سزا معطلی


اچھا ھم بات اس نقطے سے شروع کر سکتے ھیں ۔ کہ نیب کا کیس کمزور تھا ۔ جعلی تھا۔ اور نیب اسلام آباد ھائیکورٹ میں مناسب طریقے سے اس کا دفاع نہیں کر سکی۔ اور یہ کہ شریف خاندان بے گناہ تھا ۔ انہیں بوجہ ایک سیاسی مقدمے کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ اور چونکہ کاٹھ کی ھنڈیا زیادہ دیر پکائ نہیں جا سکتی چناچہ بیچ چوراھے میں پھوٹ گئ۔ اس نقطے سے سوال پیدا ھوتا ھے۔ اگر کیس کمزور تھا۔ اور جعلی تھا۔ تو پھر اسی کیس میں نیب کے جج نے کیسے اور کیوں سزا دی ۔ اگر نیب کے جج پر دباو تھا ۔ کہ وہ مخصوص قوتوں کی مرضی و منشا کے مطابق فیصلہ کرے اور جو اس نے کیا تو پھر یہ دباو اسلام آباد ھائیکورٹ کے ان دو ججوں پر کیوں نہیں آ سکا۔ اچھا یہ بھی یاد رکھیں ۔ یہ نیب جج ھی تھا جس نے اپنے فیصلے میں لکھا تھا۔ نوازشریف پر کرپشن ثابت نہیں ھو سکی۔ اور اسلام آباد ھائیکورٹ نے اسی فیصلے کو بنیاد بنا کر سزا معطلی کا فیصلہ دیا ھے۔ ھمارے ملک میں بے شمار لوگ ایسے ھیں جو سمجھتے ھیں ۔ سیاسی مقدمات میں بہت دباو ھوتا ھے۔ بدقسمتی سے یہ بات اتنی غلط بھی نہیں ۔ جسٹس منیر کے نظریہ ضرورت سے لے کر بھٹو کی پھانسی تک اور جنرل مشرف کی بیرون ملک روانگی سے لے کر نواز شریف کو سزا تک کئ ایسے فیصلے ھیں ۔ جو نہ صرف مشکوک ھیں بلکہ عدالتی تاریخ میں ان کا حوالہ دینا بھی برا سمجھا جاتا ھے۔ دوسری پبلک فیلنگ یہ ھے۔ کہ اس ملک کی اسٹیبلشمنٹ بہت طاقتور ھے اور اپنی مرضی کے فیصلے کروا لیتی ھے۔ حالیہ عام انتخابات اور مقدمات میں اس کا کردار ڈھکا چھپا نہیں ۔ یہی وجہ ھے ایک عام یقین یہ ھے۔ اگر مخصوص قوتیں کمزور مقدمہ ھونے کے باوجود نیب عدالت سے شریف خاندان کے خلاف فیصلہ لے سکتی تھیں تو پھر وہ اسلام آباد ھائیکورٹ سے بھی ایک ایسا ھی فیصلہ لے سکتی تھیں ۔ اچھا اس تھیسس میں ھم لوگ قطعی طور پر ایک بات بھول جاتے ھیں ۔ کہ باوجود ھر قسم کے منفی ہتھکنڈے اور پلاننگ کے ، اس دنیا میں ابھی نیکی کی قوتیں موجود ھیں اور خدا کا نافذ کردہ اخلاقی نظام چل رھا ھے۔ یعنی یہ دنیا ابھی مکمل طور پر نیکی سے خالی نہیں ھو گئ اور بدی کا گہوارہ نہیں بن گئ۔ بھٹو کی پھانسی کے کیس میں بھی دو ججوں نے اختلافی نوٹ لکھا تھا۔ اور ججوں نے یہاں حکومتیں بھی بحال کی ھیں ۔ اور ریلیف دی ھے۔ لیکن یہاں سے ھم یہ یہ نتیجہ اخذ نہیں کر سکتے کہ اگر ریلیف نہیں ملی تو عدلیہ دباو میں تھی۔ اور اگر ریلیف مل گئ تو عدلیہ آزاد تھی۔ عدلیہ کا آزاد ھونا یا نہ ھونا بلیک اینڈ وائٹ نہیں ۔ بس یوں کہہ لیں ۔ یہ کچھ محرکات پر منحصر ھے۔ اس میں شخصی کردار سے لے کر اداراتی کردار اور قانونی سے لے کر سیاسی تک کافی کچھ شامل ھے۔ چناچہ ھم ایک سچوئشن کو دوسری سچوئشن پر اپلائی نہیں کر سکتے۔
اب رھا یہ سوال کہ اگر مقدمہ کمزور تھا۔ جعلی تھا لیکن جن قوتوں نے نیب عدالت سے اپنی مرضی کا فیصلہ لے لیا۔ وہ اسلام آباد ھائیکورٹ سے کیوں نہ لے سکے۔ اس کا ایک جواب تو میں نے اوپر دے دیا۔ دوسرا جواب یہ ھے۔ کہ اب شائد ان مخصوص قوتوں کی یہ مرضی و منشا نہیں تھی کہ نوازشریف اور مریم کو مزید جیل میں رکھا جاے۔ جب جیل میں ڈالا گیا تھا۔ تب کچھ مخصوص اھداف حاصل کرنا مقصود تھے۔ جنہیں حاصل کر لیا گیا۔ چناچہ اس کے بعد باپ بیٹی کو جیل میں مزید بند رکھنا ممکن نہیں تھا۔ یہ بیک فائر کر رھا تھا۔ جیل میں قید نواز شریف دن بدن طاقتور ھو رھا تھا ۔ ناقابل شکست ھوتا جا رھا تھا۔ ایک لیجنڈری کردار بن رھا تھا۔ اس کی مستقل مزاجی اور اپنی کاز سے کمٹمنٹ، اس کی خاموشی اور برداشت اس کے مخالفین کے دلوں میں خوف پیدا کر رھی تھی۔ ادارے ایک گلٹ کا شکار تھے۔ سوشل میڈیا پر اداروں کے خلاف مزاحمت بڑھ رھی تھی۔ لوگ بے باک ھو رھے تھے۔ چناچہ یہی بہتر تھا ۔ نوازشریف اور مریم کو چھوڑ دیا جاے۔ اگر میں یہاں یہ لکھوں گا کہ اسلام آباد ھائیکورٹ کے ججوں نے دباو لینے سے انکار کر دیا۔ تو شائد کچھ لوگوں کو ناگوار گزرے۔ لیکن یہ سچ ھے۔ مخصوص قوتیں جیل میں بند نواز شریف اور مریم نواز کا دباو لینے سے قاصر ھو رھی تھیں ۔ شائد کچھ بیرونی قوتوں کا بھی دباو ھو۔ کچھ دوست ملکوں نے سمجھایا ھو۔ اپنے حالات ٹھیک کریں ۔اگر ایسا ھوا بھی ھے تو اس کا مطلب ھے کہیں کمزوری تو تھی۔ اور یہ کمزوری بہرحال نواز شریف کی نہیں تھی۔ وہ تو اپنی مرضی سے لندن سے چل کر آیا تھا۔ اپنی بیمار بیوی کو چھوڑ کر آیا تھا۔ اپنی مرضی سے جیل گیا تھا۔ بہت دفعہ افواہیں اڑاائ گئیں ۔ نواز شریف ڈیل چاھتا ھے۔ لیکن تمام افواہیں دم توڑتی رھیں۔ نواز شریف نے تو اپنی بیوی کی وفات پر پیرول درخواست پر دستخط نہیں کیے۔ وہ ڈیل کیسے کر سکتا ھے۔ ڈیل کا پروپیگنڈہ کرنے والے یہ نہیں بتا رھے۔ نواز شریف کے ساتھ ڈیل کس نے کی ھے۔ اگر وزیراعظم نے کی ھے تو پھر اس کا گریبان پکڑیں ۔ اگر حکومت سے بالا بالا چند اداروں یا ایک ادارے نے کی ھے۔ تو پھر وزیراعظم کی حیثیت کیا ھے ؟ یہ بھی کہا جا رھا ھے۔ وقتی ڈھیل دی گئ ھے۔ چلیں اسے پھر وقت پر چھوڑ دیں ۔ نجانے ھم کیسے لوگ ھیں ۔ عجیب و غریب سوال کرتے ھیں ۔ کبھی کہیں گے۔ پیسے میں طاقت ھے۔ سیاسی طاقت ھے۔ امیر لوگوں کو کہاں سزا ھوتی ھے۔ پنجابی سیاستدان ھے۔ اس لیے بچ گیا۔ سزا دینے والے جج بھی تو پنجابی تھے۔ لوگ سب کچھ کہیں گے۔ لیکن یہ نہیں مانیں گے۔ وقت تبدیل ھو رھا ھے۔ حالات تبدیل ھو رھے ھیں ۔ آپ نے اپنی من مانی کرکے دیکھ لیا۔ ھر قسم کی پلاننگ کر لی۔ کیا چیزیں آپ کے کنٹرول میں آ گئیں؟ سوشل میڈیا پر طوفان مچا ھے۔ ایک سال پہلے چند لوگ تھے جو اسٹیبلشمنٹ کا ذکر کرتے۔ خاکی و سول کشمکش کی بات کرتے۔ اب اس انجمن میں ایسے افراد کی تعداد ھزاروں لاکھوں میں چلی گئ۔ لوگ کھل کر لکھ رھے ھیں ۔ ھر حیز ڈسکس ھو رھی ھے۔ ادارے اپنی ورتھ کھو رھے تھے۔ جنرل مشرف خود کہتا ھے مجھے جنرل کیانی نے نکالا تھا۔ اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ میرے خلاف ھو گئ تھی۔ کیوں؟ اس لیے کہ جنرل مشرف کے نیچے ادارہ اپنی ساکھ کھو رھا تھا۔ وہ نوٹیفیکیشن یاد ھے۔ جب کہا گیا تھا۔ وردی پہن کر سول میں نہ جائیں ۔ اب سڑکوں اور چوراہوں پر احتجاج کرنے کی ضرورت نہیں ۔ سوشل میڈیا ھی کافی ھے۔ یہ راے بناتا ھے۔ شعور دیتا ھے۔ اور اس راے اور اس شعور کو اگنور نہیں کیا جا سکتا۔ ادارے اپنی ساکھ چاھتے ھیں ۔ تو جنرل مشرف کی طرح کسی اور جرنیل کو بھی بہت زیادہ من مانی کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ اگر ادارہ آج جنرل مشرف کے ساتھ کھڑا ھے تو اس لیے کہ وہ ان کا سابق سر براہ ھے۔ ورنہ ملک آنے کی اسے بھی اجازت نہیں ۔ اور سب سے بڑھ کر ملکی معاشی حالات ۔ سیاسی ابتری اور سیاسی عدم استحکام کا نتیجہ نکل رھا ھے۔ کیا یہ ملک مزید سیاسی عدم استحکام اور معاشی ابتری کا شکار رہ سکتا ھے۔
جو لوگ آج بھی سیاسی مقدمات کو جرم، کرپشن اور آزاد یا غیر آزاد عدلیہ کے تناظر میں دیکھتے ھیں ۔ وہ نہ صرف سیاست کے اسرار و رموز سے مکمل طور پر نا بلد ھیں ۔ بلکہ ان کی دماغی گروتھ بھی مکمل طور پر رک چکی ھے۔ سیاسی تاریخ، سیاسی شعور ، تاریخی شعور، مختلف علوم یعنی ادب، ھسٹری، نفسیات، معاشیات، فلسفہ، سائنس سے واقفیت،آمریت، کیپیٹلزم، کمیونزم، سوشلزم، سرد جنگ ، اسلامی فوبیا، اور تہذیبی سفر، مستقبل کی پلاننگ ، اداراتی چپقلش، سویلین و خاکی مخاصمت ، اداراتی مفادات ، اداراتی احساس برتری، عسکری گلوری فیکیشن، آمرانہ طالع آزمائ، قومی و علاقائی و بین الاقوامی حالات حاضرہ ، قوموں کے ذاتی و باھمی مفادات ، جغرافیائی و تزویراتی حساس معاملات، سپر پاورز کے ایشوز، نسلی و لسانی و مذھبی و فرقہ ورانہ تاریخی و موجودہ پیچیدگیاں، تاریخی حوالے، شکستیں و ناکامیاں، رومانیت اور نشاتہ ثانیہ ، ذاتی و ادارتی حماقتیں و جہالتیں ، بے مثالی شخصی ویثرن اور قائدانہ صلاحیتیں، سماجی تقسیم و سماجی جدوجہد، جمہوری جدوجہد، معاشرتی جکڑ بندیاں و برادری محدودیات، اور ایک ایسا ویثرنری دماغ اور تعلیم جو ان بیان کردہ تمام نقاط کو سمجھ سکے، ان کا تجزیہ کر سکے اور ان کو آپس میں جوڑ کر ایک جینوئن تصویر مکمل کر سکے۔ اور یہ تصویر اس کے باوجود گرے ھو۔ یاد رھے۔ بلیک اینڈ وائٹ بہت کم ھے۔ گرے ایریا بہت وسیع ھے۔ بڑا عجیب لگتا ھے۔ جب کوئ پوچھتا ھے۔ عدلیہ اب آزاد ھے یا پہلے غلام تھی۔ وہ چور ھے۔ یا صاد ھے۔ یا احمق ھے یا عقل مند ھے۔ سیاست ھے یا تجارت ھے اور یا پھر محب وطن ھے یا غدار ھے۔ نہ کیا کریں ۔ بلیک اینڈ وائٹ بہت کم ھے۔ گرے ایریا بہت وسیع ھے۔ بیان کردہ نقاط کو سمجھیں، پڑھیں، تجزیہ کریں اور ان نقاط کو ملائیں ۔ کم از کم اپنے متعلق تو اس نتیجے پر پہنچ جائیں ۔ آپ ان نقاط کو باھم ملا سکتے ہیں یا نہیں ۔ خود بھی پریشان ھوتے ھیں ۔ دوسروں کو بھی کرتے ھیں ۔ اور کچھ نہیں تو اپنے اندر سیکھنے کی ایک خوبی ایک لگن ھی پیدا کر لیں ۔
نواز شریف سے نفرت کرنے والے جو مرضی کہتے رھیں ۔ لیکن سچ یہی ھے۔ نواز شریف آج بھی اس ملک میں سب سے زیادہ طاقتور سیاستدان ھے۔ اس کی طاقت وہ عوام ھیں اور اس کی پارٹی ھے جو آج بھی اس کے ساتھ کھڑے ھیں اور اس کے بیانیے کو درست سمجھتے ھیں ۔ اور یہ بیانیہ دن بدن مضبوط اور مقبول ھو رھا ھے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *