نواز اور شہباز شریف کی خاموشی!

سب سے پہلے سٹارٹر کے طور پر برادرم طاہرسواتی صاحب کی جلی کٹی ملاحظہ فرمائیں:

جولائی 2017 میں جب ڈیزاسٹر اسحاق ڈار اور کرپٹ نواز شریف حکومت چھوڑ کر جا رہے تھے تو قومی خزانے میں 23 ارب ڈالر پڑے تھے۔ اسٹاک مارکیٹ 56 ہزار پوائنٹس کو چھو رہا تھا۔
ایک سال لولی لنگڑی حکومت رہی۔ ملک بحرانوں کا شکار رہا ۔ صبح سپریم کورٹ تو شام کو نیب حکومت کا ہاتھ مروڑ رہے تھے۔ دوپہر کو باجوہ یا غفورا بھی غزل سرائی کر لیتے تھے۔۔(غزل کی شان میں گستاخی پر میرا احتجاج ہے لیکن اگر اسکا لغوی مفہوم لیا جائے کہ یہ وہ آواز ہے جو شکاری کتوں کو قریب آتے دیکھ کراورشکار ہونا مقدر جان کر بیچارہ ہرن ،جسے فارسی میں غزال کہتے ہیں ، نکالتا ہے تو پھر بھی یہ ترتیب الٹ ہے )
پھر بھی جولائی 2018 کو جب خاقان عباسی کی حکومت اپنی مدت پوری کر رہی تھی تو اسٹاک مارکیٹ 42ہزار اور قومی خزانے میں 17 ارب ڈالر کی جمع پونجی پڑی تھی۔
پھر ڈاکٹرائن والے صادق امین خان کو لے آئے ۔اربوں روپے روزانہ کی کرپشن رک گئی۔ منی لانڈرنگ کا سد باب کیا گیا۔
پچھلی حکومت میں جو ہیلی کاپٹر کا سفر لاکھوں روپے میں پڑتا تھا پیرنی کے دم درود سے 55 روپے فی کلو میٹر کی اڑان بھرنے لگا
حکومت نے ساری عیاشیاں ختم کیں ۔ بھینسوں اور گاڑیوں کو نیلام کیا گیا۔
اور حالت یہ ہے کہ 17 ارب ڈالر کے ذخائر 8 ارب ڈالر پر آگئے ۔
پوچھنا یہ تھا اتنے سارے اقدامات کے بعد پیسہ کہاں گیا ؟
پتہ کر لو کہیں پیرنی کے نافرمان جنات کوئی شرارت تو نہیں کر گئے؟
اب آتے ہیں اس الجھن کی طرف کہ شہباز شریف کو کھبی دکھلا کر سجی کیوں ماری اور وہ تو پہلے ہی میاں سے میاءوں بننے کو تیار تھے اور لوگ نواز شریف اور مریم کی خاموشی پر یہ دانش بکھیر چکے تھے کہ ساری بہادری ختم ہو گئی ہے. کیونکہ وہ وقتی تھی اور اس کا مقصد الیکشن میں ہمدردی بٹورنا تھا۔ اس لیے الیکشن میں اس چال کے ناکام ہونے پر گیدڑ نے شیر کی کھال اتار پھینکی ہے۔ اور دستیاب ڈھیل پر ہی اکتفا کر لیا گیا ہے۔ رہا شہباز شریف کی گرفتاری کا سوال تو اسے ضمنی انتخابات میں ممکنہ اثرات ڈالنے کے خدشے سے اندر کیا گیا ہے۔ اور کیونکہ پاکستان کا اصل مسءلہ کرپشن ہے اس لیے اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑنے کے سب سے موثر اور بڑے ڈاکوؤں پر ہاتھ ڈالا گیا ہے۔ اوروہ دن بھی قریب ہے جب دوسرے بھی اسی کٹہرے میں کھڑے ہوں گے۔
اس مجموعہ اضداد منطق کو بوجوہ نہیں مانا جاسکتا۔
نواز شریف اچھی طرح سمجھتے ہیں پہلے ان کا مقابلہ بے نظیر سے ہوتا تھا اور ان سے لڑائ ممکن تھی لیکن وہ جان چکے ہیں کہ خلائی مخلوق سے ان کا کوئی مقابلہ نہیں۔ دوسری طرف وہ دیکھ چکے ہیں دہشت گردی ، عدم رواداری ،مزہبی انتہا پسندی جیسے گھمبیر مسائل، پاکستان کا سیکورٹی سٹیٹ بننا، سول بالادستی کا خواب ، انرجی کرائسس سب پس منظر میں چلے گیے ہیں اور اس کی جگہ صرف ایک چیز نے لے لی ہے ۔ اور وہ ہے کرپشن اور صرف کرپشن ۔ اس چورن کو بیچنے کے لیے سارا میڈیا ، ساری حکومتی مشینری پچھلے کئی برسوں سے کام کر رہی ہے اور یہ بھی نہیں کہ اس میں سرے سے کو ئ حقیقت ہی نہیں ، بس اس نمبر دو مسءلے کو نمبر ون بنانا ہے ۔ اور وہ اب بن چکا ہے۔ چنانچہ ہمارے خیال میں نواز شریف کی خاموشی کی اصل وجوہات یہ ہیں :
اول یہ کی وہ عوامی رائے عامہ جو بہت تیزی سے موجودہ حکومت کی پے درپے غلطیوں کی وجہ سے اس کے خلاف ہو رہی ہے ،دوبارہ احتجاجی سیاست کی وجہ سے عمران حکومت کے حق میں جا سکتی ہے۔ عمران لورز نفرت نواز شریف میں دوبارہ عمران کے حق میں ہو جائیں گے اور حکومت کو یہ کہنے کا موقع مل جائے گا کہ ہمارے سو دنوں کے ٹارگٹ کو ناکام کرنے کی زمہ داری نواز شریف اینڈ کمپنی پر ہے۔ جبکہ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ سو دنوں کے ٹارگٹ کا ایک فی صد بھی حاصل نہیں ہوگا۔ ویسے بھی جب عدالتیں، میڈیا، بیوکریسی اور اسٹبلشمنٹ آپ کے خلاف ہو، آپ کسی بھی لیول کے احتجاج سے کچھ حاصل نہیں کر سکتے۔ لیکن کیا یہ بات یقینی ہے کہ کوئی ڈیل نہیں ہوئی؟ جی ہاں ، اس لیےکہ ڈیل کس نے کرنی ہے؟ حکومت نے ؟ میرے خیال میں اس سوال پر بحث کو آپ یقیناً لا حاصل سمجھتے ہونگے ۔ اسٹیبلشمنٹ؟ کیا ان کے نزدیک نواز شریف اینڈ کمپنی پر اعتبار کرنے کی کوئی وجہ باقی ہے؟ کیا یہ بدکا اونٹ کبھی سدھایا جا سکتا ہے ؟ بلکہ اب یہ فیصلہ ہو چکا ہے اسے کسی قیمت پر میدان میں نہیں آنے دینا ۔ اس لیے اس کا ایک ہی حل ہے کہ عمران خان کو یقین دلایا جائے کی نواز اینڈ کمپنی کی موت میں اس کی حیات ہے اور اس وقت وہ ن لیگ کے لیے ٹرمینیٹر کا کردار ادا کر رہا ہے اور نواز شریف اس گیم کو سمجھ کر مظلومانہ جدوجہد کا فیصلہ کر چکے ہیں ۔ ان کے نزدیک وہ دن دور نہیں جب عمران بھینسیں بیچ کر ، عوام کو قرض اتارنے کے چکر میں ٹیکسوں میں جکڑ کر اور دودھ پیتے مجنووں کی فرمائشیں پوری کر کے تھک جاءے گا اور انکا کام صرف یہ ہے اس روز تک سیاسی طور پر زندہ رہیں اور وقت آنے پر اپنی مظلومیت کو کیش کرا سکیں۔
باقی رہا فلسفہ کرپشن تو دوستو ذرا ایک مرتبہ پھر مڑ کر دیکھیں کہ کرپشن کا تناسب اسی فی صد میں زیادہ ہو گا یا بیس فی صد میں؟ اور پاکستان دو لخت کرپشن کی وجہ سے ہوا تھا؟ امریکہ کی جنگ میں ہم ایندھن کرپشن کی وجہ سے بنے تھے؟ دھشت گردی ، عدم رواداری ، مذہبی انتہا پسندی کرپشن کی وجہ سے پیدا ہوئے تھی ، مسءلہ کشمیر کرپشن کی وجہ سے پیدا ہوا تھا؟ بجلی ، پانی اور ڈیموں کی کمی کرپشن کی وجہ سے پیدا ہوئے تھی ؟ اور ان حقائق کے کے باوجود بھی آپ نغمہ کرپشن الاپنے پر اصرار کرتے ہیں تو سوال ہے کہ جب تک آپ ادارے مضبوط با صلاحیت اور با کردار نہیں کرتے تب تک کسی کا کوئی جان دار اور مبنی بر انصاف احتساب ہو سکتا ہے؟ اور کیا موجودہ کرپٹ اور نا اہل جانب دار ادارے یہ کام کرسکتے ہیں؟ کیا آپ لوٹی ہوئی رقم واپس لا سکتے ہیں ؟ کیا آپ نواز اینڈ کمپنی کے علاوہ کسی کو سزا دینے کا خطرہ مول لے سکتے ہیں ؟ اگر نہیں تو اس کو مبنی بر انصاف احتساب کون مانے گا ؟ اس لیے نہیں حضور کہ آپ ان کے اتحادی ہیں اور وہ ٹہنی نہیں کاٹ سکتے جس پر بیٹھے ہیں!!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *