ایک ڈکٹیٹر کی موت

دبئی نیوز روم  میں کام کرنے والے ایک شخص کو جمعرات کی شام عجیب و غریب کالز آتی تھیں۔ اس دن سے ویک انڈ شروع ہوتا تھا  اور انٹرنیٹ سے قبل کی دنیا میں اس موقع پر لوگ اخباراات کو فون کر کے افواہیں پھیلانے کا کام کرتے تھے۔ لمبی کہانیوں کو فوری طور پر ہی مسترد کر دیا جاتا تھا ۔ مثال کے طور پر  ایک بار کسی شرابی گروپ نے مطلع کیا کہ ایک خلائی مخلوق الغود ایریا میں دیکھی گئی ہے  لیکن زیادہ تر افواہیں  صرف بڑے اور جانے پہچانے لوگوں کے ساتھ بد قسمتی  کے واقعات سے تعلق رکھتی تھیں۔ 1988 کے 17 اگست کا دن بدھ کا دن تھا۔ لیکن اس دن ایک ریاست کے سربراہ کی اچانک موت کی خبر  ایک ایسا معاملہ تھا جسے کسی طرح نظر اندداز نہیں کیا جا سکتا تھا۔ لیکن فون کالز مسلسل آ رہی تھیں  اور اس کے بعد ٹیلی پرنٹرز کی بیلز بھی مسلسل بجنا شروع ہو گئیں۔ میں نے کرسی سے اٹھ کر دیکھا تو   ضیا  کے جہاز کے لاپتہ ہونے کی خبر واضح نظر آ رہی تھی ۔ تھوڑی دیر بعد ہی خبر ملی کہ جہاز ہوا میں ہی تباہ ہو چکا ہے۔ یہ ایک معجزہ تھا۔ ایک دوست جو ہمیشہ کا دوست دکھائی دیتا تھا پاکستان سے اٹھا لیا گیا تھا۔  ملک کا مستقبل اگرچہ غیر یقینی کا شکار تھا لیکن بہت سے مواقع بھی کھل گئے تھے ۔ کچھ ماہ قبل ہی ضیا نے سویلین انتظامیہ کو برطرف کر دیا تھا  جس کا انہوں نے خود دو سال قبل تجربہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ 1977 میں حکومت پر قبضہ کرنے کے بعد جنرل ضیا نے 90 دن کے اندر انتخابات کا وعدہ تو کیا لیکن  کئی سال تک اس وعدے کو نبھانا تو دور، کسی بھی طرح کے انتقال اقتدار کی کوشش نہیں کی گئی۔ اس لحاظ سے اگست 1988  کے دن بھی صورتحال اتنی ہی بے یقینی کی تھی جتنی 1977 میں تھی جب پاکستان کی پہلی سویلین حکومت کو  برطرف کیا گیا اور پھر 2 سال بعد اس لیڈر کو پھانسی بھی دی گئی۔ اس میں شک نہیں کہ بھٹو نے بھی کچھ غلطیاں کی تھیں  لیکن اس واقع کی پوری ذمہ داری بھٹو پر ڈال  کر زیادتی کی گئی ہے۔

ان کی ایک غلطی مذہبی گروپوں کے سامنے ہتھیار ڈالنا تھا جب ابھی ان کے اقتدار کے اواخر کے سال کا آغاز ہوا تھا۔ یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ  ضیا نے تب حکومت پر قبضہ کیا جب بھٹو نے اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے سمجھوتہ کر لیا تھا  جس کا مقصد 1977 کے الیکشن رزلٹ پر جھگڑا ختم کرکے ملک میں ہونے والے احتجاج کو روکنا تھا۔ ضیا کا مارشل لا ملک میں پہلا مارشل لا نہیں تھا۔  لیکن جس طریقے سے یہ لگایا گیا وہ طریقہ نیا اور بھیانک تھا۔ اس دور میں پاکستان میں افغانستان سے ہیرون اور کلاشنکوف کے ساتھ مہاجرین آنا شروع ہوئے اور روس کے خلاف جنگ کے نام سے پاکستان نے امریکی جنگ لڑنے کا فیصلہ کیا۔

تین دہائیوں کے بعد بھی افغانستان اس جنگ سے نکل نہیں پایا   جب کہ پاکستان بھی اب تک مشکل حالات سے نجات حاصل کرنے میں ناکام رہا باوجود اس کے کہ روس کو افغانستان سے نکلنے پر مجبور کر دیا گیا تھا۔ اتفاق کی بات یہ ہے کہ وائس چیف آف آرمی سٹاف نے بہاولپور سے ایک مختلف طیارے پر واپس جانے  کا فیصلہ کیا تھا جب جنرل ضیا اور امریکی سفیر  پاکستانی ملٹری قیادت کے ساتھ بہاولپور میں ٹینک مشقوں کا معائنہ کیا۔ جنرل ضیا، اور آئی ایس آئی کے سربراہ جنہوں نے افغان جہاد کا آغاز کیا تھا دونوں اس تباہ ہونے والے طیارے میں واپس جا رہے تھے۔

1988 کے اس دن، ضیا ہم سے اچانک رخصت ہو گئے۔  حالات نے یہ ممکن بنایا کہ الیکشن کے ذریعے جمہوریت کی طرف واپسی کی جائے۔ اسلم بیگ نے بھی اسی فیصلے کا اشارہ دیا۔ ہمیں معلوم ہونا چاہیے تھا کہ اصل میں کیا ہونے کو ہے۔ ملکی سیاست  اور سوشل فیبرک  1958 سے ہی خاکی رنگ کے دھبوں سے بھرا پڑا تھا۔ 1977 میں اس کو ایک نیا  مذہبی رنگ تو  مل گیا لیکن یہ ایک انمٹ داغ بن گیا۔

کئی سال تک میاں نواز شریف اپنے فوجی رہنما کی قبر پر فاتحہ خوانی کے لیے باقاعدگی سے جاتے رہے اور فوج ان کی سرپرستی بھی  کرتی رہی  لیکن اصل کامیابی نواز شریف کو ضیا کا وارث بننے کے 2 سال بعد ملی۔ نواز شریف ملٹری درجہ بندی سے چقمہ کھا گئے اور اب قید میں سزا بھگت رہے ہیں جب کہ ایک کرکٹر جو ضیا کی درخواست پرٹیم میں واپس آیا تھا اس وقت ملک کی باگ ڈور سنبھالنے کی تیاری میں ہے۔

جس طرح 30 سال پہلے بے نظیر قوم کی امید تھیں اسی طرح وہ بھی قوم کی امید بن چکے ہیں۔ لیکن خاکی دھبہ ابھی مٹا نہیں ہے  اور یہ بھی معلوم نہیں کہ یہ کیسے دھویا جا سکے گا۔17 اگست 1988 کو جو آزادی کا احساس پیدا ہوا تھا وہ شاید دھوکہ دہی سے زیادہ کچھ نہ ہو۔  لیکن بہت سے لوگوں کے لیے یہ احساس باقی رہے گا ، ان کی یاد کا حصہ رہے گا اور جو ممکنات پیدا نہ ہو سکے ان کے وجود کی امید قائم رکھے گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *