(ن) لیگ کے رکن اسمبلی ضیاء الرحمان جعلی ڈگری کیس میں نااہل

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے مسلم لیگ (ن) کے رکن خیبرپختون خوا اسمبلی ضیاء الرحمان کو جعلی ڈگری پر نااہل قرار دے دیا۔

سپریم کورٹ میں مسلم لیگ ن کے رکن صوبائی اسمبلی ضیاء الرحمان کے خلاف جعلی ڈگری سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے ضیاء الرحمان کی نااہلی کے خلاف درخواست خارج کرتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا اور کہا کہ ایسے جعلی ڈگری والوں کو پارلیمنٹ میں نہیں رہنے دیں گے۔

پشاور ہائی کورٹ نے ضیاء الرحمان کو جعلی ڈگری پر تاحیات نااہل کیا تھا اور انہوں نے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے پوچھا کہ ضیا الرحمان ڈگری لینے کے لئے گھوٹکی سندھ کیوں گئے، 1996 میں میٹرک کر کے اسی سال عالم دین کیسے بن گئے؟

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ضیاء الرحمان نے 16 سال کی عمر میں میٹرک پاس کیا اور 4 ماہ بعد 16 سال کی عمر میں ہی شہادت علمیہ کے پانچ سالہ کورس کی سند بھی حاصل کر لی، مدرسے کے منتظم نے عدالت میں پیش ہوکر کہا تھا ضیا الرحمٰن کو سند جاری نہیں کی گئی۔

واضح رہے کہ پشاور ہائی کورٹ نے 14 مارچ 2017 کو ضیا الرحمٰن کو جعلی ڈگری کے الزام پر نا اہل قرار دیا تھا۔ انہیں 25 جولائی کو عام انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دی گئی تھی اور وہ خیبرپختونخوا کے حلقے پی کے 30 مانسہرہ سے ن لیگ کے ٹکٹ پر رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *