ہرلباس میں ننگ ِوجود

بہتی گنگا میں ہاتھ دھونا ایک محاورہ ہے اور ہم لوگ گزشتہ 70برس سے مختلف ادوار میں اس محاورے کو فقرے میں استعمال ہوتا دیکھ رہے ہیں۔ متذکرہ محاورے کو فقرے میں استعمال کرنے والے امتحانی نقطہ نظر سے ایسا نہیں کرتے۔ کیونکہ یہ طبقہ کبھی کسی امتحان سے نہیں گزرتا۔بس ہر دور میں بہتی گنگا سے ہاتھ دھونا جانتا ہے۔ جب امتحان کا وقت آتا ہے تو اس طبقے کے لوگ اپنی جگہ کسی اور کو ’’کمرہ امتحان‘‘ میں بھیج دیتے ہیں اور یوں اگلی ’’کلاس‘‘ میں پہنچ جاتے ہیں۔ جمپ لگا کر نئی ’’کلاس میں شامل ہونے والے اس طبقے کے افراد پھر سے بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کے محاورے کو اپنے عمل سے پبلک کو یہ تماشا دکھاتے ہیں اور حق تو یہ ہے کہ حق ادا کر دیتے ہیں۔‘‘

لیکن گزشتہ کچھ عرصے میں ایک اور گروہ سامنے آیا ہے جس نے اس معاملے میں پہلے طبقے کے افراد کو بھی مات دے ڈالی ہے۔ یہ وہ گروہ ہے جس نے آغاز بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے سے نہیں کیا بلکہ درمیان کے تمام مراحل بیچ ہی میں چھوڑ کر انہوں نے بہتی گنگا میں ہاتھ ڈبونے کی بجائے ڈائریکٹ اشنان شروع کر دیا۔ ان کے اس اقدام سے عوام کی صفوں میں کھلبلی مچ گئی چنانچہ وہ جو ہاتھ دھونے پر اکتفا کر رہے تھے انہوں نے بھی ایک ہی جست میں اشنان کی کوششیں شروع کر دیں’’گنگا‘‘ ایک تھی اور اس سے مستفید ہونے والوں کی تعداد اس کے کناروں سے بھی بڑھ گئی چنانچہ وہ دھکم پیل شروع ہو ئی کہ خدا کی پناہ،چنانچہ جس کا زور چلا اس نے ہاتھ دھوئے اور جس کا زیادہ زور چلا اس نے کپڑے اتارے اور اشنان کر لیا۔

اس ضمن میں تازہ ترین صورتحال یہ تھی کہ لوگ اشنان کی توقع میں پہلے ہی کپڑے اتار دیتے تھے چنانچہ اس عرصے میں بڑے بڑے معززین کو دیکھا گیا کہ وہ ننگ دھڑنگ قطار میں کھڑے ہیں اور اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں بلکہ بعض ایک کو تو باقاعدہ دھکم پیل کرتے پایا گیا۔ ان میں سے کئی ایک ساحل سے ریت اٹھا اٹھا کر ایک دوسرے کی آنکھوں میں جھونکتے تھے ۔ کیچڑ اچھالتے تھے تاکہ اشنان میں سبقت لے سکیں۔ چنانچہ جنہیں اپنے مقصد میں کامیابی حاصل نہیں ہوتی تھی وہ عریاں اپنی جگہ پر کھڑے لوگوں کی چبھتی نظروں کا نشانہ بنتے اور اس وقت کا انتظار کرتے رہے جب بہتی گنگا سے ہاتھ دھونے یا اشنان کرنے کے بعد وہ اپنی برہنگی چھپا سکیں اور پھر عزت مآب کہلائیں۔

یہ سب لوگ فائدے میں رہے کیونکہ انہوں نے جلد یا بدیر اپنے بے لباس جسم کو خلعتوں میں چھپا لیا اور شرفاء میں شمار ہونے لگے لیکن ایک طبقہ ایسا بھی ہے جس کے ساتھ بہت ٹریجڈی ہوئی ہے اور ان کی حالت زار دیکھ کر دل خون کے آنسو بہاتا ہے ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اگرچہ اشنان کے لئے بہت عرصہ سے ہاتھ پائوں مار رہے تھے اور اس کے لئے انہوں نے لاکھوں لوگوں کے سامنے کپڑے بھی اتار پھینکے تھے مگر ان کی باری کچھ عرصہ پیشتر آئی چنانچہ انہوں نے فرط مسرت سے بہتی گنگا میں غوطہ لگایا اور اشنان سے فراغت کے بعد جب کپڑے پہنے اور یوں معززین کی صف میں شامل ہونے کے لئے ساحل کی طرف بڑھے تو انہوں نے دیکھا کہ کوئی ستم ظریف ان کے کپڑے اٹھا کر لے گیا ہے۔ نہ صرف یہ کہ ان کے کپڑے وہاں سے غائب ہیں بلکہ لاکھوں کی تعداد میں عوام ساحل پر کھڑے ہیں اور انہیں دیکھ کر اپنی دو انگلیوں سے سیٹیاں بجا رہے ہیں اور قہقہے لگا رہے ہیں۔ ادھر گنگا کا پانی بھی اتر گیا ہے اور یوں معززین اپنی برہنگی چھپانے کی بے سود کوشش کر رہے ہیں۔ سو اب صورت حال یہ ہے کہ عوام انہیں دیکھ کر سیٹیاں بجا رہے ہیں اور وہ دونوں ہاتھوں سے برہنگی چھپانے میں مشغول ہیں۔ نہ ان سے پانی کے اندر کھڑا ہوا جاتا ہے اور نہ وہ باہر آسکتے ہیں۔

افسوس کہ ان مظلوموں میں سے کوئی میرے پاس نہیں آیا ورنہ میں انہیں بآسانی شرمندگی سے بچا سکتا تھا میں انہیں مشورہ دیتا کہ یہ کسی راہگیر کو روکتے ،اپنا تعارف کراتے اور یہ تعارف معمولی نہیں ہونا تھا۔ کیونکہ ’’گنگا‘‘ تک رسائی کسی عام سے بندے کے لئے ممکن نہیں تھی بلکہ یہ خواص تھے اور یہ خواص ایسے ہی نہیں بنے تھے بلکہ ’’گنگا‘‘ میں اشنان کے لئے انہیں کئی بار اس عمل سے گزرنا پڑا تھا۔اس کے بعد منزل مراد تک ان کی رسائی ہوئی تھی۔ اس بار کچھ لوگوں کے ساتھ ہاتھ ہو گیا ، وہ یقیناً ان کے حریف تھے۔ جو ان کے کپڑے اٹھا کر لے گئے تھے۔اصل بات درمیان میں رہ چلی تھی ۔ میں بتارہا تھا کہ ان میں سے کوئی معزز شخص کسی ’’غیر معزز‘‘ شخص کو کہتا کہ تم مجھے اپنے کپڑے تھوڑی دیر کے لئے مستعار دو۔ میں گھر جا کر تمہیں اعلیٰ کپڑے بھجواتا ہوں تم اتنی دیر میری جگہ ’’برہنگی‘‘ کی ڈیوٹی دو۔ مجھے میری خدمات کا بدلہ ملنا ہی ملنا ہے۔ اس کے بعد تم بھی عام آدمی نہیں رہو گے ۔ اسے یہ حسین خواب دکھائو اور اسے برہنہ کر کے گھر چلے جائو ۔ من کی مرادیں پائو گے۔

میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ وہ شخص انکار نہیں کرے گا کیونکہ ان دنوں برہنگی عیب نہیں۔ بلکہ جنہوں نے ساری عمر ایمانداری کا لباس پہنا ، ان کا لباس اتارنا کچھ لوگوں کا پیشہ ہے۔ یہ ’’پیشہ ور‘‘ ہیں اور ’’پیشہ ور‘‘ میں غیرت نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *