تلخ حقیقت کا سامنا

عمران خان نے اپنی حکومت کے لیے تین ماہ کا ہنی مون عرصہ مانگا ہے۔ یہ ایک جائز مطالبہ ہے ، اگرچہ مجھے یاد نہیں کہ انہوں نے کبھی اپنے مخالف کو اس طرح کی ریلیف دی ہو۔

اگر ہم مستقبل میں ان کے ویژن کو دیکھنے کے لیے ایک نظر ڈالیں تو ہم کیا دیکھتے ہیں؟ کروڑوں درخت، کئی ڈیم، 10 ملین نئی پیدا کی گئی نوکریاں اور ایک بد عنوانی سے پاک ملک۔ حقیقتا ایک نیا پاکستان۔ مجھے غلط نہ سمجھیں۔ میں اس معاملے میں طنز نہیں کر رہا کیوں کہ میں اس سے بہتر کچھ نہیں چاہوں گا  کہ سر سبز ملک ہو،  جہاں نوجوانوں کے لیے روزگار کے بے پناہ مواقع میسر ہوں۔

لیکن ہم سب ایک سپورٹس کار، ایک بڑی کشتی اور لندن میں ایک اپارٹمنٹ رکھنے کے خواب دیکھتے ہیں۔ تاہم، ہم میں سے چند ایک کے پاس ہی اپنے خواب پورے کرنے کے وسائل ہیں۔ تو مجھے  اجازت دیں کہ میں اپنے نئے وزیر اعظم کو  بتا سکوں کہ وہ اپنے دعوے پورے کرنے کے لیے کتنی رقم کے محتاج ہیں، یہ خیال کرتے ہوئے کہ شاید ان کے وزیر خزانہ  نے اس اصل ڈیوٹی کو نظر انداز کر دیا ہو۔

پی ٹی آئی پر چڑھائی کرنے  کی خواہش کے بغیر  میں بتا دوں کہ حقائق کچھ یوں ہیں: پچھلے سال سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کی طرف سے پیش کیے گیے بجٹ کے مطابق کل اخراجات  موجودہ مالی سال کے لیے ٹوٹل اخراجات 5932 بلین تھے۔ اس میں سے 1100 بلین روپے ڈیفنس کو جاتے ہیں، جو کہ پچھلے سال کی نسبت 10 فیصد بڑھائے گئے ہیں۔ اس رقم کا دوگنا (2200 بلین روپے) قرض اتارنے کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ اور ابھی تک ہمارے زیادہ تر قرضے ڈالروں میں ہیں، غالباً ہم مزید کافی رقم خرچ کریں گے۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ تمام صوبائی اور مرکزی  حکومتوں کے اخراجات کے لیے 2632 بلین روپے بچتے ہیں۔ ہمارے انتظامی اخراجات، مرکزی حکومت کے تحت ادارے اور سبسڈی کے معاملات مشکلات کا شکار ہیں۔  نیب، مثال کے طور پر، کے لیے Rs2.6 بلین کی منظوری دی گئی ہے، جبکہ Rs4.3 بلین صدر اور وزرا کے غیر ملکی دوروں کے لیے الگ سے رکھے گئے ہیں۔ اور ہاں، 217 ملین تحریک لبیک کے فیض آباد میں 21 دن کے دھرنے میں ضائع کیے گئے، اگر کسی کو کوئی تجسس ہو تو۔

بجٹ ذرائع پر دیے گئے ان دعووں کو سامنے رکھتے ہوئے، ہمیں حیران نہیں ہونا چاہیے کہ ہمارے پبلک سروسز ڈویلپمنٹ پروگرام کو صرف 25 بلین روپے کی منظوری دی  گئی ہے۔ ان محدود وسائل سے بہت سے ڈیم بنانا مشکل ہے۔ دیامیر بھاشا، زیادہ توجہ کا مرکز ڈیم جس کی گلگت بلتستان میں تعمیر کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی، کی رقم کا تخمینہ 2010 میں 1450 بلین روپے  لگایا گیا ہے۔ اب، یو ایس ڈالر کی قیمت بڑھنے سے یہ رقم واضح طور پر کافی اوپر جا چکی ہے۔

اس رقم کے لیے آرمی نے 1 بلین کا حصہ ڈالا، جبکہ چیف جسٹس نے ایک ملین جمع کیا۔ 50 کروڑ کے لگ بھگ رقم دوسرے ذرائع سے اکٹھی کی گئی ہے۔  یہ اچھی خبر ہے لیکن ہم ابھی تک یہ رقم نہ ہونے کے برابر ہے۔

جہاں تک ملٹی نیشنل ایجنسیوں سے قرض کا تعلق ہے، ورلڈ بینک اور ایشین ڈویلپمنٹ بینک اس بات پر اڑے ہوئے ہیں کہ یہ پروجیکٹ متنازعہ علاقے میں پلان کیا گیا ہے، اور ہمیں رقم کی منظوری سے پہلے انڈیا سے ایک این او سی چاہیے۔ اس کے لیے اللہ  ہمارا حامی ہو۔ اور سی پیک کے تحت ممکنہ چائینیز فائننسنگ کے ساتھ منسلک سخت شرائط کی وجہ سے ہم ابھی تک تعمیر شروع کرنے کے لیے رقم کا انتظار کر رہے ہیں۔

چیف جسٹس نے پیشکش کی ہے کہ ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد پروجیکٹ سائٹ پر سامان کی حفاظت کے لیے ان کا ٹینٹ لگایا جائے ۔ لیکن انہیں جلدی کرنے کی ضرورت نہیں کیوں کہ ابھی وہ وقت بہت دور ہے جب اس کی حفاظت کرنی پڑے گی۔  تاہم، ان کی طرف سے پراجیکٹ کو مائکرو مینیج کرنے کے عمل کو دنیا کی عدالتوں کے لیے ایک مثال سمجھنا چاہیے جو کہ ابھی تک انصاف سے متعلق معاملات میں پھنسیی ہوئی ہیں۔

سالوں تک عمران خان نے سابقہ حکومتوں کے خلاف سخت رویہ اپنائے رکھا اور الزام لگاتے رہے کہ حکمرانوں نے باہممی اور بیان الاقوامی سطح پر قرضے لے کر ملک کے قرضے 95 بلین ڈالر تک پہنچا دیے ہیں۔ لیکن  حقیقت ی ہ ہے کہ اپننے ذرائع سے ہم کسی بھی طرح ترقیاتی منصوبوں کو پایہ تکمیل نہیں پہنچا سکتے تھے اور اس کے لیے قرضوں پر انحصار لازمی تھا۔ یہی معاملہ بڑے ڈیموں سڑکوں اور ائیرپورٹس کی تعمیر کا ہے۔

وزیر اعظم کا یہ مشورہ کہ ہم قرضے اتارنے کے لیے ریاستی زمین بیچیں گے پریشان کن ہے کیوں کہ انہوں نے ان اثاثوں کی جو قیمت بتائی ہے وہ بمشکل 300 بلین ہے۔ شاید وہ اس بات سے بے خبر ہیں کہ اس میں سے زیادہ تر زمین بے گھر لوگوں کے غیر قانونی قبضہ میں ہے۔ اس حکومت کے سامنے ایک اور پیشکش یہ تھی کہ 3 بلین ڈالر بچانے کے لیے کاروں اور چیز کی درآمدات پر سال بھر کے لیے پابندی لگائی جائے۔ مجھے اندازہ نہیں تھا ہم بری اور کیممبرٹ کے اس قدر شوقین ہو چکے ہیں۔ لیکن یہ ایک بہت پریشان کن صورتحال ہے۔

جہاں تک ویژن کا تعلق ہے، عمران خان ایک اچھی صحبت میں ہیں۔ 1990 کی دہائی میں جب نواز شریف نے ملک میں موٹر ویز بنانے کا فیصلہ کیا انہیں ایک سینیر عہدیدار کی طرف سے بجٹ کی  مشکلات کی طرف توجہ دلائی۔ سابق وزیر اعظم نے جواب دیا: ''کیا شیر شاہ سوری رقم کی کمی کی وجہ سے مایوس ہوئے؟''

آہ، لیکن افغان جنگجو جس نے اصلی گرینڈ ٹرنک روڈ بنائی نے اپنے مقصد کے پروجیکٹ کو فائننس کرنے کے لیے علاقائی لوگوں کا سونا لوٹا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *