پاکستانی چیف جسٹس کو اپنی حدود کا خیال رکھنا چاہیے

 مضمون نگار سابق بھارتی چیف جسٹس مرکندے کتجو

چیف جسٹس آف پاکستان  جسٹس ثاقب نثار پچھلے کافی عرصہ سے خود کو حدود کے اندر رکھنے میں ناکام ہیں جو کہ  ہر اعلی عدلیہ کے جج سے توقع رکھی  جا تی ہے  اور خاص طور پر کسی ملک کے اپیکس کورٹ سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ   ججز اپنے اختیارات سے کسی صورت تجاوز نہ کریں۔ جسٹس نثار پاکستان میں پانی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے ڈیم کی تعمیر میں بہت دلچسپی دکھا رہے ہیں ۔ وہ اس معاملے میں اس قدر زیادہ مگن ہیں کہ ایسا لگتا ہے یہی ان کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔

ججز کے لیے ایک غیر تحریری کوڈ آف کنڈکٹ ہوتا ہے جس کے مطابق  کسی بھی جج کو اپنے فیصلوں کے ذریعے بولنا چاہیے  اور اسکے علاوہ حدود کے اندر مقید رہنا چاہیے۔ لیکن چیف جسٹس نثار ڈیم کی تعمیر میں دلچسپی کے باعث   انہوں نے اس خواہش کا اظہار نہ صرف اپنےاحکامات اور فیصلوں میں کیا ہے بلکہ اس  سے متعلق ٹی وی چینلز اور عوامی جلسوں میں بھی  بیان جاری کرتے آئے ہیں ۔ انہوں نے کئی بار کہا ہے کہ کالا باغ ڈیم پاکستان کی بقا اور تحفظ کی علامت ہے۔ انہوں نے دیامیر بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم کی تعمیر پر بھی ابھارنے کی  جدو جہد کی ہے اور ڈیم کی تعمیر کے لیے فنڈ اکٹھے کرنے کے لیے ایک بینک   بھی کھولا ہے ۔ انہوں نے  اس فنڈ میں 2 لاکھ روپے جمع کروانے پر خواجہ سراوں کی تعریف کی  اور حکم دیا کہ ملکی عوام سے جو ریاست کے قرضے بنتے ہیں وہ ڈیم فنڈز میں جمع کیے جائیں۔ اس پر بھی مطمئن نہ ہوتے ہوئے انہوں نے  اس ڈیم کی تعمیر کی مخالفت کرنے والوں کو دھمکی دی کہ ان کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کاروائی کی جائے گی۔ یہ آرٹیکل ملک کے خلاف غداری کرنے والوں سے نمٹنے کے لیے آئین کا حصہ بنایا گیا ہے۔ انہوں نے ایسے لوگوں کو آخری وارننگ دی ہے جو سپریم کورٹ کو ڈیم فنڈ کے  فنڈ اکھٹے کرنے پر  تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔  انہوں نے کہا کہ تنقید کرنے والا کتنا بھی طاقت ور ہو  ہم اس سے نمٹ لیں گے۔ ملک کے چیف جسٹس  کو اس طرح کی ذبان زیب نہیں دیتی۔

 پاکستان کے آرٹیکل چھ کے مطابق   جو بھی اپنی طاقت کے بل پر  یا کسی غیر قانونی طریقے سے  آئین کو معطل کرتا ہے منسوخ کرتا ہے یا بدلتا ہے اور بدلنے کی کوشش کرتا ہے وہ سنگین غداری کا مجرم قرار پائے گا۔ یہ شق جنرل مشرف جیسے آرمی جرنیلوں کے لیے تھا جو بغاوت کے ذریعے  آئین کو منسوخ یا معطل کر دیتے ہیں۔ یہ ایسے لوگوں کے خلاف کیسے استعمال کی جا سکتی ہے  جو ڈیم کی تعمیر کے مخالف ہوں ۔ اگر کوئی کہتا ہے کہ پانی کے مسئلہ کا حل ڈیم کی تعمیر نہیں ہے تو وہ غدار قرار پائے گا؟

جہاں تک منرل واٹر کمپنیز کی طرف سے گراونڈ واٹر کے استحصال کا  تعلق ہے تو چیف جسٹس کا یہ کہنا درست ہے کہ  یہ کمپنیاں عوام کو لوٹ رہی ہیں اور بہت زیادہ قیمتیں وصول کر رہی ہیں۔ لیکن وہ یہ بھول گئے کہ   یہ کام انتظامیہ اور مقننہ کا ہے  کہ وہ جعل سازی جیسے معاملات سے نمٹنے کے طریقے اخذ کریں۔ یہ عدلیہ کا کام نہیں ہے۔ چیف جسٹس کو چاہیے تھا کہ بجائے خود مسئلہ حل کرنے کی کوشش کے وہ حکومت کو ہدایت کرتے کہ  وہ مسئلے کا حل نکالے۔  امریکی سپریم کورٹ کے جسٹس فرینک فرٹ نے ٹراپ بمقابلہ ڈیولز  1958 کیس میں لکھا:

میڈیسن کے مطابق تمام تر اختیار اور طاقت مداخلت کے اختیار جیسی ہے۔ عدالتی اختیار  اس انسانی غلطی سے مکمل طور پر محفوظ نہیں ہے۔ اسے ہمیشہ اپنی حدود کے اندر رہنا چاہیے  اور اس چیز کو ممکن بنانے کا واحد طریقہ خود کو محدود رکھنا ہے۔ آئین عدالت کو یہ اختیار نہیں دیتا کہ وہ پالیسی معاملات میں انتظامیہ کو احکامات جاری کر ے یا ایسے معاملات پر لیکچر دے جو قانون ساز اسمبلی کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔ اسمیں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کے جج صاحبان  ملک میں پانی کی کمی کے مسئلہ سے واقف ہیں  اور وہ انتظامیہ سے درخواست کر سکتے ہیں کہ  اس مسئلے کا فوری حل نکالا جائے۔ لیکن ججز کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ پانی کے مسئلے پر انتظامیہ کو ڈکٹیٹ کرنا شروع کر دیں  کیونکہ مسئلہ تو صرف ٹیکنیکل ایکسپرٹس ہی حل کر پائیں گے۔ دوسرے کئی طریقوں سے مسئلے کا حل ڈھونڈا جا سکتا ہے۔  ججز کو ویسٹ ورجینیا سٹیٹ سپریم کورٹ کے  چیف جسٹس نیلی  کے یہ الفاظ یاد رکھنا چاہیے:

میں اپنے جج کے عہدے کی حدود کے بارے میں  کسی غلط فہمی کا شکار نہیں ۔  میں نہ تو کوئی اکاونٹینٹ ہوں اور  نہ الیکٹریکل انجینئر، فائنانشئر ، بینکر ، سٹاک بروکر یا سسٹم مینیجمنٹ انلسٹ ہوں۔ پبلک یوٹیلیٹی آپریشنز کی 5 ہزار صفحات پر مشتمل رپورٹ   پر  ایک جج سے ریویو کی توقع کرنا ایک بے وقوفی سے کم نہیں ہے۔ کسی جج کا یہ کام نہیں ہوتا کہ وہ سوپر بورڈ کی سیٹ پر بیٹھ جائے  یا پھر ایک سکول ماسٹر کی طرح  انتظامی معاملات میں دخل دے۔

امریکی سپریم کور ٹ کے ججا جسٹس کارڈوزو کہتے ہیں: جج کوئ نائٹ ایرنٹ نہیں ہوتا جو اپنی مرضی  کی خوبصورتی اور اچھائی ڈھونڈتا پھرے۔ تمام جمہوری اداروں کے اختیارات میں ایک واضح فرق ہے  اور ریاست کے ایک حصے کو  دوسرے حصے کے فنکشنز پر اثر انداز ہونے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ عدلیہ کے پانس نہ تو ٹیکنیکل اور نہ ہی انتظامی قابلیتیں ہوتی ہیں  اور نہ وہ مالی طور پر اتنی مضبوط ہوتی ہے  کہ  وہ انتظامی معاملات کو سنبھال سکے۔ سابق بھارتی چیف جسٹس اے ایس آنند نے کہا تھا: عدلیہ ایک الارم کی گھنٹی کی طرح کام کر سکتی ہے  تا کہ انتظامیہ کو اپنے فرائض سے آگاہ رکھ سکے   لیکن یہ خود انتظامی معاملات میں کبھی دخل نہ دے یہی بہتر ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *