’کے الیکٹرک کی فروخت،شریف برادران کا تعاون حاصل کرنےکیلئے 2کروڑ ڈالرادا کیےگئے‘

کراچی: امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ دبئی سے تعلق رکھنے والے ابراج گروپ کے بانی عارف نقوی نے 'کے الیکٹرک' کی فروخت میں شریف برادران کا تعاون حاصل کرنے کے لیے ایک کاروباری شخص نوید ملک کو مبینہ طور پر 2 کروڑ ڈالر (تقریباً 2 ارب 66 کروڑ روپے) دیئے۔

وال اسٹریٹ جرنل میں شائع ہونے والے مضمون میں الزام لگایا گیا کہ نوید ملک کو یہ ٹاسک دیا گیا تھا کہ وہ سابق وزیر اعظم نواز شریف اور سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کا تعاون یقینی بنائیں، تاکہ عارف نقوی کو کے الیکٹرک میں ابراج گروپ کے شیئرز فروخت کرنے میں مدد مل سکے۔

واضح رہے کہ کراچی کو بجلی فراہم کرنے والی کمپنی 'کے الیکٹرک' میں حکومت پاکستان کے 24.6 فیصد شیئرز ہیں۔

کمپنی کے دستاویزات اور ای میل کا جائزہ لینے کے بعد اخبار نے دعویٰ کیا کہ ابراج گروپ کے ایک پارٹنر عمر لودھی نے اکتوبر 2015 میں عارف نقوی کو بتایا کہ نوید ملک نے اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے الیکٹرک ڈیل کو چینی بڈرز کو دینے کے لیے ’پرزور حمایت کو تیار تھے‘۔

ای میل میں یہ بھی بتایا گیا کہ کاروباری شخص کی جانب سے کہا گیا کہ ’اس کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ ہر تفصیلات شریف برادران سے شیئر کریں اور ان کا آشیرباد اور ہدایت حاصل کریں کہ کس طرح اس (2 کروڑ ڈالر) کی رقم کو تقسیم کرنا ہے، آیا اس کے ایک حصہ کو خیرات کرنا ہے یا الیکشن فنڈ میں استعمال کرنا ہے‘۔

ابراج گروپ کے لیے مشکلات کا آغاز فروری میں اس وقت ہوا جب وال اسٹریٹ جنرل کے ایک مضمون میں کہا گیا کہ سرمایہ کاروں کی جانب سے کمپنی کے ہیلتھ کیئر فنڈ کے لیے مقرر رقم کے استعمال کے حوالے سے سوالات کیے گئے۔

واضح رہے کہ عارف نقوی نے بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن اور دیگر غیر ملکی اداروں سے تعاون حاصل کرکے ہیلتھ کیئر فنڈ شروع کیا تھا جبکہ فنڈ کی سرمایہ کاری میں پاکستان کے اسلام آباد ڈائیگنوسٹک سینٹر اور کوالٹی کیئر انڈیا ہسپتال کی چین بھی شامل تھی۔

مضمون میں دعویٰ کیا گیا کہ ’سرمایہ کاروں، آڈیٹر اور کاروباری شخصیات سے حاصل دستاویزات میں ظاہر ہوتا ہے کہ ابراج گروپ نے ہسپتالوں اور کمپنیوں کے لیے مختص سرمایہ کاروں کی رقم کو اپنے اخراجات، تنخواہوں اور قرضوں کی ادائیگی کے لیے اکاؤنٹس میں منتقل کیا، تاہم ابراج کے بانی نے کسی بے ضابطگی کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ یہ منتقلی ٹھیک تھی‘۔

اخبار نے اپنے مضمون میں فنڈز کو ختم کرنے کے لیے کچھ معلوم تفصیلات پر بھی روشنی ڈالی، جس میں سرمایہ کاروں کی رقم کو اپنے ذاتی اخراجات کے لیے استعمال کرنا، فنڈز میں اپنے ہی شیئرز کے لیے رقم ادھار لینا اور ایک انتہائی غیر مستحکم بزنس ماڈل شامل ہے۔

مضمون میں الزام لگایا گیا کہ ’ابراج گروپ ایک ارب ڈالر سے زائد کا قرض نادہندہ ہے‘، ساتھ ہی اخبار نے اپنے مضمون میں یہ بھی الزام لگایا کہ عارف نقوی نے 20 کروڑ ڈالر سے زائد اپنے ذاتی اکاؤنٹس، کمپنی سے منسلک اپنے، اپنے اہل خانہ اور سابق اسسٹنٹ میں منتقل کیے۔

نقوی نے الزامات کو مسترد کردیا

دوسری جانب عارف نقوی نے ان تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہ ابراج گروپ سے براہِ راست فنڈ لینے کے حقدار تھے اور یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان کے یا ان کے اہلِ خانہ کے بینک اکاؤنٹس کی لین دین میں کچھ بھی غیر قانونی نہیں تھا جبکہ کمپنی کی ذمہ داری کے طور پر ان کے پاس ادائیگیوں کو ریکارڈ پر رکھا گیا۔

اپنے بیان میں عارف نقوی نے ایسی کسی بھی گفتگو کا حصہ بننے سے انکار کیا جو کے الیکٹرک کی فروخت میں سہولت فراہم کرنے کے لیے کسی سیاسی دفتر میں ادائیگی کی صورت میں ہوئی ہو۔

انہوں نے کہا کہ نوید ملک مختلف سرگرمیوں میں ابراج کا مشیر تھا اور اس معاہدے کے کرادر کی شرائط ایک طویل بحث کا حصہ تھیں۔

عارف نقوی کا کہنا تھا کہ حتمی معاہدے میں’ اس بات کی یقین دہانی کی گئی تھی کہ مفادات کا کوئی تنازع نہیں ہوگا‘، ساتھ ہی انہوں نے اسے ’دھماکہ خیز‘ قرار دیا کیونکہ اس کی وجہ سے کے الیکٹرک کی ممکنہ فروخت کو اس وقت خفیہ رکھا گیا تھا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *