عظمت اور مزاحمت کی وراثت کی علامت

مرتضیٰ سولنگی
بیگم کلثوم نواز کی کینسر سے لڑائی کا   اچانک منگل کے دن  اختتام ہوا اور وہ لندن کے ایک ہسپتال میں  وفات پاگئیں۔ ان کی اچانک موت کے باعث شریف خاندان کی عزت اور بڑھ گئی۔ آج ان کے گھر جاتی عمرہ میں ان کے  جنازے پر موجود لوگوں کے ساتھ ان کی یادیں ہمیشہ  رہیں گی۔  بلکہ وہ لوگ  جنہوں نے ان کے ساتھ بہت سی شاندار  دہائیاں گزاریں وہ ان کی یادوں کو ہمیشہ تازہ رکھیں گے۔

جاوید ہاشمی،  ان کے یونیورسٹی کے دنوں کے اچھے دوست اور  ساتھی تھےاور انہوں نے بتایا کہ بیگم کلثوم نواز  کا ادب کی طرف بہت رجحان تھا۔ " وہ ہماری تقاریر کو درست کیا کرتی تھیں،" ہاشمی کو  ان کے پاکستان مسلم لیگ نواز کی صدارت کے دن یاد کرتے ہوئے یاد آیا کہ " وہ اپنے شوہر کی بھی تقاریر درست کیا کرتی تھیں۔"

اس بات کی تصدیق پرویز  رشید نے بھی کی  جو  سینئر PML-N  لیڈر اور نواز شریف کے  قابل اعتماد ساتھی بھی ہیں۔ انہوں نے کہا  " حیرانگی  ہوا کرتی تھی  جب کبھی بھی نواز شریف نے ریلیوں اور میڈیا کے ساتھ گفتگو کے دوران غالب کے شعر  بولے۔کیوں کہ غالب پر  پی ایچ ڈی تو بیگم کلثوم نے  کی تھی اور وہ مسلسل اپنے شوہر کو بھی اس کی تعلیم دے رہیں تھیں" ۔

جاوید ہاشمی  نے یاد تازہ کرتے ہوئے بتایا کہ بیگم کلثوم ایک متحرک رہنما کے طور پر اس وقت سامنے آئیں جب 1999 میں جنرل پرویز مشرف نے ن لیگ کی حکومت کا تختہ الٹ دیا۔

" انہوں نے اعلان کیا کہ وہ ریلی   اپنے گھر سے لے کر چلیں گی جس پر ناقہ بندی کی گئی تھی۔ "  وہ گھر سے تہمینہ دولتانہ کے ساتھ  باہر نکلنے  میں کامیاب ہو گئیں جبکہ پنجاب  پولیس  کو ان کا پیچھا کرنا پڑا۔ بلآخر   وہ کینال روڈ پر رک گئیں۔  وہ سب انہیں گاڑی سے نکال نہیں سکتے تھے کیوں کہ ان کی گاڑی کرین پر لٹک رہی تھی۔  یہ سارا ڈرامہ دس گھنٹوں تک چلا ۔ ان کی ہمت ، جرات اور مزاحمت  کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب مشرف نے ڈیل کے بعد نواز فیملی کو جلاوطنی پر مجبور کیا تو اس نے خود یہ یقینی بنایا کہ جہاز پر کلثوم نواز بھی موجود ہیں اور وہ شریف خاندان کے ساتھ ملک سے جا رہی ہیں۔

جاوید ہاشمی نے کہا کہ 1999 میں مشرف  کی بغاوت کے بعد  وہ اور پارٹی کے دوسرے سینئر لیڈرنواز  شریف کے پاس ایازت لینے گئے کہ وہ بیگم کلثوم کو پارٹی کی صدرات کرنے  دیں۔ "  ہم جانتے ہیں کہ خاتون کی مزاہمت ہمیشہ لوگوں کی سوچ کو متوجہ کرتی ہے۔ ہم نے فاطمہ جناح ، بیگم نصرت بھٹو اور بینظیر بھٹو    کے تجربے سے یہ  بات سیکھی ہے۔  ان کی مداخلت سے سب کچھ بہت تیزی سے بدلنے لگا  اور وہ بہت سے بڑے سیاستدانوں جن میں مخالفین بھی شامل تھے کو اپنی پارٹی میں کھینچ لانے میں کامیاب ہوئیں۔ اس کے بعد جمہوریت کی بحالی کے لیے ایک اتحاد وجود میں آیا۔

جس دن  ان کی موت واقع ہوئی اسی دن میڈیا پر  نواز اور مریم کی ایک ویڈیو سامنے آئی ۔ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ نواز شریف اپنے ہاتھ سے کلثوم نواز کو ہلا کر ہوش میں لانے کی کوشش کرتے ہوئے انہیں آواز دیتے ہیں اور کہتے  ہیں، کلثوم، باو جی۔ لیکن یہ باو جی کون ہے ؟

باؤجی وہ نام ہے جس سے  وہ اپنے شوہر کو پیار سے بلایا کرتی تھیں ۔  پنجاب میں ایک اچھے لباس میں ملبوس شخص کو باو جی کہا جا تا تھا۔ چونکہ نواز ہمیشہ بہترین لباس پہنتے تھے اس لیے کلثوم انہیں باو جی کہتی تھیں۔   ڈاکٹروں نے بتایا تھا کہ  ان کے پسندیدہ ناموں اور الفاظ کا ذکر کر کے انہیں ہوش میں لانا ممکن ہو سکتا ہے۔ اس لئے وہ  پاکستان آ کر گرفتار ہونے سے پہلے ایسے الفاظ سے انہیں ہوش میں لانے کی کوشش کر رہے تھے۔

رشید نے کہا" بیگم کلثوم کو سفر کرنا بہت پسند تھا  ایک بار انہوں نے  یورپ کی زمینی سیر کی اور وہ اس سیر کے بارے میں بہت  دلچسپی سے گفتگو کیا کرتی تھیں۔ "

نواز  جوڑے کی محبت  افسانوی تھی۔  NA-120  میں 2017 کے الیکشن میں  جب نوازشریف  نا اہل ہوئے تب   بیگم  کلثوم نواز کا نام   انتخابات کے لیے چنا گیا۔ انہوں نے اپنے بستر مرگ پر الیکشن جیتا جو ان کی  اکلوتی سیاستدان  بیٹی مریم نواز کی نگرانی  میں لڑا گیا۔

مریم نے ایک بارپرویز راشد کو بتایا۔" میں نے انہیں ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑے  گھنٹوں شائستگی سے بات کرتے دیکھا ہے جیسے وہ اب بھی اپنے ہنی مون کے اوقات گزار رہے ہوں۔ یہ بہت اعلی بات ہے!"

سینئر صحافی نصرت جاوید نے بتایاکہ کلثوم نواز ادب اور اخبارات کا مطالعہ کرنے والی ہستی تھیں ۔" وہ اخبار پڑھتیں اور اس میں سے اہم پیراگرف پر  نشان لگاتیں اور نواز کو پڑھنے کا کہتیں۔ اور یہ عادت انہیں اپنے والد ڈاکٹر حفیظ سے ملی جو تقسیم پنجاب سے پہلے کے پنجاب کے کچھ ڈاکٹروں میں سے ایک مسلمان ڈاکٹر تھے اور اندرون شہر مصری شاہ میں رہتے تھے،"

مستنسر جاوید جو ایک اور صحافی ہیں کہنے لگے کہ ، ان کی سیاست میں شمولیت ایک معتبر ہوا کی طرح تھی۔" وہ کبھی اونچا نہ بولتں اور ان کا ہر لفظ نپا تلاا ہوتا تھا۔"

 PML-N سینیٹر مشاہداللہ نے اس بات کی تصدیق کی   اور کہا:" اگر انہوں نے بولنا ہوتا تو وہ شاعری کا سہارہ لیتیں" اور خود بھی وہ شاعری سے محبت رکھتے ہیں۔

لیکن خاندان کی دیکھ بھال اور بچوں کی تربیت کیسے ممکن ہوئی یہ سوال بار بار ان سے کیا گیا۔ بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ بچوں کی تربیت از خود انہوں نے کی اور پرویز رشید کا کہنا ہے کہ ؛"دونوں والدین نے مل کر بچوں کو قابل بنایا۔ بیگم نواز نے بچوں کو آذادانہ ماحول مہیا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ "

رشید نے بتایا: 1990 کی بغاوت کے صدمہ کے بعد حسن اور حسین واپس پاکستان نہیں جانا چاہتے تھے ۔ دونوں بھائی ملک سے باہر رہ کر بزنس کرنا چاہتے تھے۔ اسی وجہ سے حسن نے اپنے دادا میاں شریف کو کہا کہ وہ  ان کو وراثت کا حصہ دے دیں ۔ یہی ہوا تھا۔ پاکستان میں جو وراثت کا مال تھا وہ ان کے کزنوں کو ملا  کیونکہ انہوں نے اسی ملک میں رہنے کا فیصلہ کیا تھا۔ رشید مزید بتاتے ہیں:حسن اور حسین سیاست میں قدم نہیں رکھنا چاہتے تھے ۔ مریم سیاست میں آنا چاہتی تھیں۔ بیگم شاہدہ نے کہا: تم جو چاہو کر سکتے ہو۔ انہوں نے بچوں پر اپنی مرضی تھونپنے کی کوشش نہیں کی۔  ان کا کہنا تھا کہ مریم کی سوشل میڈیا پر کامیابی انجینئرڈ نہیں تھی۔ جب 2013 میں ن لیگ کی حکومت آئی  تو پارٹی کو معلوم نہیں تھا کہ اس میڈیا کو کس طرح استعمال کیا جائے۔ مریم نے سوشل میڈیا میں قدم رکھا اور تیزی سے شہرت پائی ۔ اس کے لیے کوئی پلاننگ نہین کی گئی تھی۔

سینیٹر مشاہد حسین جو بیگم کلثوم نواز کے پرانے ساتھی تھے نے ٹویٹ میں لکھا: پاکستان کی خواتین اول میں کلثوم نواز ایک خاص مقام رکھتی ہیں۔ وہ بہت تعلیم یافتہ تھیں اور اردو لٹریچر میں ماسٹر ڈگری ہولڈر تھیں، ایک بہادر ڈیموکریٹ تھیں، پارلیمان کی منتخب ممبر رہ چکی تھیں ، بہت عاجزانہ طبیعت کی مالک تھیں ۔ وہ ہیمنگ واے کی ہمت، دباو میں جرات،  کی تعریف پر پوری اترتی تھیں چاہے کہ ان کی سیاسی زندگی ہو یا ذاتی ۔

 دی فرائیڈے ٹائمز سے بات کرتے ہوئے ن لیگی سینیٹر کا کہنا تھا کہ بیگم کلثوم نواز اور اردو لٹریچر کی ماہر قر ت العین حید ر کے درمیان ایک میٹنگ میں انہوں نے بیگم کلثوم نواز کو کہتے سنا: میں آپ کی بہت بڑی فین ہوں   اور خاص طور پر مجھے آپ کی کتاب 'آگ کا دریا" بہت پسند ہے۔کلثوم کی طرح اعتماد سے وہی گفتگو کر سکتا تھا جس نے یہ کتاب پڑھی ہو ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *