پُراسرار سورج کا کھوجی

امریکی خلائی ایجنسی، ناسا نے پہلی بار سورج کا انتہائی قریب سے مشاہدہ کرنے کے لیے ایک مصنوعی سیارہ،پارکر(Parker Solar Probe) آفتاب کی سمت روانہ کر دیا ہے۔اس سیارے کو بنانے پر ڈیرھ ارب ڈالر لاگت آئی جو پاکستانی کرنسی میں ایک سو چھیاسی ارب روپے بنتے ہیں۔

پارکر کو یہ اعزاز بھی حاصل ہو گیا ہے کہ وہ انسانی تاریخ میں سب سے تیز رفتار مصنوعی سیارہ ہے۔ اور اس کے علاوہ ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ کسی مصنوعی سیارہ کا نام زندہ سائنسدان کے نام پر رکھا گیا ۔امریکا سے تعلق رکھنے والے اکیانوے سالہ ماہر فلکیات، ایوجین پارکر نے پہلی بار 1958ء میں شمسی ہوا کے بارے میں بتایا تھا۔

یونیورسٹی آف شکاگو سے منسلک پروفیسر ایوجین پارکر نے ریاست فلوریڈا میں مصنوعی سیارے کی روانگی کی مناظر دیکھتے ہوئے خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ آئندہ کئی برس تک ہمیں کچھ سیکھنے کو ملے گا۔پارکر سٹیلائیٹ سورج کے گرد چکر لگاتے ہوئے معلومات ارسال کرے گا ۔اس سے سورج کے بارے میں عرصے سے پائی جانے والی پراسرائیت کے بارے میں معلومات ملیں گی ۔پارکر سورج کی صلاحیتوں کے علاوہ شمسی ہواؤں کے بارے میں تحقیق کرے گا۔

پارکر کو خلا میں بھیجنے کے خلائی مشن کو ایک دن پہلے روانہ کیا جانا تھا لیکن روانگی سے پہلے کچھ تکنیکی مسائل کی وجہ سے روانہ نہیں کیا جا سکا۔ناسا نے خلائی مشن کی روانگی کے ایک دن بعد تصدیق کی کہ خلائی جہاز کامیابی سے راکٹ سے الگ ہو گیا ہے اور اب اپنے مدار میں سفر کر رہا ہے۔پارکر آئندہ سات برس تک سورج کے گرد چوبیس چکر لگائے گا۔اس دوران سورج سے اٹھنے والی شمسی شعاعوں کا مشاہدہ کرے گا جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ زمین پر سب سے زیادہ اثر انداز ہوتی ہیں۔

اس دوران پارکر کو تیرہ سو سینٹی گریڈ درجہ حرارت کا سامنا کرنا پڑے گا لیکن اس پر نصب خصوصی شیٹ کی وجہ سے آلات کو نقصان نہیں پہنچے گا۔اس سے پہلے 1976 ء میں سورج پر تحقیق کے لیے بھیجا گیا مصنوعی سیارہ سورج سے تقریباً چار کروڑ تیس لاکھ کلومیٹر کے فاصلے پر رہا تھا۔یہ نیا مصنوعی سیارہ معلومات حاصل کرنے کے لیے سورج کی باریک فضا میں جائے گا جہاں اس کا سورج کی سطح سے فاصلہ صرف تقریباً اکسٹھ لاکھ کلومیٹر دور ہو گا۔

جان ہاپکنز لیبارٹری سے منسلک ڈاکٹر مکی فوکس نے کہا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ آپ کو لگے یہ سورج سے زیادہ نزدیک نہیں۔مگر آپ اس طرح سے سوچیں کہ سورج اور زمین ایک دوسرے سے ایک میٹر دور ہیں اور مصنوعی سیارہ سورج سے صرف چار سینٹی میٹر دور ہو گا۔انھوں نے مذید بتایا کہ انسانی تاریخ میں پارکر سیٹلائیٹ سب سے تیز رفتار مصنوعی سیارہ ہے جو چھ لاکھ نوے ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرے گا۔اسکا مطلب ہے کہ پارکر نیویارک اور ٹوکیو کے درمیان فاصلہ ایک منٹ سے بھی کم مدت میں طے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *