جمال خاشقجی: مبینہ سعودی ’ہٹ سکواڈ‘ میں کون کون شامل تھا؟

ترکی کے میڈیا نے ان 15 سعودی باشندوں کے نام جاری کر دیے ہیں جن کے بارے میں ترک حکام کو شبہ ہے کہ وہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کے مبینہ قتل میں ملوث ہیں۔

حالیہ کچھ عرصے سے ملک کی قیادت پر تنقید کرنے والے سعودی صحافی جمال خاشقجی اکتوبر کی دو تاریخ کو استنبول میں سعودی قونصل خانے گئے جس کے بعد سے وہ دوبارہ نظر نہیں آئے ہیں۔

سعودی عرب سے وہ افراد نجی طیارے میں استنبول جمال خاشقجی کے قونصل خانے جانے سے چند گھنٹے پہلے پہنچے تھے اور اسی روز رات کو واپس چلے گئے تھے۔

ترک حکام کا کہنا ہے کہ یہ لوگ سعودی حکومت کے اہلکار اور ان کی خفیہ ایجنسی کے رکن تھے اور انٹرنیٹ پر دستیاب معلومات سے یہ الزامات بظاہر درست نظر آتے ہیں۔

سعودی حکام نے ان تمام الزامات کی تردید کی ہے اور موقف اختیار کیا ہے کہ جمال خاشقجی قونصل خانے میں اپنا کام کرنے کے بعد وہاں سے روانہ ہو گئے تھے۔

صلاح محمد طوبیگی، 47

Istanbul airport CCTV footage purportedly showing Salah Muhammed A Tubaigy on 2 October 2018

ڈاکٹر طوبیگی فرانزک کرنے کے ماہر ہیں جنھوں نے سکاٹ لینڈ سے ماسٹرز حاصل کیا ہے۔ ٹوئٹر پر انھوں نے خود کو پروفیسر کے طور پر متعارف کرایا ہے اور سعودی سائنٹیفک کونسل کو فرانزکس کے سربراہ کہا ہے۔

ترک حکام کے مطابق ڈاکٹر طوبیگی HZSK2 نمبر والے نجی طیارے میں استنبول پہنچے تھے اور اپنے ساتھ ایک آری بھی لائے تھے۔ اس طیارے کی ملکیت سکائی پرائم ایوی ایشن سروس کے پاس ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ مبینہ طور پر گذشتہ سال سعودی حکومت نے بدعنوانی کے الزام میں اس کمپنی کو تحویل میں لے لیا تھا۔

ڈاکٹر طوبیگی استنبول کے معروف ہوٹل میں رکے تھے اور اسی روز رات میں دبئی کے لیے اسی جہاز میں روانہ ہو گئے۔

ترک حکام نے کہا ہے کہ ان کے پاس موجود آڈیو ریکارڈنگ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ڈاکٹر طوبیگی جمال خاشقجی کے قونصل خانے میں جانے والے دن وہاں موجود تھے۔

اس ریکارڈنگ میں ایک شخص جسے ڈاکٹر کی حیثیت سے بلایا جاتا ہے وہ دوسرے لوگوں سے کہتا ہے کہ وہ اس کے ساتھ موسیقی سننے کے لیے ہیڈ فونز لگائیں جب وہ جمال خاشقجی کا جسم مبینہ طور پر کاٹ رہے تھے۔

ابھی تک ڈاکٹر طوبیگی کی جانب سے کوئی بیان نہیں آیا ہے لیکن ایک شخص نے خود کو ان کا رشتے دار ظاہر کیا ہے اور ٹوئٹر پر دعویٰ کیا کہ ڈاکٹر طوبیگی ایسا کر ہی نہیں سکتے۔

ماہر عبدالعزیز مطریب، 47

Istanbul airport CCTV footage purportedly showing Maher Abdulaziz M Mutreb on 2 October 2018

ماہر مطریب کے بارے میں کہا گیا کہ وہ دو سال سے لندن میں واقع سعودی قونصل خانے میں کام کر رہے تھے۔ امریکی خبر رساں ادارے سی این این نے اپنے ذرائع سے دعویٰ کیا ہے کہ ماہر مطریب سعودی خفیہ ادارے میں کرنل کے عہدے پر فائز ہیں۔

Saudi Crown Prince Mohammed Bin Salman is welcomed to the Massachusetts Institute of Technology (MIT) on 25 March 2018

تصاویر سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی ماہر مطریب نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ کم از کم تین بیرون ملک کے دورے کیے ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ شاید ان کا سیکورٹی کے حوالے سے کوئی کردار ہے۔

ترک حکومت کے حمایتی اخبار روزنامہ صباح نے سی سی ٹی وی کی تصاویر جاری کی ہیں جن میں نظر آتا ہے کہ ماہر مطریب دو اکتوبر کی صبح دس بجے کے قریب قونصل خانے میں داخل ہوئے جو کہ جمال خاشقجی کے جانے سے تین گھنٹے قبل تھا اور اس کے بعد شام پانچ بجے کے قریب وہ سعودی قونصل جنرل کی رہائش گاہ میں گئے۔

ترک میڈیا کے مطابق ماہر مطریب ڈاکٹر طوبیگی کے ہمراہ استنبول پہنچے تھے لیکن ان کی واپسی HZSK1 نمبر والے دوسرے طیارے سے ہوئی تھی۔

عبدالعزیز محمد ال ہواساوی ، 31

Istanbul airport CCTV footage purportedly showing Abdulaziz Mohammed M Alhawsawi on 2 October 2018

امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے ایک فرانسیسی شخص کا حوالہ دیا ہے جس کا دعویٰ ہے کہ اس نے سعودی شاہی خاندان کے ساتھ کام کیا ہے اور سعودی سکیورٹی ٹیم کے اس فرد کی شناخت کی ہے جو استنبول میں موجود تھے۔

عبدالعزیز محمد ال ہواساوی کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ استنبول کمرشل فلائٹ سے پہنچے تھے اور وہاں وائنڈہیم گرینڈ ہوٹل میں رکے تھے۔ انھوں نے استنبول سے واپسی کا سفر اسی روز شام کیا جب وہ ڈاکٹر طوبیگی کے ہمراہ نجی طیارے سے روانہ ہو گئے۔

ثار غالب ال حربی، 39

Istanbul airport CCTV footage purportedly showing Thaar Ghaleb T Alharbi on 2 October 2018

گذشتہ سال اسی نام کے ایک شخص کو جدہ میں ولی عہد کے محل کی حفاظت کے لیے بہادری دکھانے پر لیفٹیننٹ کے عہدے پر ترقی دی گئی تھی۔ اس واقعے میں محل پر حملہ ہوا تھا جس میں دو شاہی محافظ ہلاک ہوئے تھے اور تین زخمی ہوئے تھے۔

ثار غالب ال حربی ڈاکٹر طوبیگی کے ہمراہ استنبول پہنچے لیکن واپسی ان کی ماہر مطریب کے ساتھ ہوئی تھی۔

محمد سعد الزہرانی، 30

Istanbul airport CCTV footage purportedly showing Mohammed Saad H Alzahrani on 2 October 2018

محمد سعد الزہرانی کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ سعودی شاہی خاندان کے محافظ ہیں اور ماضی میں ان کو ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ دیکھا گیا ہے۔

ترک میڈیا کے مطابق وہ استنبول کمرشل فلائٹ سے پہنچے تھے اور اسی روز شام میں ڈاکٹر طوبیگی کے ہمراہ وہاں سے روانہ ہو گئے۔

خالد العطیبی ، 30

Istanbul airport CCTV footage purportedly showing Khalid Aedh G Alotaibi on 2 October 2018

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق اس نام کا ایک شخص سعودی محافظوں کی فوج کے ساتھ منسلک ہے اور ماضی میں امریکہ تین بار آچکے ہیں اور ہر دورہ اسی وقت ہوا ہے جب امریکہ میں سعودی شاہی خاندان کے افراد دورہ کر رہے تھے۔ خالد العطیبی بھی استنبول کمرشل فلائٹ سے پہنچے تھے۔

نائف حسان العارفی، 32

Istanbul airport CCTV footage purportedly showing Naif Hassan S Alarifi on 2 October 2018

نائف حسان العارفی کے نام سے بنے ہوئے فیس بک کے ایک اکاؤنٹ پر اس شخص کی تصاویر ہیں جس میں انھوں نے سعودی سپیشل فورسز کا لباس پہنا ہوا ہے اور سعودی ذرائع کے مطابق وہ ولی عہد کے دفتر میں کام کرتے ہیں۔ نائف حسان العارفی کی واپسی HZSK2 نمبر والے نجی طیارے سے ہوئی۔

مصطفی محمد المدنی ، 57

Istanbul airport CCTV footage purportedly showing Mustafa Mohammed M Almadani on 2 October 2018

سعودی سوشل میڈیا کے مطابق اس نام سے جانے جانا والا شخص سعودی خفیہ ایجنسی کے لیے کام کرتا ہے۔ وہ ڈاکٹر طوبیگی کے ہمراہ استنبول پہنچے اور رات میں نجی طیارے سے واپس چلے گئے۔

مشال سعد البوستانی، 31

Istanbul airport CCTV footage purportedly showing Meshal Saad M Albostani on 2 October 2018

فیس بک کے مطابق اس نام کا ایک شخص سعودی فضائیہ کا اہلکار ہے اور وہ دو اکتوبر کو ڈاکٹر طوبیگی کے ہمراہ استنبول پہنچا تھے اور اسی طیارے میں اس کی واپسی ہوئی تھی۔

جمعرات کو ترکی کے ایک اخبار میں خبر شائع ہوئی جس کے مطابق اس مشال سعد البوستانی سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں گاڑی کے ایک حادثے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

ولید عبداللہ السحری، 38

Istanbul airport CCTV footage purportedly showing Waleed Abdullah M Alsehri on 2 October 2018

مقامی میڈیا کے مطابق اس نام کا ایک شخص سعودی فضائیہ میں کام کر رہا تھا اور وہ HZSK2 نمبر والے طیارے سے استنبول پہنچے اور HZSK1 نمبر والے طیارے سے واپس چلا گئے۔

منصور عثمان اباحسین، 46

Istanbul airport CCTV footage purportedly showing Mansour Othman M Abahussain on 2 October 2018

ذرائع کے مطابق اس نام کا شخص سعودی خفیہ ادارے میں کام کر رہا تھا۔ یہ کمرشل طیارے کے ذریعے استنبول پہنچے اور HZSK2 نمبر والے طیارے سے واپس چلے گئے۔

فہد شبیب البلاوی، 33

Istanbul airport CCTV footage purportedly showing Fahad Shabib A Albalawi on 2 October 2018

سعودی شاہی محافظ کی تنظیم میں کام کرنے والا یہ شخص نجی طیارے کے ذریعے استنبول پہنچا اور HZSK1 نمبر والے طیارے سے واپس چلا گیا۔

بدر لفی العطیبی، 45

Istanbul airport CCTV footage purportedly showing Badr Lafi M Alotaibi on 2 October 2018

مبینہ طور پر سعودی خفیہ ایجنسی سے منسلک اس شخص نے HZSK2 کے ذریعے استنبول کا سفر کیا اور HZSK1 سے واپس چلا گیا۔

سیف سعد القہتانی، 45

Istanbul airport CCTV footage purportedly showing Saif Saad Q Alqahtani on 2 October 2018

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق اس شخص کی نوکری ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ ہے اور وہ HZSK2 طیارے پر استنبول پہنچے اور اسی رات کمرشل فلائٹ سے واپس چلا گئے۔

ترکی مسرف السحری، 36

Istanbul airport CCTV footage purportedly showing Turki Muserref M Alsehri on 2 October 2018

یہ شخص دو اکتوبر کو HZSK2 طیارے کے ذریعے استنبول پہنچا اور اسی رات HZSK1 سے واپس چلا گیا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *