بھارت نے دو طرفہ مذاکرات کا موقع گنوا دیا، دفتر خارجہ

اسلام آباد: دفتر خارجہ نے جنرل اسمبلی اجلاس کی سائیڈ لائن پر پاک بھارت وزرائے خارجہ کی ملاقات منسوخ ہونے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے پاکستانی وزیراعظم عمران خان کیلئے نامناسب الفاظ کا استعمال سفارتی آداب کے منافی ہے۔

دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ سفارتی رابطوں میں غیر مہذب الفاظ کا چناؤ نہیں کیا جاتا۔

بیان میں کہا گیا کہ ملاقات کے اعلان کے بعد 24 گھنٹوں میں منسوخی ناقابل فہم ہے، بھارت نے دو طرفہ مذاکرات کا موقع گنوا دیا۔

دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان ہمیشہ اپنے ہمسایہ ممالک سے پر امن تعلقات کا خواہاں رہا۔

بیان میں کہا گیا کہ بھارت کی جانب سے خودساختہ پریشان کن تبدیلیاں بہت پہلے کی ہیں، بی ایس ایف اہلکار کی مبینہ ہلاکت کا معاملہ ملاقات کےاعلان سے دو روز پہلے کا ہے، بھارتی الزام کے جواب میں پاکستان رینجرز نے آگاہ کیا تھا کہ ان کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔

دفتر خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ بھارت کو اس حوالے سےباضابہ چینل سے آگاہ کردیا گیا تھا، پاکستان رینجرز نے بھارتی سپاہی کی لاش تلاش کرنے میں مدد بھی کی تھی، بھارتی حکومت اور میڈیا نے بھی پاکستان کی تردید کو شائع کیا تھا۔

دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان ان تمام الزامات کی ایک بار پھر تردید کرتا ہے، سچ جاننے کے لیے مشترکہ تحقیقات کےلیے تیار ہیں۔

دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارت نے جن ڈاک ٹکٹس کا ذکر کیا وہ 25 جولائی کو انتخابات سے پہلے چھپے تھے، ان میں بھارتی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو دکھایا گیا تھا۔

بیان میں کہا گیا کہ دہشتگردی کا راگ الاپنے سے بھارت مقبوضہ کشمیر میں اپنے جرائم نہیں چھپا سکتا۔

بیان میں کہا گیا کہ وزیر اعظم عمران خان نے انتخابات کے بعد پہلے بیان میں پاک بھارت تعلقات پر بات کی، انہوں نے واضح طور پر کہا کہ اگر بھارت ایک قدم اٹھائے تو پاکستان دو قدم بڑھائے گا۔

دفتر خارجہ کے مطابق اسی تناظر میں عمران خان نے وزیراعظم مودی کو تعمیری ملاقات کا کہا۔

دفتر خارجہ نے کہا کہ مذاکرات اور سفارت کاری تمام مسائل کو حل کرنے کا بہترین ذریعہ ہیں۔

اس سے قبل بھارت نے وعدہ کرنے کے باوجود مذاکرات سے راہ فرار اختیار کر لی، شاہ محمود قریشی اور سشما سوراج کی ملاقات پر جمعرات کو بھارتی حکومت نے رضامندی ظاہر کی تھی۔

نیویارک میں جنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پر دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ کی ملاقات کی تجویز وزیراعظم عمران خان نے پیش کی تھی۔

معاملے پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے جیو نیوز سے گفتگو میں کہا کہ تالی دونوں ہاتھ سے بجتی ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مذاکرات ہوں گے تو باوقار اور باعزت طریقے سے ہوں گے۔

انہوں نے بھارتی الزامات پر کہا کہ پاکستان کے پاس بھی شواہد ہیں کہ کس طرح بھارت دہشت گرد عناصر کی پشت پناہی کر رہا ہے، بھارتی انکار پر لگتا ہے کہ وہ شدید داخلی دباؤ کا شکار ہے۔

پاکستانی وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ میز پر بیٹھنے کے علاوہ کوئی راستہ ہے تو بھارت بتا دے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *