پاکستان کو بار بار آئی ایم ایف کا دروازہ کیوں کھٹکھٹانا پڑتا ہے

پاکستان کا معاشی فارمولہ بلکل خراب ہے کیوں کہ  اس میں باہر کے ممالک سے غیر ملکی کرنسی میں قرض لینا، لارج سکیل انفراسڑکچر تعمیر کرنا، تھوڑی ترقی کرنا، اور اگلی بار ترقی کے لیے پھر قرض لینا ہی ایک معمول ہے۔ یہ ہی تو سب کچھ پچھلی حکومت نے کیا ہے۔  اور اس سے پچھلی گورنمنٹ نے بھی۔  یہ فارمولا کامیاب ہو سکتا تھا اگر  اس میں  ترقی اور گروتھ کے راستے میں موجود اصل رکاوٹوں  کو نظر انداز نہ کیا جاتا۔  کیوں کہ انہوں نے ایسا نہیں کیا تو پاکستان آخر کار ایک بڑے  قرض تلے ڈوب گیا  ، ادائیگیوں میں توازن بگڑ گیا اور حکومت کے لیے ترقیاتی منصوبوں پر کام مشکل ہو گیا۔ جب یہ چیلنجز  خطرناک حد تک چلے جاتے ہین تو آخر میں پاکستان کو انٹرنیشنل مونیٹری فنڈ (IMF) سے ادھار لینا ہی پڑتا ہے۔

اگر ہم انہیں آمادہ کرنے میں کامیاب ہو گئے جو کہ اصل مدہ بھی ہے تو    یہ1958 کے بعد  22 واں موقع ہو گا جب ہم ایک بڑا قرض اٹھائیں گے۔ اور اگر ہمارا عوامی رویہ اور پالیسیاں ایسی ہی رہیں تو  اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم IMF  کا دروازہ یوں  ہی  کچھ سالوں بعد  کھٹکھٹاتے رہیں گے۔ ( یا  اسی مقصد سے دوسرے اداروں کا بھی)

پاکستان کے تجزیہ کار اس  معاملے میں یہ رائے رکھتے ہیں کہ پاکستان کوبامقصد  اصلاحات کی ضرورت ہے۔ تا کہ ہم ایسی صورتحال برقرار رکھ سکیں کہ آئی ایم ایف سے قرض کی ضرورت نہ پڑے۔  یہ بلکل صحیح مطالبہ ہے۔ لیکن اکثر یہ  اقتصادی مایوسی  پرسیاسی  اثرات کو نظر انداز کر دیتا ہے۔   مسئلہ یہ ہے کہ جب ہم  معیشت کا تذکرہ سیاست کے بغیر کرتے ہیں تو صرف  سطحی اصلاحات   تک محدود رہتے ہیں۔ اس کہ وجہ یہ ہے کہ اگر سیاسی  سٹرکچر  اجازت نہ دےتو  کوئی بھی  با معنی اصلاح   ممکن ہی نہیں ۔  اس تبدیلی کے لئے  ہمارے پولیٹیکل ڈسکورس کو  اداروں  پر ایک نظر رکھنے کی ضرورت  ہے۔  یہ اس نتیجے کا ایک اہم جزو ہے۔

گہرائی  تک رسائی

میں وضاحت کرتا چلوں۔ مثال کے طور پر ادائیگی اور وصولی کی رقم کے بیچ کا فرق  لے لیں۔ سب سے بڑا براہ راست مسئلہ   ایکسپورٹس کی کمی اور امپورٹس کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ہیں۔  پاکستان  کی امپورٹس ایکسپورٹس کے مقابلے مین دو گنا ہیں۔ جواب میں  ایکسپورٹس کی کمی کی بھی بہت سی وجوہات سامنے آتی ہیں۔

اور گہرائی میں جائیں تو   ہمیں اس حقیقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ پچھلے کئی سال میں ترقی کی رفتار پاکستان مین بہت سست رہی ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ  ہم  بنیادی ٹیکسٹائل، کاٹن، چاول اور اس طرح کی مصنوعات  ایکسپورٹ کرتے ہیں۔  ان میں سے ذیادہ   تر بہت کم قیمت کی اشیاء ہیں اور اسی لئے ہمیں بہت کم منافع ہوتا ہے اور اسی لئے  ہم بیرون ملک سے خریدی  جانے والی اشیاء کے بل  جتنا کما نہیں پاتے۔ اور ہمیں  یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ جو اشیاء ہم فروخت کرتے ہیں ان  میں بھی ہمیں سٹرکچر پرابلم کا سامنا  کرنا پڑ رہا ہے۔ جیسا کہ  سرمایہ کا فقدان چاہے  انسانوں کی صورت میں ہو چاہے  یا سرمائے کی صورت میں۔ اس طرح ایکسپورٹرز کوترقی کرنے میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے، وہ ویلیو چین پر اوپر نہیں جا سکتے، غیر ملکی فرموں کامقابلہ نہیں کر سکتے اور اپنی پروڈکشن مین اضافہ بھی کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔

لیکن ایسا کیوں ہوتا ہے؟ پاکستان ایک ایسا ماحول کیوں پیدا نہیں کر سکتا جس میں  دنیا بھر سے مقابلہ کرنے والی کمپنیاں شرکت کر سکیں۔اس کی بہت سی وضاحتیں دی جا سکتی ہیں۔ لیکن ایک مثبت سوچ یہ ہو سکتی ہے کہ  ہمارے ادارے ایسےincentivesمہیا نہیں کرتے جس سے ایک کمپٹیٹو مارکیٹ کی بنیادر رکھی جا سکے۔  اس کی بجائے یہ ادارے ریاستی سرپرستی کو زیادہ اہم بنا کر دکھاتے ہیں  چاہے ایسا کرنے سے ایک بڑی صنعتی ترقی کے مواقع ہی کیوں نہ ختم ہوجائیں۔ پاکستان میں عام طور پر اس طرح کے مسائل کو قابل توجہ ہی نہیں سمجھا جاتا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جب بھی پاکستان معاشی لحاظ سے مشکلات میں پھنس جاتا ہے  تو اسے بیرونی قرضوں کی ضرورت پڑ جاتی ہے۔ لیکن معاشی مسائل کی اصل وجوہات کو ختم کرنے  کی بجائے نئے مسائل کا راستہ کھول دیا جاتا ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسا آگ بجھا دی جائے لیکن گیس لیک کا حل نہ نکالا جائے۔

ادارے کیا ہیں؟

سب سےپہلے یہ ضروری ہے کہ یہ سمجھا جائے کہ ادارے کیا ہوتے ہیں اور وہ ہمارے اجتماعی رویہ پر کیسے اثر انداز ہوتے ہیں۔ جیسا کہ ڈگلس نارتھ نے 1990 میں اپنی کتاب میں لکھا، ادارے اصل میں گیم کے اصولوں کا نام ہوتا ہے۔ کرکٹ کی مثال لے لیں۔ بہت سے اصول متعین کر دیے گئے ہیں جن کے مطابق کوئی شخص کرکٹ کھیلتا ہے۔ کھلاڑیوں کی تعداد معین ہوتی ہے ، اوور میں کتنی گیندیں پھینکنی ہیں،  جیت کیسے ممکن ہے، یہ سب کچھ طے شدہ ہے۔ اب یہی صورتحال ان اداروں پر بھی تصور کر  کے دیکھیں جو ہماری زندگی کی سمت طے کرتے ہیں۔ کرکٹ کے اصولوں کی طرح یہاں بھی انسانوں کے بنائے اصول ہوتے ہیں جو ہماری زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ یہ اصول تحریری بھی ہو سکتے ہیں جیسا کہ کسی ملک کا آئین ، اور زبانی بھی ہو سکتے ہیں جیسے رشتہ اور خون کا تعلق۔

یہ ادارے اس لیے اہم ہوتے ہیں کہ ان کے بغیر  سوسائٹی قائم نہیں رہ سکتی۔ لیکن ہر ملک میں اصول مختلف ہوتے ہیں  اور ہر ملک کی معاشی صورتحال کو سمجھنے کے لیے اس ملک کے اصولوں کو مد نظر رکھنا پڑتا ہے۔

ہم انہیں معاشی اور سیاسی اداروں میں الگ الگ کر سکتے ہیں۔ معاشی ادارے ہمارے معاشی معاملات جیسا کہ جائیداد اور ملکیت کے حقوق سے متعلق ہیں جب کہ سیاسی ادارے ملک کے سیاسی ڈھانچے سے متعلق  ہیں جن کا کام  یہ طے کرنا ہے کہ ملک میں پارلیمانی جمہوریت مستحکم ہے یا نہیں۔ ایک معاشرے کی حیثیت سے ہم یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ کونسے سیاسی اور معاشی اداروں کو اپنا یا جائے  اور یہ ادارے ہمارے معاملات پر اثر انداز ہو کر ہمارا ایک رویہ ترتیب دیتے ہیں۔ incentives ہمارے معاشرے  کے معاملات کے ابتدائی عوامل کی سمجھ بوجھ کا نام ہے۔ اس کا تعلق معیشت سے نہیں سیاست سے ہوتا ہے۔ خوشحالی کا تعلق معاشی اداروں سے کم اور سیاسی اداروں سے زیادہ ہے ۔ جیسا کہ رابنسن اور ایسیموگلو کہتے ہیں، جو لو گ سیاسی اداروں پر کنٹرول رکھتے ہیں وہی معاشی اداروں کو بھی چلاتے ہیں۔ اگر سیاسی اقتدار کسی محدود ایلیٹ طبقہ کے پاس ہے تو وہ ایسے معاشی ادارے قائم کریں گے جن کے صرف ان کو فائدہ ہو نہ کہ اکثریت کو فائدہ پہنچایا جائے۔ یہ یاد رکھنا لازمی ہے کہ غربت کے اندر بہت سے فوائد چھپے ہوتے ہیں۔  بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو غربت پر کنٹرول کر سکتے ہیں۔ اب پاکستان کو دیکھ لیجیئے۔ ہماری سیاسی معیشت کرایہ اور پیٹرن ایج پر انحصار کرتی ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارا نظام محض چند سیاسی کھلاڑیوں کو فائدہ پہنچاتا ہے  اور بزنس طبقہ کے لیے مناسب اور فائدہ مند حالات پیدا کرنے میں دلچسپی نہیں دکھاتا۔ ہمارا مینوفیکچرنگ سیکٹر رینٹ  سے کمائی کے طریقے سے بھرا پڑا ہے۔ مثال کے طور پر پاکستان کا آٹو موبائل سیکٹر ایک جاپانی مینوفیکچرنگ طبقہ کے ہاتھ میں ہے  جو کم قیمت کاریں بیچ کر بے تحاشا منافع کماتا ہے۔ اس کے باوجود پاکستان بہت سے ٹریڈ بیریرز کے زریعے انہیں غیر ملکی کمپیٹیٹرز کے خلاف تحفظ فراہم کرتا ہے۔ حال ہی میں جو فنانس بل لایا گیا اس سے واضح ہوتا ہے کیسے حکومت اس طبقہ کو سپورٹ فراہم کر رہی ہے۔ یہ کوئی حادثہ نہیں ہے۔ چونکہ پاکستان میں سیاسی طاقت ایک  کنجوس ایلیٹ طبقہ کے ہاتھ مین ہے  اس لیے اس نے ایسے اداروں کو رسی ڈھیلی کر رکھی ہے  جو  ایسے کرایہ سے رقم بٹورنے والے طبقہ کی سرپرستی کرتے ہیں جو بلآخر ملکی خوشحالی کے راستے میں رکاوٹ بنتی ہے۔ عاصم اعجاز خواجہ اور عاطف میاں کے ایک آرٹیکل میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ کیسے ہمارے سیاسی ادارے معاشی اداروں  اور ان کی کارکردگی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ انہوں نے دکھایا ہے کہ سیاست سے جڑی فرمز حکومت کے تحت بینکوں سے بہت کم شرح سود پر قرض لیتی ہیں  باوجود اس حقیقت کے کہ غیر سیاسی فرمز کے ہاتھ یہ دیوالیہ ہو چکے ہوتے ہیں۔ پاکستان کی معاشی صورتحال پر سیاست کا اس قدر بے تحاشہ اثر و رسوخ    اس کا واضح ثبوت ہے۔

ایک دوسرے زاویے سے بھی اس کو دیکھ لیجیئے۔ اکنامک ہسٹری لٹریچر کا ایک بڑا حصہ یہ ظاہر کرتا  ہے کہ بہت سے ایسٹ ایشین ممالک  20ویں صدی کے دوسرے  حصے مین امیر ہوئے  جس کی بنیادی وجہ زمینی اصلاحات تھیں۔

ذرعی اصلاحات کے ذریعے ان ممالک نے نہ صرف اپنی پیداوار بڑھائی بلکہ اپنے مزدوروں کا معیار زندگی بھی بہتر کر دیا  جس کی وجہ سے ان لوگوں کی صنعت کی طرف توجہ کم ہونے لگی۔ اگر گروتھ کے لیے زمینی اصلاحات اہم ہیں تو  کیا پاکستان کبھی ایک بامقصد طریقے سے ایسی اصلاحات کا نفاذ کر پائے گا؟

اس طرح کی اصلاحات لانے کی کوششوں کے باوجود  پاکستان میں کوئی خاطر خواہ کامیابی نہیں ملی ہے  اور 10 ملین ایکڑ سے زیادہ زمین اب بھی  کرایہ پر موجود ہے  جب کہ اوسط فارم سائز 6 ایکڑ کے قریب ہے۔ ساوتھ کوریا میں فارم کے سائز میں اضافہ کے باوجود اس کی وسعت (2005 کے مطابق) محض 3 اعشاریہ 5 ایکٹر تک پہنچ پائی ہے ۔ لینڈ ریفارم کی تاریخ اور میرٹ کا مطالعہ کیے بغیر  اگر ہم اس بات پر اتفاق کر بھی لیں کہ پاکستان کو اصلاحات کی ضرورت ہے تو کیا ہم  اس طرح کی اصلاحات کو یقینی بنا سکتے ہیں خاص طور پر اس صورت میں جب ان فارمز کا ہولڈ ایسے لوگوں کے پاس ہو جو سیاسی پارٹیوں اور اداروں پر  اثر ورسوخ رکھتے ہوں؟ دوسرے الفاظ میں اگر جاگیر دار طبقہ سیاسی اداروں پر حاوی ہو ہمیں اس بات کی حیرانی نہیں ہونی چاہیے کہ معاشی نتائج ان کی توقعات کے مطابق رہیں گے۔  معیشت کا مسئلہ حل کرنے کے لیے سیاسی صورتحال پر فوکس کرنا لازمی ہوتا ہے۔

دوسرے کو شاید ایسا دکھائی دے کہ یہ ملک  کمزور معاشی پالیسیوں کا شکار ہے، کرپشن  کا شکار اور ایک بہترین صنعتی بیس کے قیام میں ناکام ہے،  لیکن یہ سب خرابیاں ہمارے سیاستی اور ادارتی ڈھانچوں کی کمزوری کی علامت ہیں  جس میں صرف حکومتی طبقہ کو فائد ہ پہنچتا ہے اور باقی سب نقصان کا سامنا کرتے ہیں۔ ہماری معاشی ناکامی ہمارے مشترکہ سیاسی انتخاب کی ناکامی کی علامت ہے۔ جب ہم سیاسی طاقت زیادہ بہتر طریقے سے تقسیم کر لیں گے  تو ہماری معیشت بھی بہتر ہونے لگے گی۔ اداروں کےساتھ چھیڑ چھاڑ سے بھی معاشی معاملات پر اثر  پڑتا ہے۔ اسی وجہ سے کچھ میکرو اکنامک استحکام کی خاطر ہمیں آئی ایم ایف پروگرام کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ یہ ممکن ہے کہ سٹاک مارکیٹ بہتر ہو جائے اور خسارہ بھی کم ہو جائے ، ٹیکس بڑھ سکتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں مہنگائی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس کے بعد ہم آئی ایم ایف کو گڈ بائے کہنے کا بیان جاری کر دیتے ہیں۔  لیکن ایک دن پھر اسی در پر آنا ہمارا مقدر ٹھہرتا ہے۔

لیکن اگر نئی حکومت اس نظام کو بدلنا چاہتی ہے اور پاکستان کو ایک خوشحال ملک بنانے میں مخلص ہے  تو اسے سیاسی اختیارا ت کی تقسیم اور سیاسی اداروں پر نظر ڈالنا ہو گی  کیونکہ یہی دو عوامل  ہی ہماری ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ اگر یہ حکومت اکنامک فرنٹ پر خاطر خواہ بہتری لانے میں کامیاب ہوتی ہے  تو  اس ٹرانسفارمیٹو شفٹ کے نتیجہ میں  خوشحالی کا راستہ ہموار ہو جاے گا ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *