اوجھری کیمپ کی تباہی۔ ذمہ دار کون؟

"شیخ عزیز"

10 اپریل 988  کا دن ماتم کے دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا کیونکہ اس دن علی الصبح اسلام آباد اور راولپنڈی کے شہروں میں ایک ایساواقعہ پیش آیا جس نے ملک بھر کو ایک سخت دھچکا پہنچایا۔ پہلے ایک چھوٹا دھماکہ سنا گیا اور پھر ایک بہت بڑا۔ اس کے بعد چاروں طرف میزائل ، میزائل اور دوسرے ہتھیار برسنے لگے۔

یہ واقعہ لیدیا زلزلے جیسا تھا جو 2000 سال سے زیادہ عرصہ پہلے اٹلی میں ہوا تھا۔ اس نے بہت زیادہ ہیبت اور خوف پھیلا دیا تھا، افواہوں نے دارالحکومت کو گھیر لیا تھا، جن میں سے ایک یہ تھی کہ بھارتی فوج نے  کہوٹہ نیو کلیئر سائیٹ پر حملہ کر دیا ہے۔

کئی گھنٹوں تک کوئی نہیں مل سکا جو بتا سکے کہ کیا ہوا ہے۔

اس وقت جنرل ضیاء الحق کویت میں اوآئی سی کی کانفرنس  میں شریک تھے اور انہین فوری وطن واپس آنا پڑا۔ سرکاری عہدیداروں نے لوگوں کو سمجھایا کہ ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں اور یہ اوجھری جو اسلام آباد اور راولپنڈی کے درمیان واقع ہے  میں ہتھیاروں کے ڈپو پر ایک اتفاقی دھماکہ تھا۔

لیکن تب تک بہت سی افواہوں اور غیر مصدقہ کہانیوں  کی وجہ سے عوام میں بے چینی پھیل گئی تھی اور کوئی بھی عہدیداروں کی وضاحت پر یقین نہیں کر رہا تھا۔

100 سے زائد لوگ مر چکے تھے اور اس سے کہیں زیادہ زخمی تھے۔

ضیاء اپنے بندوں کو بچانا چاہتے تھے

اوجھری، ایک پرانی جنگ عظیم دوم کے طرز کے ہتھیاروں اور بارود کا گودام  تھا جو خاص طور پر اینٹوں کی بیرکوں سے  تعمیر کیا گیا تھا  اور اس کی چھت بھوسے کی بنی تھی ۔ پہلے اسے عارضی فوجی یونٹوں کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا، سوویت کے افغانستان پر قبضہ کے بعد ہتھیاروں کی تعداد میں اضافہ ہوا اور 1979 میں آئی ایس آئی ڈائریکٹوریٹ نے اوجھری کیمپ کو ہتھیاروں کے سٹور اور بوقت ضرورت استعمال کے لیے منتخب کیا۔

کیمپ اگرچہ بھرا ہوا نہیں تھا لیکن یقینا اس کا انتظام بہتر کرنے کی ضرورت تھی۔ ۔ جنرل خالد محمود عارف  جو ضیاء کے ساتھ کام کرتے تھے اپنی کتاب میں ذکر کرتے ہیں کہ اس بدقسمت صبح جب ایک انتہائی نا تجربہ کار عملے کے ذریعے کچھ بارود ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جا رہا تھا تب یہ حادثہ پیش آیا۔ وہ لکھتے ہیں:

''تقریبا صبح 9:30 بجے جب عملہ کے افراد  ایک 122 ایم ایم راکٹ کو نیچے اتار رہے تھے  یہ اچانک نیچے گر پڑا۔  ۔ یہ زمین پر پوری قوت کے ساتھ گرا اور فوری طور پر پھٹ گیا۔ ایک آگ بھڑ اٹھی جس سے عملہ خوفزدہ ہو گیا۔ ۔ یہ ایک دھماکہ خیز فیوز کے ساتھ جوڑا گیا تھا، جو، ماہرین کے مطابق  زور دار ٹکراو سے  ایکٹیویٹ ہو سکتا تھا۔ مزید سادہ زبان میں، اس فیوز میں پوائنٹ ڈیٹونییٹنگ مکینزم تھا جس میں کسی قسم کے حفاظتی اقدامات کا سامان میسر نہیں۔''

ڈپو میں دوسرے مواد کے ری ایکشن سے معاملہ زیادہ خراب ہوا۔

وزیر اعظم سندھ کے مختصر دورے پر تھے، جب انہیں تباہی کا پتا چلا وہ فورا دارالحکومت پہنچے۔ بنیادی چھان بین کے بعد انہوں نے حفاظتی اقدام اور نشانہ بننے والوں کی بحالی کے سپیشل آرڈر جاری کیے۔

سب سے اہم سوال  یہ تھا کہ یہ حادثہ کیسے ہوا۔ یہ پتا لگانے کے لیے ایک انکوائیری کمیٹی تشکیل دی گئی۔  12 اپریل کو جونیجو نے راولپنڈی کے کارپس کمانڈر جنرل عمران اللہ کی سربراہی میں ایک پانچ رکنی انکوائری کمیشن  قائم کیا ، اس کے علاوہ اس حادثے کی چھان بین کے لیے ایک پانچ رکنی وزارتی کمیٹی بھی تشکیل کی۔

اس کمیٹی نے معاملے کی چھان بین کے بعد وزیر اعظم کو ایک رپورٹ پیش کرنی تھی جنہوں نے اس کے شواہد کو  پڑھنے کے بعد اپنی رپورٹ نیشنل اسمبلی میں پیش کرنے کے لیے تیار کرنی تھی۔ یہ کمیٹی قاضی عبدالماجد عابد، میر ابراہیم بلوچ اور ملک نعیم احمد پر مشتمل تھی جبکہ محمد اسلم خٹک اس کے چیئر مین تھے۔

یہ تمام کاروائیاں کرتے ہوئے جنیجو نے جنرل ضیاء کے ساتھ رابطہ نہ رکھا، دونوں میں کشیدگیاں پیدا ہو گئیں جو اسمبلیوں کی تحلیل اور حکومت کے خاتمہ پر منتج ہوئیں۔

جنرل ضیاء اپنی مرضی کے بندوں سے انکوائری کروانا چاہتے تھے تا کہ اگر ان کا کوئی قریبی ساتھی ہو تو اسے بچایا جا سکے۔

یہ بات جونیجو جانتے تھے اور یہی وجہ تھی کہ انہوں نے جنرل ضیاء کے پہنچنے سے پہلے ہی کمیٹی بنا دی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ جنرل عمران اللہ نے ڈی جی آئی ایس آئی کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا اور اور مناسب کاروائی کی ہدایت بھی کی تھی۔

اس  سے جنرل ضیا کو  نقصان  پہنچ سکتا تھا۔ اسلم خٹک کی رپورٹ میں کہا گیا کہ جیسی جنگی صورتحال میں ملک اس وقت پھنسا ہوا ہے، اس طرح کے حادثے ہو سکتے ہیں  اور انہیں شہادت کا ایک راستہ ہی تصور کیا جانا چاہیے اس لیے صرف  4 چھوٹے ملازمین کو قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے اور باقی سب کو معاف کر کے معاملے کو ختم کر دینا چاہیے۔ابھی تحقیقات پر جھگڑا جاری تھا جب نیشنل اسمبلی نے مطالبہ کیا کہ رپورٹ کو پبلک کر دیا جائے اور ذمہ داروں کو سزا دی جائے۔

وزیر دفاع رانا نعیم احمد رپورٹ میں تبدیلی چاہتے تھے تا کہ یہ زیادہ متفقہ اور قابل قبول ہو سکے۔  اس معاملے پر سخت الفاظ کا تبادلہ ہوا اور اسلم خٹک نے واضح کر دیا کہ رپورٹ کسی قیمت پر تبدیل نہیں کی جائے گی۔

وزیر دفاع نے ایک نئی رپورٹ پر کام کرنا شروع کر دیا۔ جب جنرل عمران اللہ سے پوچھا گیا تو انہوں نے ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ دوبارہ تھوڑی سی تحقیق کے بعد رانا  نعیم نے رپورٹ لکھی جس میں انہوں نے واضح طور پر آئی ایس آئی کو ذمہ دار ٹھہرایا۔

انہوں نے لکھا کہ چونکہ کیمپ ڈی جی آئی ایس آئی کے زیر نگرانی تھا، تو سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل اختر عبد الرحمان  اور موجودہ ڈی جی آئی ایس آئی جنرل حمید گل کے خلاف کاروائی کی جانی چاہیے۔ رپورٹ کی ایک بار پھر تبدیلی کی گئی  اور مئی 1988 کے شروع میں وزیر اعظم جونیجو نے تمام کمیٹی ارکان کے دستخط  شدہ یہ رپورٹس جنرل ضیاء کو پیش کیں۔ جونیجو نے انہیں بتایا کہ وہ اس معاملے پر ان کے جنوبی کوریا اور فلپائن  کے دورے کے بعد بات کریں گے۔

جب رپورٹس پیش کی گئیں، صدارتی ہاؤس میں بہت  کنفیوژن پھیل گئی   اور جنرل ضیاء اس معاملے کو اس طریقے سے حل کرنا چاہتے تھے جو ان کے قریبی ساتھیوں کو بچا سکے۔

جنرل ضیاء کی سب سے بڑی پریشانی جنرل اختر عبد الرحمان  تھے جن پر وہ سب سے زیادہ بھروسہ کرتے تھے۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *