ایران میں جنازے کو مرسڈیز کے ذریعے آخری سفر کروانے کی رسم

تہران دنیا کے سب سے بڑے قبرستان 'زہرہ  کی جنت' والا شہر ہے ۔ یہ قبرستان شہر کے شمالی میدانی علاقے میں آباد  ہے اور اس کا نام ایک مذہبی  شیعہ خاتون کے نام پر رکھا گیا ہے۔  اس قبرستان میں 17 لاکھ سے زیادہ قبریں موجود ہیں ۔ انہی میں سے ایک قبر عامر اشرف درخشانی کی بھی ہے جو میرے سابقہ ہمسایہ تھے۔ تہران کی ہر کمیونٹی کا کوئی نہ کوئی بڑا شخص ہوتا ہے  اور ہمارے ہمسایہ میں یہ شخص درخشانی ہی تھے  جو کہ ایک انجینئر تھے اور امریکہ سے تربیت یافتہ تھے۔ ہر شام  وہ میری بلڈنگ میں آتے جو کہ ویسٹ تہران میں واقع تھی۔ افواہوں کے مطابق ان کی عمر 106 سال تھی۔ ایسا لگتا نہیں تھا لیکن ہم اس بات پر یقین کرتے تھے۔  لوگ رک کر ان کو سلام کیا کرتے تھے۔ جواب میں انہیں درخشانی کی شاندار مسکراہٹ دیکھنے کو ملتی۔ میں اس بلڈنگ میں واحد غیر ملکی تھا اس لیے وہ مجھ سے فرانسیسی میں بات کرتے تھے  ۔ یہ زبان انہوں نے کئی دہائیاں پہلے سیکھی تھی۔ لیکن کچھ دن قبل مجھے ایک خبر ملی کہ درخشانی  صاحب انتقال کر گئے ہیں۔ ہمارے لیے ان کے نماز جنازہ کی دو تقریبات ایک رسمی اور ایک غیر رسمی  ، بہت اہم مواقع تھے جنہیں بھولنا آسان نہ ہو گا۔  زیادہ تر لوگ ایک عام طریقہ کار کے مطابق اپنے پیاروں کی تدفین کرتے ہیں۔ جب ڈاکٹر کسی شخص کو مردہ قرار دے دیتے ہیں اور گھر والے مرحوم کو خدا حافظ کہہ دیتے ہیں  ایک سلور کلر کی مرسڈیز  بینز  کی طرح کی سٹیشن ویگن مرحوم کے گھر پہنچائی جاتی ہے۔ 10 سال قبل جب قبرستان انتظامیہ نے ایک درجن کے قریب جرمن کاریں خریدی  تو لوگ مذاق سے کہا کرتے تھے کہ وہ کم از کم ایک بار تو بینز پر سواری کر سکتے ہیں۔ جب ایران پر پابندیاں لگائی گئیں تو ان گاڑیوں کے سپئر پارٹس ملنا مشکل ہو گئے  اس لیے اب رینالٹ نامی گاڑیوں کی ایک فلیٹ  بھی اس مقصد کے لیے مختص کر دی گئی ہے۔ لیکن ان کا رنگ سلور ہے اور جرمن کاروں کی طرح ان کی چھتوں پر بھی لال گھومنے والی بتیاں لگائی گئی ہیں  جن کا مقصد رش والی سڑکوں سے جلدی سے گزرنے کے لیے عوام کو خبردار کرنا ہے۔

ایران میں جب کسی کی موت ہوتی ہے تو افراتفری اور جلد بازی کا ماحول پیدا ہو جاتا ہے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق مردے کو جلد از جلد دفنانے کی کوشش کی جاتی ہے  اور کوشش ہوتی ہے کہ 24 گھنٹے کے اندر یہ فریضہ پورا کر لیا جائے۔

درخشانی کی موت کے دن ان کے قریبی لوگ زہرہ پیراڈائز نامی قبرستان کے ایک ریسپشن ہال میں جمع ہوئے  تا کہ آخری رسومات کا آغاز کیا جا سکے۔ اس ہال کو 'اوریجیان' کانام دیا گیا ہے جس کا مطلب ہے خدا کا نائب۔ چونکہ اس قبرستان میں روزانہ 150 کے قریب لوگ دفن ہوتے ہیں اس لیے یہ ہال ہر وقت سوگواران سے بھرا نظر آتا ہے  اور سب لوگ کالے کپڑوں میں ملبوس ہوتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے یہ کوئی ائیر پورٹ ٹرمینل ہو  ۔ یہاں مختلف کمرون کے باہر لوگ انتظار کر رہے ہوہتے ہیں کہ انہیں اپنے مرحوم عزیز کے غسل و کفن کی سہولیات فراہم کی جائیں۔ ایک دہائی قبل  یہ رسومات سب کے سامنے ہی مکمل کی جاتی تھیں ۔ ایک ایسے کمرے میں غسل دیا جا سکتا تھا جس کے باہر لوگ شیشہ سے جھانک کر دیکھ سکتے تھے۔  میں اپنی بیوی کے دادا کے غسل کا واقعہ نہیں بھول سکتا۔

آج کل  مرحوم کو پرائیویٹ روم میں غسل دیا جاتا ہے  اور صرف فیملی ممبرز ہی اس کمرے میں داخل ہوتے ہیں ۔ ایران میں کسی کو غسل دینے والا کہنا بے عزتی کی علامت سمجھا جاتا ہے  لیکن بہت سے لوگ یہ جاب کر رہے ہیں اور کافی عرصہ تک یہ جاب کرتے ہیں۔

جب درخشانی کو ان کے کمرہ  سے باہر لایا گیا تو ان کے جسم کو ایک سفید کپڑے میں ڈھانپا گیا تھا ۔ ان کے چہرے کو بھی مکمل طو رپر ڈھانپا گیا اور انہیں ایک سٹریچر پر ڈال دیا گیا۔ سوگواران نے جنازہ کندھوں پر اٹھایا اور  کلمہ طیبہ پڑھتے ہوئے روانہ ہوئے۔ ساتھ ہی دوسرے افسوس کرنے والے لوگ بھی ایک بڑی لائن میں چل دیے۔ ہال کے اندر دوسرے کئی خاندان بھی اپنے مرحوم رشتہ داروں کی آخری رسومات اد اکر رہے تھے۔

درخشانی کی لاش کو زمین پر  پتھر کے ایک بڑے ستون کے پاس رکھا گیا جہاں ہر پتھر پر ایک مائیکروفون فٹ کیا گیا تھا۔  ایک شیعہ عالم کہیں سے ظاہر ہوئے ، مائیکروفون کو ستون میں  ایک سپیکر کے ساتھ جوڑا اور آخری رسومات کےلیے  کچھ کلمات ادا کرنے گے۔ اس کے بعد سٹریچر کو ایک گاڑی کی طرف لایا گیا جو کہ قبرستان انتظامیہ کی ملکیت تھی۔ ۔یہ گاڑی قبروں کی طرف چل پڑی اور ہم بھی ساتھ ہو لیے۔ دفنانے والی جگہ پر کچھ کرسیاں رکھوائی گئی تھیں ۔ بوڑھے لوگوں کو ان کرسیوں پر بٹھا دیا گیا  اور پھر درخشانی کی لاش کو کپڑے میں لپٹے ہوئے ہی لحد میں اتار دیا گیا۔

بہت سے نوحہ خوان قبرستان میں گھوم رہے ہوتے ہیں اور ایک شخص اپنے لاوڈ سپیکر کے ذریعے کچھ دعائیں پڑھتا نظر آتا ہے۔ قبرپر 5 سیدھے پتھر پھیلائے گئے  جو اگلے چند ہفتے وہیں موجود رہیں گے  جب تک فیملی کی طرف سے آرڈر کیا گیا ماربل سلیب قبر پر نصب نہین کیا جاتا۔ یہ ایک رسمی نماز جنازہ تھا۔ ایران میں عوام  کو پبلک سے لمبا عرصہ تک خطاب کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی  کیونکہ ایسے واقعات سیاسی صورتحال میں بدل سکتے ہیں  اور دوسرے مذاہب اور فرقوں کے لیے تکلیف کا باعث بن سکتے ہیں۔ لیکن ابھی ایک غیر رسمی  عمل بھی باقی تھا۔

دو دن بعد مسٹر درخشانی کے خاندان نے ایک تقریب کا انعقاد کیا  جس میں دور کے دوستوں اور ہمسائیوں کو مدعو کیا گیا۔ ہر کوئی جب تقریب میں پہنچ گیا تو بچوں نے بھی احتراما اپنے آئی فون کی ٹیونز بند کر دیں۔ سب لوگ جب بیٹھ گئے تو ایک سنگر نے دف  یعنی ایک خاص ایرانی ڈھول اور فلیوٹ کی تھاپ کی آواز کے ساتھ گانا گیا۔  اس نے جو گانا گایا اسے ایران میں مرغ سحر کے نام سے جانا جاتا ہے جس کے ابتدائی الفاظ کچھ ہوں ہیں : اے بلبل ، نوحہ کر اور میرے غم کو تازہ کر۔

اگرچہ قبرستان کے آس پاس تقاریر کو پسند نہیں کیا جاتا لیکن  کسی کی یاد میں تقریر کی اجازت ہے اور اس کی ترغیب بھی دی جاتی ہے۔ رضا اصغرپور نامی ایک شخص نے بتایا کہ مسٹر درخشانی نے بلڈنگ کے باہر موجود سوئمنگ پول کے لیے رقم ادھار لی تھی کیونکہ درخشانی کو سوئمنگ کا بہت شوق تھا۔۔ یہ پول اب بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ انہیں درخشانی کی سب سے پسندیدہ چیز ان کی پرسکون حالت محسوس ہوئی۔ انہوں نے بتایا: جب عراق کے ساتھ جنگ میں تہران پر میزائل برس رہے تھے  تب بھی درخشانی اس خاص مشق کے ذریعے اپنے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیلائے رکھتے تھے۔ تبھی اصغرپور رونے لگے اور بولے: اپنے ہمسائے کے بارے میں ہم اتنا ہی جانتے ہیں  اس کی جگہ ہمیشہ خالی رہے گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *