ضمنی انتخابات ۔ ایک تجزیہ

روایت یہ ھے ضمنی الیکشن عام طور پر حکومتی پارٹی جیت جاتی ھے۔ خود عمران خان اس بات کو تسلیم کرتے ھیں ۔ اور انہوں نے یہ تب کہا تھا جب ن لیگ حکومت اپنے دور میں ضمنی انتخابات زیادہ تر جیت رھی تھی۔ اور وجہ اس کی بڑی عبث ھے۔ ووٹر یہ سوچ کر حکومتی امیدوار کو ووٹ ڈالتا ھے۔ تاکہ اس کا ووٹ ضائع نہ ھو۔ اور کل اس کے کام آے ۔ برصغیر کا عمومی انتخابی کلچر یہی ھے۔ اب ایسے روائتی اور تاریخی کلچر میں تحریک انصاف حالیہ ضمنی انتخابات ایک حوالے سے ھار گئ۔ وہ اپنی چھوڑی ھوئ تمام قومی اور صوبائی سیٹیں واپس جیت نہیں سکی۔ جبکہ ن لیگ نہ صرف اپنی چھوڑی ھوئ سیٹیں واپس حاصل کرنے میں کامیاب رھی۔ بلکہ ان میں اضافہ بھی ھوا۔ قومی اسمبلی کی گیارہ سیٹوں کے ضمنی الیکشن میں ن لیگ نے حمزہ شہباز کی صرف ایک سیٹ خالی کی تھی۔ خاقان عباسی اس پر بھاری اکثریت سے جیت گئے۔ خاقان عباسی کی یہ جیت اس لحاظ سے بھی حیران کن ھے۔ کہ ان کا اپنا تعلق مری سے ھے۔ یوں لاھور سے ان کی جیت اھل لاھور کی جانب سے مسلم لیگ ن کے ساتھ کمٹمنٹ کی ایک علامت بھی ھے۔ ن لیگ اپنی اس ایک قومی سیٹ کے علاوہ تین مزید قومی سیٹیں جیت گئ۔ جن میں اٹک، فیصل آباد سے ایک ایک اور لاھور سے عمران خان کی سیٹ پر خواجہ سعد رفیق کی شاندار فتح شامل ھے۔ سعد رفیق کی یہ جیت بذات خود ایک الگ معرکہ ھے۔ اور خاص اہمیت کا حامل ھے۔ تحریک انصاف اپنی چھوڑی ھوئ چھ میں سے تین سیٹیں ھار گئ۔ کچھ یہی معاملہ صوبائی سیٹوں کا رھا۔ پنجاب میں ن لیگ نے اضافہ کیا۔ تحریک انصاف کے پی کے میں زیادہ سیٹیں لے گئ۔ لیکن سوات کی اپنی دونوں سیٹیں ھار گئ۔ اسی طرح اے این پی دو سیٹوں پر کامیاب رھی ۔ اور بنوں کی قومی سیٹ جمعیت علماء اسلام کے حصے میں آئ ۔ یہ سیٹ عمران خان نے خالی کی تھی۔
گویا پچاس دن کی حکومت میں تحریک انصاف اپنی پچاس فیصد ضمنی سیٹیں گنوا بیٹھی ھے۔ اسے آپ تحریک انصاف کے لیے ایک ویک اپ کال کہہ سکتے ھیں ۔ تحریک انصاف کے فالوورز اپنی شکست کو یہ کہہ کر اطمینان حاصل کر رھے ھیں ۔ کہ نتائج ثابت کرتے ھیں ۔ تحریکی حکومت نے اداروں میں مداخلت نہیں کی۔ اور ضمنی انتخابات میں دھاندلی نہیں ھوئ۔ یہ بڑا دلچسپ تبصرہ ھے۔ گویا آپ یہ تسلیم کر رھے ھیں ۔ 2018 کے عام انتخابات میں اداروں میں مداخلت ھوئ تھی۔ اور دھاندلی ھوئ تھی۔ تبھی آپ جیتے تھے۔ چلیں یہ مان لیتے ھیں ۔ آپ پاپولر تھے۔ اور اسی لیے جیتے تھے۔ تو گویا اب آپ کی مقبولیت صرف پچاس دنوں میں آدھی رہ گئ۔ اب یہ آپ کے سوچنے کا مقام ھے۔ آپ کیوں ھارے؟ کیا ان پچاس دنوں میں آپ کی حکومت کی کارکردگی ایسی ناکام رھی۔ کہ آپ کا اپنا ووٹر آپ سے ناراض ھو گیا؟ آپ اپنی پالیسیوں میں فیل ھو گئے ؟ آپ کا کرپشن کا بیانیہ فلاپ ھو گیا ؟ بڑھتی مہنگائی آڑے آ گئ۔ آپ کی مالیاتی اور معاشی پالیسیاں سامنے نہ آ سکیں؟ کچھ تو ھوا ھے۔ لیکن یہ ظاہر ھے۔ لوگ آپ سے مایوس ھو گئے ھیں ۔ اور وہ بھی صرف پچاس دنوں میں ۔ یا پھر 2018 کے عام انتخابات میں آپ کو اداروں نے جتوایا تھا۔ اور آپ کی اصل پوزیشن یہی تھی۔ جس کی قلعی ان ضمنی انتخابات میں کھل گئ۔ تحریک انصاف کے کچھ دوستوں کا یہ لاجک درست نہیں ۔ کہ ان کے امیدوار کمزور تھے یا لوٹے تھے۔ اگر ایسا تھا بھی ، تب بھی یہ ان کے آئیڈیلزم کی شکست ھے۔ جس کے متعلق ھم ھمیشہ یہ لکھتے آے ۔ عمران خان کا آئیڈیلزم فیک ھے۔ اور لوگوں کو بیوقوف بنا رھا ھے۔ اور وقت اسے اب ثابت کر رھا ھے۔
دوسری جانب ن لیگ کی یہ جیت نوازشریف کے بیانیے کی فتح ھے۔ ن لیگ حکومت نے اپنے دور حکومت میں جو ترقیاتی کام کرواے ھیں ۔ یہ ان کی فتح ھے۔ ن لیگ کی مالیاتی اور معاشی پالیسیاں کی فتح ھے۔ یہ اس بات کی ضمانت ھے۔ پاکستان کے لوگ ن لیگ حکومت کی کامیابیوں کو تسلیم کرتے ھیں ۔ اس پر اعتبار اور اعتماد کرتے ھیں ۔ اسے واپس اقتدار میں دیکھنا چاھتے ہیں ۔ نوازشریف کے ووٹ کو عزت دو کے بیانیے کو قبول کرتے ھیں ۔ ن لیگ کی کامیابی اس بات کا اعلان ھے۔ کہ پاکستان کے لوگوں نے اداروں اور تحریک انصاف کے اس بیانیے یا پروپیگنڈے کو رد کر دیا ھے۔ کہ نواز شریف کرپٹ ھے۔ یا مودی کا یار ھے۔ یا نااھل ھے یا سیکیورٹی رسک ھے۔ یہ اداروں کی شکست ھے۔ یہ میڈیا کی شکست ھے جو اس بیانیے کا سالوں سے پرچار کر رھے تھے۔ یہ اس بات کا ثبوت ھے۔ لوگ پروپیگنڈے سے متاثر نہیں ھوتے۔ یہ جیت اس بات کا ثبوت ھے۔ ن لیگ کا ووٹ بنک مستحکم ھے۔ یہ اس بات کا ثبوت ھے۔ پاکستان کے لوگ نوازشریف سے محبت کرتے ھیں ۔ یہ اس بات کا ثبوت ھے۔ کہ لوگ یہ سمجھتے ہیں ۔ نوازشریف کو ناجائز سزا دی گئ ھے۔ نوازشریف خاموش رھے۔ یا شہبازشریف کو جیل میں ڈال دیں ۔ ن لیگ کا ووٹر بہت کمٹڈ ھے۔ غصے میں ھے۔ اور ن لیگ کی اس جیت میں اداروں کے لیے ایک سبق ھے۔ ایک پیغام ھے۔ آپ سیاسی رہنماوں کو بنا اور بگاڑ نہیں سکتے۔ ختم نہیں کر سکتے۔ اور جب آپ یہ نہیں کر سکتے تو بہتر یہی ھے۔ آپ پاکستان کے عوام کی آواز سنیں ۔ ان کی راے تسلیم کریں ۔ اسی میں آپ کی عزت ھے اور کامیابی ھے۔ سویلین بالادستی کو قبول کریں ۔ اور پاکستان کو آزاد جمہوری راستے پر چلنے دیں ۔ جمہوریت کو کنٹرول کرنے کی کوشش نہ کریں ۔ اور آخر میں یہ سچائی جو ن لیگ کی فتح نے ثابت کی۔ نوازشریف ایک سیاسی حقیقت ھے۔ جو موجود ھے۔ اسے موجود رھنے دیں ۔ اسے کام کرنے دیں ۔ اسی جمہوری عمل میں ملک اور قوم کی بہتری ھے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *