اقوالِ نوخیز

محبوبہ اور چائنا کے موبائل میں کوئی فرق نہیں، دونوں جب جی چاہے روٹھ جاتے ہیں۔ اُدھار اور ووٹ جس کو بھی دیں بعد میں ایک ہی جملہ کہنا پڑتا ہے: کاش نہ دیا ہوتا۔ بال پوائنٹ پین‘ لائٹر ‘ ماچس اور بیٹیاں پرایا دھن ہوتی ہیں‘ اِنہوں نے ایک نہ ایک دن جانا ہی ہوتا ہے۔ خوبصورتی نہ دیکھنے والے بھی بد صورت بن جاتے ہیں۔ اگر لائٹ نہ ہونے کی صورت میں بھی آپ کی چھت کا پنکھا گھومتا رہے تو فوراً اپنا بلڈ پریشر چیک کروائیں۔ پیسہ ہونے کے باوجود اگر آپ کی چھوٹی چھوٹی خواہشیں ادھوری ہیں تو آپ مالیاتی عذاب کا شکار ہیں۔ انسان کتے کو کاٹ لے تو یہ خبر نہیں پورا کالم ہے۔ بعض لوگ اتنے سڑیل ہوتے ہیں کہ ان کے موبائل کی بیٹری تین تین دن تک ختم نہیں ہوتی۔ سارے افراد کے ہوتے ہوئے بھی گھر میں موت کا سناٹا ہو تو سمجھ لیجئے انٹرنیٹ کے فل سگنل آ رہے ہیں۔
بعض لوگوں کے مرتے ہی لواحقین کے تمام مسائل حل ہو جاتے ہیں۔ غریب لوگ رات کو نیند کی گولی اس لیے بھی نہیں لیتے کہ وہ پیسوں سے آتی ہے۔ کسی بھوکے کو دیکھ کر آنکھوں میں آنسو آ جائیں تو خالی پیٹ باہر جانے سے پرہیز کرنا چاہیے۔ میٹھے کے شوقین اکثر لوگ چائے میں چینی کی بجائے چینی میں چائے ڈالنا زیادہ پسند کرتے ہیں۔ کئی خواتین کا بس نہیں چلتا کہ وہ 'می ٹو‘ مہم میں شوہر کا نام بھی لکھوا دیں۔ بعض لوگ اپنی تدفین میں خود شریک ہوتے ہیں۔ بعض اوقات حد سے زیادہ سکون اور اطمینان بھی بے خوابی کی وجہ بن جاتے ہیں۔ کئی موٹیویشنل سپیکرز جب کوئی حیران کن جذباتی واقعہ سناتے ہیں تو بنیادی طور پر سننے والوں کو 'اسقاطِ عمل‘ پر مائل کر رہے ہوتے ہیں۔ اکثر لڑکیاں ڈائٹنگ کا اتنا خیال رکھتی ہیں کہ بے دھیانی میں قسم بھی کھا لیں تو فوراً گرین ٹی پی لیتی ہیں۔
اگر آپ امیر ہونا چاہتے ہیں تو اس کا مطلب ہے آپ غریب ہیں۔ رات کو سوتے ہوئے اگر آپ کو کہنا پڑے کہ 'شکیلہ اے سی تے بند کر دے‘ تو اس کا مطلب ہے‘ آپ بوڑھے ہو رہے ہیں۔ عموماً جو لوگ اپنے گھر کے مسائل حل نہیں کر سکتے‘ وہ محلے کی کمیٹی کے صدر ہوتے ہیں۔ لیپ ٹاپ کا آئیڈیا مسلمانوں کا ہے کیونکہ پہلا صندوق ایک مسلمان نے بنایا تھا۔ سر درد کی گولیاں کھانے کے باوجود اگر آپ کو آرام نہ آ رہا ہو تو اُسی وقت بیگم سے سوری کر لیں۔ اگر صبح آپ کے کانوں میں بیل کی آواز نہیں آتی تو پلیز ہینڈز فری اُتار کے سویا کریں۔ کئی اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ فیس بک پر آتے ہی دوبارہ میٹرک میں داخل ہو جاتے ہیں۔ پیسہ ہو تو خوبصورتی ملے نہ ملے خوبصورت ضرور مل جاتی ہے۔ بعض لوگوں کی جیبوں میں نوٹ کڑکڑاتے نہیں غراتے ہیں۔
اکثر میاں بیوی ساری زندگی ایک دوسرے کو سمجھنے کی بجائے ایک دوسرے کی سمجھنے میں گزار دیتے ہیں۔ دُنیا میں ایسے بھی لوگ ہیں جو پے در پے ناکامیوں کے بعد پورے وثوق سے کہتے ہیں 'اگر وہ دِن نہیں رہے تو جاتے یہ بھی نہیں‘۔ جن لوگوں میں اینٹ کتے کی لڑائی ہوتی ہے‘ اُن میں اکثر پتا چلانا مشکل ہوتا ہے کہ اینٹ کون ہے۔ زپ میں انگلی پھنس جانے سے بڑی تکلیف کوئی نہیں۔ نفرت اتنی خالص چیز ہے کہ ہو جائے تو قسمیں کھانے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔ جس گھر میں پانچ سے زائد بچے ہوں وہاں فیملی پلاننگ کی ضرورت نہیں پڑتی۔ خوش حال وہ ہے جو اپنے شادی ہال پر خوش ہے۔ موت کو گلے لگانے والوں کی اکثریت شادی شدہ لوگوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ موٹر سائیکل پر شوہر کے پیچھے بیٹھی ہوئی بیوی کی طاقت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب تک وہ نیچے نہ اترے شوہر بھی نہیں اتر سکتا۔
بم کی پن اور اے ٹی ایم کا پن کوڈ جب تک آپ کے پاس ہے آپ محفوظ ہیں۔ واٹس ایپ پر جمعہ مبارک بھیجنے والوں کی اکثریت دن میں تین چار دفعہ بیوی سے پوچھ رہی ہوتی ہے 'اج کی دِن اے؟‘۔ وہ شخص جو بیک وقت ڈاکٹر‘ انجینئر‘ پائلٹ‘ عالم ‘ دفاعی ماہر اور سائنس دان ہو اُسے اینکر پرسن کہتے ہیں۔ اگر ایک جگہ چار عورتیں موجود ہوں اور پھر بھی گہری خاموشی ہو تو کچھ سوچنے کی بجائے اُن کی قبروں پر فاتحہ پڑھ کر تشریف لے جائیں۔ جو لوگ ہنس نہیں سکتے اُن کا رونا بھی جھوٹا ہے۔ شادی شدہ اور کنوارے میں کوئی فرق نہیں‘ دونوں رات بھر بے چین رہتے ہیں۔ مرغی اپنے بچوں کی قربانی نہ دے تو ہم کبھی ڈھنگ کا ناشتہ نہ کر سکیں۔ جو لوگ کہتے ہیں 'مُچھ نئیں تے کُچھ نئیں‘ اکثر اُن کی مونچھیں ہی سب کچھ ہوتی ہیں۔
ٹوائلٹ پیپر غیر مسلم شاور ہے۔ بعض لڑکیوں کو سچ بولنے کا اتنا شوق ہوتا ہے کہ شادی کے تین دن بعد ہی طلاق ہو جاتی ہے۔ کئی قوالیوں کے اشعار سن کر ایسا لگتا ہے جیسے قوال صاحب عورت بن کر زیادہ مطمئن ہیں۔ اردو ادب کی بہترین صنف‘ صنفِ نازک ہے۔ ایک کروڑ کا بانڈ نکلنے کی اتنی خوشی نہیں ہوتی جتنی اچانک کسی پرانی شرٹ کی جیب سے پانچ سو کا نوٹ نکل آنے پر ہوتی ہے۔ کچھ لوگ خاموش رہ کر بھی مسلسل بولے چلے جاتے ہیں۔ اگر آپ کسی کو بار بار پکار رہے ہیں‘ لیکن اس کی طرف سے کوئی آواز نہیں آ رہی تو عین ممکن ہے آپ ہی بہرے ہوں۔ ہم پڑھتے مسلک ہیں اور جاننا مذہب کو چاہتے ہیں۔ منصوبہ بندی کے لفظ سے ظاہر ہے کہ اِس میں بنیادی کردار بندی کا ہے۔
مرد بے شک پچاس لڑکیوں میں سے حسین ترین لڑکی کا انتخاب کر کے شادی کر لے چھ ماہ بعد ہی احساس ہونے لگتا ہے کہ باقی اُنچاس زیادہ خوبصورت تھیں۔ لو میرج کرنے والے اپنی اولاد کو کبھی یہ حق نہیں دیتے۔ باپ جتنا مرضی سخت ہو اُس کی ساری دادا گیری پوتے پوتیاں نکال دیتے ہیں۔ بڑھاپے میں شادی کرنے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ دوائیاں وقت پر کھانے کو ملتی رہتی ہیں۔ تعلیمی ٹیسٹ میں پاس ہونے کی دعا مانگی جاتی ہے اور لیبارٹری ٹیسٹ میں فیل ہونے کی۔ کئی وہ لوگ بھی خود کو دل کا مریض کہتے ہیں جن کا کسی کام میں دل نہیں لگتا۔ وٹے سٹے کی شادی بیڈ منٹن کی طرح ہوتی ہے‘ جتنی زور سے چڑی پھینکیں گے اُدھر سے بھی اتنے ہی زور سے آئے گی۔ زندگی چار دن کی ہے تو ہفتہ کیوں سات دن کا ہوتا ہے؟ 
لڑکا اگر دوستوں میں بتا رہا ہو کہ میں نے اب سگریٹ پینا چھوڑی دی ہے‘ تو سمجھ جائیں کہ والدین کا اس میں کوئی کردار نہیں۔ بعض لوگ اپنی محبوبہ کی اتنی تعریفیں کرتے ہیں کہ سننے والے کو بھی محبت ہو جاتی ہے۔ جن میاں بیوی میں زیادہ لڑائی ہوتی ہے ان کے بچوں کی تعداد بھی زیادہ ہوتی ہے۔ بعض لوگ دولت مند ہو کر بھی ضرورت مند رہتے ہیں۔ شرم سے پانی پانی ہونا سیکھ لیا جائے تو وطن عزیز میں پانی کی کمی دور ہو سکتی ہے۔ بھکاری کبھی کسی کو بھیک نہیں دیتا۔ ہمارے معاشرے میں مرد کی عزت اُس وقت ہوتی ہے جب اُس کی جیب بھاری ہو اور عورت کی اُس وقت جب اُس کے پائوں بھاری ہوں۔ پچاس فیصد شوہر بیویوں کے آگے چپ رہتے ہیں‘ اور باقی پچاس فیصد کچھ بولتے ہی نہیں۔ جن کے دماغ میں پتھری ہوتی ہے وہ کانوں سے ہی سننے اور سمجھنے کا کام لیتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *