فوجی آمریت کے تحت احتساب برا تھا۔ یہ جمہوریت کے تحت بد ترین ہو سکتا ہے

کراچی پاکستان: ڈان، پاکستان کا سب سے پرانا انگریزی اخبار  کے لوگو پر ایک انسانی چہرہ  نمایاں کیا جاتا ہے اور ساتھ یہ دعوی تحریر ہوتا ہے : بانی، قائد اعظم محمد علی جناح۔ جو اس ملک کے بھی بانی ہیں۔ پچھلے آٹھ سال سے ڈان کے ہفتہ وار ایڈیٹوریل پیج کا مرکز قومی سیاست اور قومی سیکیورٹی پر اسسٹنٹ ایڈیٹر سائرل المیڈا کے تبصرے رہے ہیں۔

المیڈا بہت اچھی انگریزی لکھتے ہیں اگرچہ وہ کئی بار ایسی زبان بھی استعمال کرتے  ہیں جو قارئین کو سمجھنے میں مشکلات کی وجہ سے شکایات کا باعث بنتی ہے۔ وہ پاکستان کے مسلمان اکثریتی ملک کے گنے  چنے  چند غیر  مسلم صحافیوں میں سے ہیں۔  جناح ، جو سیکولرازم کے حامی تھے اور ایجنلوفائل تھے ان کو اس سے کوئی شکایت نہ ہوتی۔

تین ہفتے پہلے المیڈا کا کالم غائب ہو گیا۔ ان کے ایڈیٹر نے کہا کہ یہ عارضی وقفہ ہے جس کی المیڈا کو ضرورت بھی ہے۔ لیکن المیڈا کا کالم ان کے خلاف مئی میں ایک آرٹیکل شائع کرنے پر غداری کی مد میں ہائی کورٹ لاہور کی طرف سے نا قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری  جاری ہونے کے بعد غائب ہوا۔  اس میں انہوں نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے اس بیان کا حوالہ دیا تھا کہ پاکستانی حکام 2008 میں انڈیا میں دہشت گرد حملوں کی روک تھام کرنے میں ناکام رہے۔

المیڈا کے مطابق شریف نے کہا تھا۔ ''کیا ہمیں ان کو اجازت دینی چاہیے کہ وہ بارڈر پار کر کے ممبئی میں 150 لوگوں کو مار دیں؟'' (نوازشریف اپنے اس بیان سے منحرف نہیں ہیں)۔

میرا نہیں خیال کہ المیڈا نے سرکاری چھٹی کے علاوہ کبھی کوئی کالم مس کیا ہو۔ پاکستان کی ذہین ترین آوازوں میں سے ایک آواز، دو سال کے تعاقب کے بعد، قومی سیکیورٹی کے نام پر خاموش کی جا رہی ہے۔

اس ماہ کے شروع میں المیڈا  شریف اور ایک دوسرے سابق وزیر اعظم کے ساتھ ایک عدالتی سنوائی میں گئے، دونوں پر غداری کا الزام تھا۔ (جو الزام المیڈا کے خلاف ہے اسے ''ملی بھگت'' کہا جاتا ہے) ایک ٹی وی رپورٹر نے ان سے کئی بار پوچھا: کیا پاکستان میں میڈیا آزاد ہے؟ المیڈا نے سامنے دیکھتے رہے، خاموش رہے اور کمرہ عدالت میں چلے گئے۔ وہ ایسے شخص نہیں لگ رہے تھے جو وقفہ کرنے کا حق لے رہے ہوں۔ عدالت نے وارنٹ منسوخ کیے، ان کے بیرون ملک سفر پر پابندی ختم کی  اور اس ماہ کے آخر میں ایک اور تاریخ سماعت رکھ دی۔

ڈان نے ایسا کیا کیا جس سے  ہماری اسٹیبلشمنٹ اور اس  کےکارندے ناراض ہو گئے؟ لمبے عرصے تک  اسے ایک  قدامت پسند اخبار سمجھا جاتا رہا  اور مخالفین اسے ڈیلی ڈان کی بجائے ڈیلی yawn کہتے رہے۔  یہ ایسا روزنامہ ہے جسے کبھی بیوروکریٹس، ڈپلومیٹ اور نوجوان  اپنی انگریزی کو بہتر بنانے کے لیے  پڑھتے تھے۔ لیکن پچھلی دہائی سے ڈان نے اپنی رپورٹنگ اورا تجزیہ نگاری میں سخت اور بھر پور موقف اپنایا ہے۔

مثال کے طور پر 2 سال پہلے، المیڈا نے رپورٹ لکھی کہ تب کے وزیر اعظم نواز شریف  نے فوج کے اعلیٰ عہدیدار کو بتایا کہ اگر فوج غداروں کے خلاف صحیح کروائی نہیں کرتی، پاکستان دنیا میں تنہا رہ جائے گا۔ بظاہر جرنیلوں  کو اس رائے پر بہت دھچکا لگا  کہ انہیں  کافی عرصہ تک امن کا پرچار کرتے گاندھیوں کے روپ میں نہیں دیکھا گیا  اور اس پر انہوں نے نیشنل سکیورٹی کی خلاف ورزی کا رونا پیٹنا شروع کر دیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایک انکوائری کمیشن بنایا جائے  جس میں سینئر سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہوں۔ سینیئر انٹیلیجنس افسروں پر مشتمل ایک کمیشن بنایا گیا۔

مسائل میں گھری ہوئی حکومت نے اپنے وزیر اطلاعات کو اس کہانی کی اشاعت  نہ روک سکنے پر فارغ کر دیا ۔ جب کمیشن نے اپنے نتائج کا اعلان کیاتو فوجی ترجمان نے ٹویٹ کیا کہ  فوج نے انہیں ''مسترد کر دیا ہے''۔  ترجمان کو اپنا بیان واپس لینے پر مجبور کیا گیا  لیکن المیڈا اور ڈان کے خلاف حملے دوسرے طریقوں سے جاری رہے۔

میڈیا حریفوں نے المیڈا کو ایک دشمن ایجنٹ اور شریف کا  ملازم کہہ کر پکارا۔  روزنامہ ان کے ساتھ کھڑا رہا اور انہوں نے کالم لکھنا جاری رکھا۔ پھر، اس بہار میں پچھلی انتخابی مہم کے دوران  شریف جنہیں پچھلے سال بد عنوانی کے لیے کرسی سے ہٹا دیا گیا تھا ، نے المیڈا کو وہ انٹرویو دیا  جس میں انہوں نے جرنیلوں کے ساتھ اپنےاختلافات  بیان کیے۔ اور اب المیڈا بدعنوانی اور ممکنہ غداری کے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں  صرف اس لیے کہ انہوں نے تین بار کے منتخب  وزیر اعظم کے اس بیان  کو تحرری شکل دی کہ  پاکستان کو دوسرے ملکوں پر دہشت گرد حملوں کے لیے سٹیج گراؤنڈ نہیں بننا چاہیے۔

لیکن  قوم کے لیے خطرہ سمجھے جانے والے صحافی المیڈا اکیلے نہیں ہیں۔

سرل المیڈا کے وکیل  اب پاکستانی میڈیا کی سخت تنقید کا شکار بنے ہوئے ہیں۔

چار سال قبل ملک کے قابل ذکر اور سب سے معروف ٹی وی جرنلسٹ حامد میر پر کراچی میں  6  گولیاں داغی گئیں اور ان کے بھائی نے حملے کا ذمہ دار آئی ایس آئی کو ٹھہرایا۔ ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے جیو ٹی وی نیٹ ورک اور  جنگ میڈیا گروپ کو آئی ایس آئی کا نام خراب کرنے  کی وجہ سے نشانہ بنانا شروع کر دیا۔

سات سال قبل، سید سلیم شہزاد، ایک رپورٹر جس نے پاکستان نیوی اور دہشت گردوں کے درمیان مشتبہ روابط کو بے نقاب کیا تھا، کی لاش ایک نالے سے ملی۔ ایک عدالتی کمیشن جو اس واقعے کی چھان بین پر لگایا گیا تھا کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکا، لیکن اس نے انٹیلیجنس ایجنسیوں کی اصلاحات کی سفارش پیش کی تھی۔

وہ اصلاحات لائی نہیں گئی، بلکہ انٹیلیجنس ایجنسیوں نے میڈیا کو جسمانی تشدد کے بغیر قابو کرنے کے اور راستے تلاش کر لیے۔ اخبار فروشوں کو اخبار کی ترسیل سے منع کیا جاتا ہے۔  ٹی وی چینلز غائب رہتے ہیں کیوں کہ کیبل آپریٹرز کو فون پر انہیں آف دی ایئر رکھنے کی ہدایت دی جاتی ہے۔

پاکستانی صحافیوں نے ہمیشہ سے فوجی آمریت اور سول حکمرانوں پر غم و غصہ دکھایا ہے جو ان کی آزادی میں رکاوٹ بننے کی کوشش میں رہے ہیں۔ وہ پچھلے ہفتے پھر سے  سڑکوں پر احتجاج کر رہے تھے۔ لیکن تقریبا اسی وقت جب وہ احتجاج کر رہے تھے، فوجی ترجمان کی طرف سے ایک میڈیا ڈیلیگیشن کو خبردار کیا  جا رہا تھا  کہ قومی  مفاد کو کیسے رپورٹ کرنا ہے۔

پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے نیشنل سیکیورٹی کے نظریے  کا مرکز خود  پسندی  ہے۔ المیڈا فوج کے لیے ''دی بوائیز'' کا لفظ استعمال کرتے ہیں جو کبھی کبھار  طنزیہ بھی محسوس ہوتا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ سوچتی ہے کہ وہ  انہیں عزت نہیں دے رہے۔ یہ پوچھتی ہے: اس نے آرمی چیف کو جنرل راحیل شریف کی بجائے صرف شریف کہہ کر کیوں پکارا؟ یہ کیسے ممکن ہے کہ  ایک وزیر اعظم المیڈا کو آن کی ریکارڈ  بتائے کہ  وہ نیشنل سکیورٹی کے معاملے میں فوج سے مختلف نظریہ رکھتا ہے؟  اس کی جرات کیسے ہوئی کہ اس نے اسے اخبار میں بابائے قوم کی تصویر کے عین نیچے  لکھا ؟

اب یہ لگ رہا ہے کہ ایک نئی سینسرشپ  نافذ ہو چکی ہے۔ اردو صحافی قومی سیاست کے بارے میں  چھپے الفاظ میں لکھ رہے ہیں۔ کرنٹ افیئر پروگرام جو آرمی پر تنقید کرتے ہیں آخری لمحے نشر ہونے سے روک  دیے جاتے ہیں۔ رپورٹر جو فوج کی تنقید میں دکھائی دیتے ہیں اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔ پاکستان کے سب سے سینئر صحافیوں میں سے ایک، غازی صلاح الدین نے حال ہی میں کہا کہ انہوں نے میڈیا پر پہلے کبھی ایسی پابندیاں نہیں دیکھیں۔ وہ نصف صدی تک اور تین فوجی آمروں کے دور کے دوران بطور صحافی کام کرتے رہے۔

ڈان کے پہلے ایڈیٹر ان چیف الطاف حسین نے ایک بار لکھا کہ روزنامہ کے بانی جناح نے کبھی انہیں اداراتی ہدایات نہیں دیں، کہ انہوں نے ''کبھی انہیں یہ نہیں کہا کہ ''یہ کرو'' یا ''یہ نہ کرو''۔ در اصل  انہوں نے مجھے بتایا کہ موجودہ حالات کا مطالعہ کروں اور اس پر ایک ایماندارانہ اور خود مختار رائے بناؤں، اور پھر جو میں نے سوچا اسے بے خوف ہو کر لکھوں۔'' اگر جناح آج زندہ ہوتے، غالبا وہ اپنے تخلیق کردہ روزنامے میں بھی وہ نہ لکھ سکتے جو انہوں نے سوچ رکھا ہوتا۔ 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *