پاکستانی روپے کی بے قدری اور کچھ یادیں ۔

"راؤ عمران سلیمان"

دنیا میں صرف حکومتی قرض ہی وہ واحد قرض ہوتاہے جسے لینے والا کوئی اور ہوتاہے اور دینے والا کوئی اور عام آدمی جب اپنی ضروریات کو پورا کر نے کے لیے دوسرے لوگوں یا بینکوں سے قرضہ لیتا ہے تو اسے خود ہی وہ قرضہ اداکرنا پڑتاہے مگر اس میں اگر وہ قرض نہ بھی لے تو تب بھی اسے ایک قرضہ تو ٹیکسوں کی مد میں دینا ہی پڑتاہے اور وہ ہے حکومتی قرض جس کے خفیہ جال میں ہمارے وہ نومولود بچے بھی پھنسے ہوئے ہیں جو ابھی ابھی پیدا ہوکر اس دنیا میں آئے ہیں ، سوال یہ ہے کہ حکومت ان قرضوں میں عام آدمی کو کس طرح سے جکڑتی ہے اس میں جہاں حکمرانوں کی زاتی عیاشیاں شامل ہیں وہاں ان کی غلط اور ناقص پالیسیوں کا بھی ایک بڑا عمل دخل ہے جس کا خمیازہ ان کو تو کیا خاک بھگتنا پڑتاہے بلکہ یہ ساری پریشانیاں غریب عوام کی جھولی میں ہی آگرتی ہے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *