کنزا کیس: میجر عمارہ ریاض کو ابھی تک گرفتار نہیں کیا جا سکا، شوہر کی ضمانت منظور

پاکستان کے وفاقی دارالحکومت کے جڑواں شہر راولپنڈی کے چھاؤنی کے علاقے میں مبینہ طور پر گھریلو ملازمہ پر تشدد کے الزام میں ملزمہ میجر عمارہ ریاض کو ابھی تک گرفتار نہیں کیا گیا ہے جبکہ مقامی عدالت نے اُن کے خاوند ڈاکٹر محسن ریاض کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست منظور کر لی ہے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق عدالت نے مقامی پولیس کو ہدایت کی ہے کہ ملزم محسن ریاض کو 29 اکتوبر تک گرفتار نہ کیا جائے جبکہ عدالت نے ملزم کو حکم دیا ہے کہ وہ اس مقدمے میں شامل تفتیش ہوں۔

ملزم محسن ریاض کے بارے میں مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ وہ ایک نجی ہسپتال میں ڈاکٹر ہیں۔

راولپنڈی پولیس کے سربراہ ڈی آئی جی احسن عباس کے مطابق ملزمہ کی گرفتاری کے لیے فوج کے اعلیٰ حکام سے رابطہ کیا گیا ہے تاہم مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ اس بارے میں ابھی کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

مقدمے کے تفتیشی افسر محمد ارشد کے مطابق چکلالہ سکیم تھری کی رہائشی میجر عمارہ ریاض کے گھر پر گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں لیکن ان کے گھر پر تالہ لگا ہوا ہے۔

مقامی پولیس کے مطابق ملزمہ عمارہ ریاض پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر ہیں اور وہ ان دنوں راولپنڈی میں فوج کے زیر انتظام چلنے والے کمبائنڈ ملٹری ہسپتال میں اپنے فرائض سرانجام دے رہی ہیں۔

اس مقدمے کی تفتیش کرنے والی پولیس حکام اور چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے اہلکاروں نے 11 سالہ کنزہ شبیر کو مقامی عدالت میں پیش کیا اور مقامی عدالت کے جج نے ان کا ضابطہ فوجدرای کی دفعہ 164کے تحت بیان قلمبند کرنے کے بعد دوبارہ اُنھیں بچوں کے حفاظت کرنے والے محکمے یعنی چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے تحویل میں دے دیا۔

ایف آئی آر

ایف آئی آر

میجر عمارہ ریاض اور ان کے شوہر ڈاکٹر محسن ریاض کے خلاف مقدمہ بھی چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے ایک اہلکار نوید اختر کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔

راولپنڈی کے علاقے تھانہ ایئرپورٹ میں درج ہونے والی ایف آئی آر کے مطابق ملزمان عمارہ ریاض اور ان کے شوہر ڈاکٹر محسن ریاض نے وسطی پنجاب کے شہر سمندری کی 11 سالہ کنزہ کو گھریلو کام کاج اور بچوں کے سنبھالنے کے لیے رکھا ہوا تھا۔

اس مقدمے میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ دونوں ملزمان جب روزانہ اپنی ڈیوٹی پر جاتے تھے تو وہ کمسن ملازمہ کو ایک کمرے میں بند کر کے جاتے تھے اور کوئی غلطی سرزد ہونے پر ملزمان کنزہ کو چھری، پائپ اور بیلٹ سے تشدد کا نشانہ بناتے تھے۔

اس مقدمے میں ملزمان عمارہ اور ان کے شوہر پر یہ بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ اُنھوں نے کنزہ کو غیر قانونی طور پر تحویل میں رکھ کر ذہنی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔

اس مقدمے کے مدعی نوید اختر کے مطابق ڈاکٹروں کی ابتدائی رپورٹ میں کنزہ پر تشدد کے نشانات پائے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ اسلام آباد میں گھریلو ملزمہ طیبہ کو حبس بےجا میں رکھنے اور اسے تشدد کا نشانہ بنانے کے الزامات ثابت ہونے پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایڈیشنل سیشن جج راجہ خرم علی اور ان کی اہلیہ ماہین ظفر کو تین سال قید کی سزا سنائی تھی۔

مجرم راجہ خرم علی کو کمرہ عدالت سے ہی گرفتار کرلیا گیا تھا تاہم ان کی اہلیہ فیصلے کے وقت سعودی عرب میں تھیں تاہم ابھی یہ معلوم نہیں ہوا کہ مجرمہ وطن واپس آئی ہیں یا نہیں۔

ٹویٹر

’کوئی نہیں دو چار دن میں سب بھول جائیں گے‘

سوشل میڈیا پر کنزا کے ہیش ٹیگ میں جہاں اس واقعے کے حوالے سے تازہ اپ ڈیٹس دی جا رہی ہیں وہیں پر اس حوالے سے بات کی جا رہی ہے کہ کنزا کیس ایک واقعہ ہے جیسے طیبہ کا کیس تھا۔

لوگوں کا کہنا ہے کہ کچھ عرصے تک لوگ فالو کریں گے، ٹویٹ کریں گے لیکن پھر بھول جائیں گے جب تک کہ ایسا کوئی اور واقعہ نہیں ہوتا۔

سوشل میڈیا پر بہت سے لوگوں نے کم عمر ملازموں کے حوالے سے قانون بنانے کی تجویز دی ہے اور زور دیا ہے کہ جب تک ایسا کوئی قانون نہیں ہو گا تب تک اس قسم کے واقعات ہوتے رہیں گے۔

ٹویٹر

پاکستانی صحافی مشہود امین نے کہا کہ زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ (ملازموں پر تشدد کے) واقعات کے مرتکب نہایت تعلیم یافتہ اور پرفیشنل لوگ ہوتے ہیں۔

لیکن ساتھ ہی اس حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ اس کیس میں انصاف نہیں ہو گا کیونکہ مالکن فوج میں میجر کے عہدے پر ہیں۔

لوگوں کا کہنا ہے کہ کنزا کو انصاف ملنا چاہیے بالکل اسی طرح جس طرح طیبہ کو ملا۔

ٹویٹر

ضرار بہادر خان نے ٹویٹ میں کہا ہے کہ کنزا پر تشدد کرنے والوں پر قانون کے تحت انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ جو سزا طیبہ پر تشدد کرنے والوں کو ملی تھی وہی کنزا پر تشدد کرنے والوں کو ملے۔‘

ایک صارف محمد تاسین نے سوال کیا کیا کہ ابھی تک پاکستان میں کتنے امرا کو ملازموں پر تشدد کرنے کے جرم میں سزا مل چکی ہے اور عام طور پر کتنی سزا ہوتی ہے؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *