ایک اور ڈیم سے دریائے سندھ کا گلا گُھٹ جائے گا؟

"ریاض سہیل"

دریائے سندھ پر آخری پل، ٹھٹہ سجاول پل کے نیچے ریت کے سرمئی ٹیلوں کے درمیان پانی ایک تالاب کی صورت میں موجود ہے اور چند ماہی گیر چھوٹی کشتیوں کی مدد سے شکار میں مصروف ہیں۔ یہ دریائے سندھ عرف شیر دریا کی ڈاؤن سٹریم کا منظر ہے۔

دریائے سندھ کی جھولی سے صدیوں سے ماہی گیر اپنا رزق حاصل کرتے رہے ہیں، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ جھولی سکڑتی جا رہی ہے۔

اکبر ملاح کو یہ تو یاد نہیں ہے کہ اس کے آباؤ اجداد کب سے ماہی گیری کرتے آئے ہیں لیکن انھیں یہ ضرور یاد ہے کہ دو دہایاں قبل تک دریا اور وہ دونوں ہی خوشحال تھے۔ اب ان کے جال خالی ہی لوٹتے ہیں۔

سندھ
'اس سال 15 روز بھی پانی نہیں رکا، چھوٹی چھوٹی مچھلیاں مارتے ہیں تاکہ بچوں کا گزارا ہوسکے، ہماری کشتیاں اکثر سوکھے پر کھڑی ہوتی ہیں‘: اکبر ملاح

’اس سال 15 روز بھی پانی نہیں رکا، چھوٹی چھوٹی مچھلیاں مارتے ہیں تاکہ بچوں کا گزارا ہوسکے، ہماری کشتیاں اکثر سوکھے پر کھڑی ہوتی ہیں، کبھی کبھار جنگل میں جاکر لکڑیاں کاٹ کر بیچتے ہیں۔ کہہ رہے ہیں کہ اوپر ڈیم بن رہے ہیں اور پہلے والے ڈیموں کو بھر رہے ہیں اس وجہ سے یہاں پانی نہیں آ رہا۔‘

دریائے سندھ کے بہاؤ پر منگلا اور تربیلا ڈیم بنائے گئے اور صوبہ سندھ میں گڈو، سکھر اور کوٹڑی کے مقام پر تین بیراج تعمیر ہوئے۔ ان سے انڈس ڈیلٹا میں پانی کی آمد کم ہوتی رہی جبکہ سسٹم میں پانی کی قلت سے بھی یہ ہی علاقہ جو ٹھٹہ، سجاول اور بدین پر مشتمل ہے سب سے زیادہ متاثر ہوا۔

ماہرین اور حکومت سندھ کا مطالبہ رہا ہے کہ ڈاؤن سٹریم کوٹری میں کم سے کم 30 ملین ایکڑ فٹ پانی کا بہاؤ ہونا چاہیے تاکہ انڈس ڈیلٹا زندہ رہے لیکن 1991 میں ایک غیر مقبول فیصلے کے تحت دس ملین ایکڑ فٹ پانی چھوڑنے پر اتفاق کیا گیا، مگر اس پر بھی عمل درآمد نہیں ہو سکا ہے۔

بنجر زمین
دریائے سندھ کے بہاؤ پر منگلہ اور تربیلا ڈیم بنائے گئے اور صوبہ سندھ میں گڈو، سکھر اور کوٹڑی کے مقام پر تین بیراج تعمیر ہوئے۔ ان سے انڈس ڈیلٹا میں پانی کی آمد کم ہوتی رہی جبکہ سسٹم میں پانی کی قلت سے بھی یہ ہی علاقہ جو ٹھٹہ، سجاول اور بدین پر مشتمل ہے سب سے زیادہ متاثر ہوا

پاکستان میں بھاشا ڈیم کی تعمیر کے لیے حکومتی سطح پر کوششیں جاری ہیں اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کے خصوصی ڈیم فنڈ میں چھ ارب 37 کروڑ 75 لاکھ سے زائد رقم جمع ہوچکی۔ تاہم بھاشا سے تقریباً 15 سو کلومیٹر دور انڈس ڈیلٹا کے مکین ان اقدامات سے خوش نہیں۔

کھارو چھان سے ماہی گیروں نے کراچی تک لانگ مارچ کا آغاز کر دیا ہے۔ انھیں ایک شکوہ یہ بھی ہے کہ ان کے تحفظات کو سنے بغیر فیصلے کیے جارہے ہیں۔

اس احتجاج کی سربراہی ماہی گیر رہنما محمد علی شاہ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈاؤن سٹریم کی پوری زندگی ڈیموں نے تباہ کر دی ہے، جن لوگوں کا دریائی پانی پر سب سے پہلا حق تھا آج انھیں زراعت و مال مویشی تو دور کی بات، پینے کا پانی بھی دستیاب نہیں ہے۔

دریا

’پانی کی آمد نہ ہونے سے دریائے سندھ کے اطراف میں جو جنگلات تھے وہ ختم ہوگئے، دریائی لوگ دریا سے بے دخل ہو رہے ہیں، اس وقت تک آٹھ لاکھ سے زائد لوگ ڈیلٹا سے نقل مکانی کرچکے ہیں اور دوسرے تیاری میں ہیں لیکن ان کے پاس وسائل نہیں۔‘

انسٹیٹیوٹ آف اوشینو گرافی کے مطابق ہر سال سطح سمندر میں 1.3 ملی میٹر اضافہ ہو رہا ہے، حکومت سندھ کے مطابق 35 لاکھ ایکڑ سمندر برد ہوئی ہے یا زیرزمین سمندری دباؤ کی وجہ سے بنجر ہوچکی ہے۔

سندھ
سندھ میں ماہی گیروں سے قبل قوم پرست جماعتوں کی جانب سے بھی احتجاج کیا گیا، جبکہ سندھ کی حکمران جماعت پیپلز پارٹی میں بھی بڑے ڈیموں کے مخالف لوگ موجود ہیں

ماہر ماحولیات ناصر پہنور کا کہنا ہے کہ سمندر کے آگے بڑھنے سے زیر زمین میٹھے پانی کے ذخائر بھی کھارے ہوچکے ہیں، جس کے باعث ایک طرف لوگ پینے کے پانی سے محروم ہو رہے ہیں تو دوسری طرف زمین بنجر ہو رہی ہے، جبکہ یہاں کے لوگوں کے گزر بسر کا وسیلہ ماہی گیری، زراعت اور مال مویشی پر تھا۔

سندھ میں ماہی گیروں سے قبل قوم پرست جماعتوں کی جانب سے بھی احتجاج کیا گیا، جبکہ سندھ کی حکمران جماعت پیپلز پارٹی میں بھی بڑے ڈیموں کے مخالف لوگ موجود ہیں جن میں ٹھٹہ سے تعلق رکھنے والی سینیٹر سسئی پلیجو بھی شامل ہیں۔

’بھاشا ڈیم پر بھی ہمیں تحفظات اور خدشات ہیں لیکن ہمیں کہا جاتا ہے کہ آپ بات نہ کریں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ انڈس پر یہ ڈیم بنے گا اور کینال کے ذریعے پانی بڑے صوبے کو زرعی مقاصد کے لیے فراہم کیا جائے گا۔‘

’اس سے قبل بھی سندھ سے دھوکہ کیا گیا ہے چشما جہلم لنک کینال موسمی نہیں پورا سال بہتے دیکھتے ہیں، ڈیلٹا میں پینے تک کا پانی نہیں ہوتا لیکن منگلا ڈیم بھرنے کی باتیں ہوتی ہیں، پانی کی تقسیم کا ادارہ ارسا غیر جانبدار نہیں رہا وہ پنجاب کی پارٹی بن چکا ہے، اسی طرح سنہ 1991 کے پانی کے معاہدے پر بھی عملدرآمد نہیں کیا گیا، حالانکہ اس معاہدے پر بھی سندھ کو تحفظات تھے۔‘

پاکستان میں بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیم بنا کر سمندر میں ضائع ہونے والے پانی کو بچایا جاسکتا ہے، سینیٹر سسئی پلیجو کا کہنا ہے کہ ’سنہ 1970 سے جو سیلاب آئے ہیں ان کی شرح نکال کر کہتے ہیں کہ سمندر میں پانی گیا حالانکہ سندھ میں تو اس سال بھی بارشیں نہیں ہوئیں، پنجاب میں بارش بھی زیادہ ہیں اور زیر زمین میٹھے پانی کے ذخائر بھی، جبکہ ہمارے پاس 80 فیصد کھارا پانی ہے۔‘

انڈس ڈیلٹا میں گذشتہ دس سالوں میں تین بار تمر کے پودے لگا کر عالمی رکارڈ قائم کیا گیا۔

دریا

ماہر ماحولیات ناصر پہنور کا کہنا ہے کہ دریا کا پانی اور سلٹ نہ آنے کی وجہ سے سمندر آگے بڑہ رہا ہے اور ہم تمر کے جنگلات سے محروم ہو رہے ہیں، تمر طوفان سے بچنے کے لیے شیلڈ کا کام کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ سمندر میں پائے جانے والی 77 فیصد مچھلی، جھینگے اور کیکڑے کی افزائش نسل ان میں ہوتی ہے۔

’جھیلوں کے بارے میں عالمی رامسر کنویشن میں پاکستان کی 19 جھیلیں شامل ہیں، ان میں انڈس ڈیلٹا بھی شامل ہے یہاں کئی اقسام کے حیوانات، پرندے اور نباتات پائے جاتے ہیں اس کے تحت ان جھیلوں کو عالمی ماحول کا تحفظ دیا گیا۔ سرد علاقوں جو پردیسی پرندے آتے ہیں ان کا راستہ بھی انڈس ڈیلٹا کے اوپر سے گزرتا ہے جس کو انڈس فلائی وے زون کہا جاتا ہے، ڈیلٹا میں دریائی پانی کی آمد میں کمی سے جھیلیں بھی خشک ہو رہی ہیں۔‘

ناصر پہنور کے مطابق حکومت کی پانی کے حوالے سے پہلی ترجیح زراعت دوسری انسان اور تیسری صنعت ہوتی ہے جبکہ فطرت کے لیے بھی پانی مختص کرنا چاہیے۔

دریائے سندھ

انڈیا اور نیوزی لینڈ کی عدالتوں نے لوئر پرسونا رائٹس کے تحت دریاؤں کو بھی انسان کی طرح جاندار وجود قرار دیا ہے، یعنی اس کے بہاؤ پر گلیشیئر سے لے کر سمندر تک سب کا حق ہے، پاکستان میں بھی ایسے حقوق کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔

ماہی گیر رہنما محمد علی شاہ کا کہنا ہے کہ دریا زندہ ہستی ہوتی ہیں اور وہ زندہ ہستی اس وقت بنتے ہیں جب اس کا قدرتی بہاؤ جاری رہے ہم نے پہلے ڈیم بناکر دریا کو معذور کیا اب مزید ڈیم بناکر اس کا گلہ گھونٹ رہے ہیں۔ دنیا میں ہر دریا کی آخری منزل ہوتی ہے اور دریائے سندھ کی آخری منزل ڈیلٹا اور سمندر ہے ہر دریا کا اپنی آخری منزل پر پہنچنا اس کا حق ہے۔

سینیٹر سسئی پلیجو کا کہنا ہے کہ کشمیر سے سر کریک تک ہماری فوج ایک ایک انچ زمین کی حفاظت کر رہی ہیں لیکن جو زمین سمندر برد ہو رہی ہے اس کی حفاظت کون کرے گا۔ ’مسئلہ بڑے ڈیم بنانے سے حل نہیں ہوگا بلکہ چھوٹے ڈیم بنانے ہوں گے تاکہ دریا کا بہاؤ برقرار رہے۔‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *