے ہیں۔ جنھوں نے فائلوں پر نوٹ لکھتے ہوئے کبھی نہیں سوچا وہ پورے پورے تھنک ٹینک سنبھال کر بیٹھے ہیں۔ جن ججوں نے پی سی او پر خوشی خوشی حلف اٹھایا تھا وہ ہمیں ہمارے انسانی حقوق دلوانے کےلیے سرگرم ہیں، مسنگ پرسنز تلاش کر رہے ہیں اور کرپشن صفائی میں تن من دھن کے ساتھ لگے ہیں جیسے فوجی حکمرانوں کے دور میں بھل صفائی کا کام ہوتا تھا۔

ایسے ہی ایک انمول رتن ریٹائرڈ جسٹس جاوید اقبال صاحب ہیں۔ جی وہی نیب کے چیئرمین جن کی قومی غیرت ایک پولش لڑکی کو پاکستانی پرچم کے ساتھ رقص کرتے دیکھ کر جاگ گئی اور اب پوری قوم اس رقص کو بار بار دیکھ کر وطن سے اپنی محبت کا اعادہ کر رہی ہے۔

جھنڈے والی گوری کے وقوعے سے پہلے بھی جسٹس صاحب قوم کے دو بڑے مسئلے چٹکی بجاتے حل کر چکے ہیں۔ آپ نے کبھی کبھی مسنگ پرسنز کا واویلا سنا ہو گا، وہی روتی ہوئی بچیاں اور عورتیں جو اپنے پیاروں کی تصویر لیے پریس کلبوں اور عدالتوں کے باہر موجود ہوتی ہیں۔ حکومت نے سپریم کورٹ کے حکم پر ایک کمیشن بنایا اور اس کا چیئرمین جسٹس صاحب کو بنایا گیا۔

جب مسنگ پرسنز کا مسئلہ شروع ہوا تو ان کی تعداد سینکڑوں میں تھی اب ہزاروں میں ہے۔ جسٹس صاحب نہ صرف چیئرمین کے چیئرمین رہے بلکہ ساتھ ہی ساتھ نیب کے چیئرمین بھی بن گئے۔ باقی رہے مسنگ پرسنز تو جسٹس صاحب نے یہ کہہ کر مسئلہ ختم کر دیا کہ ان لوگوں کو ہماری ایجنسیوں نے نہیں اٹھایا بلکہ دشمن ملک کی ایجنسیوں نے اٹھایا ہوا ہے اور ویسے بھی مسنگ پرسنز میں سے 70 سے 80 فیصد تو دہشت گرد ہیں۔ اتنی فائیو سٹار منطق آپ نے کبھی سنی ہے۔ یعنی ہمارے دہشت گردوں کو را اور موساد اٹھا کر لے گئی۔ ایک دفعہ یہ بھی فرما دیا کہ چار ہزار بندہ تو جنرل مشرف نے اٹھوا کر دوسرے ملکوں کو دیا۔

جیسے ہمارے لاہوری بھائی کہتے ہیں یہ تو یس ہو گیا، مسنگ پرسنز کے معاملے میں ان کی شاندار کارکردگی دیکھ کر حکومت کو ایک دفعہ بھر ان کی ضرورت پڑ گئی۔ آپ کو یاد ہو گا کہ ایبٹ آباد میں ایک چھوٹا سا وقوعہ ہوا تھا۔ پوری دنیا اسامہ بن لادن کو ڈھونڈ رہی تھی اور وہ بمعہ اہل و عیال ایبٹ آباد میں نیم ریٹائرڈ قسم کی زندگی گزار رہا تھا۔ رات کے اندھیرے میں امریکی کمانڈو آئے، اسے ہلاک کیا اور لاش بھی ساتھ لے گئے۔

کی کی

حکومت اور فوج ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر یہ پوچھنے لگے کہ زیادہ بےعزتی کس کی ہوئی۔ سپہ سالار، جنرل کیانی اور خفیہ ادارے کے سربراہ پارلیمان کے بندہ کمرہ اجلاس میں پیش ہوئے۔ ٹینشن اتنی تھی کہ جنرل کیانی کے سگریٹ ختم ہو گئے اور انھیں ایک اہلکار سے مانگ کر سگریٹ پینا پڑا۔ فوجیوں اور سیاستدانوں نے بند دروازوں کے پیچھے ایک دوسرے کو تسلی دی کہ بےعزتی ہوئی تو ہے لیکن اتنی بھی نہیں۔ ایک کمیشن بنانے کا اعلان ہوا اور ظاہر ہے چیئرمین بنے جسٹس (ر) جاوید اقبال صاحب۔ ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے گھر کو مسمار کر دیا گیا تاکہ ہماری قومی بےعزتی کو کوئی ثبوت باقی نہ رہے اور وہ ایبٹ آباد کمیشن رپورٹ؟ وہ بھی اسامہ کے مکان کے ملبے میں دفن کر دی گئی۔

اب اتنے تاریخی کارناموں کے بعد حب حکومت اور اپوزیشن نے نیب کے چیئرمین کا انتخاب کرنا تھا تو دونوں کا اتفاق اسی بات پر ہوا ہو گا کہ ہمارے پاس ایک آزمایا ہوا ہیرا ہے نیا ڈھونڈنے کی کیا ضرورت ہے۔

نیب ایک طاقتور ادارہ ہے لیکن آپ نے نوٹ کیا ہو گا کہ ہر صبح خبر سپریم کورٹ کی چل رہی ہوتی ہے۔ ہر روز ایک نیا لطیفہ، ایک نئی جگت، ایک نیا خواب، کسی کے لیے نیا عذاب سپریم کورٹ سے اٹھتا ہے اور ہماری سکرینز پر چھا جاتا ہے۔ ہمارا میڈیا نیب کو خاص لفٹ ہی نہیں کروا رہا تو جسٹس صاحب نے سوچا ہو گا کہ کوئی ایسا کام کر جاؤ کہ امر ہو جاؤ۔

ایک خاص عمر کے بزرگ عبرت حاصل کرنے کے لیے انٹرنیٹ پر ناچتی لڑکیوں کی ویڈیوز دیکھتے ہیں اور کانوں کو ہاتھ لگاتے ہیں تو اسی ویڈیو میں تو وہ سب کچھ موجود تھا جس سے ہمارا خون گرم ہوتا ہے۔ گوری، وہ بھی ناچتی ہوئی گوری، پاکستان کا جھنڈا اٹھا کر ناچتی ہوئی گوری، پاکستان کا جھنڈا اٹھا کر قومی ایئرلائن کے طیارے میں ناچتی گوری۔ بس یہی موقع ہے ہو جائے کھڑاک۔ اب کوئی اٹھائے جھنڈا، اب کوئی لگائے ٹھمکا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *