پاکستان کے بارے میں جتنا سُنا تھا اس سے بہت مختلف اور خوبصورت پایا، ایوا بیانکا

حال ہی میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے طیارے میں 'کی کی چیلنج' کے ذریعے مشہور ہونے والی پولش سیاح ایوا بیانکا کا کہنا ہے کہ پاکستان کے بارے میں انہوں نے جتنا سن رکھا تھا، اس ملک کو اس سے بھی کئی زیادہ مختلف اور خوبصورت پایا ہے۔

ایوا بیانکا کا تعلق تو پولینڈ سے ہے، لیکن وہ لندن میں رہائش پذیر ہیں۔ وہ نیپال سمیت کئی ممالک کی سیر کر چکی ہیں اور اب گذشتہ 6 ہفتوں سے پاکستان میں موجود ہیں۔

حال ہی میں پی آئی اے کے جہاز میں ایوا بیانکا کی ’کی کی چیلنج‘ کے دوران پاکستان کا قومی پرچم لہراتے ہوئے رقص کی ویڈیو وائرل ہوئی، جس پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان آنے کی دعوت ان کی ایک پاکستانی دوست نے دی تھی، جس پر انہوں نے سوچا کہ پاکستان کے بارے میں بہت کچھ کہا جاتا ہے، کیوں نہ وہاں جایا جائے۔

یہ زندگی کا سب سے دلچسپ سفر ہے جس کی بہت سی وجوہات ہیں، ایوا بیانکا

ایوا نے بتایا کہ وہ دوسری مرتبہ پاکستان آئی ہیں اور یہ ان کی زندگی کا سب سے دلچسپ سفر ہے جس کی بہت سی وجوہات ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ 'میں نے آزادانہ طور پر پاکستان کے تمام مقامات کا سفر کیا، عام لوگوں سے ملی اور علاقائی ثقافت سے متعلق آگاہی حاصل کی'۔

ایوا بیانکا نے لندن کی آکسفورڈ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی، انہوں نے برطانوی پارلیمنٹ کے لیے بھی خدمات انجام دیں اور اس کے بعد وہ دنیا کے سفر پر نکل پڑیں۔

جب ان سے سوال کیا گیا کہ انہیں پاکستان اور یہاں کے عوام کے بارے میں کیا پسند آیا؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ 'مجھے پاکستان میں بہت سی چیزیں پسند آئی ہیں، یہاں کے مصالحے دار پکوان بہت پسند آئے، کراچی کی بریانی بہت مزیدار ہے، کڑاہی زبردست ہے، یہاں کی مٹھائیاں بہت میٹھی ہوتی ہیں لیکن پھر بھی مجھے بہت پسند ہیں اور یہی وجہ ہے کہ میں سوچ رہی ہوں کچھ دیر اور یہاں ٹھہر جاؤں'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'میں نے جب پاکستان کی سیاحت کے بارے میں بات کی تو مجھے بہت پذیرائی ملی، مجھے لگتا ہے کہ پاکستان میں سیاحت کو فروغ دینے کے بہت سے مواقع ہیں لیکن ان پر توجہ نہیں دی گئی ہے'۔

انہوں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں سیاحت پر بہت کام ہوسکتا ہے، خاص طور پر شمالی علاقہ جات بہت حسین ہیں، یہی وجہ ہے کہ میں یہاں رہنا چاہوں گی اور اس کے لیے کام کرنا پسند کروں گی۔

پاکستان کے جھنڈے کو لہراتے ہوئے رقص کرنا پاکستان کیلئے محبت کا اظہار تھا، ایوا بیانکا

گفتگو کے دوران جب ان سے پوچھا گیا کہ 'کی کی چیلنج' کا خیال انہیں کیوں آیا اور یہ انہوں نے کس جگہ کیا؟ تو ایوا نے جواب دیا کہ 'آج کل کوئی نہ کوئی ٹرینڈ چل رہا ہوتا ہے، اس وقت کی کی چیلنج گردش کر رہا ہے، اُن دنوں جشن آزادی کا دن بھی قریب تھا تو میں نے کراچی میں پاکستان سے محبت کا اظہار کرنے کے لیے پرچم لہرا کر رقص کیا'۔

ایوا کو پاکستان کی قومی زبان اردو بھی بہت پسند ہے اور وہ اسے سیکھنے کی کوشش بھی کرتی ہیں، انہوں نے بتایا کہ وہ ’میرا نام ایوا ہے‘ اور ’پاکستان زندہ باد‘ کا نعرہ سیکھ چکی ہیں۔

انٹرویو کے اختتام پر انہوں نے دنیا کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو موقع ملنا چاہیے، کیونکہ پاکستان توقعات سے زیادہ اچھا اور خوبصورت ملک ہے، دنیا بھر سے سیاحوں کو یہاں آنا چاہیے، یہاں کی سیر کریں اور پاکستان کو جانیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *