ضرورت کی طاقت

شو شروع ہونے والا ہے۔ جب سے پی ٹی آئی حکومت نے حلف اٹھایا، ایک صورت پیدا ہو رہی تھی اور اب یہ بلوغت اختیار کر چکی ہے۔ ابھی تک حکومت  خوف اور امید کے درمیان میں رہی ہے، لیکن یہ  صورتحال خطرناک انجام کے قریب تر ہو چکی ہے۔ جب آئی ایم ایف کے ساتھ بات چیت آگے بڑھے گی اور استحکام پیکج کی شرائط وغیرہ سامنے آئیں گی تو  معلوم ہو گا کہ حکومت کیا کر سکتی ہے اور کیا نہیں کر پائے گی۔

فی الحال حکومت قرضہ لینے کے لیے آئی ایم ایف کی طرف جانے کی وجہ سے تنقید کا سامنا کر رہی ہے کیوں کہ انتخابی مہم میں عمران خان نے بارہا یہ کہا کہ اگر وہ  اقتدار میں آئے تو پاکستان پر قرضوں کے بوجھ میں اضافہ نہیں کریں گے۔ سب سے پہلے یہ بات  واضح  کر لینی چاہیے: بیانات  سے قطع نظر ، حکومت نے آئی ایم ایف سے  تعاون حاصل کرنے کا صحیح فیصلہ لیا کیوں کہ بین الاقوامی سطح پر صورتحال کا سامنے کرنے کے لیے یہ آخری آپشن ہوتا ہے ، اور باقی تمام  آپشنز جنہیں وزارت خزانہ 'دوست ممالک' سے 'بھیک مانگنا (کامرس ایڈوائزر کی زبان استعمال کرنے کے لیے)  قرار دیتے رہے، ناکام ہو چکے تھے۔ تو یہ فیصلہ بذات خود درست ہے اور بہت پہلے کیا جانا چاہیے تھا۔

پی ٹی آئی قیادت کو  چاہیے کہ حزب اختلاف کی تنقیدوں پر غصہ کرنے کی بجائے اس سے سبق سیکھے۔  سبق آسان ہے: ''آج جو آپ کہتے ہیں اس میں محتاط رہیں کیوں کہ ہو سکتا ہے کل آپ کو اپنے الفاظ واپس لینے  پڑ جائیں۔ آج آپ جو وعدے کریں ان میں محتاط رہیں کیوں کہ معروف اقوال کے برعکس کل ضرور آتا ہے اور لوگ یاد رکھتے ہیں کہ آپ نے کیا کہا تھا۔''

ایک سادہ وجہ کی بنا پر اسے انڈر لائن کرنا بہت اہم ہے (آج کل  تو ویسے ہروجہ سادہ ہی ہوتی ہے )۔ جب عمران خان وزارت  عظمی کے لیے الیکشن مہم میں مصروف تھے  تب انہوں نے اپنی نا تجربہ کاری اور فیصلہ سازی میں نا اہلی  اور بے بنیاد نظریہ کی وجہ سے جو تنقید مخالفین سے سنی وہ محض سیاسی رد عمل نہ تھی بلکہ مخالفین ایک سچائی ان کے سامنے رکھ رہے تھے۔

جواب میں ان لوگوں کو بتایا گیا 'پریشان نہ ہوں' عمران سیکھیں گے، اور ان  کی نیت اچھی ہے۔  اس  بات سے کچھ عرصہ تک تو  تحریک انصاف کو فائدہ ہوا    لیکن اب ہم اس بات کا انتطار کر رہے ہیں کہ آیا  وہ کچھ سیکھ رہے ہیں یا نہیں۔ آئی ایف کی طرف جانے کا فیصلہ ممکنہ طور پر ان کے لیے سیکھنے کا سب سے بڑا موقع ہے، لیکن کیا وہ سیکھ رہے ہیں؟پہلا سبق جو انہیں سیکھنا چاہیے یہ ہے کہ انسان کو اپنے وعدوں کے بارے میں محتاط ہونا چاہیے، آپ کو ان میں سے 1یا 2  نبھانے  بھی پڑ سکتے ہیں۔ دوسرا یہ کہ آپ جو خواہش کرتے ہیں اس میں احتیاط برتیں، ہو سکتا ہے کہ آپ کی کوئی خواہش پوری ہو جائے اور پھر آپ کو سمجھ نہ آئے کہ اس کا کرنا کیا ہے۔ اور تیسرا سبق یہ ہے کہ اپنے کان اور آنکھیں کھلی رکھیں، اقتدار اپنے اسباق عجیب ترین طریقوں سے سکھاتا ہے۔

یہ عین ممکن ہے کہ جب عمران خان اور ان کے حامی ملک بھر کے عوام سے وعدہ کر رہے تھے کہ  وہ  غیر ملکی قرضوں کا سہارا کبھی نہیں لیں گے (کم از کم آئی ایم ایف سے تو کبھی نہیں)،  تب انہیں یہ معلوم ہی نہ  ہو کہ انہیں اپنے الفاظ پر قائم رہنے کا موقع بھی مل سکتا ہے۔ عین ممکن ہے کہ وہ صرف وہ چیزیں کہہ رہے تھے جو کہنے میں اچھی لگتی تھیں، تعریف کی موجب بنتی تھیں اور مہذب ٹاک شوز کے  موضاعات بنتی تھیں۔ تو انہیں یہ سیکھنے کی ضرورت ہے کہ ان وعدوں کو یا ان میں سے کچھ کو نبھانا ہو گا۔

یہ بات اس لیے  اہم ہے  کہ اب وہ وعدوں کی ایک نئی فہرست بنا رہے ہیں جو ان کا پیچھا کرنے کے لیے واپس آئیں گے۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ یہ پاکستان کا آخری آئی ایم ایف معائدہ ہو گا، کیوں کہ انہیں کچھ اصلاحات لانی ہیں جو غلط کاریوں کو ہمیشہ کے لیے حل کر نے میں مدد گار ثابت ہوں گی اور ملک اس قابل ہو جائے گا کہ اسے دوبارہ قرض مانگنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

یہ ایک عظیم مقصد ہے اور ملک میں ہر کوئی انہیں کامیاب ہوتا دیکھنا پسند کرے گا۔ لیکن یہاں شک میں مبتلا ہونے کی ایک اچھی وجہ ہے۔ انہوں نے  یہ نہیں بتایا کہ پاکستان کیوں آئی ایم ایف کے اس دائمی چکر میں پھنسا ہوا ہے۔ اپنے  بیان میں اب بھی عمران کا کہنا یہی ہے کہ قرضے اس لیے بڑھتے ہیں کہ کرپٹ سیاست دان پیسا ملک سے باہر لے جاتے ہیں۔ اپنے کیس کی حمایت کے لیے وہ سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہیں جو کہتی ہے کہ 10 بلین ڈالر ہر سال ملک سے باہر بھیجا جاتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں بس اتنا کرنا ہے کہ اس  منی لانڈرنگ کو قابو کرنا ہے، اور ایسا کرنے سے ہم آزاد اور خود مختار ہوں گے۔

یہ وضاحت  قابل اعتماد نہیں لگتی۔ ۔ خان اور ان کی جماعت کے کتنے ارکان اصل میں اس 10 بلین ڈالر کی تعداد کے بارے میں جانتے ہیں؟ یا انہوں نے اس کے بارے میں صرف اخباری کہانی پڑھی ہے اور اس پر ذہن  بنا لیا ہے کہ یہی سچ ہے؟  کیا یہ خان کی معاشی پالیسی کی بنیاد یہی ہے ؟

آسان حل اور بچوں کی طرح یقین دہانیاں کروا کر  اب وہ اس حال میں پہنچ چکے ہیں کہ انہیں آئی ایم ایف کے پاس جانے پر سخت تنقید کا سامنا ہے اور وہ اپنے الفاظ واپس لینے پر مجبور ہیں۔ یاد رہے کہ جب یہ حکومت  اقتدار میں آئی ہم نے معاشی منصوبہ بندی کے بارے میں عمران خان کے منہ سے جو چیز زیادہ تر سنی  وہ محض اوور سیز پاکستانیوں سے تعاون کی درخواست اور لوٹ کر باہر بھیجے گئے مال کو واپس لانے کے بارے میں اقدامات پر مبنی تھی۔ جب  ان کی یہ چال کام نہ آئی  تو بات دوست ممالک سے تعاون کی طرف موڑ دی گئی ۔ جب وہ پینترا بھی کام نہ آیا تو پھر انہیں آئی  ایم ایف کے علاوہ کوئی راستہ نہ سوجھا۔

اب ہمیں ایک اور بتی کے پیچھے لگا دیا گیا ہے ۔ کہا جا رہا ہے کہ سالانہ  10 بلین ڈالر باہر جا رہے ہیں انہیں ملک  سے لے جانے سے روکا جائے گا تا کہ معاشی حالت بہتر ہو جائے۔ یہ معلوم کرنے تک کہ یہ بھی ایک درست معاشی پالیسی نہین ہے ہمیں اور کتنے ماہ تک انتظار کرنا ہوگا؟

انہوں نے اقتدار کی خواہش کی، اور اب وہ اس کے مالک ہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ انہیں یہ پتہ ہی نہیں ہے کہ اقتدار کو چلانا کیسے ہے۔ اس لیے وہ ایک بتی سے ہٹ کر دوسری کے پیچھے لگ جاتے ہیں ۔ اس طرح تو کسی قسم کی تبدیلی نہیں لائی جا سکتی۔  اقتدار کے حصول نے انہیں ایک اہم سبق  ایک عجیب طریقے سے سکھایا ہے۔ سبق یہ ہے کہ عمران خان یا تو اپنی آنکھیں اور کان کھول دیں اور دیکھیں کہ ہو کیا رہا ہے ، سیکھنے کی کوشش کریں اور یا پھر اس سبق کا انتظار کریں جو ضرورت ان کو سکھائے گی۔ ضرورت یہ سکھائے گی کہ اقتدار کوئی مذاق نہیں ہوتا  اور نہ ہی کسی کو اس کے  ساتھ کھیلنا چاہیے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *