"نئے پاکستان" کو سمجھنے کی ایک کوشش ! قسط 1

ایک بھارتی تھیورسٹ سدیپتا کاویراج نے کہا تھا کہ  بھارتی سیاست کی کہانی 2 مختلف سطوحات کے مطابقت بیان کی جا سکتی ہے۔ ایک لیول سٹرکچرل ہے اور دوسرا پولیٹیکل۔ جہاں تک سٹرکچرلیول کا تعلق ہے تو  اس میں کیپٹل ڈویلپمںٹ، کلاس فارمیشن اور سماجی مسائل پر نظر رکھی جاتی ہے۔ سیاسی لیول میں حکومتوں کے بدلنے، سیاسی جماعتوں کے عروج و زوال ، سیاسی لیڈران، ان کے ظاہری سیاسی معیار اور تحاریک پر نظر دوڑائی جاتی ہے۔ یہ دونوں اپروچز مل کر  ہی کسی ملک کی جمہوری حالت کا بہترین تجزیہ فراہم کرتی ہیں۔

پاکستان کے معاملے میں معاملہ الٹ ہے۔ یہاں صرف  نئی آنے والی جمہوری حکومتوں اور لیڈرز کی کامیابی اور ناکامی  پر زیادہ توجہ مرکوز رہتی ہے۔ یہاں سٹرکچر کی بات کی جائے تو صرف ملٹری کا ایک ادارے کی حیثیت سے کردار زیر بحث آتا ہے ،  اس کی پالیسی شفٹ  پر بات ہوتی ہے جو یہ مختلف اوقات میں اپنے سٹریٹیجک اور سیاسی معاملات  کو درست کرنے کے لیے اختیار کرتی ہے  اور اس کے اندر  موجود عناصر  کے بیک گرانڈ  اور ایتھنک آوٹ لک پر بات ہوتی ہے۔

یہ تو ایک جانی پہچانی حقیقت ہے کہ پاکستان کے جمہوری عمل پر بار بار ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے خفیہ یا ظاہر ی طریقے سے اثر انداز ہونے کی کوشش کی ہے۔ اس وجہ سے سیاسی منظر نامے میں تبدیلیوں کو درست طریقے سے تجزیہ میں لایا نہین جا سکتا  کیونکہ زیادہ تر معاملات فوج کے   زیر اثر پایہ تکمیل پہنچتے ہیں۔ ایک اور مسئلہ ملٹری کے ملوث ہونے کے ثبوت موجود نہ ہونا ہے۔ خاص طور پر میڈیا اور عدلیہ پر فوج کے اثر انداز ہونے کے ثبوت ڈھونڈنا بہت مشکل ہے۔ ایسی صورتحال میں صرف ماضی کے اعمال کی روشنی میں ہی حالات کو دیکھ کر تجزیہ کے لیے انحصار کیا جاتا ہے ۔ اس کی ایک مثال آئی جے آئی کی تشکیل ہے جو 1988 میں آرمی چیف مرزا اسلم بیگ  اور آئی ایس آئی کے سربراہ اسد درانی نے بنائی تھی  تا کہ بھٹو کے ووٹ کو تقسیم کیا جا سکے  اور پیپلز پارٹی کو اقتدار سے دور رکھا جا سکے۔

ہم یہ 1990 کی دہائی میں سپریم کورٹ میں درانی کی طرف سے ذاتی طور پر جمع کیے گئے حلفی بیان کی وجہ سے جانتے ہیں،  جس کی وجہ سے معروف اصغر خان کیس  کھلا اور اس میں مزید کئی مزید انکشافات کیے گئے۔جو طریقے 1988 میں اختیار کیے گئے ان کو سمجھنے سے ایک تجزیہ نگار اس قابل ہو جاتا ہے کہ  وہ اسی طرح کی سیاست پر اثر انداز ہونے والی چالوں کو سمجھ سکے جو مختلف ادوار میں مختلف سیاسی حکومتوں کے خلاف  چلی گئیں۔  پاکستانی کی سیاسی معیشت کی سٹرکچرل ٹرانسفارمیشن  کو سمجھنے  اور اس کے جمہوری عمل پر اثر انداز ہونے  کے عمل کو پرکھنے کی ضرورت  آج پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ جولائی 25، 2018 کو ہونے والے انتخابات اور عمران خان کی پاکستان تحریک انصاف کی فتح  کو عالمی  میڈیا کی طرف سے وسیع پیمانے پر دکھایا گیا۔ تحاریر کا زیادہ تر حصہ  یا تو عمران خان کی ذاتی زندگی(کرکٹ لیجنڈ، پلے بوائے، نیا نیا مسلمان، طالبان مددگار)یا پاکستانی سیاست میں ملٹری کے کردارپر مرکوز ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ  موجودہ الیکشن جنہیں پاکستان کے گندے ترین الیکشن قرار دیا گیا ہے، پر بہت برے طریقے سے اثر انداز ہو کر مطلوبہ نتائج حاصل کیے گئے۔ لیکن یہ بات بھی نا قابل تردید ہے کہ  عمران خان پاکستان میں ایک بڑے طبقہ کی حمایت رکھتے ہیں ، خاص طور پر ایسے لوگوں کی  جن کو پاکستانی معیشت کے بارے میں کچھ نہیں معلوم اس لیے وہ کسی پارٹی کی سپورٹ کے بارے میں فیصلہ نہیں کر پاتے۔ اس میں زیادہ تر حصہ پاکستان کی نئی مڈل کلاس کا ہے  جو زیادہ تر غیر سیاسی اور ملٹری کا حامی طبقہ ہے۔ میری تحریر کا بنیادی نقطہ یہی ہے۔

خان کی آمد کا لمحہ اس طبقے کی کرسٹلائزیشن کے ساتھ موافق ہے جو 1980 کی دہائی کے وسط سے زیر تعمیر ہے اور 1990 کی دہائی کے نو لبرل اقتصادی اصلاحات سے مستفید ہوتا رہا ہے۔میرے خیال میں نئے پاکستان کا مطلب ، تعداد میں کم ہونے کے باوجود اس نئی مڈل کلاس کا عروج ہے جس نے سیاسی عمل میں بھر پور شرکت کر کے پاکستان کی سیاسی اور معاشرتی ساخت کو بدلنے میں اہم کردار ادا کیا ہے

تجزیہ کے سٹرکچرل لیول کی طرف متوجہ ہونے سے قبل  ان سیاسی عوامل کا تجزیہ کرنا ضروری ہے جن کی بدولت عمران خان کو انتخابی فتح نصیب ہوئی۔

2008 میں جمہوریت کی بحالی کے بعد پی پی پی کی قیادت میں ایک اتحادی حکومت وجود میں آئی۔ اگرچہ پارٹی کے پاس پارلیمنٹ میں سادہ اکثریت بھی نہیں تھی، لیکن پھر بھی اس نے پاکستان کی تاریخ میں اہم ترین قانون سازی کے لیے اکثریت کی حمایت حاصل کر لی  اور 18ویں ترمیم منظور کی  جس کے تحت صوبوں کو اختیارات منتقل کیے گئے۔ صوبائی حکومتوں کو اس ترمیم کی اہمیت اور اس طاقت کا جو ان کے پاس آ  گئی تھی کا احساس ہونے میں کچھ وقت لگا۔اگرچہ عدلیہ نے بار بار انتظامیہ کے کام میں از خود نوٹسز کے ذریعے مداخلت کا سلسلہ جاری رکھا اور نتیجہ کے طور پر یوسف رضا گیلانی کو نا اہلی کا سامناکرنا پڑا لیکن  2013 کے انتخابات کے وقت تک ملک میں جمہوری عمل کے تسلسل کی امید پائی جاتی تھی۔ پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا کہ ایک منتخب حکومت نے اپنے پانچ سال پورے کیے (اگرچہ کوئی بھی وزیر اعظم ابھی تک مکمل دور پورا کرنے کے قابل نہ ہوا) اور اقتدار اگلی منتخب حکومت کے سپر د کیا۔ یہ محسوس کیا گیا کہ اگر یہ عمل جاری رہا، تو  ملٹری کا سیاست میں عمل دخل کم کرنا ممکن ہو جائے گا ۔

 ملٹری اسٹیبلشمنٹ واقع ہونے والی تبدیلیوں سے پوری طرح آگاہ تھی۔ ملک بھر میں دہشت  کی لہر عرو ج پر تھی اور  دہشت گرد حملے ہو رہے تھے۔  2006-07 کے بعد سے مشرف کے خلاف ایک مایوسی کے عالم  کی وجہ سے فوج کا مورال بہت  گرا ہوا تھا۔  ملٹری کو ایک پالیسی کےطور پر کچھ قدم پیچھے ہٹنا پڑا  لیکن اس نے سیاسی مداخلت سے مکمل طور پر کنارہ کشی نہیں کی۔ بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد  پی پی پی اپنے واحد کرشماتی لیڈر سے محروم ہو گئی اورا محمد نواز شریف کے لیے راستہ کھل گیا۔ آنے والے واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ  نواز شریف اس قابل ہو چکے تھے کہ ملٹری قیادت کے سامنے مزاحمت کے لیے اپنے آپ کو مضبوط کر لیتے۔  خاص طور پر پنجاب میں یہ صورتحال بہت حد تک ممکن تھی  کیونکہ یہ سب سے بڑا صوبہ ہے  اور ملک کے ٹاپ بیوروکریٹ، ملٹری آفیشلز اور انٹیلی جنس اہلکاروں کا تعلق اسی صوبہ سے ہے۔  اس لیے ملٹری کے لیے ضروری تھا کہ نواز شریف کو حد میں رکھتے۔ اس کے لیے انہیں ایک مہرہ درکار تھا اور اس کے لیے عمران خان بہت موزوں آپشن تھے   جو کرکٹ اور خیراتی کاموں کے ذریعے شوکت خانم  کی تعمیر کی وجہ سے  عوام میں کافی مقبول تھے۔

ایسی بہت سی وجوہات ہیں  جو یہ یقین دلانے کے لیے کافی  ہیں  کہ انہیں اس جاب کے لیے مختص کیا گیا  تا کہ سیاسی جماعتوں کے راستے میں مشکلات کھڑی کی جائیں۔ 2009-2011 کے بیچ ایسی مہم چلائی گئی جس سے عمران خان کو ملک کی واحد امید قرار دیا جائے  اور ملک کو دو پارٹی نظام سے نجات ملے۔  اس کی وجہ شاید یہ تھی کہ مڈل کلاس طبقہ میں عمران خان کو بہت پسند کیا جا سکتا ہے۔ مڈل کلاس کے بہت سے لوگ جو ق در جوق عمران خان کے حمایتی بنتے گئے ۔ اسی وجہ سے 2011 میں خان نے لاہورمیں ایک بڑا جلسہ کیا۔ تب سے عمران خان  محض ایک سیاسی  لیڈر نہیں تھے۔ انہیں سیاسی جماعتوں کے مقابلے میں ایک متبادل کے طور پر تیار کر لیا گیا تھا  اور خاص طور پر پنجاب میں ن لیگ کی مقبولیت کو ختم کرنے  کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔

جب 2013 میں انتخابات ہوئے  اس وقت ابھی پی ٹی آئی طاقت پکڑ رہی تھی لیکن اتنی مضبوط نہیں ہوئی تھی کہ ن لیگ کو ہلا سکے۔ نواز شریف ایک بہت بڑی اکثریت کے ساتھ الیکشن جیت گئے۔ ایک  ڈیڑھ سال تک  نواز شریف نے اپنے مینڈیٹ  کو سیاسی کامیابی سمجھا اور استعمال بھی کیا۔ اس کے لیے انہوں نے مشرف کے خلاف آئین توڑنے پر کیس کرنے کے لیے سپیشل کورٹس بنائیں اور بھارت کے ساتھ بھی پر امن تعلقات کے ایجنڈا پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کی باوجود یہ دیکھتے ہوئے کہ بھارت میں نریندر مودی  کی حکومت آ چکی ہے  جیسا کہ عائشہ جلال نے ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا: شریف کا الیکشن جیت جانے کا مطلب یہ نہیں تھا کہ وہ اپنے اختیارات کااستعمال کر سکیں۔ اسلام آباد میں عمران خان کے دھرنے کو سپورٹ کر کے ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے شریف کے ہوش ٹھکانے لگا دیے۔ یہ دھرنا 2013 کے الیکشن میں دھاندلی کے خلاف شروع کیا گیا تھا۔  بعد میں دونوں پارٹیوں نے ایک جوڈیشل انکوائری پر اتفاق کیا جس میں 2013 کے انتخابات کو شفاف قرار دیا گیا۔

2014 کا دھرنا حکومت گرانے میں تقریبا کامیاب ہو گیا تھا۔ لیکن ناکامی کی وجہ پارٹی کے صدر جاوید ہاشمی کا  یہ اعتراف بنا کہ اس احتجاجی تحریک کے پچھے آرمی کا ہاتھ ہے۔ ساتھ ہی نواز شریف کو بھی اپنے اختیارات اور طاقت کا اندازہ  ہو گیا  اور انہوں نے ملٹری کے احکامات کے سامنے سر جھکانا مناسب سمجھا۔  نتیجہ کے طور پر مشرف کے خلاف جاری ٹرائل بیچ میں روکنا پڑا اور سکیورٹی ایشوز پر بھی ملٹری کے نقش قدم پر چلنا پڑا۔ کچھ عرصہ بعد ہی مشرف   بیماری کا بہانہ بنا کر ملک سے باہر چلے گئے۔ خارجہ پالیسی کے معاملات پر بھی نواز شریف کو بھارت سے تعلقات کے معاملے میں فوج کے سامنے ہتھیار ڈالنے پڑے۔ مودی جب پاکستان آئے تو یہ چیز آرمی کے لیے نواز شریف کے خلاف عوام کو اشتعال دلانے کے لیے کافی ثابت ہوئی۔ نواز شریف نے مودی کے خلاف ایک لفظ بھی نہ بولا۔

اسی طرح جب کلبھوشن یادیو جو کہ معلومات کے مطابق بھارتی ایجنسی را ء کا حاضر سروس ملازم تھا  2016 میں بلوچستان میں پکڑا گیا ۔ فوج چاہتی تھی کہ عالمی سطح پر نوازشریف اس واقعہ پر  جارحانہ رویہ اختیار کریں ۔ نواز نے ایسانہ کیا۔ اس لیے یہ کام دوسرے ممالک میں بیٹھے ڈپلومیٹس کے سپرد کیا گیا لیکن ان کے الفاظ میں اتنا اثر نہیں ہو سکتا تھا۔ کچھ غیر سفارتی طریقے بھی ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے ذریعے استعمال کیے گے۔ مثلا بھارت میں موجود پاکستانی ہائی کمشنر نے  بہت ہی غلط  انداز سے گفتگو کی۔ شاہد آفریدی جب پاکستانی ٹیم کے قائد کی حیثیت میں موہالی میں میچ کھیلنے گئے تو انہوں نے کشمیری سپورٹرز کا خاص طور پر شکریہ ادا کیا۔

دیکھنے  میں  ایسا لگتا ہے کہ شریف خاندان کا خیال یہ تھا کہ پاکستان کی سکیورٹی اور خارجہ پالیسی کا کنٹرول ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو دینے سے  ایک مشکل صورتحال سے بچاو ممکن بنا لیا گیا ہے۔  اب اسکا واحد کام ڈویلپمنٹ کے ایجنڈا پر کام کرنا تھا  جن میں میگا پراجیکٹس جن میں موٹروویز کی تعمیر، لاہور، راولپنڈی اور ملتان کے  میس ٹرانزٹ پراجیکٹ اور پاور پلانٹ کی تعمیر شامل تھی۔  اس پرفارمنس کی بنیاد پر  ان کو یقین تھا کہ وہ الیکشن جیت سکتے ہیں۔ یہ بھی خیال کیا جا رہا تھا کہ بر وقت الیکشن اور سروس ڈلیوری کے ذریعے ملک میں جمہوری عمل مضبوط ہو جائے گا۔ لیکن ایسا نہ ہوا اگرچہ الیکشن بر وقت منعقد ہوئے  اور سادہ طریقے سے انتقال اقتدار بھی ممکن ہوا۔  پارلیمنٹ میں دو تہائی کے قریب اکثریت رکھنے  کے باوجود  ن لیگ نے پی پی پی کے مقابلے میں  ضرورت سے زیادہ اختیارات ملٹری کو سونپ دیے تھے ۔

پچھلے چار سال میں جو کچھ ایسا  کیا ہوا تھا جس  کی وجہ سے صحیح  الیکشن کے ذریعے جمہوری عمل مکمل نہ ہو سکا؟

ایک اہم واقعہ جو بہت سے تجزیہ نگاروں نے نظر انداز کر دیا  وہ 2014 میں حامد میر پر قاتلانہ حملہ تھا ۔ حامد میر جیو جنگ گروپ کے مایہ ناز صحافی کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔ ان کے میڈیا گروپ نے اس حملے کا الزام آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل پاشا  پر لگایا ۔  خبروں میں بار بار جنرل پاشا کا چہرہ اور الزامات دکھائے جاتے رہے۔ پاکستان جیسے ملک میں ا س طرح کا واقعہ بہت  ہی اجنبی نوعیت کا تھا۔ ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے اس واقعہ کو بنیاد بنا رکر اس میڈیا گروپ کو ٹارگٹ کرنا شروع کر دیا۔ اس ایک میڈیا گروپ کے خلاف مختلف ہتھکنڈے استعمال کر کے اور عوام کو اس کے خلاف جذبات بڑھکا کر دوسرے تمام نیٹ ورکس کے لیے ایک مثال قائم کر دی گئی۔ سارے میڈیا گروپس نے ہار مان لی اور مزاحمت سے گریز کیا۔ ظاہری طور پر تو یہ دکھایا گیا کہ پاکستان میں ایک محرک اور آزاد میڈیا ہے لیکن اصل میں پورے میڈیا کو اپنی مٹھی میں کر لیا گیا۔

اس کے ساتھ ساتھ عدلیہ کی آزادی کا بھی ایک  ڈرامہ تخلیق کیا گیا۔ پرویز مشرف نے جب زبردستی چوہدری افتخار کو ہٹانے کی کوشش کی تو وکلا نے اس کے خلاف تحریک چلائی تھی  اور اس تحریک کے ذریعے ججز کو بحال کروا لیا گیا تھا۔ لیکن مشرف نے ایک بار پھر ایمرجنسی لگا کر ان ججز کو گھروں میں نظر بند کر دیا۔  تب سے یہ صورتحال دکھائی گئی جیسے عدلیہ آزاد ہو چکی ہو اور کسی پریشر سے گھبرانے والی نہ ہو۔  لیکن پچھلے دس سال میں سپریئر کورٹس کاٹریک ریکارڈ دیکھا جائے تو ایک مختلف پکچر نظر آتی ہے۔ عدالتیں سویلین لیڈز اور حکومتوں پر سختی کرتی  آئی ہیں لیکن  ملٹری  آفیشلز  یا ان کے سپورٹ کے حامل سیاستدانوں سے تعلق رکھنے والے معاملات میں بہت سستی اور کاہلی کا مظاہرہ کرتی رہی ہیں ۔

"خود مختار عدلیہ"  اور "فری میڈیا" نے نواز شریف کے زوال اور قید میں اہم کردار ادا کیا۔   سپریم کورٹ کے فیصلے کے بارے میں اس قدر تک لوگوں کو اندازہ تھا کہ سہیل وڑائچ نے سپریم کورٹ کے فیصلے سے کئی ماہ قبل ایک مضمون لکھا جس کا عنوان تھا: پارٹی اِز اوور۔ اس مضمون میں انہوں نے واضح طور پر کچھ پیشین گوئیان کیں کہ ن لیگ کے ساتھ مستقبل  میں کیا ہونے والا ہے۔  نواز شریف کو عہدے سے ہٹا دیا گیا اور تا حیات نا اہل کر دیا گیا۔ یہ فیصلہ ایک آن لائن ڈکشنری کی وضاحت پر مبنی رکھا گیا۔ سہیل وڑائچ کی دوسری بڑی پیشین گوئی  یعنی 18 ویں ترمیم کا خاتمہ  کا ابھی وقوع نہیں ہوا۔

اس کے بعد جونواز کے ساتھ ہوا وہ اور بھی برا تھا۔ احتساب عدالت نےسپریم کورٹ کی نگرانی میں  روزانہ کی بنیاد پر  ایک ٹرائل شروع کیا ۔  نواز اور ان کی بیٹی کو عدالت میں حاضری سے استثنا نہیں دیا گیا۔ اس کا مقصد ملک میں ووٹ کو عزت دو تحریک کو کنٹرول کرنا تھا۔  مریم نواز پر ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو شک تھا کہ وہ سویلین سپریمیسی کے لیے تحریک چلائیں گی۔  انہوں نے ایک بہترین سوشل میڈیا ٹیم تشکیل دے رکھی تھی  جو ملٹری پر سیاست میں مداخلت پر سخت تنقید کرتی تھی۔  بہترین انداز سے تنقید کرتے ہوئے یہ سوشل میڈیا ٹیم پنجاب کے عوام کے اندر ملٹری سپورٹ بیس تک پہنچنے کی کامیاب کوشش کر رہی تھی۔ کچھ تجزیہ نگاروں کے مطابق  مریم کی انہیں حرکتوں کی وجہ سے ان کے والد کو سزا ملی ۔

نواز شریف کی تا حیات نا اہلی کے بعد الیکٹیبلز  تیزی سے خان کی پارٹی کا حصہ  بننے لگے۔میڈیا پر بھی نواز شریف کے خلاف ایک جارحانہ مہم شروع کر دی گئی  اور انہیں توہین مذہب کا مرتکب اور  مودی کا یار قرار دیا گیا۔  ختم نبوت کے ایشو پر ایک پریشر گروپ تحریک لبیک کے نام سے تیار کیا گیا۔  اس گروپ نے قدامت پسند معصوم شہریوں کو متاثر کر کے نواز شریف کا ووٹ بینک توڑا ۔ گیلپ سروسے کے مطابق اس بار جتنے لوگوں نے ٹی ایل پی کو ووٹ دیئے ان میں سے 46 فیصد نے پچھلے انتخابات میں ن لیگ کو ووٹ دیے تھے۔  وفاداریاں بدلنےکے اس عمل سے ن لیگ کو بہت بڑا دھچکا لگا ۔ بہت سے ایسے حلقے تھے جہاں ن لیگ کو ٹی ایل پی کی وجہ سے بہت کم مارجن سے پی ٹی آئی سے شکست ہوئی۔

ان تمام ہتھکنڈوں سے نواز شریف کی جیت کے تمام امکانات ملیا میٹ ہو گئے  اور ان کی پرفارمنس دھری کی دھری رہ   گئی۔  میڈیا ٹرائل اور عدلیہ کی طرف سے نشانہ بنائے جانے کا یہ سلسلہ ایک سال تک جاری رہا ۔ صاف معلوم ہوتا تھا کہ پی ٹی آئی  کو فیور کیا جارہا ہے۔  پری پول رگنگ کے اس عمل نے پاکستان بھر کے ووٹر کو مایوس کر دیا۔ 2018 کے الیکشن کی کمپین پاکستانی تاریخ کی سیاہ ترین کمپین کہلائے گی۔ ان سب ہتھکنڈوں کے باوجود  بھی پی ٹی آئی واضح اکثریت حاصل نہ کر پائی۔ اس کو بمشکل اتنی سیٹیں ملیں کہ یہ دوسری پارٹیون کے ساتھ اتحاد کر کے حکومت بنا سکے ۔ صرف  چند ووٹ کے مارجن سے ہی   پی ٹی آئی کو حکومت ملی۔ الیکشن کے دن بھی بہت سے غیر معمولی واقعات سامنے آئے ۔ رزلٹ روکے گئے اور آر ٹی ایس سسٹم  جو رزلٹ کی ترسیل کے لیے بنایا گیا تھا ناکام ہو گیا۔

اس کے باوجود میں پھر کہتا ہوں کہ پچھلے پانچ سال میں عمران خان کو بے تحاشا سپورٹ بیس فراہم کی گئی۔ ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی مدد کے بغیر بھی وہ  پارلیمنٹ میں سب سے بڑی پارٹی کے طور پر سامنے آ سکتے تھے۔  لیکن جس طرح سال بھر باقی ساری پارٹیون کو خامو ش کر کے اور ان کے حق میں میڈیا کمپین چلائی گئی یہ پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین  الیکشن بن گیا۔  سب سے بری بات یہ ہوئی کہ جمہوری طریقے سے انتقال اقتدار کی امیدیں بھی دم توڑ گئیں۔ اگرچہ ملٹری کے ترجمان نے بڑے فخر سے کہا کہ مسلسل تیسری بار جمہوری طریقے سے اقتدار ایک سے دوسری حکومت کو منتقل ہوا ہے،  لیکن جس طریقے سے الیکشن کو ہینڈل کیا گیا  لیکن اس طرح کے دعووں سے حقیقت کو چھپایانہیں جا سکتا۔ عمران خان کے دھاندلی شدہ مینڈیٹ کے بارے میں بات کرنے کے بعد اب ان کے پاپولر سپورٹ بیس پر نظر دوڑانا مناسب ہو گا۔

نئی مڈل کلاس

عمران خان پاکستان کے مڈل کلاس طبقہ میں زیادہ مقبول ہیں۔ لیکن اس نئی مڈل کلاس کا نیا کیا ہے اور ان کی اہم خصوصیات کیا ہوتی ہیں؟ اس کا جواب مجھے عدنان رفیق اور عمارہ مقصود سے ملتا ہے۔   عدنان رفیق نے اپنے ایک آرٹیکل میں  لکھا ہے کہ  پاکستانی سروس سیکٹر میں ایک شاندار بہتری واقع ہوئی  ہے جو اب جی ڈی پی کے 60 فیصد حصہ پر محیط ہے۔ انہوں نے اس ضمن میں  بینکنگ، انشورنس، آئی ٹی، میڈیا، ہیلتھ اور ایجوکیشن جیسے نئے سروسز سیکٹر کا ذکر کیا ہے۔ رفیق کے مطابق اس سے قبل  پاکستان کا تنخواہ دار طبقہ  صرف پبلک سیکٹر اور چھوٹے سکیل کے انڈسٹریل سیکٹر تک محدود تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پرائیویٹ سیکٹر میں نوکری کے بہت سے مواقع کھل گئے ہیں  اور اب  عام کا سیاسی تقرریوں اور سرکاری نوکریوں پر انحصار کم ہو گیا ہے۔ اس لیے اب سیاست کا پرانا سٹائل تیزی سے غیر متعلق ہو رہا ہے۔ اپنی تازہ ترین کتاب  'دی نیو پاکستانی مڈل کلاس' میں عمارہ مقصود برٹش انڈیا کے دور کی مسلم مڈل کلاس کے بارے میں بتاتی ہیں۔ اس دور میں  اشرف سے مڈل کلاس کی طرف ایک بڑی ٹرانسفارمیشن عمل میں آئی تھی۔ نئی تعلیمی سہولیات جو کہ محدود طبقہ کی پہنچ میں تھیں، کی وجہ سے ڈاکٹرز، بیوروکریٹس، انجینئرز اور وکلا کا ایک نیا طبقہ وجود میں آیا۔

 مڈل کلاس  کی زیادہ بڑی تقسیم 1947  کے بعد ہوئی جب پاکستان  معرض وجود میں آیا۔ یہ تحریک بتدریج واقع ہوئی اور اس کے راستے میں بہت سی رکاوٹین آئیں۔  ایوب خان کے دور میں معاشی ترقی دوگنی ہوئی  لیکن کچھ سیاسی مسائل کی وجہ سے یہ واپس  نیچے کی طرف چلی گئی خاص طور پر اس وقت جب بنگلہ دیش کے نام سے پاکستان کا ایک حصہ الگ کر دیا گیا۔ بھٹو کی اداروں کو قومیانے کی پالیسی نے بھی ترقی پر منفی اثر ڈالا۔  لیکن پھر بھی سماجی ترقی کے لیے پبلک ایجوکیشن کے ذریعے مواقع سامنے آتے رہے۔ 1990 کی دہائی میں تعلیم پر سبسڈی ختم کرنے  کا فیصلہ وہا  اور پبلک سکولوں کی حالت بہتر ہوئی۔ بعد میں آنے والے بہت سے بیورکریٹس پبلک سکولوں سے ہی تعلیم حاصل کر کے آگے آئے وار گورنمنٹ کالجز میں تعلیم حاصل کی۔  کچھ نے البتہ ایچی سن کالج جیسے بڑے ایلیٹ طبقہ کے سکولوں سے تعلیم حاصل کی۔

اس لیے مقصود کے مطابق  سابقہ اور موجودہ مڈل کلاس میں ایک واضح فرق ہے۔ پرانی مڈل کلاس اچھی انگریزی بولنے، اور آرٹ اور میوزک میں خاص شغف کی خصوصیات کی حامل تھی۔ اس حوالے سے مقصود 1960 کے دور کے پاکستان میں حالات کو بطور نظیر پیش کرتے ہیں جب کراچی میں کیبارٹ ڈانس ہوتا تھا اور پی آئی اے میں شراب بھی پیش کی جاتی تھی۔ مقصود کے مطابق اب نئی مڈل کلاس مذہبی رجحان کی وجہ سے  یکسر رویہ بدل چکی ہے۔

مقصود اور دوسرے کئی بھارتی مڈل کلاس رائٹرز  کی تحاریر سے دنیا بھر کے مڈل کلاس، ان کے جذبات اور ویلیو سسٹم  کے بارے میں نظریات کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔  جیسا کہ لیلا فرنینڈس کی تحریر سے واضح ہے،  یکتائیت کو مڈل کلاس کے نظریہ سے جوڑ دینا غلطی تصور کیا جائے گا۔ اپنی سابقہ تاریخ کی مدد سے لوگ اپنے ساتھ ایسے خیالات، اور نظریات اپنے والدین سے ورثہ میں لیتے ہیں  جو  مڈل کلاس میں ان کی پوزیشن کو واضح کرتے ہیں۔ اس ضمن میں نسل اور زات اضافی کردار ادا کرتے ہیں۔ مڈل کلاس ایک تسلسل کی خواہش مند رہتی ہے جو اس کے پاس موجود نہیں ہوتا  اور سیاسی طاقت کی بھی ضرورت مند ہوتی ہے  جس کی وجہ اس کا چھچھورا پند ہوتا ہے۔ ایسا ہی ایک کردار  ان لوگوں کے کنزمپنش موڈ سے بھی منسلک کیا جاتا ہے۔

پچھلے سال پاکستانی مڈل کلاس کی کنزمپشن میں اضافے کی خبر بین الاقوامی سطح پر ہیڈ لائن بن گئی۔ اس کا اندازہ سال بھر میں ائیر کنڈیشنزر اور ٹی وی کی فروخت  ، لان پرنٹ  کی خریداری اور عید  پر شاپنگ  کے اعداد و شال سے لگایا جاتا ہے۔ اگرچہ ان سب خریداریوں میں زیادہ حصہ مڈل کلاس کا ہوتا ہے لیکن  مڈل کلاس کے سب لوگوں کے پاس ان مقاصد پر خرچ کے لیے وسائل دستیاب نہیں ہوتے۔ یہی وہ عوامل ہیں جو مڈل کلاس اور   ماڈرن کلاس کے بیچ ایک لکیر کھینچتے ہیں  اور اس فرق کو مٹانے میں ناکامی کی صورت میں عوام زچ محسوس کرتے ہیں  اور انہیں یہ بتایا جاتا ہے کہ ان کی ناکامی کی وجہ  سیاسی سٹیٹس کو ہے۔   کرپشن کے لیے نفرت بھی اسی احساس کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے ۔ عوام کو یہ بتایا جاتاہے کہ  امیر لوگ اس لیے عام عوام سے بہتر  زندگی گزار سکتے ہیں کیونکہ وہ کرپشن کرتے ہیں اور بد عنوانی کے ذریعے مالی حالات کو بہتر بنا لیتے ہیں۔

اپنے معاشی حالات اور اخراجات کی قابلیت کے بر عکس اس نئی مڈل کلاس کے بارے میں  جو ورلڈ ویو ہے  اس میں اتفاق کے بہت سے عوامل شامل ہیں۔ آج کے دور میں، جیسا کہ کرسچیان بروسئیس لکھتی ہیں کہ مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے لوگ  اپنے آپ کو ماڈرن بنانے کے لیے بہت سے طریقے اختیار کرتے ہیں۔  اس کو سمجھنے کے لیے ان عوامل کا مطالعہ ضروری ہے جو مڈل کلاس کے لوگ ماڈرن بننے کے لیے اختیار کرتے ہیں۔

ایک اور مثال ملٹی پلیکس کی ہے۔ علی احمد نوبل نے پچھلی ایک دہائی میں  نئے سائن پلیکس کے آرکیٹیکچر  کے بارے میں لکھا ہے۔اب ہماری مڈل کلاس پرانی اور سنگل سکرین سینما کو پسند نہیں کرتی۔ اب یہ کلاس ورکنگ کلاس کے لوگون پر مشتمل ہے جو اپنی پسند اور مزاج کے مطابق فلمیں دیکھتے ہیں۔ اگر بھارت سے موازنہ کیا جائے تو وہاں یہ صورتحال 70ء کی دہائی  میں دیکھنے کو ملی۔70ء کی دہائی میں بھارت میں سیاسی  عدم استحکام  اور معاشی  تنزلی  کے دور میں بھارتی فلم انڈسٹی نے لیبر ان ریسٹ، ظالمانہ کیپٹلزم کے نظام اور سماجی انصاف جیسے موضوعات پر فلمیں پیش کیں۔  90ء کی دہائی میں نئے ملٹی پلیکس وجود میں آئے اور  مڈل کلاس کی پسند کو دیکھتے ہوئے نئی طرز کی فلمیں بنائی گئیں۔

پاکستان میں ایسی ہی صورتحال درپیش ہے جہاں سینما کی بحالی جیسے موضوعات توجہ کا مرکز ہیں  اور ایسے ظاہر کیا جا رہا ہے جیسے پاکستان میں 2000ء سے قبل سینما موجود ہی نہ تھا۔ نہ صرف فلم کی نوعیت بدل دی گئی ہے بلکہ  فلم دیکھنے کا تجربہ بھی نئے رنگ میں ڈھل چکا ہے۔  500 روپے کی ٹکٹ خریدنا پڑتی ہے اور باقی رقم پاپ کارن اور کوکا کولا پر بھی خرچ کی جاتی ہے۔  سائن پلیکس میں نئی پاکستانی فلمیں دیکھنے کا عمل بھی پاکستان کی مڈل کلاس کو جنم دیتا ہے۔ ان فلموں کے مواد کے بارے میں بھی بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے۔

گیٹڈ  کمیونٹی  کو  ایک اچھی انڈسٹری کو مقامی، علاقائی اور انٹرنیشنل ٹورزم  کے فروغ دینے کے لیے اربن ہاوسنگ کے ماڈل کے طور پر بھی پیش کیا جا سکتا ہے  تا کہ ایسے طریقے  سمجھے جا سکیں  جن سے روز مرہ زندگی  اور اس کی اقدار کے بدلاؤ کے معیار کو جانچا جا سکے۔   اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے عافیہ ضیا کے ان اہم نکات کو یاد رکھنا چاہیے جن میں  انہوں نے مڈل کلاس کو سمجھنے کے لیے  تصریف کے لینز کو استعمال کرنے کی تجویز دی ہے  جس میں کموڈٹیزیا مذہب یا پھر مذہب کی کموڈیفیکیشن اہمیت کی حامل ہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ محض تصریف  ہی کسی کلاس کی تعریف کے لیے معیار پر مکمل طور پر پورا نہیں اتر سکتی اور اس کے لیے دوسرے کئی نظریات اور اعمال کو بھی مد نظر رکھنا پڑتا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *