ذکر ایک مطمئن چہرے کا

جذبات واحساسات غیر مادی ہوتے ہیں۔ انھیں جب شعوری طور پر مادی قالب پہنانا ہو تو معاملہ کس قدر مشکل ہو جاتا ہے، اس کا اندازہ مجھے اس وقت ہوا جب اپنے شفیق بزرگ خالد مسعود کی وفات پر بہت سوچنے اور لکھنے میں بہت پر عزم ہونے کے باوجود عشرہ بھر میں کچھ نہ لکھ سکا۔ خیالات لفظوں کا قالب ڈھالے ہجوم درہجوم ذہن تک رسائی حاصل کرتے رہے، لیکن بھلا ’ہجوم‘ بھی کوئی بامعنی شے ہوتا ہے!
قلم کبھی ان کے علمی مرتبے سے مرعوب ہوتا تو خیال ہوتا کہ یہ کام مجھ جیسا طفل مکتب کیا کرے گا، یہ تو ان کے ہم پلہ کسی تلمیذ اصلاحی کا مقام ہو سکتا ہے کہ وہ بتائے کہ خالد مسعود امین احسن اصلاحی کی علمی وراثت کے شعوری امین تھے۔ دورِ جدید کے جید عالم تھے۔ پھر یہ خیال ہوتا کہ انھیں جو تعلق خاطر اپنے استاد کے ساتھ تھا، اس سے عقیدت کے کچھ پھول چنوں، مگر یہ فکر دامن گیر ہو جاتی کہ کہیں سطحی ذہنیت یہ نہ سمجھ لے کہ وہ اپنے استاد کے مقلد محض تھے اور عقیدت نے ان سے نقد ونظر کی بلوغت چھین لی تھی اور مزید یہ کہ بھلا اس شخص کا فکرِ فراہی واصلاحی سے کیا تعلق جس کے بارے میں شبہ ہو جائے کہ وہ بات کے حسن وقبح سے واقف ہوئے بغیر اسے تسلیم کر لیتا ہے۔ یوں مجھے اپنے اس خیال کو ترک کرنا پڑا۔ اب میرا ذہن اس بات کی طرف مبذول ہوا کہ انھوں نے اپنی طالب علمی کا سارا عرصہ سائنسی علوم سیکھنے میں صرف کیا، مگر پھر ایسا انقلاب آیا کہ انھوں نے علوم دین کو اوڑھنا بچھونا بنا لیا۔ یہ ’’انقلاب‘‘ ان کی زندگی کا چونکا دینے والا پہلو ہو سکتا تھا، لیکن جب اس نظر سے ان کی زندگی پر ایک نظر ڈالی تو انکشاف ہوا کہ ان کی زندگی کسی بھی انقلاب یا کایا کلپ سے خالی تھی۔ علوم دین میں دلچسپی اور مذہبی زندگی تو ان کی خاندانی وراثت تھی۔ انھوں نے تو پرورش ہی ایک ایسے عالم دین کے گھر پائی تھی جو حنفی ضرور تھے، مگر تقلید کو علمی ترقی میں بہت بڑی رکاوٹ سمجھتے تھے اور یہ نصیحت ان کی شعوری میراث تھی کہ اختلافات کو مخالفت میں اور روایت پسندی کو ترقی میں بہت بڑی رکاوٹ سمجھتے تھے اور یہ نصیحت ان کی شعوری میراث تھی کہ اختلافات کو مخالفت میں اور روایت پسندی کو روایت پرستی میں نہیں ڈھلنا چاہیے۔ اسی پس منظر کی وجہ سے جب وہ سائنس کے طالب علم تھے تو اس سے آیات الٰہی کا علم حاصل کرتے تھے۔ یوں وہ کبھی دینی علوم اور مذہبی زندگی سے دور نہیں رہے تھے۔ تب مجھے یہ بات متاثر کن لگی کہ وہ بہت سی کتب کے مترجم ، مرتب اور مصنف تھے، ایک سہ ماہی رسالے ’’تدبر‘‘ کے برسوں مدیر رہے۔ یقیناًان کی انشا پردازی، نثر نگاری اور قلم کاری کا تذکرہ ان کی شخصیت کے محاسن کو اجاگر کرے گا۔ مگر یہاں یہ الجھن میرے راہوارِ قلم کو روک کر کھڑی ہو گئی کہ خالد مسعود تو دور جدید کے نثر نگار ہیں۔ وہ سائنسی حقائق ہوں یا ادق علمی مسائل، انھیں ادبی پیرائے کے بجائے سیدھے سادے الفاظ میں بے تکلفی سے بیان کرنے کے عادی ہیں۔ ان سے ایک دفعہ پوچھا بھی گیا کہ ان کی تحریر میں وہ ادبی شکوہ جو ان کے استاد کی تحریروں میں نظر آتا ہے، کیوں نہیں تو انھوں نے بڑی سادگی سے کہا تھا کہ امین احسن کا زمانہ وہ زمانہ تھا، جب لوگ شبلی وابوالکلام کے اسلوب کے عادی تھے، عربی وفارسی کا پس منظر رکھتے تھے، لیکن موجودہ نسل تو درست اردو سے بھی واقف نہیں، لہٰذا نئی نسل تک بات پہنچانے کے لیے ذوق میں تبدیلی ناگزیر ہے۔ چنانچہ میرے پاس اس موضوع پر اس کے سوا اور کچھ لکھنے کے لیے باقی نہیں بچا تھا کہ انھیں اپنی بات کا ابلاغ مطلوب تھا نہ کہ ادبی ذوق کی تسکین۔ اور اس پر میں بس اس بات کا اضافہ کر سکتا تھا کہ اس اسلوب کا اختیار کرنا ان کی سادہ اور تصنع سے پاک زندگی کے عین مطابق بھی تھا!
آخر خیالات کے اس ہجوم میں اس پہلو کی طرف میری نظر گئی کہ انسان سکندر ہو یا ارسطو، محمود ہو یا ایاز، زندگی ہمیشہ اس کے لیے پر صراط ثابت ہوتی ہے تلوار سے زیادہ تیز اور بال سے زیادہ باریک سردوگرم حالات سے سابقہ ہر ایک کو پڑتا ہے۔ محترم خالد مسعود کی زندگی بھی اس سے عبارت تھی، لیکن انھوں نے بڑے ہی صبر وتحمل، وقار ومتانت اور جرأت و عزیمت سے مصائب و آلام کا سامنا کیا۔ یہ سب کچھ حقیقت ہے اور اس میں بیان کرنے کے لیے بہت کچھ ہے، لیکن آخر میں ان کی یہ داستان عزیمت کیسے بیان کر سکتا تھا، کیونکہ ایسا کرنے کے لیے مجھے کئی رازوں سے پردہ اٹھانا پڑتا تھا، کئی ایسے اپنوں کو بے نقاب کرنا پڑتا جن پروہ خود پردہ ڈال چکے ہیں۔ میں صبر وتحمل کے اس پیکر کے متعلق یہ کیسے بتا سکتا ہوں کہ تیر کھا کے ان کی کن دوستوں سے ملاقات ہوئی تھی۔ ایسا کرنا بلاشبہ ایک ناپسندیدہ بات بھی ہوتی اور ان سے کیے اس وعدے سے بے وفائی بھی کہ ان کی بتائی باتیں سینے میں دفن رہیں گی۔ چنانچہ قلم وقرطاس کا رشتہ استوار کرنے میں ایک دفعہ پھر ناکامی ہوئی۔
تخیل کی سرگردانی اب مجھے ان کی گھریلو زندگی میں لے آئی۔ ان کا داماد ہونے کے ناتے اس حوالے سے بھی میں ان کے متعلق بہت کچھ لکھ سکتا تھا کہ وہ گھر کے کاموں میں کس قدر ہاتھ بٹاتے تھے، سودا سلف لانا ہویا کوئی اور کام ، کبھی کبیدہ خاطر نہ ہوتے، اپنی ضرورت کی قربانی ہو یا اپنی پسند وناپسند پر دوسروں کی خوشی کو فوقیت دینے کا رویہ، صرف نظر اور عفودرگزر کے حیران کن واقعات بیان کیے جا سکتے تھے، لیکن خیال ہوا کہ ایسے واقعات کا بیان شاید ان کے متعلقین کے لیے خفت کا باعث ہو گا اور مبادا انھیں یہ احساس جرم آن لے کہ ان کے ہوتے ہوئے کس صلاحیت اور کس مرتبے کے عالم دین کا قیمتی وقت اور توانائی کیسے کاموں میں صرف ہوتی رہی۔ مختلف معاملات میں ان کے درگزر اور خاموشی کا انھوں نے کس قدر غلط مطلب سمجھا تھااور ان کی معمولی خوشیوں اور بے جا تمنا کی خاطر انھیں کیسے کیسے پاپڑ بیلنے پڑے۔
جب ان کی زندگی کے اس باب کو بھی چھوڑنے کا فیصلہ کیا تو میں گھبرا گیا۔ ان پر لکھنے کے قرض کو ادا نہ کر سکنے کے خوف نے مجھے جھنجوڑ کر رکھ دیا۔ اس شدت احساس اور طبیعت پر طاری انقباض کے درمیان جاری کشمکش اب اپنے عروج کو پہنچ گئی تھی۔ اس عالم میں میری نظروں کے سامنے ان کا چہرہ گھوم گیا۔ اس چہرے پر ایک سکون تھا، ایک اطمینان تھا۔ ایک عجیب شان بے نیازی تھی۔ مجھے یاد آرہا تھا کہ ان کے چہرے کا یہ منظر اس وقت میرے ذہن کا حصہ بنا تھا جب وہ اس دنیا سے رخصت ہونے والے تھے۔ ڈاکٹر اپنی سی کوشش میں مصروف تھے اور ان کا چہرہ زبان حال سے ان کی کوششوں کا مذاق اڑا رہاتھا اور ان کی خاموش زبان یہ بتانے کے لیے بے قرار لگ رہی تھی کہ یہ زندگی چاہے عالم کی ہو یا طالب علم کی، عامی کی ہو یا خاص کی، اس کا مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ وہ اللہ کی بنائی ہوئی جنت میں رہنے کا اہل ہے!اور ان کے چہرے کا اطمینان یہ بتا رہا تھا کہ انھیں یقین ہے کہ انھوں نے اپنے شیطان کو آخری اور حتمی شکست دے ڈالی ہے اور وہ فرشتۂ اجل کو دیکھ کر غزوۂ احد میں شہید ہونے والے صحابی کی طرح خوشی سے یہ کہہ رہے ہیں کہ:’فزت برب الکعبہ‘ (رب کعبہ کی قسم میں کامیاب ہو گیا)۔ تب مجھے معلوم ہوا کہ دور جدید کے اس جید عالم کی کامیابی کی یہی داستان اس کی شخصیت کا سب سے اہم اور سب سے قابل ذکر پہلو ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *