ایہہ کمپنی.... اور خان صاحب کی مجبوری

”نیا پاکستان“ بنانے کے لئے وزیر اعظم عمران خان صاحب نے وزراءاور مشیروں کی جو ابتدائی کھیپ متعارف کروائی ہے ،اس کے بارے میں طبیعت کچھ لکھنے کو مائل ہی نہیںہورہی۔ ایک پنجابی لطیفہ کے سردار کی طرح فقط ”ایہہ کمپنی چلدی نظر نئی آندی“ کہنے پر اکتفا کرتا ہوں۔ اگرچہ دیانت داری کے ساتھ اعتراف یہ بھی کرنا ہوگا کہ پارلیمانی نظام کے اندر رہتے ہوئے انقلاب لانے کے لئے خان صاحب کی یہ مجبوری تھی کہ عام انتخابات میں واضح اکثریت حاصل نہ کرپانے کے سبب وہ مختلف الخیال سیاسی جماعتوں سے حمایت طلب کریں۔ حمایت کرنے والوں نے حصہ اپنے جثے سے کہیں زیادہ طلب کیا۔ اس ضمن میں سب سے خوش نصیب ایم کیو ایم رہی جس سے ”نجات“پانے کے لئے کراچی کے ووٹروں نے تحریک انصاف کو حالیہ انتخابات میں قومی اسمبلی کی 14نشستیں دے کر سیاسی مبصرین کو حیران کردیا تھا۔
دھیمے مزاج کے ساتھ ہر ایک سے بناکررکھنے والے خوش گفتار فروغ نسیم کو وزارتِ قانون ملی۔ خالد مقبول صدیقی کے حصے میں اس دور کی سب سے متحرک وہ وزارت آئی کہ تعلق جس کا سمارٹ فونز اور انٹرنیٹ کی جدید ترین دنیا سے ہے۔ دیگر وزراءکی اکثریت ایسے لوگوں پر مشتمل ہے جن کی ذہانت سے 2002کے بعد سے قائم ہوئی تقریباََ ہر حکومت معاونت طلب کرتی رہی۔ نواز شریف اس سے محروم رہے اور شاید اسی وجہ سے بالآخر اڈیالہ جیل ان کا مقدر ہوئی۔
وفاقی کابینہ کی ابتدائی قسط سے کہیں زیادہ مجھے سردار عثمان بزدار کی بطور وزیر اعلیٰ پنجاب نامزدگی نے پریشان کررکھا ہے۔1985سے اس ملک میں یہ بات طے ہوچکی ہے کہ اٹک سے رحیم یار خان تک پھیلے آبادی کے اعتبار سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں اپنا کلہ مضبوط کئے بغیر وفاق میں کوئی حکومت مستحکم نہیں رہ سکتی۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کو دوبار اس صوبے پر مو¿ثر کنٹرول قائم نہ کر پانے کی وجہ سے قبل از وقت اقتدار سے محروم ہونا پڑا تھا۔ 2008میں آصف علی زرداری کی لگائی گیم بھی پنجاب میں شہباز شریف کی متحرک موجودگی کی وجہ سے اپنا جلوہ نہ دکھاپائی۔
تخت لہور پر اگر شہباز شریف موجود نہ ہوتے تو شاید نواز شریف کا 2014کے دھرنے کے بعد ہی تختہ ہوجاتا۔ پانامہ پیپرز کی وجہ سے سپریم کورٹ کے ہاتھوں فارغ اور عوامی عہدے کے لئے تاحیات نااہل ہونے کے باوجود نواز شریف مگر شاہد خاقان عباسی کو وزیر اعظم نامزد کر پائے اور ان کی حکومت نے آئینی مدت مکمل کی تو بنیادی وجہ اس کی بھی شہباز شریف کا تخت لہور پر قابض رہنا تھا۔
میں چند ایسے بزرگوں سے خوب آشنا ہوں جو برسوں تلک چند اہم ترین ریاستی اداروں میں اہم اور حساس ترین فرائض سرانجام دینے کے بعد ان دنوں ریٹائرمنٹ کی زندگی گزاررہے ہیں۔ دُنیاوی اغراض سے بے نیاز ہوئے یہ بزرگ ان دنوں انتہائی خلوص سے عمران خان صاحب کو کامیاب بنانے کے نسخے سوچتے رہتے ہیں۔ میں انہیں تحریک انصاف کے ”تھنک ٹینک“ کا نام دیتا ہوں۔
خان صاحب کو یہ بزرگ واقعتا وہ مسیحا شمار کرتے ہیں جس کی ہماری قوم برسوں سے منتظر تھی۔ میں اکثر ان کی شفقت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ذاتی ملاقاتوں میں پھکڑپن سے کام چلاتا رہا ہوں۔ انہیں مگر عمران خان کی کامیابی کا یقین تھا اور 25جولائی 2018کی رات سے ان کی خوشی دیدنی تھی۔ ایک ہفتہ گزرجانے کے بعد مگر ان ہی بزرگوں کو میں نے بہت پریشان پایا۔
میرے ساتھ ہوئی کئی ملاقاتوں میں وہ پنجاب کے لئے کسی ایسے وزیر اعلیٰ کو ڈھونڈتے نظر آئے تعلق جس کا گوجرانوالہ اور ساہی وال کے درمیانی شہروں اور قصبات سے ہو۔ مختصراََ وسطی پنجاب۔ خان صاحب کے بزرگ ممدوحین اور بے غرض مداحین کا اصرار تھا کہ تحریک انصاف کا لگایا وزیر اعلیٰ کوئی پڑھا لکھا نوجوان ہو۔ کم از کم ایک بار صوبائی اسمبلی کا رکن بھی رہا ہو۔ لاہور میں وزارتِ اعلیٰ سنبھالنے کے بعد اتنا متحرک ہوجائے کہ لوگ چند ہی دنوں میں شہباز شریف کی ”آنیاں جانیاں“ بھول جائیں۔
مجھے ٹھوس معلومات کی بنیاد پر بخوبی علم ہے کہ مشفق بزرگوں کے اس گروپ نے بہت سوچ بچار کے بعد عمران خان صاحب کو مختلف ذرائع سے چند نام پہنچائے۔ یہ نام تحریک انصاف کی صفوں ہی میں سے میڈیا تک بھی پہنچ گئے۔اس جماعت میں پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ کے طلب گار افراد ہی نے مگر اپنے ممکنہ حریفوں کے بارے میں منفی معلومات جمع کیں اور یکے بعد دیگرے ان کے خلاف غیبت بھری کہانیوں کاطوفان اُٹھ کھڑا ہوا۔
بالآخر خان صاحب نے چودھری پرویز الٰہی کو پنجاب کا اسپیکر لگانے کا اعلان کرنے کے بعد برطانیہ سے آئے چودھری سرور کو گورنر پنجاب متعین کرنے کا اعلان کردیا۔ان تقرریوں نے ہم سب کو یہ طے کرنے پر مجبور کردیا کہ متوقع وزیر اعلیٰ کا تعلق جنوبی پنجاب سے ہوگا۔اس تناظر میں ٹھوس وجوہات کی بنیاد پر نگاہ حسنین دریشک ،مخدوم ہاشم بخت اور دوست محمد مزاری کی جانب اُٹھی لیکن خان صاحب نے بزدار کانام دے کر سب کو ششدر کردیا۔
بزدار صاحب کے بارے میں ہزاروں باتیں کہی جارہی ہیں۔ میں ان سب کو فروعی شمار کرتا ہوں۔ مجھے یہ معلوم کرنے میں بھی کوئی دلچسپی نہیں کہ بزدار صاحب کتنے غریب ہیں اور ان کے گاﺅں میں بجلی ہے یا نہیں۔
مجھے فکر صرف یہ لاحق ہے کہ بزدار صاحب اپنے Resumeاور رویے کی وجہ سے ”ڈنگ ٹپاﺅ“ نظر آرہے ہیں۔ بنی گالہ کے معاملات کی خبر رکھنے والوں کا اصرار ہے کہ درحقیقت وہ ایک کٹھ پتلی ہیں جن کی کمان جہانگیر ترین کے ہاتھ میں ہوگی۔فیصلے ترین صاحب کریں گے لیکن انگوٹھا اس پر بزدار صاحب کا لگے گا۔
امید یہ بھی باندھی جارہی ہے کہ آئندہ چند ہفتوں میں شاید پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالت ترین صاحب کے ”صادق وامین“ والے فیصلے پر نظر ثانی کرے گی۔ وہاں سے خیر کی خبر آگئی تو ترین صاحب کی ضمنی الیکشن کے ذریعے پنجاب اسمبلی کے لئے منتخب ہونے کے بعد پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ کا منصب باقاعدہ طورپر سنبھال لیں گے۔ میرا خبطی ذہن اس خوش گمانی کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہورہا۔ پاکستان میں اگرچہ ناممکن نظر آنے والے حالات بھی ممکن کی صورت اختیار کرتے رہے ہیں۔
جہانگیر خان ترین مگر پنجاب کے حوالے سے Soloکھیل ہی نہیں سکتے۔ بزدار صاحب کی موجودگی کا فوری فائدہ چودھری سرور اپنے ”انقلابی“ خیالات پر فوری عملدرآمد کروانے کی کاوشوں کے ذریعے اٹھائیں گے۔ ان کی پھرتیوں سے بظاہر بے نیاز چودھری پرویز الٰہی بڑے صبر کے ساتھ چودھری سرور اور ترین کے مابین بڑھتی بدگمانیوں پر دل ہی دل میں مسکرائیں گے اور اپنے خیرخواہوں کو اچھے وقت کے انتظار کی تلقین۔ اس سارے قضیے کے دوران مخدوم شاہ محمود قریشی کے دل پر جو گزررہی ہوگی اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ اپنا ”مخدومی“ ہاتھ مگر وہ دکھا کر رہیں گے۔ بزدار صاحب کا وزارتِ اعلیٰ کے دفتر میں قیام چند روزہ ہے۔ ان کا وقت سے پہلے پوسٹ مارٹم میں وقت ضائع کرنے کی ضرورت نہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *