گاندھی کے سیکس کے بارے میں خیالات کیا تھے؟

دسمبر 1935 میں امریکہ سے تعلق رکھنے والی بہبود آبادی کی کارکن اور سیکس ایجوکیٹر مارگریٹ سانگر نے انڈیا کی تحریک آزادی کے ہیرو مہاتما گاندھی سے ملاقات کی اور اس کے ساتھ سیرحاصل گفتگو کی۔

سانگر انڈیا کی 18 شہروں کے دورے پر تھیں اور وہ ڈاکٹروں اور سماجی کارکنوں کو برتھ کنٹرول اور خواتین کی آزادی کے بارے میں بتا رہی تھیں۔

ان کی گاندھی سے مہاراشٹر میں ان کے آشرم میں ملاقات کا حوال مورخ رام چندرگوہا کی گاندھی کی نئی سرگزشت میں بیان کیا گیا ہے۔

دنیا بھر سے 60 مختلف ذرائع سے حاصل کی گئی معلومات، جو اس سے قبل منظرعام پر نہیں لائی گئے، پر مشتمل 1129 صفحات کی اس کتاب میں گاندھی کے سنہ 1915 میں جنوبی افریقہ سے واپسی سے لے کر سنہ 1948 میں قتل تک کا احوال ڈرامائی انداز میں بیان کیا گیا ہے۔

اس سرگزشت میں گاندھی کے خواتین کے حقوق، سیکس اور کنوارپن کے بارے میں نظریات کی جھلک ملتی ہے۔

سانگر
مارگریٹ سانگر

ان کے آشرم میں گاندھی کے سیکریٹری مہادیو ڈیسائی نے دونوں کے درمیان ہونے والی بات چیت کے وافر نکات لکھے تھے۔

انھوں نے لکھا: 'دونوں نے اتفاق کیا کہ خواتین کو برابر کے حقوق ملنے چاہیئں اور ایک خاتون کو اپنی قسمت کا فیصلہ خود کرنا چاہیے۔'

لیکن دونوں کے درمیان جلد ہی اختلافات سامنے آئے۔

ماگریٹ سانگر نے سنہ 1916 میں نیویارک میں امریکہ کا پہلا بہبود آبادی مرکز کھولا تھا اور ان کا خیال تھا کہ مانع حمل کی دوا یا گولیاں آزادی کی جانب محفوظ ترین راستہ ہے۔

گاندھی نے اس پر اعتراض کیا اور کہا کہ خواتین کو اپنے شوہروں کے سامنے مزاحمت کرنا چاہیے جبکہ مردوں کو اپنے 'جانوروں والا جنون' قابو میں رکھانا چاہیے۔ انھوں نے اپنی مہمان کو بتایا کہ سیکس صرف بچوں کی پیدائش کے لیے کرنا چاہیے۔

گاندھی
گاندھی کی عدم تشدد کی تحریک میں خواتین بھی شامل تھیں

انھوں نے گاندھی کو بتایا کہ خواتین کے بھی شدید احساسات ہوتے ہیں اور یہ مردوں کی طرح ہوتے ہیں۔ ایسا وقت بھی ہوتا ہے کہ بیویاں اپنے شوہروں کی طرح شدید جسمانی تعلق چاہتی ہیں۔

انھوں نے پوچھا کہ 'آپ کیا سمجھتے ہیں کہ کیا یہ ممکن ہے کہ دو افراد جو پیار کرتے ہیں، جو آپس میں خوش ہیں، وہ سیکس کا عمل دو سال میں ایک بار کے لیے محدود کر دیں کہ یہ تعلق صرف اسی وقت قائم کیا جائے جو وہ بچہ چاہتے ہوں؟'

انھوں نے زور دیا کہ اس موقع مانع حمل کام آتی ہے، اور خواتین کو غیرضروری حمل سے روکتی ہیں اور اپنے جسم پر کنٹرول رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔

اس کے جواب میں گاندھی اپنے موقف پر قائم رہے۔

انھوں نے سانگر کو بتایا کہ وہ سیکس کو 'ہوس' سمجھتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ان کی اپنی شادی اور اپنی بیوی کستربا کے ساتھ تعلقات 'روحانی' بن گئے تھے جب انھوں نے 'جسمانی تسکین کی زندگی کو الوداع' کہہ دیا تھا۔

گاندھی نے 13 برس کی عمر میں شادی کی تھی اور 38 سال کی عمر میں چار بچوں کا باپ بننے کے بعد انھوں نے برہمچاری کے لیے وقف کر دی تھی۔

اس کام میں وہ جین شنکراچاری رائے چند بھائی اور روسی مصنف لیو ٹالسٹائی سے متاثر تھے، جنھوں نے اپنے آخری زندگی میں ایسا ہی کیا تھا۔

اپنی خود نوشت میں گاندھی نے لکھا تھا کہ انھیں اس سوچ سے کتنا پچھتاوا تھا کہ جب ان کے والد کا انتقال ہوا اس وقت وہ اپنی بیوی کے ساتھ سیکس کر رہے تھے۔

مارگریٹ سانگر سے گفتگو کے اختتام پر گاندھی کچھ پگھل گئے تھے۔

انھوں نے کہا تھا کہ وہ 'مرد کے لیے رضا کارارانہ نس بندی کے حق میں ہیں کیونکہ وہ جارح ہوتا ہے'، اور مانع حمل کے بجائے جوڑے ماہواری کے چکر میں 'محفوظ وقت' میں سیکس کر سکتے ہیں۔

گاندھی
سشیلا بین (بائیں) اور شیلا نیئر گاندپی کی قریبی ساتھی تھیں

مارگریٹ سانگر قائل نہ کر سکیں۔ بعد ازاں انھوں نے گاندھی کے 'آوارگی کے خوف اور حد سے زیادہ نفس کشی' کے بارے میں لکھا تھا۔ وہ اپنی مہم کو ان کی جانب سے حوصلہ افزائی نہ ملنے پر مایوس تھیں۔

ایسا پہلی بار نہیں تھا کہ گاندھی نے مصنوعی طریقے سے برتھ کنٹرول کے بارے میں کھل کر بات کی تھی۔

سنہ 1934 میں انڈیا کی خواتین کی حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک کارکن نے ان سے پوچھا تھا کہ کیا 'اپنے آپ پر کنٹرول' کے بعد مانع حمل کا استعمال بہترین ہے۔

گاندھی کا جواب تھا کہ آپ کے خیال میں جسم کی آزادی 'مانع حمل کے استعمال سے حاصل کیا جا سکتا ہے؟ اگر مغرب کی طرح مانع حمل سے رجوع کیا جائے تو اس کے خوفناک نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ مرد اور خواتین صرف سیکس کے لیے ساتھ رہیں گے۔ وہ نرم دماغ والے، گندے اور ذہنی اور اخلاقی پستی کا شکار ہوں گے۔'

رام چندر گوہا نے گاندھی کے بارے میں کتاب 'گاندھی: دی ایئرز دیٹ چینجڈ دی ورلڈ، 1914-1948' میں لکھا ہے کہ 'گاندھی کے لیے، سیکس صرف ہوس ہے، سیکس تولید کے ضروری ہے۔ برتھ کنٹرول کے جدید طریقے قانونی ہوس ہیں۔ بہتر ہے کہ خواتین مردوں سے مزاحمت کریں، اور مرد اپنے حیوانی جذبات پر قابو رکھیں۔'

گاندھی
گاندھی نے 13 برس کی عمر کی شادی کی تھی

بہت برسوں بعد ریاست بنگال کے نوکھلی ضلع میں آزادی کی شام ہندو مسلم فسادات پھوٹ پڑے، اس موقع پر گاندھی نے ایک متنازع تجربہ کیا۔ ان کے اپنی پوتی اور مرید منو گاندھی کو اپنے ساتھ بستر پر سونے کا کہا۔

گوہا لکھتے ہیں کہ وہ اپنی 'جنسی خواہش' کا امتحان لینا چاہتے تھے۔

بہرحال، مصنف کے مطابق، گاندھی نے محسوس کیا کہ 'مذہبی تشدد میں اضافہ ان کے اپنے کامل برہمچاری بننے میں ناکامی سے منسلک ہے۔' گاندھی نے تمام عمر مذہبی ہم آہنگی کا درس دیا اور برطانیہ سے آزادی کی راہ میں ہندو مسلم فسادات سے انھیں دھچکا لگا تھا۔

گاندھی نے جب اپنے 'تجربے' کے بارے میں اپنے رفقا کو بتایا تو انھوں نے اس کی مخالفت کی کہ ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ ایک دوست نے کہا کہ یہ 'مبہم اور ناقابل دفاع' عمل ہے۔ ایک اور احتجاجاً گاندھی کے ساتھ کام کرنا چھوڑ دیا۔

اس وقت تک گاندھی کو برہمچاری بنے ہوئے تقریباً 40 سال ہوچکے تھے۔ 'اب اپنی زندگی کی آخر میں، ان کا متحدہ انڈیا کا خواب زیرہ ریزہ ہوگیا تھا، گاندھی معاشرے کے ادھورے پن کو معاشرے کے سب سے بااثر رہنما یعنی اپنے ادھورے پن سے منسوب کر رہے تھے۔'

گاندھی کے ایک مداح اور قریبی ساتھی نے بعدازاں ایک دوست کو لکھا تھا کہ ان کے رہنما کی تحریروں سے انھیں معلوم ہوا ہے کہ وہ 'ایک سخت اور شدید نوعیت کے ضبط نفس پیش کرتے ہیں جو عام طور پر ہم قرون وسطیٰ کے مسیحیوں یا جین سادھوؤں کے ساتھ منسوب کرتے ہیں۔'

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *