نفرت کا زہر اور کلثوم نواز

شریف خاندان بیگم کلثوم نواز کی موت کے بعد گہرے غم اور دکھ سے گزر رہا ہے ۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ بیگم کلثوم کو جنت میں جگہ دے۔ میرے ذہن میں بیگم کلثوم کی ایک اہم یاد اب بھی تازہ ہے۔ انہوں نے میرے ساتھی شفیع نقی جامی کو ایک انٹرویو بی بی سی پروگرام میں دیا تھا  جب وہ 1999 کی فوجی بغاوت کے بعد مزاحمتی تحریک کی قیادت کر رہی تھیں۔ اس فوجی بغاوت کے بعد  کلثوم نواز کے خاوند نواز شریف اور ان کے بھائی شہباز شریف کو گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا گیا تھا۔

انٹرویو کے دن ہم بی بی سی اردو سروس کے لیے بیگم کلثوم نواز سے میٹگ کی تیاری کر رہے تھے  جب وہ لاہور میں اپنی پارٹی کی قیادت میں احتجاجی ریلی کی تیاری میں تھیں۔ ہم نے اس اہم موقع پر ان کا انٹرویو کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ جب شفیع کا ان سے رابطہ ہوا  تو بیگم کلثوم نے بتایا کہ شاید وہ زیادہ دیر بات نہ کر سکیں کیونکہ انہوں نے خود کو گاڑی میں بند کر لیا تھا  جب پولیس ان کو گرفتار کرنا چاہتی تھی ۔ پولیس نے کرین بلوا کر گاڑی کو اسی حالت میں اٹھوا لیا تھا جب بیگم کلثوم گاڑی کے اندر  موجود تھیں۔

اس سے قبل انہوں نے گھر سے پولیس کو چقمہ دے کر باہر نکلنے کا راستہ ڈھونڈ لیا تھا اور ماڈل ٹاون پہنچ چکی تھیں ۔ کچھ دیر پولیس کو ان کا پیچھا کر کے ان کو روکنے میں کامیاب ہوئی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ 18 سال قبل کی گئی گفتگو کے مکمل الفاظ تو یاد نہیں رکھے جا سکتے  لیکن جب انٹرویو ہو رہا تھا تو میں سٹوڈیو میں موجود تھا ۔ بیگم کلثوم کو اس قدر وضاحت کے ساتھ کھل کر پر اعتماد رہتے ہوئے گفتگو  کرتے دیکھ کر میں بہت حیران ہوا۔ وہ ایک بہترین سیاسی سمجھ بوجھ کی حامل خاتون کی طرح سوالوں کے جوابات دے رہی تھیں۔ جب انٹرویو ختم ہو ا تو میں سوچنے لگا کہ ان کی سیاست میں خدمات ن لیگ نے پہلے کیوں حاصل نہ کیں۔ اس کا واحد جواب جو مجھے سوجا وہ یہ تھا کہ شاید یہ ان کی اپنی چائس تھی ۔ ورنہ جس مہارت اور عقلمندی کے ساتھ وہ انٹرویو دے رہی تھیں کوئی وجہ نہیں تھی کہ انہیں سیاست میں آنے سے روکا جاتا۔

اس کے بعد انہوں نے جو مزید انٹرویو دیئے اس سے ان کی قابلیت  مزید نکھر کر سامنے آئی۔ ان کی ہمت اور جرات  اور اعتماد کا اظہار ان کے  انداز بیان سے عیاں تھا ۔ اپنی بیماری کے دوران بھی انہوں نے ہمت اور حوصلہ کا ثبوت دیا اور آ خری دم تک  حوصلہ نہ ہارا۔  اگر نواز شریف کی حالیہ حکومت سے علیحدگی کے بعد ان کی صحت خراب نہ ہوتی تو شاید وہ پارٹی کو بہتر  انداز سے چلا سکتی تھیں  لیکن ایسی باتوں پر ذہن لڑانے کا کیا فائدہ جو قدرت کو ہی منظور نہ تھا۔ میں اس بڑے دکھ اور رنج کے موقع پر  ان کے خاوند، بچوں اور دوسرے رشتہ داروں اور دوستوں کے ساتھ اظہار تعزیت ہی کر سکتا ہوں  اور سمجھ سکتا ہوں کہ اس وقت وہ کس قدر مشکل صورتحال سے گزر رہے ہوں گے۔ دعا ہے کہ اللہ ان کو صبر جمیل عطا فرمائے ۔

جو لوگ انہیں ذاتی طور پر جانتے تھے انہوں نے محترمہ کے بارے  میں گفتگو بھی کی اور لکھا بھی ہے  جس میں انہوں نے مرحومہ کی شفقت، ذہانت، عقلمندی شاعری سے شغف، اور اردو لٹریچر میں دلچسپی جیسی خوبیوں پ بھر پور روشنی ڈالی ہے۔ میں نے اس واحد انٹرویو سے ان میں یہی دیکھا کہ وہ ایک  باوقار خاتون تھیں جو اپنے پیاروں کے لیے ہر طرح کی قربانی دینے کو تیار تھیں ۔

ان کی موت ہر کسی کے لیے غم کا باعث بننا ایک فطری عمل تھا  لیکن ہمارے معاشرے میں نفرت کا جو زہر پھیلا دیا گیا ہے اس کا بھر پور طور پر مظاہرہ کیا گیا۔ بہت سے شریف خاندان کے مخالفین نے اعلی ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بیگم کی موت پر دکھ اور رنج کا اظہار کیا  اور مرحومہ کو اعلی طریقے سے خراج تحسین پیش کیا۔ لیکن ایسے لوگ بھی موجود تھے ، ان میں سے کچھ ہائ پروفائل شخصیات بھی ایسی تھیں  جنہوں نے اس موقع پر بہت گھناونے اور نفرت انگیز ٹویٹ کیے  اور لکھا کہ شریف خاندان اس نقصان کو سیاسی مقصد کے لیے استعمال نہ کرے۔

ہر شخص اپنی رائے دینے کا حق رکھتا ہے لیکن  اس کے لیے کامن سینس کا بھی استعمال درکار ہوتا ہے ۔ اس دکھ اور غم کے موقع پر اس طرح   کی باتیں کسی بھی شخص کو کس طرح ذیب دے سکتی ہیں؟

کیا اس موقع پر خاموش رہنا زیادہ موثر نہیں تھا؟  خاموشی نے اس ہفتے ایک نیا پہلو میرے سامنے عیاں کیا ہے۔  یہ سی پی جے کی طرف سے پاکستان میں میڈیا پر پابندیوں کے بارے میں جاری کردہ ایک رپورٹ ہے ۔ سی پی جے صحافیوں کے تحفظ کی ایک تنظیم ہے رپورٹ میں ایسے واقعات کی ایک تفصیلی فہرست پیش کی گئی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستانی میڈیا پر پچھلے کئی  ماہ سے  سینسرشپ کا دور دورہ ہے جو بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ نئے وزیر اطلاعات  جنہوں نے حکومت میں آتے ہی کئی بار میڈیا کو آزاد بنانے کی بات کی ہے  کو چاہیے کہ اس رپورٹ کو پڑھیں  اور  پھر اس کے مطابق ایک سمری تیار کر کے وزیر اعظم کو ارسال کریں۔ عمران خان کو  چاہیے کہ اپنی انتخابی جیت کے لیے جو انہوں نے وعدے کیے تھے یاد رکھتے ہوئے اداروں کو  حکم دیں کہ وہ میڈیا کو اپننا کام کرنے دیں۔ اگر کہیں قانون یا آئین کی خلاف ورزی  ہو رہی ہے  تو اس کو روکنے کے لیے ملک میں عدالتیں اور قوانین موجود ہیں اور اگر نہیں ہیں توقوانین بنائے جائیں تا کہ گناہ گاروں کو سز ا دی جا سکے۔ جو چیز سب سے زیادہ ناپسندیدہ اور نا قابل قبول ہے یہ ہے کہ میڈیا پرسنز ، نیوز روم اور دوسرے میڈیا ذرائع کو  اپنی مرضی کے مطابق چلنے پر مجبور کیا جائے۔

عمران خان ایک پر عزم ایجنڈا لے کر آئے ہیں جو وہ نافذ کرنا چاہتے ہیں۔اس طرح کے اہم اقدام  کے لیے آزا د میڈیا کی بہت ضرورت ہوتی ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ  وہ ریاستی اداروں کو    واضح طور پر بتائیں کہ کیا چیزیں قابل قبول ہیں یا نہیں۔  آنے والے ہفتوں میں  یہ واضح ہو جائے گا کہ  حکومت اپنی جمہوری روایات پر کس حد تک عمل کرتی ہے  اور دوسری منتخب جمہوری حکومتوں کے مقابلہ میں کتنی اہمیت دیتی ہے   یا پھر اداروں کو آزادی دینے کی بجائے میڈیا مینیجمنٹ کے ہتھکنڈے اپناتی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *