ادھوری رات

میں جانتا ہوں کہ عمران نے میڈیا  سے تین ماہ کی مہلت کی درخواست کی ہے لیکن معاشی مارکیٹ انہیں کسی قسم کی مہلت دینے کو تیار نہیں ہے۔ جب روپیہ ڈالر کے مقابلے میں گرنا شروع ہوا اور ایک دن میں سٹاک مارکیٹ میں 1300 پوائنٹ کی کمی ہوئی  تو ہمارے وزیر اعظم نے انویسٹرز کو تسلی دینے کے لیے کیا کہا؟  انہوں نے وہی رویہ اختیار کیا جو انہیں سکھایا گیا ہے ، کرپشن  کے خلاف نعرے بازی کی اور غیر قانونی طور پر بیرون ملک بھیجی گئی رقوم واپس لانے کا وعدہ ایک بار پھر دہرایا ۔ انہوں نے یقین دلایا کہ غیر ممالک میں بیٹھے پاکستانی 10 بلین ڈالر کا  گیپ ہمارے ملک کے اکاونٹ میں جمع کروائیں گے۔ اگرچہ عمران کے سپورٹرز اس طرح کے دعووں پر یقین کر لیتے ہیں لیکن مارکیٹ کو اس سے کوئی فائدہ نہ ہوا  اور بہت سے ٹریڈرز نے عمران کے اس رویہ پر مایوسی کا اظہار کیا۔

پریشانی کے بعد تکلیف آتی ہے۔ چونکہ روپے کی قیمت بہت گر چکی ہے اس لیے ہر چیز کی قیمت میں اضافہ متوقع ہے۔ چونکہ تمام درآمدات کی قیمتیں بڑھیں گی اس لیے روپے کی قیمت گرنے کا اثر پوری معیشت پر ہو گا  اور ہر چیز مہنگی ہونے کی وجہ سے غریب بہت بری طرح متاثر ہو گا۔ پیٹرول اور گیس کی قیمتیں بڑھیں گی  اوربجلی کی قیمت بھی کنٹرول سے باہر چلی جائے گی۔ ان کا کیا ہو گا جو سمجھتے ہیں کہ خان اور چیف جسٹس مل کر ڈیم بنا کر بجلی کے مسئلے پر قابو پا لیں گے؟

جیسے جیسے ہماری معیشت تباہی کی طرف گرتی جا رہی ہے تو اصل میں اس کا انچارج کون ہے؟ پی ٹی آئی معیشت کی تباہی کا ذمہ دار ن لیگ کو قرا ر دیتی ہے۔ لیکن اب عمران کے لیے الزامات کی گیم فائدہ مند نہیں ہو گی ۔ اب وہ وزیر اعظم بن چکے ہیں  اور بک ان کے ساتھ ہی رک سکتا ہے۔ انہوں نے اسد کو اپنا وزیر خزانہ بھی بنا رکھا ہے چاہے یہ فیصلہ فائدہ مند ہو یا نقصان دہ۔ چونکہ میں اسد عمر سے کبھی نہیں ملا اس لیے  مجھے یہی محسوس ہوتا تھا کہ وہ ایک سلجھے ہوئے اور سمجھدار انسان ہیں اور کارپوریٹ سیکٹر میں تجربہ بھی رکھتے ہیں۔ لیکن میں کتنا غلط تھا۔ میرے ایک عزیز دوست نے مجھے اینگرو کمپنی کے پانچ سال کے اعداد و شمار بھیجے ہیں ۔ یہ اس زمانے کے ہیں جب اسد عمر اس کمپنی کے سی ای او تھے۔ یہ اعداد و شمار تو بہت پریشان کن ہیں۔ مجھے تو یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ کمپنی نے ان کو پانچ سال تک کیسے برداشت کر لیا۔

جن کو نہیں معلوم انہیں بتاتا چلوں کہ اینگرو کے شئیرز اسد عمر کے دوران 77 فیصد تک گر گئے  جس کی وجہ انہوں نے بے ڈھنگ طریقے سے فرٹیلائزر پلانٹ لگانے کا عمل تھا۔ 2012 میں جب اسد عمر رخصت ہوئے تو کمپنی کی سالانہ رپورٹ میں لکھا گیا: کمپنی کا وجود خطرے میں پڑ چکا تھا۔ فرٹیلائزر آپریشن کے ایک سال کے اندر کمپنی کو 3 ارب روپے کا خسارہ برداشت کرنا پڑا۔ دوسرے پراجیکٹ بھی خاطر خواہ کامیابی نہ سمیٹ سکے۔ جب پاکستانی کسان ملک کی ساری کھاد خرید لیتے ہیں  تو یہ دیکھنا مشکل ہو جاتا ہے کہ  اینگرو فلیگ شپ پلانٹ ترقی کی راہ پر کیوں نہ آ سکا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ بہت سے گیس فیلڈز کی ڈپلیشن کی وجہ سے  حکومت اس پلانت کو راء میٹریل فراہم نہ کر سکی ۔ جب یہ اربوں روپے کا پراجیکٹ چل رہا تھا تب یہ کسی قسم کی کھاد تیار نہ کر سکا۔

تو پھر ایک کارپوریٹ ٹائٹن کا اعزاز رکھنے والا اس قدر ناکام کیسے ہو گیا؟ میرے ذرائع کے مطابق انہوں نے اور کچھ دوسرے اینگرو ایگزیکٹوز نے پچھلی حکومتوں اور سیاستدانوں کو مسئلہ حل کرنے پر آمادہ کرنے کے  لیے پورا زور لگایا لیکن کامیابی نہ ملی۔ انہیں بتایا گیا کہ گیس کافی نہیں ہے۔ میرے ایک دوست نے کچھ دن قبل اسلام آباد سے فون کر کے بتایا کہ وہ وزارت خزانہ کے دفتر گئے تھے  اور جس قدر بے چینی اور پریشانی کا عالم وہاں انہوں نے دیکھا ہو پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ سعودی عرب کے دورے پر جا کر بھیک مانگ کر وہاں سے جو شرمندگی خان کو اٹھانا پڑی اس کی خفت مٹانے کے لیے ان کا کرکٹ کیریر یا کرشماتی شخصیت  کافی نہیں ہو سکتی اگرچہ اب بھی ایک بڑا طبقہ ا ن کی تعریفوں کے پل باندھنے میں مصروف نظر آتا ہے۔

اور یوں پھر آئی ایم ایف تک جانا پڑا۔ وہاں اس عمر کو ایسے  عالمی سطح کے  بیوروکریٹس اور بینکنگ ایکسپرٹس سے مذاکرات کرنا ہوں گے جو اپنے تجربہ کی روشنی میں پاکستان کی مشکلات کا اندازہ لگا کر فیصلہ کریں گے۔ حلف اٹھاتے وقت ہی اگر درخواست بھیج دی جاتی تو  ہم بر وقت مالی مشکلات پر کسی حد تک قابو پاسکتے اور صورتحال اس قدر خراب نہ ہوتی جو اب ہے۔ البتہ خان کو ان کے اپنے جاہلانہ نظریہ کی وجہ سے مشکل کا سامنا ہے۔ کئی سال سے وہ دوسرے سیاستدانوں کو آئی ایم ایف کا غلام کہہ کر تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں  اس لیے ان کے لیے آسان نہ تھا کہ  وہ سخت شرائط پر آئی ایم ایف سے قرض کی درخواست کرتے۔  لیکن پھر بھی اپنی ذات پر ہمیشہ ریاستی مفاد کو ترجیح دینا چاہیے  لیکن خان کے پاس خود پسندی اور ذاتی اغراض سے اوپر کچھ نہیں ہے۔ یہ توقع کی جا رہی تھی کہ خان کے ارد گرد کچھ لوگ ایسے ہوں گے جنہیں فنانسنگ کی سمجھ بوجھ اور بزنس کا کچھ تجربہ  ہو گا لیکن  جب خان کی ٹیم پر نظر دوڑائی جائے اور ان کا بیک گراونڈ دیکھا جائے تو  معلوم ہوتا ہے کہ یہ کتنے نا تجربہ کار اور بے سمجھ لوگ ہیں۔

سچ یہ ہے کہ ریلیوں میں دھمکیاں دینا اور گالی بکنا انسان کو اقتدار سنبھالنے اور کارکرگی دکھانے کے قابل نہیں بناتا۔ اور اگر خان کو اپنی ٹیم پر بھروسہ بھی تھا تو  بھی 2 ماہ کے عرصہ میں سب کچھ کھل کر ان کے سامنے آ گیا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *